
@username
No bio available.
صبح بخیر ؛ ایک نیا دن اور زندگی کے پڑاؤ کی ایک نئی منزل مبارک ہو ـ
ایک نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ دن کا آغاز کیجئے گا ؛ کامیابی آپ کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔
اپنے سفر کو ہر حال میں جاری رکھئے گا ـ آپ نے کسی بھی حال میں رکنا نہیں ہے ـ راستہ کٹھن اور منزل دشوار ہے مگر قدم قدم چل کر ہی آپ اپنی منزل تک پہنچ پائیں گےاور مجھے امید ہے کہ ایسا ضرور ہو گا ۔۔۔۔۔
بے شک دنیا سے ہار جائیں مگر خود سے کبھی نہ ہاریں ـ اگر آپ خدا نخواستہ خود سے ہار بیٹھے تو زندگی کا مقصد ہی ختم ہو جائےگا ۔۔۔
خود پر بھروسا اور اللہ تعالیٰ پر توکل آپ کی شاندار کامیابی کے یقینی سہارے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔
میری دعائیں آپ کے ساتھ رہیں گی ۔۔۔
بیچنے اور فروخت کرنے کے لئے ہم ہمیشہ نئی اور عجیب و غریب قسم کی چیزوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور جیسے ہی ہمیں کوئی نیا آئیڈیا ملتا ہے، فورآ ہی اسے عملی جامہ پہنا کر مارکیٹ میں دام اور داد دونوں ایک ساتھ لینے پہنچ جاتے ہیں ـ اہل وطن کو نئے نئے لذیذ ذائقوں سے روشناس کرانے کے لئے کتوں اور گدھوں کا گوشت تک بیچتے ہیں ـ اسے اب ہماری خوش قسمتی ہی سمجھ لیجئے کہ ہمیں ہر قسم کے خریدار آسانی سے مل جاتے ہیں جو بنا کسی پوچھ گچھ کے سبھی کچھ خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں ـ "کھانے" اور "کمانے" کے لئے ہم ہر طریقہ کار کو جائز سمجھتے ہیں ـ چاند تک تو خیر ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی البتہ ہم سے متاثر ہو کر کچھ قوموں نے ، جو چاند پر قدم رکھ چکی ہیں، زمینوں اور گھروں کی فروخت شروع کر رکھی ہے کہ خدا نخواستہ اگر ہماری زمین ہر رہنا ناممکن ہوجائے تو اڑ کر چاند پر پہنچ جائیں اور اپنے خریدے گھر اور اپنی خریدی زمیں میں بس کر چین کی بانسری بجائیں ـ اللہ کرے ہمیں بھی کبھی چاند تک رسائی نصیب ہو تو دیکھ لیجئیے گا ؛ ہم پورے چاند کو ہی بیچ ڈالیں گے !!!

اس عید پہ قربان کیا میں نے جو دنبہ
اس نیک عمل کا میرے مولا مجھے پھل دے
یا رب میں نہیں اور کسی چیز کا طالب
جتنا بھی ثواب اس کا ہے ڈالر میں بدل دے
"وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے والد بزرگوار ذرا سخت قسم کے ترش مزاج آدمی تھے ، ساری زندگی اپنے خودساختہ اصولوں پر چلے اور ہمیں بھی بے دردی سے چلایا ـ انہوں نے زندگی بھر اپنی ساری اولاد کو خوب کھینچ کھانچ کر ہی رکھا ـ مجال ہے جو کبھی ہم ان کی مرضی کے خلاف سرمو آگے پیچھے ہو جائیں ـ ہمارے ان دوست نما شاطروں نے موقع بموقع ہمارے خلاف ان کے وہ کان بھرے، وہ کان بھرے کہ خدا کی پناہ ؛ ہمیں چور ، نشئی ، بے ایمان اور خاندان کا دشمن تک بنا ڈالا ـ چنانچہ کئی دن تک گھر میں خوب کھینچا تانی رہی ؛ ہمارے جیبوں کی مسلسل تلاشی لی جاتی رہی یہاں تک کہ سوتے وقت منہ کی بدبو تک سونگھی جاتی رہی ـ ہمیں صورت حال تب سمجھ آئی جب والد موصوف ایک دن تلاشی لینے کے دوران گردن کی کالر سے لے کر شلوار کی حد تک پار کر گئے اور جوتوں تک پہنچے ـ ہم نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا ؛ ابا حضور ! بتائیں تو سہی ؛ آپ ڈھونڈ کیا رہے ہیں ؟ بڑھک کر بولے ؛ چرس ، جو آج تو نے منگوائی تھی اور مسن (محسن) نے تمہارے ہاتھ میں دیکھ لی تھی ( محسن ہمارا لنگوٹیا یار ہے اور مسن کے تخفیف شدہ نام سے پکارا جاتا ہے ) ـ یہ سننا تھا کہ چودہ طبق ہی روشن ہو گئے ، پاؤں تلے سے زمین ہی نکل گئی ـ حد ہوتی ہے مذاق کی بھی ـ کیا آزادی اور بے تکلفی اسی کو کہتے ہیں ؟ اتنا بڑا الزام اس بدبخت نے لگا دیا تھا ہم پہ حالانکہ چرس کا استعمال تو کجا ، ہم نے تو اس مکروہ شے کی شکل بھی کبھی نہیں دیکھی تھی ـ بڑی مشکل سے والد محترم کو یقین دلایا کہ بابا جان ! جھوٹ بول رہے تھے وہ کمینے ؛ ہم آپ کو چرسی لگ رہے ہیں کیا ۔۔۔۔؟؟؟

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے
اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا
جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا
یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں
تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا
یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے
پھولوں میں چھپایا ہوا خ ن ج ر نہیں دیکھا
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں
جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں
وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
ڈاکٹر بشیر بدر
بیچنے اور فروخت کرنے کے لئے ہم ہمیشہ نئی اور عجیب و غریب قسم کی چیزوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور جیسے ہی ہمیں کوئی نیا آئیڈیا ملتا ہے، فورآ ہی اسے عملی جامہ پہنا کر مارکیٹ میں دام اور داد دونوں ایک ساتھ لینے پہنچ جاتے ہیں ـ اہل وطن کو نئے نئے لذیذ ذائقوں سے روشناس کرانے کے لئے کتوں اور گدھوں کا گوشت تک بیچتے ہیں ـ اسے اب ہماری خوش قسمتی ہی سمجھ لیجئے کہ ہمیں ہر قسم کے خریدار آسانی سے مل جاتے ہیں جو بنا کسی پوچھ گچھ کے سبھی کچھ خریدنے میں دلچسپی لیتے ہیں ـ "کھانے" اور "کمانے" کے لئے ہم ہر طریقہ کار کو جائز سمجھتے ہیں ـ چاند تک تو خیر ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی البتہ ہم سے متاثر ہو کر کچھ قوموں نے ، جو چاند پر قدم رکھ چکی ہیں، زمینوں اور گھروں کی فروخت شروع کر رکھی ہے کہ خدا نخواستہ اگر ہماری زمین ہر رہنا ناممکن ہوجائے تو اڑ کر چاند پر پہنچ جائیں اور اپنے خریدے گھر اور اپنی خریدی زمیں میں بس کر چین کی بانسری بجائیں ـ اللہ کرے ہمیں بھی کبھی چاند تک رسائی نصیب ہو تو دیکھ لیجئیے گا ؛ ہم پورے چاند کو ہی بیچ ڈالیں گے !!!

السلام علیکم ؛ عید الاضحی' کی خوشیاں اور بابرکت ساعتیں بہت بہت مبارک ہوں ـ ایک درخواست ہے کہ جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی لامحدود خواہشات کو بھی ضرور قربان کر ڈالیئے گا ـ اپنی آنا ، خود غرضی اور مطلب پرستی کے گلے پر بھی چھری ضرور چلائیے گا ـ ایسے لوگ جو اس پورے عرصے میں ہماری نفرتوں کا شکار رہے انہیں اپنی محبتوں میں سے تھوڑا سا حصہ ضرور بخش دیجئے گا ـ یقین مانیں ایسا کر کے آپ کی اپنی خوشیاں دوبالا ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر نور کمال شاہ
مزاحیہ پیروڈی
( نور کمال شاہ ) ـ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ . ۔ ۔ ۔ ۔
ہے مشق ستم جاری رومان کی حدت بھی
اک طرفہ تماشا ہے محبوب کی صحبت بھی
برسات کے آتے ہی ہمت نہ رہی باقی
بادل جو برس آئے برسی ہے مری چھت بھی
شوخی تو ذرا دیکھیں خود ہی ہمیں پھسلایا
دشنام لگائے پھر کی ماں سے شکایت بھی
مت گھور کے دیکھو جی ہم تم کو بتاتے ہیں
بد حال سا سینہ کچھ کھانسی مری عادت بھی
جو چاہو سزا دے لو ، چادر بھی میری لے لو
سردی مگر اتنی ہے کمبل میری حاجت بھی
کچھ مرغ مسلم ہو کچھ تازہ سی یخنی ہو
بریانی ہو تھوڑی سی اور ساتھ ہو شربت بھی
ہمسایوں کی محفل میں بس ذکر تیرا چھیڑا
پر ہم سے قسم لے لو کی ہو جو شرارت بھی
پہلے ہی تعارف میں سیل فون کی فرمائش
دشوار بہت سمجھے ہم کار محبت بھی
۔
وقوعہ کہنے کو تو محض اتنا ہی تھا کہ جیسے ہی شادی کی تاریخ مقرر ہوئی ، عین اسی دن ملک خوش ذوق شام کے ملگجے میں سیدھے دادا جی کے پاس ہمارے گھر پہنچے اور پچاس ہزار کے نوٹوں کی گڈی سامنے پڑی چوبی میز پر پھینکتے ہوئے پورے جوش سے بولے :
" لے بھئی گل دینا ! رج کے ارمان پورے کرلے اپنے پوتے کی شادی پر ؛ کوئی فکر نا کر ؛ تمہارے پوتے نواسوں کے پاس بھی جب پیسے آ جائیں تو لوٹا دینا ؛ بوٹی شوٹی کا بندوبست کر لینا ؛ دعوت بس شاندار اور یادگار زمانہ ہونی چاہئیے کہ پورا علاقہ برسوں یاد رکھے "ـ
مگر بظاہر اس چھوٹے، معصوم اور بے ضرر سے واقعے نے سیدھی، چکنی اور مہین سڑک پر آرام سے قدم قدم مٹکتی ہماری موٹر گاڑی کو یکایک ہی گرڑ گرڑ کرتی اس ریلوے ٹریک پر چڑھا دیا تھا جہاں سے آگے ہچکولے اور اچھل کود ہی ہمارا مقدر تھا ـ
دادا جی مرحوم اس وقت پیش آمدہ "شادی کھانا آبادی" کے متوقع اخراجات کی فکر میں بیٹھے حقہ گڑگڑاتے اور منہ سے کثیف گاڑھے دھویں کے مرغولے اڑاتے اپنی جائز پریشانیوں میں ناجائز اضافہ فرما رہے تھے ـ جوابی کھانسی کو اندر ہی اندر ہضم کرتے ہوئے ، جلدی سے حقے کو پرے دھکیلا ؛ حلق و سینے میں بھرے گاڑھے دھویں کے مرغولے منہ اور ناک دونوں سے بیک وقت واپس فضا میں اچھالتے ہوئے فرط مسرت سے اٹھے اور ملک خوش ذوق سے بغل گیر ہو گئے ؛ انتہائی عقیدت سے ان کے ہاتھ بھی چوم لئے ـ
دوستو ! بس بد نصیبی اور ستم ظریفی کا وہ دن اور آج کا دن ؛ ہم اپنی قرضوں کی بوجھ تلے دبی سسکاریاں مارتی زندگی کو انتہائی زور لگا کر بھی اس دلدل سے باہر نکال نہیں پائے ہیں ـ حسن ، جوانی اور پیداوار کو قرض کا گہن لگ چکا ہے ـ بے مراد منکوحہ کی صورت اور اپنے رہن شدہ کھیت کی حالت جب بھی سوچوں کی شکل میں بے لگام ہوکر خیالات کی کھڑکی پر دیوانہ وار دستک دیتی ہیں؛ ملک مرحوم کی بصیرت اور دادا جی کی بصارت پر بلا واسطہ ہزاروں صلواتیں بھیجنے کو جی چاہتا ہے ......۔!!!
لوگوں کو صفائیاں دیتے دیتے تھک بھی چکے ہیں کہ عزیزان من !
"خیرات" میں دے آیا ہوں میں ساری کمائی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
intoBlog - Audio, Express, Blog