✒️عبدالماجد اعوان
جب میں اپنے اردگرد پھیلے نام نہاد تعلیمی اداروں اور ان سے نکلنے والی نسلوں کے کھوکھلے پن پر نظر دوڑاتا ہوں تو دل ایک عجیب کرب اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک باشعور ذہن اور لیڈرشپ کا وژن رکھنے والا انسان اس بوسیدہ نظام سے کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔
آج ہم جس سراب کو تعلیم سمجھ کر اپنی نسلوں کے رگ و پے میں اتار رہے ہیں، وہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو ان کی روح کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور انہیں مادیت کے اندھے غاروں میں دھکیل رہا ہے۔۔۔
ہمارے یہ تعلیمی ادارے اب علم کی وہ نرسریاں نہیں رہے جہاں کردار کی آبیاری ہوتی تھی، بلکہ یہ ایک ایسی اندھی دوڑ کی فیکٹریاں بن چکے ہیں جہاں بچوں کو علم کی پیاس نہیں بلکہ محض نمبروں کی ہوس سکھائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں طالب علم ، علم کی تقدیس اور اس کی برکت سے مکمل محروم ہو چکا ہے۔
یہ المیہ کتنا گہرا ہے کہ ڈگریوں کے انبار تو لگ رہے ہیں لیکن وہی تعلیم یافتہ نوجوان اپنے سے بڑے کے مرتبے سے ناواقف اور بزرگوں کے مقام سے لا علم ہو چکا ہے، کیونکہ اس کی تربیت میں ادب کا عنصر مفقود اور انا کا بت بلند کر دیا گیا ہے۔
آج کے طالب علم کے سینے میں اللہ کا خوف اور اس کی خشیت پیدا ہونے کے بجائے صرف دنیا کی ہوس اور مادی کامیابیوں کا جنون بسا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ دین کی آفاقیت اور فطرت کی سادگی و خوبصورتی سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔
اس کھوکھلے تعلیمی نظام کا سب سے کرب ناک اور زہریلا پہلو وہ مجرمانہ ذہنیت ہے جو نمبروں کی اس اندھی دوڑ نے ہماری نئی نسل میں راسخ کر دی ہے۔ جب کامیابی کا واحد معیار صرف مارکس شیٹ پر چھپے ہوئے چند ہندسے قرار پائے، تو علم کی پیاس دم توڑ دیتی ہے اور نقل جیسا قبیح فعل جرم کے بجائے ایک ہنر، ایک ضرورت، اور آخر کار ایک حق سمجھ لیا جاتا ہے۔
المیہ یہ نہیں کہ بچے نقل کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وہ اس سنگین اخلاقی جرم کو اپنے لیے جائز تسلیم کر چکے ہیں۔ ان کا یہ جھوٹا اور فریب کارانہ جواز کہ نظام خراب ہے، مقابلہ سخت ہے، یا سبھی ایسا کرتے ہیں، دراصل ان کے ضمیر کی موت اور مکمل اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔
یہیں سے وہ بدعنوانی (Corruption) کا پہلا سبق سیکھتے ہیں، جہاں وہ خود کو دھوکا دینا جائز سمجھتے ہیں۔ آپ اس حقیقت کو مان جائیں کہ ہم ڈگریاں تو بانٹ رہے ہیں، لیکن ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کی بنیاد ہی جھوٹ، فریب اور شارٹ کٹس پر رکھی گئی ہے، جو آگے چل کر پورے معاشرے کی رگوں میں زہر گھولنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔
میرے مشاہدے اور علم کے مطابق جب تعلیم کا مرکز و محور صرف مادہ رہ جائے تو روح پیاسی مر جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اپنے بیک گراؤنڈ کا رعب جھاڑنے اور اساتذہ کو، جو کبھی روحانی باپ کا درجہ رکھتے تھے، محض ایک 'دو ٹکے کی شے' اور سروس پرووائیڈر سمجھنے کی روش پر فخر محسوس کرتا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ جہاں ادب اور خالقِ کائنات کی پہچان کا جنازہ اٹھ جائے، وہاں علم کا نور کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔
دوستو! حقیقی تعلیم تو ایک ایسا طوفان ہے جو انسان کے اندر چھپے ہوئے اس شعور کو بیدار کرتی ہے جو اسے ہجوم سے نکال کر ایک باکردار لیڈر بناتا ہے، جس کا مقصد صرف اپنا پیٹ بھرنا نہیں بلکہ پوری امت کا احساس اور ملک و ملت کا درد اپنے وجود میں سمونا ہوتا ہے۔
تعلیم کا اصل کام تو انسان کے اندر وہ تڑپ اور جنون پیدا کرنا ہے جو اسے فطرت سے جوڑ دے اور اسے اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس سے لرزا دے، مگر افسوس کہ ہمارے ادارے صرف ایسے پرزے تیار کر رہے ہیں جن کے اندر دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کا کوئی تصور نہیں۔ اس سنگین صورتحال کا حل محض چند اصلاحات یا لفظی تبدیلیوں میں نہیں چھپا، بلکہ یہ ایک بہت بڑی نظریاتی محنت اور بے پناہ قربانیوں کا متقاضی ہے، جس کے لیے ہمیں اپنی آسائشیں اور پرانے ڈھب قربان کرنے ہوں گے۔
ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر ہم نے آج اس گلے سڑے نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک ایسا ٹھوس فریم ورک نہ دیا جو علم کو دوبارہ شعور، ایمان اور کردار سے جوڑ سکے، تو یہ معاشرہ درندوں کی بستی بن جائے گا جہاں ہر طرف بھیڑیے تو ہوں گے مگر مظلوموں کو بچانے والا کوئی مسیحا نہیں ہوگا۔
اگر ہم نے اب بھی شعوری بغاوت نہ کی اور تعلیم کی اصل روح یعنی خوفِ خدا اور خدمتِ خلق کو زندہ نہ کیا، تو کل ہماری آنے والی نسلیں صرف ڈگری یافتہ جاہل کہلائیں گی جن کے پاس صرف دماغ ہو گا اور دل کی روشنی سے وہ بالکل محروم ہوں گی۔
یہ تمام صورتحال اور منظر اور وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس نظامِ باطل کو بدلو، ورنہ تاریخ کے کٹہرے میں ہماری خاموشی اور بے عملی کا انجام نہایت بھیانک ہوگا۔


ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں موجود تمام بنی نوع انسانوں کو از سر نو ایک نئے سانچے میں ڈھانے کی ضرورت ہے۔ اور ان کے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہے کہ اس مختصر سی دنیا میں جتنا ہو سکے جیسا ہو سکے دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
معاشرہ منجمد ہوچکا ہے۔۔ اس جمود کو توڑنا ہے اور نئے سرے سے شروعات کرنی ہے
اب سوال ہے کیسی شروعات اور کہاں سے تو جواب ہےنرسری اگانی ہے اور انتظار کرنا ہے کہ پودا تن آور درخت بن جائے اور پھل دینا شروع کریں
اپنے بچوں سے شروعات کیجئے آنے والی دنیا کو بدل دینے کی ٹھان لیجئے
سانول آکاش رائٹس.... (فیکٹ چیک) دائیں بائیں موجود حاسد لوگوں کے کردار کشی کرنے پر یا ان کے حاسدانہ تبصروں سے گھبرایا مت کریں کیونکہ یہی آپ کے کردار کی اصلی تصدیق ہوتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب آپ گھر میں کوئی ایک بلب آن کرتے ہیں یا کوئی چراغ جلاتے ہیں تو کیسے کھیتوں سے گندگی پر جیتے مرتے کالے کالے پونڈرے اُڑ اُڑ کر آپ کے بلب یا چراغ کے گرد منڈلاتے اس بلب یا چراغ کی روشنی بجھانے یا لو چھیننے کی کوشش کرتے اُن کے ٹکریں مار مار کر مر رہے ہوتے ہیں۔ یہ یوں بھی غماز ہے کہ لوگ آندھیرے پسند کرتے ہیں اور روشنی سے ڈرتے ہیں۔ فطرت ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ ایک انسانی کردار میں بھی ایسا سب کچھ ہوتا ہے۔ اگر آپ میں کردار والی کوئی بھی بات ہے تو لازمی ہے کہ پھر آپ کی باتیں بھی ہونگی۔ آپ اگر روشن کردار ہیں تو طے ہے کہ آپ کو بھی گندے کالے کالے پونڈروں کا سامنا لازمی ہو گا۔ بالکل جیسے کسی گھر میں جونہی کوئی شخص ایک چراغ جلاتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ کیسے دائیں بائیں گندگی کے ڈھیروں پر جینے والے درجنوں کالے کالے پونڈرے لگاتار آ کر ٹکریں مارتے اس چراغ کی روشنی بجھانے کی کوشش میں خود جل جل کر مر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ روشن رہیئے۔ اللہ آپ ہمیشہ روشن رکھے۔ آمین

Pull down to refresh