Live Audio

Gym my life🫶🏻🔥
عنوان: خوبصورت زندگی
خوبصورت زندگی صرف بڑی کامیابیوں سے نہیں بنتی بلکہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں، اچھے رویے اور شکر گزاری سے بھی بنتی ہے۔ ہر دن کو ایک نئی امید کے ساتھ شروع کریں۔
imagine getting no support then BOOM you’re a millionaire.
ہم مُحبت اور جذبے سے لبریز تھے، لیکن ہم مایوس ہو گئے🖤🥀🍂
No porn + avoid sugar + drink water + hit the gym + party less + Avoid drama + Dress well + Make money + Smell nice + Talk less  
= Magic pill to life.
میانوالی(اللہ نواز خان) ونجاری اور گردونواح کے علاقوں سمیت ضلع میانوالی میں تیز آندھی اور بارش سے موسم خوشگوار۔کسان بھی خوشی سے سرشار۔ تفصیلات کے مطابق ونجاری اور گرد نواح کے علاقوں سمیت پورے ضلع میانوالی میں تیزآندھی اور بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا۔تین دن سے مسلسل گرمی پڑ رہی تھی،بارش کے بعد گرمی کی شدت میں کمی آگئی۔مزید بارشوں کا امکان کم ہے۔15۔جون کو گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے اور 19۔جون کو تو درجہ حرارت زیادہ بڑھ جائے گا۔بارش کی وجہ سے کسان بھی خوشی سے سرشار ہیں۔مونگ اور دیگر فصلوں کو پانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اور بارش سے کسانوں کا مسئلہ حل ہو گیا۔آج کل زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی بہت ہی مہنگی قیمت پر دستیاب ہے۔بارش کی وجہ سے کسانوں کا قیمتی سرمایہ بچ گیا۔وہ علاقے جہاں صاف پانی موجود نہیں،وہاں کی عوام نے بارشی پانی کو سٹور کر لیا۔گلاخیل اور خٹک پیلٹ کےکچھ علاقہ جات لمبے عرصے سے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔وہاں کے رہنے والوں کا انحصار بارشی پانی پر ہوتا ہے۔پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےتالابوں اور جوہڑوں میں پانی کو جمع کرکے پینے اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔جوہڑوں اور تالابوں کا پانی آلودہ بھی ہوتا ہے لیکن خٹک بیلٹ کے مکین وہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

غلطی، معافی اور تلافی: اسلامی اصولِ انصاف کی روشنی میں فرد اور معاشرہ کی اصلاح کا اسلامی تجزیہ

✍🏻: حافظ ہارون سیف اعوان

فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور.


انسان خطا و نسیان کا پتلا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو اسکی چھوٹی موٹی غلطیوں پر ڈھیل دے دی ہے اور صغیرہ گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے مٹانے کا بندوبست کر دیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ 

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ... سورۃ ہود، آیت: 114

اردو ترجمہ: “بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امید، اصلاح اور رحمت کا عظیم اصول بیان فرمایا کہ اخلاص کے ساتھ کی گئی نیکیاں، توبہ، عبادات اور اعمالِ صالحہ انسان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ آیت مومن کو مایوسی کے بجائے رجوع، اصلاح اور نیکی کی کثرت کی ترغیب دیتی ہے۔

شریعتِ اسلامیہ نے انسان کی فطری کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی اصلاح، تطہیر اور رجوع الی اللہ کا مکمل راستہ بھی عطا کیا ہے۔ اسی حقیقت کو نبی اکرم ﷺ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا: “کُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ...” (الحدیث)

یعنی اولادِ آدم سب خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں۔ 

اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ: اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ... یعنی “گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔” ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ اصلاح، امید اور عملی واپسی کا درس دیتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ” (البقرہ: 222)

ترجمہ: بے شک اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

یہ آیت اس حقیقت پر نقلی دلیل ہے کہ خطا کا اصل علاج اخلاص کے ساتھ رجوع الی اللہ ہے۔ عقلی طور پر بھی انسان چونکہ خواہشات، غفلت یا جذبات کے زیر اثر غلطی کر بیٹھتا ہے، اس لیے ایک مہذب اور عادل نظام وہی ہوگا جو اصلاح کا دروازہ کھلا رکھے۔ اگر غلطی کے بعد واپسی کا راستہ نہ ہو تو معاشرہ مایوسی، بگاڑ اور انتقام کا شکار ہو جائے۔

لیکن توبہ کی قبولیت خصوصاً حقوق العباد میں صرف زبانی معافی سے مکمل نہیں ہوتی۔ اگر کسی نے کسی کی عزت مجروح کی، مال ہڑپ لیا، دھوکہ دیا یا جسمانی نقصان پہنچایا تو اس پر تین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

(1) گناہ پر حقیقی ندامت،

(2) آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم،

(3) متاثرہ شخص سے معافی اور حق کی واپسی یا تلافی کرنا۔

یہی عدل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق کا فیصلہ انتہائی باریکی سے ہوگا۔ اس لیے کسی انسان کو نقصان پہنچا کر صرف نفلی عبادات، تسبیحات اور ذکر اذکار کی حد تک عبادات کرنا کافی نہیں جب تک مظلوم کا حق ادا نہ ہو۔

“ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں..!

سوال یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیاں سدھارتے کیسے ہیں”

یہ نوٹ دراصل خود احتسابی کا بنیادی اصول ہے۔ 

غلطی سدھارنے کے لیے پہلا قدم اپنی خطا تسلیم کرنا ہے، کیونکہ انکار اصلاح کی راہ بند کر دیتا ہے۔ 

دوسرا قدم شرمندگی ہے، جو دل کو نرم کرتی ہے۔ 

تیسرا قدم عملی اصلاح ہے کہ جہاں بگاڑ پیدا کیا وہاں بہتری لائی جائے۔

مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے غصے میں آکر اپنے دوست پر جھوٹا الزام لگا دیا جس سے اس کی عزت متاثر ہوئی تو صحیح اصلاح یہ ہوگی کہ وہ پہلے اللہ سے سچی توبہ کرے پھر اپنے دوست سے معافی مانگے جن لوگوں کے سامنے الزام لگایا تھا وہاں حقیقت واضح کرے اور اگر اس الزام سے مالی یا سماجی نقصان ہوا تو حتی المقدور اس کی تلافی کرے۔ 

یہی حقیقی توبہ ہے اور محض “معاف کر دو” کہہ دینا کافی نہیں جب تک نقصان کا ازالہ نہ ہو۔

عقلی اعتبار سے بھی یہی رویہ اعتماد بحال کرتا ہے۔ معاشرے میں تعلقات صرف معذرت سے نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنی غلطی مان کر اسے درست کرتا ہے وہ اخلاقی طور پر زیادہ بلند ہوتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جو انا کی وجہ سے غلطی پر قائم رہے۔

خلاصہ یہ کہ انسان سے خطا ہونا فطری ہے، مگر خطا پر اصرار تباہ کن ہے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ گناہ کے بعد مایوسی نہیں بلکہ سچی توبہ، حقوق کی ادائیگی اور عملی اصلاح اختیار کی جائے۔ اللہ کے حقوق میں استغفار اور بندوں کے حقوق میں معافی و تلافی ضروری ہے۔ پس کامیاب وہ نہیں جو کبھی نہ گرے بلکہ کامیاب وہ ہے جو گر کر سنبھل جائے، اپنی اصلاح کرے اور اللہ و بندوں دونوں کے حقوق ادا کرکے بہتر انسان بن جائے۔

اس کا کوئی بتائے گا یہ کیسے ھوگیا

Pull down to refresh