Live Audio

Hy ..I am new here into 👀😍
دنیا کی سب سے بڑی المیہ حقیقت یہ نہیں کہ انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان یا مذہب کا فرق ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان دولت کا ایسا فرق پیدا ہو چکا ہے جس نے انسانیت کو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے دسترخوانوں پر ضرورت سے زیادہ کھانا بچ جاتا ہے، اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو ایک وقت کی روٹی کھلانے کے لیے سارا دن مزدوری کرتے ہیں۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن کے لیے علاج، تعلیم اور انصاف خریدنا مشکل نہیں، جبکہ دوسری طرف کروڑوں انسان ایسے ہیں جو بیماری، جہالت اور محرومی کے اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
طبقاتی نظام صرف معاشی فرق کا نام نہیں، یہ احساسِ محرومی، ناانصافی اور بے بسی کو جنم دیتا ہے۔ جب ایک غریب بچہ اپنے خوابوں کو صرف اس لیے دفن کر دیتا ہے کہ اس کے پاس فیس بھرنے کے پیسے نہیں، جب ایک مزدور ساری زندگی محنت کے باوجود اپنے خاندان کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر پاتا، اور جب ایک غریب مریض صرف غربت کی وجہ سے علاج نہ ملنے پر جان ہار جاتا ہے، تو انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر و قیمت اس کے کردار، علم اور انسانیت کے بجائے اس کی دولت سے ناپنا شروع کر دی ہے۔ امیر کے لیے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں جبکہ غریب کو اپنے حق کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشروں میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ گئی اور محروم طبقات کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، وہاں نفرت، بے چینی اور سماجی انتشار نے جنم لیا۔ ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر انسان کو عزت، مواقع اور انصاف یکساں طور پر میسر ہوں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسان کو اس کی حیثیت، لباس یا بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے پہچانیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا اور محروم طبقے کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہی اصل انسانیت ہے۔
یاد رکھیے، دنیا کی سب سے بڑی دولت پیسہ نہیں بلکہ وہ دل ہے جو دوسروں کے درد کو محسوس کر سکے۔ جس دن ہم نے انسان کو انسان سمجھنا سیکھ لیا، اس دن طبقاتی دیواریں کمزور ہونا شروع ہو جائیں گی اور انسانیت ایک بار پھر سر اٹھا کر زندہ ہو سکے گی۔
"ایک بہتر دنیا وہ نہیں جہاں چند لوگ بہت امیر ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں کوئی انسان اتنا غریب نہ ہو کہ عزت کے ساتھ جینا اس کے لیے ناممکن ہو جائےتحریرbeenish Iftikhar
کونسی سمارٹ واچ خرید کرنی چاہیے پوسٹ سیریز پوسٹ نمبر 03اب جب آپ اپنی ضروریات اور طرزِ زندگی کے مطابق اسمارٹ واچ کی قسم کا انتخاب کر چکے ہیں، تو اگلا اہم مرحلہ یہ یقینی بنانا ہے کہ آپ کی منتخب کردہ واچ آپ کے اسمارٹ فون کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہو۔ بہترین فیچرز بھی اس وقت بے فائدہ ہو جاتے ہیں جب واچ آپ کے فون کے ساتھ صحیح طریقے سے کام نہ کرے۔
اپنے اسمارٹ فون کے ساتھ مطابقت (Compatibility) ضرور چیک کریں
اسمارٹ واچ خریدنے سے پہلے سب سے اہم چیزوں میں سے ایک یہ جاننا ہے کہ آیا وہ آپ کے اسمارٹ فون کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔ زیادہ تر اسمارٹ واچز کو سیٹ اپ، ڈیٹا سنک کرنے اور نوٹیفکیشنز وصول کرنے کے لیے موبائل فون کے ساتھ کنیکٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر آپ iPhone استعمال کرتے ہیں تو بہترین تجربہ عموماً Apple Watch کے ساتھ ہی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ Apple Watch خاص طور پر iPhone کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور Android فونز کے ساتھ کام نہیں کرتی۔
دوسری جانب، Google کا Wear OS پلیٹ فارم Android اور iPhone دونوں کے ساتھ کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے، اگرچہ iPhone پر کچھ فیچرز محدود ہو سکتے ہیں۔
Samsung Galaxy Watch سیریز بھی Wear OS پر مبنی ہے، لیکن اسے Samsung اور Android صارفین کے لیے بہتر انداز میں آپٹمائز کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کے کئی فیچرز Android پر زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔
اسی طرح Xiaomi، Amazfit، Huawei اور دیگر برانڈز کی متعدد اسمارٹ واچز اپنی مخصوص Companion Apps کے ذریعے Android اور iPhone دونوں کے ساتھ کنیکٹ ہو جاتی ہیں، لیکن تمام فیچرز ہر پلیٹ فارم پر یکساں دستیاب نہیں ہوتے۔
اگر آپ Android صارف ہیں تو آپ کے پاس انتخاب کے لیے کافی زیادہ آپشنز موجود ہوتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ iPhone استعمال کرتے ہیں تو عموماً Apple Watch ہی وہ انتخاب ہے جو سب سے ہموار، مکمل اور بہترین صارف تجربہ فراہم کرتی ہے۔
اس لیے خریداری سے پہلے ہمیشہ یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی منتخب کردہ اسمارٹ واچ آپ کے فون اور آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہو، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
📱 اب کمنٹ میں بتائیں!
آپ کون سا فون استعمال کرتے ہیں؟
🍎 iPhone🤖 Android (Samsung)📱 Xiaomi / Redmi📲 Infinix / Tecno📞 Vivo / Oppo🔹 یا کوئی اور؟
کمنٹ میں اپنے فون کا ماڈل لکھیں، اور ہم آپ کو بتائیں گے کہ کون سی اسمارٹ واچ آپ کے لیے بہترین رہے گی۔ ⌚✨
قدیم زمانے میں ایک عادل اور دانشمند حکمران کے دربار میں مختلف ممالک سے اہلِ علم آتے اور علمی گفتگو کرتے تھے۔ وہ حکمران ہمیشہ سوالات کو خوش آمدید کہتا اور دلیل کے ساتھ جواب دیتا تھا۔ایک دن چند علماء دربار میں حاضر ہوئے اور ایک سوال پیش کیا:“اگر کچھ جانوروں کو انسان کے لیے حلال اور کچھ کو حرام قرار دیا گیا ہے تو اس کی عقلی وجہ کیا ہے؟ آخر اللہ نے بعض جانوروں کو پیدا ہی کیوں کیا؟”حکمران نے مسکرا کر کہا:“میں تمہیں زبانی نہیں بلکہ عملی جواب دکھاؤں گا۔”پھر ایک خاص انتظام کیا گیا جہاں مختلف جانوروں کو ایک ہی ماحول میں رکھا گیا۔ کچھ دنوں کے مشاہدے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ ہر جانور کا مزاج اور فطرت مختلف ہے۔ کچھ جانور صفائی پسند، کچھ خاموش، اور کچھ ایسے جو گندگی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔اسی مشاہدے کے ذریعے یہ سمجھایا گیا کہ ہر مخلوق کا اپنا ایک مقصد اور فطرت ہوتی ہے، اور انسان کے لیے ہر چیز کا استعمال یکساں نہیں ہو سکتا۔حکمران نے وضاحت کی کہ کائنات میں کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں پیدا کی گئی، لیکن انسان کے لیے وہی چیز مناسب ہے جو پاکیزہ اور فائدہ مند ہو۔ اسلام کے احکام بھی انسان کی بہتری، صفائی اور صحت کو مدنظر رکھتے ہیں۔علماء نے اس مشاہدے کے بعد حقیقت کو سمجھا اور کہا کہ انہیں پہلی بار اس پہلو سے غور کرنے کا موقع ملا ہے۔آخر میں انہوں نے تسلیم کیا کہ حکمتِ الٰہی ہر حکم کے پیچھے موجود ہے، چاہے انسان اسے فوراً سمجھے یا نہ سمجھے۔IslamicStory #UrduStory #HikmatEHilahi #IslamicEducation #LessonOfLife #MotivationalStory #UrduContent #DeeniBayan #FaithAndWisdom #LearnIslam #StoryInUrdu
Ijaz Ahmadshared a postThis post was deleted by the author
This post was deleted by the author.
  ابھی پرسوں ہی کی بات ہے کہ اپنی اماں بی کے ساتھ مہمان بن کر آنے والے ہمارے تین چار سالہ بھانجے درد کی تفسیر بن کر آنکھوں کے ڈھیلوں سے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ڈھلکاتے ہمارے کمرے میں چلے آئے اور مظلومیت کی باقاعدہ تصویر بن کر پرسوز آواز میں پکارے کہ :    "دیکھیں نہ ماموں جان ! گھر کے دروازے میں پھنس کر ہماری نازک انگلی کتنی زخمی ہو چکی ہے ؛ درد کی شدید ٹھیسیں اٹھ رہی ہیں ـ ہم چونکہ بہادر ہیں اس لئے اپنی چیخوں کو زبردستی ضبط کئے ہوئے ہیں ؛ وگرنہ ہم چلا چلا کے رو بھی تو سکتے ہیں ۔۔۔۔ "-    ہم نے پہلے تو ان کی بہادری کی باقاعدہ داد دیتے ہوئے انہیں قریب بلایا اور پھر گہری نظر سے انگلی کا جائزہ لیتے ہوئے فکر مندی سے بولے : اوہو گڈو میاں ! یہ تو واقعی آپ کی انگلی کافی زخمی ہو چکی ہے ؛ اب کیا کیا جائے ؟ اچھا بتاؤ ! یہ اب کیسے ٹھیک ہوگی ؟ بھلا کون سی دوا لگائی جائے ؟    ہمارا بھانجا ماشاءاللہ ہے بڑا زیرک ؛ اس نے بڑی معصومیت سے علاج بتا دیا :    "ماموں جان ! یہ دوا وغیرہ لگانے سے ٹھیک نہیں ہوگی بلکہ مونگ پھلی سے ٹھیک ہوگی ؛ پہلے بھی ایک دو دفعہ مونگ پھلی سے ٹھیک ہو چکی ہے ـ آپ ہمارے لئے مونگ پھلی منگوا کر لے آئیں ، دیکھنا درد جاتا رہے گا "ـ    اور ہمیں بچے کی انگلی ٹھیک کروانے کے لئے دوائی کے طور پر مونگ پھلی منگوانی ہی پڑی ـ حیرت تب ہوئی جب واقعی اس سے انگلی کا درد ٹھیک بھی ہو گیا ـ فقط تھوڑی ہی دیر بعد جب اس کی ماں نے پرلے کمرے سے نمودار ہو کر اس سے پوچھا کہ بھئی! یہ مونگ پھلیاں کہاں سے آئیں تمہارے پاس ؟ کس نے دی ہیں تجھے ؟ تو وہ فخریہ انداز میں سینہ پھلا کے بولے :   " گنجے ماموں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!"-   ماں نے تو شفقت و محبت کے جذبے سے مغلوب ہو کر فوراً ہی اس کا ماتھا چوم لیا اور ہم اپنا انوکھا لقب سن کر ماتھا اور سر پیٹتے ہی رہ گئے ـ/

گرل فرینڈ پر جتنا مرضی خرچہ کریں، مگر اس کی بہن کی فیسیں دیکر وکیل کبھی نا بنائیں ۔


منجانب۔ ثاقب چدھڑ

زندگی کی کتاب میں سارے راستے منزل پر نہیں پہنچتے کچھ راستے ہمیں شعور تک بھی پہنچاتے ہیں 🌷🤍

کوئی تو ہو جو اسے اپنا کہے ۔۔پاکستان سے زندہ بھاگ کا تصور ہمیں ختم کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی اگلی نسلوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے ۔ نواز شریف نے پاکستان سے بچے باہر شفٹ کرنے کی ابتدا کی تھی۔ اس کے بعد باقی سارے معتبر سیاستدانوں، عوامی راہنماؤں اور بیوروکریٹس نے اپنی اگلی نسلیں پاکستان سے باہر شفٹ کرنا شروع کردیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان میں رہنے کو کوئی تیار ہی نہیں ۔ پاکستان کے بارے میں اگلی نسلوں کا تصور یہ ہے کہ جیسے یہ ختم ہونے والا ہے ۔ یہ ٹکڑے ٹکرے ہو جائے گا یہ جہنم بن جائے گا۔ حقیقت کچھ بھی ہو لیکن عوامی خوف اتنا شدید ہے کہ اس رزلٹ یہ نیچے دی گئی سلائیڈ میں کلئیر نظر آتا ہے ۔ سیاسی اور معاشی حالات دیکھے جائیں تو واقعی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان رہنے کے قابل نہیں رہا ۔ ابھی اسی سال کی رپورٹ دیکھ لیں پاکستان میں انویسٹمنٹ کی شرح صرف دو فیصد رہ گئی ہے ۔ یعنی کوئی بندہ پاکستان میں ایک روپیہ لگانے کو تیار نہیں ، تعلیمی حالات دیکھے جائیں تو دل ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے بچے یہ تعلیم حاصل کریں جس میں گزشتہ سال صرف ایک سو دن سکول کھلے تھے ۔امن و امان کی صورت حال اس سے بھی اب تر ہے ۔لیکن مسلہ یہ ہے کہ ہم جو پانچ دہائیوں سے ادھر رہ رہے ہیں ۔ جن کا سب کچھ ادھر ہی ہے جن کا مرنا جینا ادھر ہی بن چکا ہے وہ کیسے اب ہجرت کریں ؟سیاستدان تو ملکی حالات کو برباد کرنے کے بعد ائیر ٹکٹ اور پاسپورٹ ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں کہ نہ جانے کب بھاگنا پڑ جائے ۔ ہم اگر لڑیں تو کیسے لڑیں ۔؟ کیا گلگت بلتستان والوں کی طرح لڑیں ؟ کیا کشمیر والوں کی طرح لڑیں ؟لیکن شاید ہم اور یہ قوم اب لڑ بھی نہیں سکتی اور لڑنا بھی نہیں چاہتی۔ لڑ اس لئے نہیں سکتی کہ نوجوان بجائے یہاں رہ کے لڑنے کے ملک چھوڑ کے جانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وہ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے محافظ ہیں ان کے اپنے خاندان باہر کے ملکوں میں رہتے ہیں ان کے اپنے بچے باہر کے ملکوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جب یہ صورت حال ہو گی تو عام آدمی کا بچہ اس ملک میں رہ کے کیوں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ باقی میری عمر کے لوگ جو پچاس سال گزار چکے ہیں وہ بونس زندگی جی رہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں خاموشی سے وقت گزر جائے تو اچھا ہے ۔ کسی پھڈے میں پڑ کے پچھلی عمر میں ہڈیاں تڑوانے کی ضرورت نہیں ۔وہ اپنی اگلی نسلوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ہم نے جیسے تیسے گزار لی تم یہاں سے بھاگ جاؤ۔ کون ہو گا جو اس ملک کو اپنا گھر سمجھے گا؟ سوائے ایک عمران خان کے جس کا کہنا ہے کہ میرا مرنا جینا ادھر پاکستان میں ہی ہے ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جو یہ نعرہ لگا سکے ۔۔ سب نے اپنے اپنے متبادل ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔۔ اور تو اور یہ ڈی جی ایف آئی کے اپنے بچے باہر کے ملک میں رہتے ہوں گے اور اس کا اپنا دوسرا پاسپورٹ بھی ہوگا

تحریر 

Beenish Iftikhar

قبض کا مستقل اور جڑ سے علاج کیسے ہوگا؟قبض کا مستقل علاج اس کی وجہ کو ختم کرنے میں ہےعضلاتی یعنی خشکی والی قبض کا علاج نسخہ: سنامکی ، تیز پات (دونوں ہم وزن پسے ہوئے) مقدار: 2 سے تین گرام ، صبح اور شام پانی کے ساتھ ، کھانے کے ایک گھنٹہ بعدپرہیز: تمام خشک مزاج غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے 
غدی یعنی گرمی والی قبض کا علاج نسخہ: سہاگہ 20 گرام، ملٹھی 30 گرام، گل بنفشہ 30 گرامتمام اجزا پسے ہوئے مقدار: 2 سے تین گرام ، صبح اور شام پانی کے ساتھ ، کھانے کے ایک گھنٹہ بعدپرہیز: تمام گرم مزاج غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے 
اعصابی یعنی تری والی قبض کا علاج نسخہ: ہلیلہ سیاہ ، کلونجی ہم وزن مقدار: 2 گرام ، صبح اور شام پانی کے ساتھ ، کھانے کے ایک گھنٹہ بعدپرہیز: تمام تر مزاج غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیئے پرانی بیماریوں سے نجات کے لیے Pak Health System کو فالو کریں (اگلے حصے میں چند غذاؤں کے مزاج بتائے جائیں گے)

Pull down to refresh