مرد اگر کچھ دے سکتا ہے تو وہ یہ نہیں ہے کہ عورت کو خاص ہونے کا احساس دینے خاطر اس کا ہاتھ تھامےاصل واردات یہ ہے کہ اس کے ہاتھ کو تھامے جانے کی ضرورت نہ رہے۔یہ فرق باریک ہے اور اسی باریکی میں دو دنیاؤں کا فاصلہ ہے۔دراصل بدعائے لوگ ہیں جو کہتے ہیں عورت مضبوط ہوتی ہے۔ یہ اس کی تعریف، بہادری، یا حُسن نہیں ہے دوستا۔دراصل عورت مضبوط بنا دی جاتی ہےمضبوطی جب انعام کے بجائے زخم کی پٹی اور طاقت کےبجائے درد کے دوجے نام کا روپ اوڑھ چُکے اور جب ہر "میں ٹھیک ہوں" والے سنی پلاسٹ کے پیچھے پوری رات کی گونگی سسکیاں ہوں تو اس مضبوطی کی تعریف بندیائی نہیں ہوتی کیونکہ ہم اس زخم کو سراہ رہے ہیں جو ہم نے خود اس کے بدن پر کاڑھا ہے۔یہ دائیں بائیں گھومتی ہارڈ اور بظاہر پریکٹیکل روحیں کسی کے سامنے نہیں روتیں اس کا یہ مطلب نہیں یہ ان کی قوت ہے۔ برعکس یہ وہ سبق ہے جو انہوں نے کسی اور موسم میں سیکھا تھاکہ آنسو دکھانا خطرہ ہے ٹوٹنا کمزوری نہیں جرم ہے اور جو کُھل جائے کسی پر عیاں ہو جائے، ٹوٹ جائے، بکھر جائے اسے یہاں جوڑا نہیں جاتا چھوڑا جاتا ہے۔ہماری زندگی میں ہمارے گھر ہمارے کمرے اور بستر میں ایک عورت رہتی ہے جس نے اپنا رونا'مقفل کر رکھا ہے'اسے عزت دینے کی مشق کیجے اور جانئے کہ یہ عزت کیا ہےعزت یہ نہیں کہ آپ نے اسے روزِ موجود تک کبھی گالی نہیں دی۔ عزت یہ کار خیر بھی نہیں کہ آپ نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا اسے مارا نہیں۔عزت یہ واردات ہے کہ اس عورت کو اپنے وجود کی "وکالت" نہ کرنی پڑےکہ وہ کمرے میں داخل ہو اور اسے ثابت نہ کرنا پڑے کہ وہ یہاں ہونے کی مستحق ہے۔ جس گھر میں کسی نفس کو اپنی قدر چیخ کر دلائل سے ثابت کرنی پڑے وہ گھر نہیں بدعائی عدالت ہوتا ہے جہاں وہ ہر روز خود کو کٹہرے میں کھڑی ملتی ہے اور فیصلہ کبھی اس کے حق میں نہیں آتا۔اپنے اور اس کے من میں محبت کو پھلنے پھولنے دیجے۔محبت خدائی وصف ہے مولا کی سنت ہے۔اور جانئے کہ محبت کس گیدڑسنگھی کا نام ہے۔ یہ وہ نہیں جو اچھے وقت میں کی جائے۔وہ تجارت ہے۔ منافع پر چلنے والا سودا!محبت وہ ہے جو اس پر اس کے بدترین موسموں میں چھتری بن جائے جب وہ نہ خوبصورت ہو نہ مسکراتی ہو نہ کچھ دینے کے قابل ہو! مگر آپ پھر بھی وہیں موجود ہوں اسے محسوس ہوں بغیر کسی وجہ کے بغیر کسی بدلے کے۔کیونکہ محبت کا اصل امتحان فراوانی میں نہیں قحط میں ہوتا ہے۔اور پھر اسے چن لیجےیہ لفظ "چننا" کہنے سننے میں بہت ہلکا لگتا ہے مگر اس کا بوجھ تمام عمر اٹھانا پڑتا ہے۔ہر روز اسے چنئےنہ عادت کے رنگ میںنہ مجبوری کی شکل میںنہ اس لئے کہ رشتہ ہے تو نبھانا ہےبلکہ اس لئے کہ کبھی اندرخانے کہیں آپ نے محسوس کیا ہے دیکھا ہے کہ یہ عورت اپنی خاموشیوں سمیت اپنی تھکن سمیت اپنے ان زخموں سمیت جن کی نوعیت آپ کی سمجھ میں نہیں اتری کبھی،پھر بھی اس کائنات کی وہ واحد شے ہےجو آپ کو 'انسان' رکھتی ہے۔ اصیل مرد کی طاقت عورت کو محفوظ رکھنا نہیں ہے نسلی مرد کی طاقت عورت کے اندر یہ احساس اتارنا ہے کہ اب اسے کسی سے بچائے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔اسے کسی سے کچھ خطرہ نہیں!اور جو مرد یہ سمجھ لے وہ کسی عورت کا شوہر نہیں اس کے وجود کاپہلا اور آخری 'محفوظ موسم' ہو جاتا ہے۔ نام مولا🤍علی بیراگ
