آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھ گیا خرچہ، موبائل فون کا اور فیکس کا
حکم جاری ہو گیا ہے اب وفاقی ٹیکس کا
حسرتِ دیدار پر اشکوں کی طغیانی پہ ٹیکس
وہ جو نلکوں میں نہیں آتا، اُسی پانی پہ ٹیکس
کوچۂ جاناں کی لمبائی پہ چوڑائی پہ ٹیکس
عاشقِ ناشاد کی کمزور بینائی پہ ٹیکس
شوہر مظلوم کی دل پھینک آزادی پہ ٹیکس
ایک شادی کی رعایت، دوسری شادی پہ ٹیکس
طفلِ دوئم پر جب این او سی طلب فرمائیں گے
پہلے بچے کے بقایا جات مانگے جائیں گے
ٹیکس زردہ پر اگر دے دو تو بریانی فری
صرف پاکستانیوں پر ٹیکس، افغانی فری
اور سب کو ہے معافی صرف بدحالوں پر ٹیکس
شاعروں پر، منشیوں پر اور قوالوں پر ٹیکس
اتنے پیسوں میں کہاں سے گھر میں آٹا جائے گا
آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹاجائے گا
ناظمؔ بزم سخن دے دے، اضافہ ٹیکس کا
اک لفافہ شاعری کا، اک لفافہ ٹیکس کا
اے مرے محنت کشو! دن رات مزدوری کرو
پیٹ کے دوزخ سے پہلے تم یہ جرمانہ بھرو
اپنی قسمت میں نہیں ہے کوئی دن آرام کا
تین ہفتے ٹیکس کے ہیں، ایک ہفتہ کام کا
اے کنوارو! وصل کی چاہت سے پہلے مال دو
ورنہ اپنی شادیوں کو التوا میں ڈال دو
خالد عرفان
اگر آپ اپنے والدین سے چھپا کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں کھلا رھے ھیں تو آپ بہت بڑے بیوقوف ھیں کیونکہ آپ اپنے بچوں کو سکھا رھے ھیں کہ بڑھاپے میں آپ کے ساتھ کیا کرنا ھے
“اگر خوشی تنخواہ سے آتی ہے، تو وہ ادھاری ہے
اگر منافع سے آتی ہے، تو وہ آپ کی ہے۔”
محرک چینل ،دل سے بنایا، دلوں تک پہنچا
جب ہم نے یوٹیوب پر محرک چینل شروع کیا،تو ہم نے صرف ویڈیوز نہیں بنائیں،ہم نے اپنا دل، وقت اور محنت اس میں ڈال دی۔شروع میں چند لوگ دیکھتے تھے،پھر یہ لوگ سو، ہزار، اور پھر ہزاروں بن گئے۔آج، روزانہ ہزاروں لوگ محرک کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔
ہم نے ویڈیو صرف کیمرے کے لیے نہیں بنائی،ہم نے ہر بات آپ کے دل تک پہنچانے کے لیے کہی۔جب آپ کمنٹ کرتے ہیں، شکریہ کہتے ہیں،تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم درست راستے پر ہیں۔
محرک اب صرف ہمارا چینل نہیں، یہ آپ سب کا بھی چینل ہے۔جو آپ کو آگے بڑھنے، کچھ نیا سیکھنے، کچھ اچھا کرنے کی حوصلہ افزائی دیتا ہے۔
اگر آپ نے اب تک محرک چینل کو نہیں دیکھا،تو بس ایک بار دیکھ لیں۔ہمیں پورا یقین ہے آپ کو ضرور پسند آئے گا۔
چینل کا لنک کمنٹس میں ہے۔
آئیے، ہم سب ایک دوسرے کے لیے “محرک” بنیں۔
ایک دن میں نے اپنے مینٹور سے پوچھا
“سر، لوگ ترقی کیسے کرتے ہیں؟”
وہ مسکرائے، قلم میز پر رکھا، اور آنکھوں میں سنجیدگی لیے کہا کہ
“بیٹا، دنیا میں ترقی کے صرف دو ہی طریقے ہیں ،یا تو تم اپنی مہارت بڑھاؤ، یا اپنے تعلقات۔”
میں چونکا۔
“بس؟ اتنا ہی؟”
انہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ہاں، اور دونوں میں سے اگر ایک بھی تم نے سچے دل سے اپنایا، تو دوسرا خود بخود پیچھے آ جائے گا۔”
پہلا راستہ: ہنر بڑھاؤ
میرے مینٹور نے کہا
“فرض کرو تم تنہا ہو، کسی کو نہیں جانتے…
مگر تمہارے ہاتھ میں ایسا ہنر ہے جو دنیا کے کام آ سکتا ہے
تو لوگ خود تمہیں ڈھونڈیں گے۔”
“ایک سنار اگر سونا پہچان سکتا ہے،
تو دنیا بھی اصل ہنر کو پہچاننا سیکھ جاتی ہے۔”
میں نے پوچھا کہ
“اگر مجھے ہنر نہیں آتا؟”
کہنے لگے کہ
“تو سیکھو! کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔
جو سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی ایک دن سکھانے کے قابل بنتا ہے۔”
دوسرا راستہ: واقفیت بڑھاؤ
پھر انہوں نے کہا
“اور اگر تم ابھی ہنر میں بہت آگے نہیں،
تو لوگوں سے ملو، تعلق بناؤ، سیکھنے والوں کے ساتھ بیٹھو،
کامیاب لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔”
“کبھی تم کسی کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے،
تو کبھی کوئی تمہارے دروازے پر آ کر کہے گا
بھائی، سنا ہے تم کچھ اچھا کرتے ہو؟”
میں نے آخر میں پوچھا کہ
“سر، دونوں میں سے اہم کون سا ہے؟”
وہ مسکرائے اور بولے
“ایک ہاتھ میں مہارت ہو، اور دوسرے میں تعلقات
تو کامیابی ہاتھوں سے پھسل نہیں سکتی۔”
دنیا بدلتی رہتی ہے، مگر اصول سادہ ہیں
ہنر بڑھاؤ ،تاکہ تمہاری جگہ دنیا میں خود بن جائے
تعلقات بناؤ ،تاکہ تمہیں مواقع ملتے رہیں
اور اگر تم دونوں پر کام کر لو…
تو پھر تمہیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔
Kabhi aurat ki brabari mat karna Kyuki.
Wo un taqlifo ko bhi Apne Dil me .
Debaye rakhti hai jinko bardaasht Karne .
Ke liya mard ko nashe ki zaroorat Hoti hai . 💯
Pull down to refresh