گرل فرینڈ پر جتنا مرضی خرچہ کریں، مگر اس کی بہن کی فیسیں دیکر وکیل کبھی نا بنائیں ۔
منجانب۔ ثاقب چدھڑ
کوئی تو ہو جو اسے اپنا کہے ۔۔پاکستان سے زندہ بھاگ کا تصور ہمیں ختم کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے ۔ نواز شریف نے پاکستان سے بچے باہر شفٹ کرنے کی ابتدا کی تھی۔ اس کے بعد باقی سارے معتبر سیاستدانوں، عوامی راہنماؤں اور بیوروکریٹس نے اپنی اگلی نسلیں پاکستان سے باہر شفٹ کرنا شروع کردیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان میں رہنے کو کوئی تیار ہی نہیں ۔ پاکستان کے بارے میں اگلی نسلوں کا تصور یہ ہے کہ جیسے یہ ختم ہونے والا ہے ۔ یہ ٹکڑے ٹکرے ہو جائے گا یہ جہنم بن جائے گا۔ حقیقت کچھ بھی ہو لیکن عوامی خوف اتنا شدید ہے کہ اس رزلٹ یہ نیچے دی گئی سلائیڈ میں کلئیر نظر آتا ہے ۔ سیاسی اور معاشی حالات دیکھے جائیں تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں رہا ۔ ابھی اسی سال کی رپورٹ دیکھ لیں پاکستان میں انویسٹمنٹ کی شرح صرف دو فیصد رہ گئی ہے ۔ یعنی کوئی بندہ پاکستان میں ایک روپیہ لگانے کو تیار نہیں ، تعلیمی حالات دیکھے جائیں تو دل ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے بچے یہ تعلیم حاصل کریں جس میں گزشتہ سال صرف ایک سو دن سکول کھلے تھے ۔امن و امان کی صورت حال اس سے بھی اب تر ہے ۔لیکن مسلہ یہ ہے کہ ہم جو پانچ دہائیوں سے ادھر رہ رہے ہیں ۔ جن کا سب کچھ ادھر ہی ہے جن کا مرنا جینا ادھر ہی بن چکا ہے وہ کیسے اب ہجرت کریں ؟سیاستدان تو ملکی حالات کو برباد کرنے کے بعد ائیر ٹکٹ اور پاسپورٹ ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں کہ نہ جانے کب بھاگنا پڑ جائے ۔ ہم اگر لڑیں تو کیسے لڑیں ۔؟ کیا گلگت بلتستان والوں کی طرح لڑیں ؟ کیا کشمیر والوں کی طرح لڑیں ؟لیکن شاید ہم اور یہ قوم اب لڑ بھی نہیں سکتی اور لڑنا بھی نہیں چاہتی۔ لڑ اس لئے نہیں سکتی کہ نوجوان بجائے یہاں رہ کے لڑنے کے ملک چھوڑ کے جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وہ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے محافظ ہیں ان کے اپنے خاندان باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں ان کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جب یہ صورت حال ہو گی تو عام آدمی کا بچہ اس ملک میں رہ کے کیوں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ باقی میری عمر کے لوگ جو پچاس سال گزار چکے ہیں وہ بونس زندگی جی رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں خاموشی سے وقت گزر جائے تو اچھا ہے ۔ کسی پھڈے میں پڑ کے پچھلی عمر میں ہڈیاں تڑوانے کی ضرورت نہیں ۔وہ اپنی اگلی نسلوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ہم نے جیسے تیسے گزار لی تم یہاں سے بھاگ جاؤ۔ کون ہو گا جو اس ملک کو اپنا گھر سمجھے گا؟ سوائے ایک عمران خان کے جس کا کہنا ہے کہ میرا مرنا جینا ادھر پاکستان میں ہی ہے ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جو یہ نعرہ لگا سکے ۔۔ سب نے اپنے اپنے متبادل ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔۔ اور تو اور یہ ڈی جی ایف آئی کے اپنے بچے باہر کے ملک میں رہتے ہوں گے اور اس کا اپنا دوسرا پاسپورٹ بھی ہوگا
تحریر
Beenish Iftikhar
Pull down to refresh