userPic

Javaid

Javaid

No bio available.

175
Posts
41
Followers
20
Following
Javaid shared fromJavaid 's post
Javaid shared fromJavaid 's post
Javaid shared fromJavaid 's post
Javaid shared fromJavaid 's post
Javaid shared fromJavaid 's post

طلوعِ آج 

( ایک افسانہ)

جاوید تیموری

سورج کی آخری کرنیں افق پر یوں دم توڑ رہی تھیں جیسے کسی مصور کے کینوس پر شفق کی لالی بے ترتیبی سے بکھر کر جم گئی ہو۔ روشنی آہستہ آہستہ شام کے ملگجے، پراسرار اندھیرے کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔ تاریکی کے اس تسلط کو دیکھتے ہی میں نے شعوری طور پر وہ مسکراہٹ اپنے چہرے سے اتار پھینکی جو دن بھر کسی جنگی زرہ کی طرح میرے خدوخال پر سجی رہی تھی۔ یہ مسکراہٹ محض ایک تاثر نہیں، میرا ایک نفسیاتی ہتھیار تھی، اور مجھے کامل یقین تھا کہ اگلی صبح بیدار ہوتے ہی مجھے اسے دوبارہ اپنے چہرے پر سجانا ہوگا۔ کیونکہ یہ میرا غیر متزلزل ارادہ تھا کہ میں آنے والے دن کا استقبال اپنے بہترین، طاقتور اور ہشاش بشاش روپ میں کروں گا۔

دن بھر کی تھکان کے بعد میں نے روزمرہ کے چھوٹے موٹے کام مشینی انداز میں نمٹائے۔ رات کا کھانا کھایا، سکرین پر بے معنی سی خبروں پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی، ڈیجیٹل دنیا کے پیغامات (ای میلز) کو کنگھالا، اور پھر دنیا کے اس تمام شور و غل سے کٹ کر اپنے اصل مرکز کی طرف لوٹ آیا۔ میں نے قلم اٹھایا اور اپنے تخیل کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر لکھنے بیٹھ گیا۔

اور پھر میرے اندر کے خالق نے ایک حکایت بُنی:

ایک دفعہ کا ذکر ہے، زمان و مکان کی قید سے دور، سمندر کے نیلگوں سینے پر ایک ہرا بھرا، سحر انگیز جزیرہ آباد تھا۔ یہ جزیرہِ حسیات تھا۔ یہاں انسانی وجود کو تشکیل دینے والے تمام جذبے اور احساسات—خوشی، غمی، افسوس، ہوس، تفاخر اور محبت—انتہائی سکون اور ہم آہنگی کے ساتھ مقیم تھے۔ کسی کو کل کی فکر نہ تھی، نہ زوال کا اندیشہ۔ وقت ایک میٹھے خواب کی طرح گزر رہا تھا۔

مگر پھر ایک روز، اس ابدی سکوت کو ایک ہولناک منادی نے چیر کر رکھ دیا:

”اے جزیرے کے باسیو! غور سے سنو۔ یہ زمین جو تمہارا مسکن ہے، اب فنا کے گھاٹ اترنے والی ہے۔ ایک طوفانِ بلا خیز اٹھ رہا ہے اور یہ جزیرہ ہمیشہ کے لیے سمندر کی تاریک گہرائیوں میں غرق ہونے والا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو، اپنی بقا کا بندوبست کرو اور یہاں سے نکل جاؤ، بصورتِ دیگر تم سب اس جزیرے کے ساتھ ہی غرقاب ہو جاؤ گے۔“

اس اعلان کے ساتھ ہی ایک نامعلوم، سرد موت کا خوف تمام جذبوں کی رگوں میں جم گیا۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم طاری ہو گیا۔ سب نے عجلت میں اپنی اپنی کشتیاں اور ناؤ بنانی شروع کر دیں۔ مگر اس قیامت خیز افراتفری میں صرف ایک جذبہ ایسا تھا جس کے ماتھے پر اپنی ذات کی فکر کی کوئی شکن نہ تھی۔ وہ جذبہ ’محبت‘ تھی۔ محبت اپنی کشتی بنانے کے بجائے دوسروں کی ڈھارس بندھاتی رہی۔ اس کے اندر ایک بے جا امید تھی کہ شاید یہ جزیرہ فنا ہونے سے بچ جائے، شاید انہیں اپنا گھر نہ چھوڑنا پڑے۔

مگر فطرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ پانی کی سطح بلند ہونے لگی اور جزیرہ دھیرے دھیرے سمندر کے پیٹ میں اترنے لگا۔ جب موت بالکل سر پر آ پہنچی، تو محبت کے اندر بھی بقا کی جبلت بیدار ہوئی۔ وہ گھبرائی ہوئی جزیرے کے آخری سرے تک پہنچی اور بے بسی سے چاروں طرف نظر دوڑائی۔

سب سے پہلے اس کی نظر ’ہوس و امارت‘ پر پڑی، جو سونے اور چاندی سے لدی اپنی ایک شاندار اور طمطراق والی ناؤ میں اکڑ کر بیٹھا وہاں سے گزر رہا تھا۔ محبت نے التجا کی، ”اے امارت! کیا تم مجھے بھی اپنے ساتھ اس ہولناک طوفان سے نکال سکتے ہو؟“

امارت نے حقارت سے جزیرے پر کھڑی محبت کو دیکھا اور سرد مہری سے بولا، ”نہیں، بالکل نہیں۔ میری کشتی میں سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات بھرے ہیں۔ یہاں تمہارے لیے کوئی گنجائش نہیں، تم میری دولت پر بوجھ بن جاؤ گی۔“

محبت مایوسی کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ پانی اس کے قدموں کو چھو رہا تھا۔ تبھی اس نے دیکھا کہ ’فخر و غرور‘ اپنی ایک انتہائی نفیس اور نازک اندام کشتی میں سبک رفتاری سے وہاں سے گزر رہا ہے۔ محبت نے آگے بڑھ کر پکارا، ”اے تفاخر! کیا آپ مجھے اس غرقابی سے بچا کر کسی خشک مقام تک لے جا سکتے ہیں؟“

فخر و غرور نے اپنی بھنویں سکیڑیں اور تکبر سے جواب دیا، ”ہرگز نہیں! میری کشتی کا توازن اور اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ تم اس وقت کیچڑ اور پانی سے لت پت ہو۔ تمہارے گیلے پن اور خستہ حالی سے میری اس من موہنی ناؤ کی تزئین و آرائش خراب ہو جائے گی، اور شاید یہ بوجھ سہہ نہ پاتے ہوئے ٹوٹ جائے۔“ یہ کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

محبت کا دل ٹوٹنے لگا۔ اسی اثنا میں ’غمی‘ کی سیاہ کشتی قریب سے گزری۔ محبت نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے منت کی، ”اے غمی بہن! میرے پاس کوئی ناؤ نہیں، مجھ پر رحم کرو اور مجھے اپنے ساتھ بٹھا لو۔“

غمی نے اپنی کھوکھلی اور ویران آنکھوں سے محبت کو دیکھا اور ایک آہ بھر کر بولی، ”مجھے بے حد افسوس ہے محبت، مگر میرا دکھ اتنا گہرا ہے کہ میں اس وقت کسی کا ساتھ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں صرف اور صرف تنہائی چاہتی ہوں۔“

کچھ دیر بعد وہاں سے ’مسرت و خوشی‘ کا گزر ہوا۔ محبت نے اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑے، مگر خوشی اپنی ہی سرخوشی اور سرمستی میں اس قدر مگن اور اندھی ہو چکی تھی کہ اسے محبت کی وہ ڈوبتی ہوئی آواز سنائی ہی نہ دی۔ وہ اپنی دھن میں رقص کرتی ہوئی آگے نکل گئی۔

جزیرہ اب لگ بھگ ڈوب چکا تھا۔ دن کی روشنی تاریکی میں بدل رہی تھی اور محبت کی آنکھوں میں موت کا سایہ لہرانے لگا تھا۔ اس کے تمام تر مخلصانہ دعوے ہار چکے تھے۔ عین اسی مایوسی کے عالم میں ایک نامعلوم، مگر انتہائی پروقار اور ٹھہری ہوئی آواز ابھری:

”ادھر آؤ محبت.... میرا ہاتھ تھام لو، میں تمہیں لے جاؤں گا۔“

محبت نے اس ہولناک لمحے میں یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ تاریک سائے میں کھڑا شخص کون ہے۔ جس محبت کو ہر جذبے نے ٹھکرا دیا تھا، اس کے لیے اس وقت یہی بہت تھا کہ کوئی اس کے وجود کو بچانے کے لیے تیار تھا۔ وہ فوراً اس کی ناؤ میں سوار ہو گئی۔

طوفان گزر گیا اور وہ نامعلوم لائف سیور محبت کو حفاظت سے خشکی پر اتار کر خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ جب محبت کے حواس بحال ہوئے، تو اسے خیال آیا کہ اس نے اپنے محسن کا نام تک نہیں پوچھا۔ اس نے ساحل پر پہلے سے موجود ’عقل و دانش‘ کی طرف دیکھا اور پوچھا، ”اے دانش! کیا تم بتا سکتی ہو کہ وہ کون تھا جس نے ایسے وقت میں میری مدد کی جب سب نے مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا؟“

عقل و دانش نے ایک گہری، معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ محبت کو دیکھا اور کہا، ”کیا تم واقعی نہیں جانتیں؟ وہ ’وقت‘ تھا۔“

”وقت؟“ محبت نے حیرانی سے پوچھا، ”مگر وقت نے میری مدد کیوں کی؟“

عقل نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، ”کیونکہ اس پوری کائنات میں، صرف ’وقت‘ ہی وہ واحد شے ہے جو محبت کی اصل قدر و قیمت اور اس کے ابدی ہونے کا راز جانتا ہے۔“

....٭....

یہ کہانی لکھ کر میں نے قلم رکھ دیا۔ میرے اندر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ کیونکہ لکھنا میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں، میرا جنون، میرا کتھارسس اور میری روح کا اظہار ہے۔

ان تمام کاموں سے فارغ ہو کر میں بستر پر دراز ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ تھکن جلد ہی مجھ پر غالب آ جائے گی اور نیند مجھے اپنی آغوش میں لے لے گی۔ میری یہ شدید آرزو بھی تھی کہ رات جلد از جلد کٹے اور میں اگلی صبح کو اپنی آنکھوں سے طلوع ہوتا دیکھوں۔

مگر جیسے ہی میں نے اس نرم و گداز بستر پر کروٹ لی، میرے ذہن کی مشینری پوری قوت سے متحرک ہو گئی۔ لاشعور نے آنے والے دن کے تصورات بننا شروع کر دیے۔ میری سوچوں کا محور ’اس‘ کے خیال کے ساتھ جا کر الجھ گیا۔ خیالات کا ایک لامتناہی اور بے قابو سلسلہ چل نکلا۔ بند آنکھوں کے پیچھے چلنے والی اس فلم کو دیکھ کر میرے لبوں پر خود بخود مسکراہٹ تیرنے لگی۔ پھر یہ مسکراہٹ ایک ہلکی سی ہنسی میں، اور ہنسی ایک بے ساختہ قہقہے میں بدل گئی۔

مگر انسانی نفسیات کس قدر پیچیدہ ہے! قہقہے لگاتے لگاتے اچانک مجھے اپنے گلے میں ایک عجیب سی خراش، ایک گھٹن کا احساس ہوا۔ سینے کے بائیں جانب ایک میٹھا مگر نامعلوم سا درد اٹھا۔ اور پھر اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، وہ عجیب احساس میری دونوں آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ نکلا۔ خوشی، بے تابی، تشکر اور زندگی کی نزاکت کا یہ کیسا ملا جلا غسل تھا! آنسوؤں نے شرط لگا کر بہنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی شعوری کوشش ترک کر دی اور اس جذباتی رو کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

غم اور خوشی کی اس عجیب و غریب کشمکش میں مجھے کب نیند آ گئی، مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ پھر میرے لاشعور نے خوابوں کا روپ دھار لیا اور کھٹے میٹھے سپنے صبحِ صادق تک میرے ذہن کے کینوس پر رنگ بکھیرتے رہے۔

....٭....

اگلی صبح الارم کی تیز آواز کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ بیداری کا وہ لمحہ سستی کا نہیں، بلکہ ایک نئے ولولے اور بھرپور توانائی کا لمحہ تھا۔ میں نے فوراً، شعوری طور پر، ایک فاتحانہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی۔ کیونکہ میں اپنے آج کی، اپنے اس نئے دن کی ناراضگی کسی قیمت پر مول نہیں لے سکتا تھا۔

میں نے لیٹے لیٹے ہی کھڑکی کے پردے سرکائے۔ اگرچہ ابھی پو پوری طرح پھٹی نہیں تھی، مگر میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی مجھے اس کائنات کی طرف سے زندہ رہنے اور ’اسے‘ پانے کا ایک اور انمول موقع دیا گیا ہے؟

آسمان پر سرمئی بادلوں کی چادر تنی تھی، مگر سورج ان بادلوں کا سینہ چیر کر اپنی سرخ اور سنہری کرنیں بکھیرنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ روشنی اندھیرے کو شکست دے رہی تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے آفتاب مجھ سے نظریں ملا کر مسکرا رہا ہو۔ میں نے بھی ایک گہری سانس لی اور اس کائناتی مسکراہٹ کا جواب دیا۔

”کیا یہ وہی دن ہے؟“ میں نے خود کلامی کی۔ میرے اندر ایک عجیب سا سحر، ایک طاقتور سرور اترنے لگا۔

”آج کیا ہونے جا رہا ہے؟ وہ مجھے کہاں ملے گی؟“

شاید کسی ٹھنڈے چشمے کے کنارے وہ میری پیاس بجھائے... یا شاید گلی کے کسی موڑ پر اچانک اس سے میری مڈبھیڑ ہو جائے... یا پھر اسے پانے کے لیے مجھے دن بھر اپنے خون پسینے کی سخت ترین جدوجہد کرنی پڑے...

طرح طرح کے خیالات میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ میں نے کمرے میں پڑنے والی سورج کی پہلی کرن کو دیکھا اور کائنات کے خالق کا شکر ادا کیا جس نے مجھے رات کی تاریکی میں امان دی اور ایک نئی صبح بخشی۔ میں نے اپنے آپ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے پوری رات اس وصل کے انتظار کی کوفت کو برداشت کیا تھا۔

ہاں... میں آج اسے دیکھوں گا، اسے پرکھوں گا، اس کے ہر لمحے کو اپنے اندر سمیٹوں گا اور اس پر اپنا تسلط قائم کروں گا۔

میرا اس سے ملاپ ہونے جا رہا ہے۔

وہ کوئی اور نہیں، میری ’طلوعِ آج‘ ہے... میرا نوروز، میری حیاتِ نو، میرا بالکل نواں نکور، اچھوتا دن... میرا ”آج“!

روشن  روشن  میری  چشمِ بینا  ہے

آج مجھے کچھ اور طرح سے جینا ہے

postImage
Javaid shared fromJavaid 's post

کچھ عرصہ قبل میں نے کرس گلیبو کی مشہورِ زمانہ کتاب "The $100 Startup" پڑھی، تو اس کے خیالات نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میرے دل میں خواہش جاگی کہ کیوں نہ اس کا اردو ترجمہ کیا جائے تاکہ ہمارے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں، لیکن جیسے ہی میں نے ابتدائی دو ابواب کا ترجمہ مکمل کیا، مجھ پر ایک حیرت انگیز حقیقت کھلی۔ مجھے احساس ہوا کہ اس کتاب کا مزاج، اس میں دی گئی مثالیں اور کاروبار کرنے کے طریقے مغربی معاشرے کے لیے تو بہترین ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارے مقامی ماحول، ہماری مارکیٹ کی نفسیات اور یہاں کی زمینی حقیقتوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

پہلے تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ترجمے کے دوران ہی اس میں اپنی مقامی مثالیں اور طریقے شامل کر دوں، لیکن جیسے ہی میں نے اس پر کام شروع کیا، ضمیر نے ایک نئی راہ دکھائی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسی بالکل نئی اور مستند کتاب تخلیق کی جائے جو خالصتاً ہمارے اپنے لوگوں کے مزاج کے مطابق ہو، جس میں طریقے وہ ہوں جو یہاں کی گلیوں اور بازاروں میں کام کرتے ہوں اور مثالیں ان لوگوں کی ہوں جنہیں ہم اپنے ارد گرد بستے دیکھتے ہیں۔ اسی ادراک نے میری کتاب 

“اپنا کاروبار، اپنی پہچان" کی بنیاد رکھی۔

اس کے بعد تحقیق کا ایک طویل سفر شروع ہوا، جب خاکہ مرتب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ چودہ ابواب سے کم میں یہ موضوع اپنی تشنگی دور نہیں کر پائے گا۔ پچھلے دو سال کی انتھک محنت، مشاہدات اور تجربات کو لفظوں میں پرونے کے بعد اب یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ کتاب ایڈیٹنگ کے کٹھن مراحل سے گزر کر اب غلطیوں سے پاک کی جا رہی ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ انشاء اللہ اگلے ہفتے تک یہ مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشرے میں چھوٹے کاروبار کو صفر سے بلندی تک لے جانے کے ان تمام رازوں کا مجموعہ ہے جنہیں عام طور پر چھپایا جاتا ہے۔ اگر آپ کاروبار کی دنیا میں نئے ہیں اور اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک مکمل مینوئل اور ایک سچے رہنما کا کام کرے گی۔ اپنے کاروبار اور اپنی پہچان کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے لیے اب آپ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ کتاب اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

#جاوید_تیموری 

postImage

کچھ عرصہ قبل میں نے کرس گلیبو کی مشہورِ زمانہ کتاب "The $100 Startup" پڑھی، تو اس کے خیالات نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میرے دل میں خواہش جاگی کہ کیوں نہ اس کا اردو ترجمہ کیا جائے تاکہ ہمارے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں، لیکن جیسے ہی میں نے ابتدائی دو ابواب کا ترجمہ مکمل کیا، مجھ پر ایک حیرت انگیز حقیقت کھلی۔ مجھے احساس ہوا کہ اس کتاب کا مزاج، اس میں دی گئی مثالیں اور کاروبار کرنے کے طریقے مغربی معاشرے کے لیے تو بہترین ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارے مقامی ماحول، ہماری مارکیٹ کی نفسیات اور یہاں کی زمینی حقیقتوں سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

پہلے تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ترجمے کے دوران ہی اس میں اپنی مقامی مثالیں اور طریقے شامل کر دوں، لیکن جیسے ہی میں نے اس پر کام شروع کیا، ضمیر نے ایک نئی راہ دکھائی۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک ایسی بالکل نئی اور مستند کتاب تخلیق کی جائے جو خالصتاً ہمارے اپنے لوگوں کے مزاج کے مطابق ہو، جس میں طریقے وہ ہوں جو یہاں کی گلیوں اور بازاروں میں کام کرتے ہوں اور مثالیں ان لوگوں کی ہوں جنہیں ہم اپنے ارد گرد بستے دیکھتے ہیں۔ اسی ادراک نے میری کتاب 

“اپنا کاروبار، اپنی پہچان" کی بنیاد رکھی۔

اس کے بعد تحقیق کا ایک طویل سفر شروع ہوا، جب خاکہ مرتب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ چودہ ابواب سے کم میں یہ موضوع اپنی تشنگی دور نہیں کر پائے گا۔ پچھلے دو سال کی انتھک محنت، مشاہدات اور تجربات کو لفظوں میں پرونے کے بعد اب یہ سفر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ کتاب ایڈیٹنگ کے کٹھن مراحل سے گزر کر اب غلطیوں سے پاک کی جا رہی ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ انشاء اللہ اگلے ہفتے تک یہ مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشرے میں چھوٹے کاروبار کو صفر سے بلندی تک لے جانے کے ان تمام رازوں کا مجموعہ ہے جنہیں عام طور پر چھپایا جاتا ہے۔ اگر آپ کاروبار کی دنیا میں نئے ہیں اور اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے ایک مکمل مینوئل اور ایک سچے رہنما کا کام کرے گی۔ اپنے کاروبار اور اپنی پہچان کی طرف پہلا قدم اٹھانے کے لیے اب آپ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ کتاب اب مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

#جاوید_تیموری 

postImage

طلوعِ آج 

( ایک افسانہ)

جاوید تیموری

سورج کی آخری کرنیں افق پر یوں دم توڑ رہی تھیں جیسے کسی مصور کے کینوس پر شفق کی لالی بے ترتیبی سے بکھر کر جم گئی ہو۔ روشنی آہستہ آہستہ شام کے ملگجے، پراسرار اندھیرے کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔ تاریکی کے اس تسلط کو دیکھتے ہی میں نے شعوری طور پر وہ مسکراہٹ اپنے چہرے سے اتار پھینکی جو دن بھر کسی جنگی زرہ کی طرح میرے خدوخال پر سجی رہی تھی۔ یہ مسکراہٹ محض ایک تاثر نہیں، میرا ایک نفسیاتی ہتھیار تھی، اور مجھے کامل یقین تھا کہ اگلی صبح بیدار ہوتے ہی مجھے اسے دوبارہ اپنے چہرے پر سجانا ہوگا۔ کیونکہ یہ میرا غیر متزلزل ارادہ تھا کہ میں آنے والے دن کا استقبال اپنے بہترین، طاقتور اور ہشاش بشاش روپ میں کروں گا۔

دن بھر کی تھکان کے بعد میں نے روزمرہ کے چھوٹے موٹے کام مشینی انداز میں نمٹائے۔ رات کا کھانا کھایا، سکرین پر بے معنی سی خبروں پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی، ڈیجیٹل دنیا کے پیغامات (ای میلز) کو کنگھالا، اور پھر دنیا کے اس تمام شور و غل سے کٹ کر اپنے اصل مرکز کی طرف لوٹ آیا۔ میں نے قلم اٹھایا اور اپنے تخیل کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر لکھنے بیٹھ گیا۔

اور پھر میرے اندر کے خالق نے ایک حکایت بُنی:

ایک دفعہ کا ذکر ہے، زمان و مکان کی قید سے دور، سمندر کے نیلگوں سینے پر ایک ہرا بھرا، سحر انگیز جزیرہ آباد تھا۔ یہ جزیرہِ حسیات تھا۔ یہاں انسانی وجود کو تشکیل دینے والے تمام جذبے اور احساسات—خوشی، غمی، افسوس، ہوس، تفاخر اور محبت—انتہائی سکون اور ہم آہنگی کے ساتھ مقیم تھے۔ کسی کو کل کی فکر نہ تھی، نہ زوال کا اندیشہ۔ وقت ایک میٹھے خواب کی طرح گزر رہا تھا۔

مگر پھر ایک روز، اس ابدی سکوت کو ایک ہولناک منادی نے چیر کر رکھ دیا:

”اے جزیرے کے باسیو! غور سے سنو۔ یہ زمین جو تمہارا مسکن ہے، اب فنا کے گھاٹ اترنے والی ہے۔ ایک طوفانِ بلا خیز اٹھ رہا ہے اور یہ جزیرہ ہمیشہ کے لیے سمندر کی تاریک گہرائیوں میں غرق ہونے والا ہے۔ جس قدر جلد ممکن ہو، اپنی بقا کا بندوبست کرو اور یہاں سے نکل جاؤ، بصورتِ دیگر تم سب اس جزیرے کے ساتھ ہی غرقاب ہو جاؤ گے۔“

اس اعلان کے ساتھ ہی ایک نامعلوم، سرد موت کا خوف تمام جذبوں کی رگوں میں جم گیا۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم طاری ہو گیا۔ سب نے عجلت میں اپنی اپنی کشتیاں اور ناؤ بنانی شروع کر دیں۔ مگر اس قیامت خیز افراتفری میں صرف ایک جذبہ ایسا تھا جس کے ماتھے پر اپنی ذات کی فکر کی کوئی شکن نہ تھی۔ وہ جذبہ ’محبت‘ تھی۔ محبت اپنی کشتی بنانے کے بجائے دوسروں کی ڈھارس بندھاتی رہی۔ اس کے اندر ایک بے جا امید تھی کہ شاید یہ جزیرہ فنا ہونے سے بچ جائے، شاید انہیں اپنا گھر نہ چھوڑنا پڑے۔

مگر فطرت کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ پانی کی سطح بلند ہونے لگی اور جزیرہ دھیرے دھیرے سمندر کے پیٹ میں اترنے لگا۔ جب موت بالکل سر پر آ پہنچی، تو محبت کے اندر بھی بقا کی جبلت بیدار ہوئی۔ وہ گھبرائی ہوئی جزیرے کے آخری سرے تک پہنچی اور بے بسی سے چاروں طرف نظر دوڑائی۔

سب سے پہلے اس کی نظر ’ہوس و امارت‘ پر پڑی، جو سونے اور چاندی سے لدی اپنی ایک شاندار اور طمطراق والی ناؤ میں اکڑ کر بیٹھا وہاں سے گزر رہا تھا۔ محبت نے التجا کی، ”اے امارت! کیا تم مجھے بھی اپنے ساتھ اس ہولناک طوفان سے نکال سکتے ہو؟“

امارت نے حقارت سے جزیرے پر کھڑی محبت کو دیکھا اور سرد مہری سے بولا، ”نہیں، بالکل نہیں۔ میری کشتی میں سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات بھرے ہیں۔ یہاں تمہارے لیے کوئی گنجائش نہیں، تم میری دولت پر بوجھ بن جاؤ گی۔“

محبت مایوسی کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ پانی اس کے قدموں کو چھو رہا تھا۔ تبھی اس نے دیکھا کہ ’فخر و غرور‘ اپنی ایک انتہائی نفیس اور نازک اندام کشتی میں سبک رفتاری سے وہاں سے گزر رہا ہے۔ محبت نے آگے بڑھ کر پکارا، ”اے تفاخر! کیا آپ مجھے اس غرقابی سے بچا کر کسی خشک مقام تک لے جا سکتے ہیں؟“

فخر و غرور نے اپنی بھنویں سکیڑیں اور تکبر سے جواب دیا، ”ہرگز نہیں! میری کشتی کا توازن اور اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ تم اس وقت کیچڑ اور پانی سے لت پت ہو۔ تمہارے گیلے پن اور خستہ حالی سے میری اس من موہنی ناؤ کی تزئین و آرائش خراب ہو جائے گی، اور شاید یہ بوجھ سہہ نہ پاتے ہوئے ٹوٹ جائے۔“ یہ کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

محبت کا دل ٹوٹنے لگا۔ اسی اثنا میں ’غمی‘ کی سیاہ کشتی قریب سے گزری۔ محبت نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے منت کی، ”اے غمی بہن! میرے پاس کوئی ناؤ نہیں، مجھ پر رحم کرو اور مجھے اپنے ساتھ بٹھا لو۔“

غمی نے اپنی کھوکھلی اور ویران آنکھوں سے محبت کو دیکھا اور ایک آہ بھر کر بولی، ”مجھے بے حد افسوس ہے محبت، مگر میرا دکھ اتنا گہرا ہے کہ میں اس وقت کسی کا ساتھ برداشت نہیں کر سکتی۔ میں صرف اور صرف تنہائی چاہتی ہوں۔“

کچھ دیر بعد وہاں سے ’مسرت و خوشی‘ کا گزر ہوا۔ محبت نے اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ جوڑے، مگر خوشی اپنی ہی سرخوشی اور سرمستی میں اس قدر مگن اور اندھی ہو چکی تھی کہ اسے محبت کی وہ ڈوبتی ہوئی آواز سنائی ہی نہ دی۔ وہ اپنی دھن میں رقص کرتی ہوئی آگے نکل گئی۔

جزیرہ اب لگ بھگ ڈوب چکا تھا۔ دن کی روشنی تاریکی میں بدل رہی تھی اور محبت کی آنکھوں میں موت کا سایہ لہرانے لگا تھا۔ اس کے تمام تر مخلصانہ دعوے ہار چکے تھے۔ عین اسی مایوسی کے عالم میں ایک نامعلوم، مگر انتہائی پروقار اور ٹھہری ہوئی آواز ابھری:

”ادھر آؤ محبت.... میرا ہاتھ تھام لو، میں تمہیں لے جاؤں گا۔“

محبت نے اس ہولناک لمحے میں یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ تاریک سائے میں کھڑا شخص کون ہے۔ جس محبت کو ہر جذبے نے ٹھکرا دیا تھا، اس کے لیے اس وقت یہی بہت تھا کہ کوئی اس کے وجود کو بچانے کے لیے تیار تھا۔ وہ فوراً اس کی ناؤ میں سوار ہو گئی۔

طوفان گزر گیا اور وہ نامعلوم لائف سیور محبت کو حفاظت سے خشکی پر اتار کر خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ جب محبت کے حواس بحال ہوئے، تو اسے خیال آیا کہ اس نے اپنے محسن کا نام تک نہیں پوچھا۔ اس نے ساحل پر پہلے سے موجود ’عقل و دانش‘ کی طرف دیکھا اور پوچھا، ”اے دانش! کیا تم بتا سکتی ہو کہ وہ کون تھا جس نے ایسے وقت میں میری مدد کی جب سب نے مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا؟“

عقل و دانش نے ایک گہری، معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ محبت کو دیکھا اور کہا، ”کیا تم واقعی نہیں جانتیں؟ وہ ’وقت‘ تھا۔“

”وقت؟“ محبت نے حیرانی سے پوچھا، ”مگر وقت نے میری مدد کیوں کی؟“

عقل نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا، ”کیونکہ اس پوری کائنات میں، صرف ’وقت‘ ہی وہ واحد شے ہے جو محبت کی اصل قدر و قیمت اور اس کے ابدی ہونے کا راز جانتا ہے۔“

....٭....

یہ کہانی لکھ کر میں نے قلم رکھ دیا۔ میرے اندر ایک عجیب سی طمانیت تھی۔ کیونکہ لکھنا میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں، میرا جنون، میرا کتھارسس اور میری روح کا اظہار ہے۔

ان تمام کاموں سے فارغ ہو کر میں بستر پر دراز ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ تھکن جلد ہی مجھ پر غالب آ جائے گی اور نیند مجھے اپنی آغوش میں لے لے گی۔ میری یہ شدید آرزو بھی تھی کہ رات جلد از جلد کٹے اور میں اگلی صبح کو اپنی آنکھوں سے طلوع ہوتا دیکھوں۔

مگر جیسے ہی میں نے اس نرم و گداز بستر پر کروٹ لی، میرے ذہن کی مشینری پوری قوت سے متحرک ہو گئی۔ لاشعور نے آنے والے دن کے تصورات بننا شروع کر دیے۔ میری سوچوں کا محور ’اس‘ کے خیال کے ساتھ جا کر الجھ گیا۔ خیالات کا ایک لامتناہی اور بے قابو سلسلہ چل نکلا۔ بند آنکھوں کے پیچھے چلنے والی اس فلم کو دیکھ کر میرے لبوں پر خود بخود مسکراہٹ تیرنے لگی۔ پھر یہ مسکراہٹ ایک ہلکی سی ہنسی میں، اور ہنسی ایک بے ساختہ قہقہے میں بدل گئی۔

مگر انسانی نفسیات کس قدر پیچیدہ ہے! قہقہے لگاتے لگاتے اچانک مجھے اپنے گلے میں ایک عجیب سی خراش، ایک گھٹن کا احساس ہوا۔ سینے کے بائیں جانب ایک میٹھا مگر نامعلوم سا درد اٹھا۔ اور پھر اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا، وہ عجیب احساس میری دونوں آنکھوں سے آنسوؤں کی شکل میں بہہ نکلا۔ خوشی، بے تابی، تشکر اور زندگی کی نزاکت کا یہ کیسا ملا جلا غسل تھا! آنسوؤں نے شرط لگا کر بہنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے آپ پر قابو پانے کی شعوری کوشش ترک کر دی اور اس جذباتی رو کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

غم اور خوشی کی اس عجیب و غریب کشمکش میں مجھے کب نیند آ گئی، مجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ پھر میرے لاشعور نے خوابوں کا روپ دھار لیا اور کھٹے میٹھے سپنے صبحِ صادق تک میرے ذہن کے کینوس پر رنگ بکھیرتے رہے۔

....٭....

اگلی صبح الارم کی تیز آواز کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔ بیداری کا وہ لمحہ سستی کا نہیں، بلکہ ایک نئے ولولے اور بھرپور توانائی کا لمحہ تھا۔ میں نے فوراً، شعوری طور پر، ایک فاتحانہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی۔ کیونکہ میں اپنے آج کی، اپنے اس نئے دن کی ناراضگی کسی قیمت پر مول نہیں لے سکتا تھا۔

میں نے لیٹے لیٹے ہی کھڑکی کے پردے سرکائے۔ اگرچہ ابھی پو پوری طرح پھٹی نہیں تھی، مگر میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی مجھے اس کائنات کی طرف سے زندہ رہنے اور ’اسے‘ پانے کا ایک اور انمول موقع دیا گیا ہے؟

آسمان پر سرمئی بادلوں کی چادر تنی تھی، مگر سورج ان بادلوں کا سینہ چیر کر اپنی سرخ اور سنہری کرنیں بکھیرنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ روشنی اندھیرے کو شکست دے رہی تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے آفتاب مجھ سے نظریں ملا کر مسکرا رہا ہو۔ میں نے بھی ایک گہری سانس لی اور اس کائناتی مسکراہٹ کا جواب دیا۔

”کیا یہ وہی دن ہے؟“ میں نے خود کلامی کی۔ میرے اندر ایک عجیب سا سحر، ایک طاقتور سرور اترنے لگا۔

”آج کیا ہونے جا رہا ہے؟ وہ مجھے کہاں ملے گی؟“

شاید کسی ٹھنڈے چشمے کے کنارے وہ میری پیاس بجھائے... یا شاید گلی کے کسی موڑ پر اچانک اس سے میری مڈبھیڑ ہو جائے... یا پھر اسے پانے کے لیے مجھے دن بھر اپنے خون پسینے کی سخت ترین جدوجہد کرنی پڑے...

طرح طرح کے خیالات میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ میں نے کمرے میں پڑنے والی سورج کی پہلی کرن کو دیکھا اور کائنات کے خالق کا شکر ادا کیا جس نے مجھے رات کی تاریکی میں امان دی اور ایک نئی صبح بخشی۔ میں نے اپنے آپ کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے پوری رات اس وصل کے انتظار کی کوفت کو برداشت کیا تھا۔

ہاں... میں آج اسے دیکھوں گا، اسے پرکھوں گا، اس کے ہر لمحے کو اپنے اندر سمیٹوں گا اور اس پر اپنا تسلط قائم کروں گا۔

میرا اس سے ملاپ ہونے جا رہا ہے۔

وہ کوئی اور نہیں، میری ’طلوعِ آج‘ ہے... میرا نوروز، میری حیاتِ نو، میرا بالکل نواں نکور، اچھوتا دن... میرا ”آج“!

روشن  روشن  میری  چشمِ بینا  ہے

آج مجھے کچھ اور طرح سے جینا ہے

postImage