userPic

Allah Nawaz khan

Allah Nawaz khan

Journalist

15
Posts
1
Followers
0
Following
منشیات کا زہر: اسباب, تباہ کاریاں اور تدارک تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com منشیات کا استعمال جسم اور دماغ کے علاوہ معاشرے کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔اس کواستعمال کرنے سے وقتی سکون یا سرور تو ملتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔۔اس کا استعمال کرنے والا ذہنی طور پر بھی مسائل کا شکار رہتا ہے اور دیگر مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔منشیات کی مختلف اقسام ہیں جن میں کئی تو زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور کچھ کم خطرناک۔چرس اورشراب کاشمار منشیات میں ہوتا ہے اوران کا استعمال عام ہے۔سینکڑوں ممالک میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں اور وہاں شراب کا استعمال عام ہے۔چرس کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے۔ہیروئن،افیون،کوکین،آئس اور دیگر کئی قسم کی منشیات دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اوراس کی جدید اقسام بھی دریافت کی جا رہی ہیں۔خطرناک منشیات کا عادی فرد معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔خطرناک منشیات کے استعمال سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو جاتی ہے۔بعض اوقات ایسا فرد کسی کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔منشیات رقم کی عوض حاصل ہوتی ہے،اگر رقم نہ ہوتواس کےحصول کے لیے ڈاکے اور چوریاں بھی کی جاتی ہیں۔معاشرے کے قابل ترین افراد بھی منشیات کا شکار ہو کر کسی کام کے نہیں رہتے۔یہ ایک ایسی لت ہے جو انسان کو مردہ سے بھی بدتر کر دیتی ہے۔اکثر معاشرے کے اہم افراد منشیات کےحصول کے لیے بھیک مانگتے ہوئے بھی نظرآجاتے ہیں۔ پہلےپہل منشیات اس لیے استعمال کی جاتی ہے کہ سکون حاصل ہو۔تجسس کی خاطر بھی استعمال کی جاتی ہے۔بعض اوقات دوست یا قریبی عزیز بھی منشیات کا عادی کر دیتے ہیں۔جنسی خوشی کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔منشیات کا حصول مشکل نہیں ہوتا بلکہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔شراب کے علاوہ تقریبا تمام ممالک میں منشیات ممنوع ہے،لیکن پھر بھی دستیاب ہو جاتی ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی منشیات استعمال ہوتی ہوئی نظرآجاتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔پٹرول،صمد بانڈ اور اس قسم کے دیگر اشیاء سےبھی نشہ حاصل کیا جاتا ہے۔ہیروئن اور اس جیسے نشہ کا استعمال بہت ہی خطرناک ہے۔منشیات چھوٹے دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک استعمال ہو رہی ہے۔تعلیمی درسگاہیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔بہت سے طالب علم نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔بعض افرادآئس،شیشہ یا حقہ کو بطور فیشن استعمال کرتے ہیں،بلکہ کئی قسم کی منشیات فیشن کے نام پر بھی استعمال ہو رہی ہے۔بطور فیشن استعمال کرنے والے بعد میں عادی ہو جاتے ہیں۔منشیات استعمال کرنے والے افراد گھر والوں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔اگر گھر کا سربراہ نشے کاعادی ہو جائے تو پورا گھرانہ متاثر ہو جاتا ہے۔بچے تعلیم سے محروم اور اہل خانہ فاقے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اکثرسربراہ کی وجہ سے دیگر اہل خانہ کو بھی نشے کی لت لگ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور معاشی پریشانیوں سے منشیات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔برے دوستوں کی صحبت،گھریلو ناچاکیاں،والدین کی عدم توجہی اور احساس کمتری سے بھی منشیات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔یہ کہنا لازمی ہے کہ چند افراد مسائل کی وجہ سے شروع کرتے ہیں،کروڑوں افراد نظر آتے ہیں جو انتہائی پریشانیوں کے باوجود بھی کسی قسم کی منشیات کا استعمال نہیں کرتے۔بعض اوقات سگریٹ کا استعمال کیا جاتا ہے،لیکن بعد میں دیگر منشیات کی طرف رغبت ہو جاتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے سگریٹ پیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔منشیات ایک ایسی لت ہے جس کا چھوڑنا انتہائی دشوار ہوتا ہے،لیکن ناممکن نہیں ہوتا۔پہلی بار کسی نشے کا استعمال انتہائی خوشگوار کیفیت طاری کرتا ہے،بعد میں استعمال کرنے سے پہلا سکون حاصل نہیں ہوتا تو منشیات کی مقدار میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔زیادہ خطرناک منشیات استعمال کرنے والے افراد تو معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔جیسے ہیروئنچی انتہائی غلیظ ماحول میں خوشی سے رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ہیروئن استعمال کرنے والےکوڑے کے ڈھیروں پر بیٹھے یا لیٹےہوئےدکھائی دیتےہیں۔ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں اور کئی قسم کی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔اکثرمنشیات کےعادی افراد ایک ہی سرنج کو متعدد افراد کے درمیان استعمال کرتے ہیں اور نشہ براہ راست رگوں میں داخل کرتے ہیں۔اس عمل سے ایڈز،ہیپاٹائٹس اور دیگر کئی خطرناک بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ منشیات کسی ایک ملک کامسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے،دفتر برائے انسدادمنشیات وجرائم(UNODC) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2023 کے دوران 316 ملین افراد نے کم از کم ایک بار غیر قانونی منشیات استعمال کی۔خفیہ طور پر بھی منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 24 کروڑ 40 لاکھ افراد دنیا بھر میں چرس استعمال کرتے ہیں۔ہیروئین اور دوسری منشیات بھی کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 70 سے 80 لاکھ کے برابر ہے۔ہو سکتا ہے یہ وہ تعداد ہے جو ریکارڈ پر ہے،اس سے زیادہ تعداد بھی ہونا ممکن ہے۔ہر سال 40 ہزار افراد پاکستان میں منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔دیگر ممالک میں بھی منشیات کے عادی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔منشیات کے خاتمے کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ منشیات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے،مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔تعلیمی اداروں میں آگاہی دی جائے۔مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں منشیات کے خلاف تلقین کی جائے۔والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔اگر کوئی بچہ/بچی اس لت کا شکار ہو گیا ہے تو اس پر سختی کرنے کے علاوہ پیار سے بھی سمجھایا جائے۔ان کے علاج پر خصوصی توجہ دی جائے۔منشیات کے علاج کے لیے اسپتال تعمیر ہونے چاہیے،جہاں نشے کے عادی افراد کا علاج ممکن حد تک فری ہو۔کونسلنگ کر کے بھی منشیات سے نفرت دلائی جائے،تاکہ نشئی افراد منشیات کو چھوڑ سکیں۔منشیات کے خلاف قانون سازی کی جائے اور منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔سخت قسم کی سزاؤں سے منشیات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔جو میڈیکل سٹورز نشہ آور ادویات بغیر ڈاکٹر کی تجویز کے فروخت کر رہے ہیں،ان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔کچھ میڈیکل سٹورزکے مالکان پیسوں کی خاطر نشہ آورادویات فروخت کر دیتے ہیں،حالانکہ یہ قانونی اور اخلاقی طور پر کسی طور درست نہیں۔منشیات کے خاتمے کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ بھی ضروری ہے۔جیسے کھیل یا کوئی تحریری تقریری مقابلے منعقد کرا کر منشیات کے استعمال سے روکا جا سکتا ہے۔یہ تو واضح ہے کہ منشیات سکون کے لیے استعمال کی جاتی ہے،لیکن حقیقی سکون کے لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرما دیا ہے۔"دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے"(الرعد۔28) اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو منشیات پرآسانی سے کنٹرول ہو سکتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب شراب کی حرمت کا حکم آیا تو فوری طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شراب کو چھوڑ دیا۔اب بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہر قسم کی منشیات کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
افزودہ یورنیم اور ایران کا مستقبلتحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com  اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی جاری ہے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ان مذاکرات کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران  افزودہ یورنیم  سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔امریکی صدر کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ ایران ایٹمی توانائی سے دستبردار ہو جائے۔امریکی حکام کی طرف سے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طےنہیں پایا ہے۔مزید کہا کہ میرے لیے سب سےاہم ضمانت یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ رہیں اور وہ اس پر رضامند ہو چکے ہیں۔ثالثوں کی طرف سے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ مکمل جنگ بندی ہو جائے۔آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہو چکا ہے،اس لیے بہت سے ممالک کوشش کر رہے ہیں کہ جنگ بند ہو جائے۔جنگ بند ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھل جائےگا۔خلیجی ممالک کا بھی دباؤ ہے کہ جنگ نہ ہو،کیونکہ وہ بھی اس کشیدگی سےمتاثر ہو رہے ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات عالمی سیاست میں خاص اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔اس جنگ میں امریکہ بھی بہت کچھ کھو چکا ہے،لیکن کامیابی بہت ہی دور ہے۔امریکی صدر نے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصہ بعد کامیابی کا دعوی کیا تھا۔امریکی صدر کے دعوے پہ اس لیے بھی لوگوں کویقین نہیں آتا کہ ایران اب بھی اپنی مضبوط پوزیشن پر موجود ہے۔ایٹمی مواد کے علاوہ ایرانی میزائل سسٹم بھی امریکہ کے لیے پریشان کن ہے۔آبنائے ہرمز کی وجہ سے بھی امریکی حکام تشویش کا شکار ہیں۔ایران پر عالمی پابندیاں بھی ہیں اوربہت سے اثاثے بھی منجمد ہیں۔منجمد اثاثے بحال ہو جائیں اور عالمی پابندیاں بھی ہٹ جائیں تو ایران بہت ہی مضبوط پوزیشن پر چلا جائے گا۔مذاکرات جاری ہیں،لیکن دھمکیوں کی صورت میں دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔اب یہ مذاکرات کب کامیاب ہوتے ہیں،کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بھی رپورٹس مل رہی ہیں کہ ایران اپنا افزودہ یورنیم کا ذخیرہ چین کے پاس جمع کروانے کے لیے تیار ہو چکا ہے۔تہران آمادہ ہو گیا ہے کہ افزودہ یورنیم اپنے ملک سے باہر منتقل کر دے،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ صرف چین کو منتقل کیا جائے گا۔اس سلسلے میں بیجنگ سے بات چیت جاری ہے اور ٹھوس ضمانتیں بھی طلب کی جا رہی ہیں۔ایران اپنا قیمتی اثاثہ اس لیے چین کے حوالے کرنے پرآمادہ ہو چکا ہے کہ بوقت ضرورت آسانی سے ایٹمی مواد تک رسائی ہو سکے۔شاید امریکہ منظور نہ کرے کہ ایران اپنا افزودہ یورنیم کا ذخیرہ چین کے حوالے کرے۔چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔بہرحال یہ شرط امریکہ تسلیم کرے گا کیونکہ اس کے علاوہ ایران کسی اور پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوگا۔امریکہ کو اس سے یہ فائدہ حاصل ہو جائے گا کہ ایران جوہری توانائی سے دستبردار ہو رہا ہے۔جب ایران افزودہ یورنیم سے دستبردار ہو جائے گا تو اس کےمنجمد اثاثے بھی بحال ہو سکتے ہیں اور عالمی پابندیاں ہٹائی یا ان میں نرمی کی جا سکتی ہے۔اگر تہران کی طرف سے افزودہ یورنیم سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا جاتا ہے تو اس صورت میں ایران پر محدود حملے ہو سکتے ہیں۔  اگر ایران افزودہ یورنیم کا ذخیرہ کسی دوسرے ملک کے حوالے کر دیتا ہے تو اس سے ایران اپنا دفاعی اور اسٹریٹجک طاقت کا اہم ذریعہ کھو دے گا۔ایران کی اپنے روایتی حریفوں کے مقابلے میں عسکری طاقت کم ہو جائے گی۔عالمی سطح پر بھی اس کی سیاسی وفوجی اہمیت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔امریکہ سمیت تمام ممالک کو ایٹمی ہتھیاروں سے خطرہ ہے،ایران کےپاس اگر ایٹمی ہتھیار موجود نہ رہیں تو اس کا خوف بالکل ختم ہو جائے گا۔اب بھی اسی وجہ سے مذاکرات ہو رہے ہیں کہ ایران کے پاس آفزودہ یورنیم موجود ہے۔ایرانی میزائل سسٹم بھی خوفناک ہے لیکن ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ نہیں۔سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہتھیاروں کا ہے،اسی لیے کوششیں کی جا رہی ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود نہ ہوں۔اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ ایران افزدہ یورنیم سے دستبردار ہو جائے اور دوبارہ کہیں خفیہ جگہ پریورنیم افزودہ کرنا شروع کر دے۔اس طرح کا موقع امریکہ دوبارہ نہیں دینا چاہے گا،اس لیے بہت ہی مشکل ہوگا کہ ایران دوبارہ یورنیم کو افزودہ کر لے۔ ایران اگر اپنی افزودہ یورنیم کا ذخیرہ چین منتقل کرنے پر راضی ہو جاتا ہے تو کیا چین ایران کی مدد کرے گا؟فوجی مدد انتہائی مشکل ہے،کیونکہ اس سے عالمی جنگ چھیڑ سکتی ہے۔چین اور روس اس صورت میں ایران کا ساتھ دے سکتے ہیں کہ وہ ایک علیحدہ بلاک بنالیں۔چین تیل کی خریداری یا دیگر اقتصادی   تعلقات برقرار رکھے گا،لیکن دفاعی تعاون بہت ہی مشکل ہے۔ایران پر اگر پابندیاں ہٹ جاتی ہیں اور وہ تیل عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے تو ایران کم وقت میں مضبوطی حاصل کر سکتا ہے۔ایران مضبوط ہونے کے بعد دوبارہ یورنیم افزودہ شروع کردےگا یاچین سے اپنی افزودہ یورنیم واپس حاصل کر سکتاہے۔یورنیم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی  حساس اور مشکل امر ہے۔ایران بھی اگرایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے تو دھمکا کر فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ایٹمی جنگ کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہو جائے؟مذاکرات کیے جا رہے ہیں اور کب کامیاب ہوتے ہیں،کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن بہتری کی امید رکھنی چاہیے۔
ٹی۔بی اوراسکاعلاج  تحریر:اللہ نوازخانallahnawazk012@gmail.comکچھ دہائیاں قبل ٹی بی کا علاج نہیں تھا۔اگر کوئی فرد ٹی بی کے مرض کا شکار ہو جاتا تھا تو اس کی موت یقینی ہوتی تھی۔مرنےسے قبل موت کا تصور خاصہ ہولناک ہوتاہےاورٹی بی کا مریض اس اذیت کو برداشت کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔سائنسی ترقی کی وجہ سے اب ٹی بی کا علاج ممکن ہو گیا ہے۔علاج ہونے کے باوجود بھی ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد اب بھی زیادہ ہے۔ہر سال لاکھوں افراد ٹی بی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ٹی بی ایک متعدی مرض ہے۔جب مریض کھانستا ہےتو ہوا کے ذریعے اس کی بلغم میں موجود ٹی بی کا بیکٹریا دوسرے انسان تک پہنچ جاتاہےاور اس طرح دوسرا فرد بھی ٹی بی کا مریض بن جاتا ہے۔ہر سال بڑی تعداد ٹی بی کے مرض کا شکار بنتی ہے،اموات ہونے کے باوجود بھی بڑی تعداد ٹی بی کے مرض کا علاج کر کےنارمل زندگی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔علاج کے دوران بھی انسان تمام معمولات زندگی گزار سکتا ہے،صرف ماہرین کی تجویز کی گئی ادویات کو استعمال کرے اور تھوڑا بہت پرہیزکرے۔ٹی بی کا علاج مہنگا بھی نہیں،بڑی تعداد علاج کے اخراجات برداشت کر سکتی ہے۔اس کے باوجود بھی حکومت کی طرف سےعلاج کی سہولیات تقریبا ہر ملک میں ٹی بی کے مریضوں کو دستیاب ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ کچھ ادارے بھی ٹی بی کاعلاج مہیا کرتے ہیں۔ٹی بی کی کچھ علامات ہوتی ہیں،جن سے علم ہو جاتا ہے کہ ٹی بی کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔ٹی بی کے مریض رات کو اکثر گھبراہٹ کی وجہ سے نیند سے اٹھ جاتے ہیں۔پسینہ بھی بہت زیادہ آتا ہے۔کھانسی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہےاور کبھی کبھی خون یاخون کی الٹیاں بھی آنا شروع ہو جاتی ہیں۔تھکاوٹ بھی زیادہ محسوس ہوتی ہےاور ہر وقت کمزوری کا بھی احساس ہوتا ہے۔بھوک میں کمی یا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کرتا۔سردی بھی زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے اور بخار بھی رہتا ہے۔کھانسی کے ساتھ بلغم بھی زیادہ آتی ہے۔تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کا بھی غلبہ رہتا ہے۔پھیپڑوں میں بعض اوقات  پانی پڑ جاتا ہے۔سینے میں بعض اوقات سیٹی کی آوازیں آتی ہیں۔آواز بھی بیٹھ جاتی ہے اور گلے میں شدید درد ہونے کے علاوہ وزن میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔سینے میں درد بھی محسوس ہوتا ہے۔درج بالا علامات ٹی بی کی بھی ہو سکتی ہیں اور دوسرے امراض کی بھی۔اگر کسی کو اس جیسی علامات محسوس ہو رہی ہوں تو اس کو فورا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ڈاکٹر تشخیص کر کے علاج شروع کر دیتا ہے۔تشخیص کے لیےعلامات کے علاوہ،ایکسرےاور خون وغیرہ کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔درست تشخیص کے بعد ڈاکٹر ادویات تجویز کرتا ہے۔مریض خود فیصلہ نہ کر لے کہ اس کو ٹی بی یا کوئی اور بیماری لاحق ہو گئی ہے۔بعض اوقات کئی امراض کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں،لہذا خود ساختہ علاج نہ شروع کیا جائےبلکہ ماہر ڈاکٹر کے زیرنگرانی علاج کیا جائے۔ٹی بی کے مریض کے لیے ڈاکٹر جو ادویات تجویز کرتے ہیں،وہ ادویات مریض کی عمر،بیماری اور وزن وغیرہ دیکھ کر تجویز کی جاتی ہیں۔بعض افراد گھریلو ٹونے ٹوٹکوں سے علاج شروع کر دیتے ہیں یا کسی اناڑی کےزیر نگرانی علاج شروع کر دیتے ہیں،ان کو ان فرسودہ طریقوں سے گریز کرنا چاہیے۔وقت ضائع کرنے کی بجائے فوری طور پر کسی قابل ڈاکٹر کی طرف رجوع کر لیا جائے۔بعض اوقات جو مرض پرائمری سطح پر ہوتا ہے،اس کا علاج کم مدت میں ہو سکتا ہےاور زیادہ سرمایہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔آج کل ہر فرد خود کو ڈاکٹر سمجھ کر دوسروں کو ادویات تجویز کر رہا ہوتا ہے،ایسے عمل سے گریز کیا جائےتاکہ دوسروں کی زندگیاں اور سرمایہ ضائع نہ ہو سکے۔ٹی بی کےمرض کوکنٹرول کرنے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو سکے علاج شروع کر دینا چاہیے۔کسی ماہر ڈاکٹر سےعلاج اس لیے کرانا بھی ضروری ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ٹی بی کے مریض کو کوئی اور مرض بھی لاحق ہو۔ٹی بی کے ساتھ اگر ایک یا ایک سے زیادہ امراض بھی لاحق ہو جائیں تو ڈاکٹر بیماریوں کو دیکھ کر بہتر علاج کر سکتا ہے۔ٹی بی کا مرض کا علاج چھ مہینے میں ہو سکتا ہے،بعض اوقات زیادہ لمبا عرصہ بھی علاج کرانا پڑ سکتا ہے۔علاج سے مریض کو گھبرانا نہیں چاہیے،کیونکہ علاج کرانے سے اس کو بہتر صحت حاصل ہو سکتی ہے۔ادویات کی پابندی بھی کرنا لازمی ہوتی ہے،اگرپابندی سےادویات استعمال نہ کی جائیں تو علاج متاثر ہو سکتا ہے۔بعض اوقات مریض ادویات کا استعمال چھوڑ دیتا ہے،چھوڑنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ سمجھتاہےکہ اس کو صحت حاصل ہو گئی ہے،خود سے فیصلہ کر لینے کی بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیا جائے تو بہتر ہوتا ہے۔بعض اوقات مریض دوائی کھانا بھول جاتا ہے،بھولنے سے بچنے کی ضروری ہے کہ کسی دوسرے سے مدد لی جائے کہ وہ وقت پر مریض کو دوائی یاد دلا دےیا الارم وغیرہ کی مدد لے،تاکہ دوائی ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق استعمال کی جا سکے۔مریض کو احتیاط بھی کرنی چاہیے،کیونکہ اس کے کھانسنے سے دوسروں کو بھی مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ماسک وغیرہ استعمال کر کے بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ٹی بی کے مریض کے لیےعلاج کے علاوہ بہترغذا اوربہتر ماحول بھی ہونا ضروری ہے۔ٹی بی کا علاج تقریباسو فیصد ممکن ہے،لیکن میڈیکل کے اصولوں کے مطابق علاج کرنا ضروری ہے۔اموات کو روکنے کے لیےآگاہی پھیلانی ضروری ہے۔اگر ہم صفائی کا خاص خیال رکھیں توٹی بی سمیت کافی امراض سے بچ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ضروری ہے۔تحریر:اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com ماحول ایک سنگین خطرے سے دوچار ہو چکا ہے اور وہ ہے ماحولیاتی آلودگی۔قدرتی ماحول میں ایسے نقصان دہ اجزاء شامل ہو جائیں جو ماحول اور جانداروں کی صحت پر منفی اور خطرناک اثرات مرتب کریں،تواس کو ماحولیاتی آلودگی کہتے ہیں۔فضا میں زہریلی گیسیں،گردو غباراور کیمیائی مادے شامل ہوکر قدرتی حالت کو بگاڑ رہے ہیں۔الودہ فضا صحت اور ماحول پرگہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ماحول کو آلودہ کرنے میں انسان خود بھی شامل ہیں۔گاڑیوں،فیکٹریوں کی چمنیوں سے ،کھلے عام کوڑا کرکٹ جلانےاورگھریلو ایندھن کےجلنے سے خارج ہونے والادھواں، ماحول کوآلودہ کر رہا ہے۔تعمیراتی کام کے دوران گردو غبار اور سیمنٹ کے اڑتے ہوئےذرات سے بھی ماحول کو نقصان پہنچ رہاہوتا ہے۔بعض اوقات علم بھی نہیں ہوتا کہ ہم ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں،جیسے کٹائی کے بعد فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دی جاتی ہے اوراس آگ سے خارج ہونے والا دھواں ماحول دشمن ہوتا ہے۔آلودہ ماحول جہاں انسانوں کے لیے خطرناک ہے وہاں دیگر جاندار بھی خطرے کی زد میں آچکے ہیں۔صرف فضا الودہ نہیں ہو رہی بلکہ دریا،سمندر وغیرہ بھی آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔آبی حیات کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔آلودہ ماحول میں سانس لینے سے کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ان بیماریوں میں دمہ،کھانسی،دل کی بیماریاں اور سانس کی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔خون میں آکسیجن کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے،جیسے اعصاب،دماغ اور دل کے امراض بڑھ جاتے ہیں۔آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور الرجی جیسی تکلیف کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔صحت کو بہتر رکھنے کے لیے ماحول کا صاف ہونا ضروری ہے۔شور بھی الودگی ہے،اس سے کانوں کا بہرا پن پیدا ہوتا ہے اور نفسیاتی و دماغی امراض بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ ماحول بہتر بنانے کے لیے ہمیں مل کر کوشش کرنا ہوگی،ورنہ مستقبل میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ترقی یافتہ ممالک تو بچاؤ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک بہتر بندوبست نہیں کر رہے۔کارخانوں کا دھواں بہت ہی نقصان دہ ہے،اس دھوئیں کو فلٹر کرنا ضروری ہے۔گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں بھی نقصان دہ ہوتا ہے،اسی لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست ایندھن استعمال کیا جائے۔گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے،کیونکہ پرانی گاڑیاں زیادہ دھواں خارج کرتی ہیں،اس لیے پرانی گاڑیوں کی فٹنس کا خیال رکھا جائے۔فصلوں کی باقیات جلانے سے اجتناب برتا جائے۔فصلوں کی باقیات کو اگر بطورکھاد استعمال کیا جائے تو یہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہے اور زمینوں کو بھی طاقت مہیا ہوتی ہے۔زیادہ آگ جلانے سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے،ضروری نہ ہو تو آگ نہ جلائی جائے۔نجی گاڑیوں کی نسبت پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کو ترجیح دے کر ماحول کی آلودگی کم کی جا سکتی ہے۔سائیکل کا سفر بھی بہت ہی بہتر ہےیا ممکن حد تک پیدل چلا جائے۔سائیکل پر سواری کرنےسے یا پیدل چلنے سے ماحول بھی آلودہ نہیں ہوتا اور صحت بھی بہتر رہتی ہے۔کئی قسم کی بیماریاں بہتر ماحول میں رہنے سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔پلاسٹک بھی ماحول دشمن ہے،ضروری ہے کہ پلاسٹک کا خاتمہ کیا جائے۔سب سے زیادہ پلاسٹک شاپرز کی صورت میں استعمال ہوتا ہے،اگر شاپرز کی بجائے عام کاغذ کے بیگ استعمال کر لیے جائیں تو ماحول کو بہتر کرنے میں بہت ہی مدد ملے گی۔پلاسٹک کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں،اگر پلاسٹک کے علاوہ دھاتی برتن بنائے اور استعمال کیے جائیں تو یہ ماحول دوست عمل ہوگا۔ زیادہ درخت اگا کر بھی ماحول کو صاف کیا جا سکتا ہے۔درخت زیادہ اگانے کی بجائے کاٹے جا رہے ہیں،جوکہ نقصان دہ عمل ہے۔درختوں کی وجہ سے صاف ہوا میسر ہوتی ہے۔اگر درخت کاٹنا ضروری ہیں تو کاٹ لیے جائیں لیکن بغیر ضرورت کے درختوں کو مت کاٹا جائے۔گھروں میں بھی درخت اگائے جائیں اور جن گھروں میں گنجائش نہ ہو تو چھوٹے پودے ہی اگا لینے چاہیے،چاہے گملوں میں بھی اگا لیے جائیں۔درخت صرف ماحول کو بہتر نہیں بناتے بلکہ دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔پھلدار درختوں سے پھل کھائے جاسکتے ہیں اور گرمیوں میں درختوں کا سایہ بھی نعمت ہوتا ہے۔شاخیں کاٹ کر چارپائیاں یا دیگر کوئی فرنیچر بنایا جا سکتا ہے۔پھلدار درختوں کا پھل بیچ کر کمائی بھی کی جا سکتی ہے۔صرف ماحول کی بہتری ہی کے لیے درخت اگائے جائیں تو یہ بھی بہتر عمل ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی نسبت ترقی یافتہ ممالک زیادہ آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ترقی پذیر ممالک میں تو غیر معیاری ایندھن کا استعمال ماحول کو آلودہ کر رہا ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک میں صنعتوں کی زیادتی ماحول کو آلودہ کر رہی ہے۔جب ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی انقلاب ایا تو بے شمار کارخانے بنے اور اب بھی بن رہے ہیں،ان کارخانوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کے لیے شدید خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔فضا میں خارج ہونے والی زہریلی گیسوں میں نصف سے زیادہ حصہ ترقی یافتہ ممالک کا ہے۔ایک اور وجہ بھی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک وسائل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور وسائل کا زیادہ استعمال ماحول کو الودہ کرتا ہے۔اس لیے ترقی یافتہ ممالک پر ذمہ داری عائد کر دی گئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو فنڈ دیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک پر فنڈ دینے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے ماحولیاتی تبدیلی (UNFCCC) اور عالمی موسمیاتی کانفرنس(COP) کے تحت عائد کی گئی ہے۔یہ ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔2009 میں ترقی یافتہ ممالک نے 100 بلین ڈالرسالانہ دینے کا وعدہ کیا تھا،لیکن 2020 تک وہ ہدف پورا نہ ہو سکا۔صرف 2022 میں ہدف 116 بلین ڈالرز تک پہنچا۔اب یہ ہدف 2035 تک 300 بلین ڈالر سالانہ کا ہے۔یہ رقم بھی کم ہے،کیونکہ اس مشکل پر قابو پانے کے لیےسالانہ 1.3ٹریلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔کم آمدنی اور زیادہ ترقی پذیرممالک کو امداد کا حصہ بھی کم ملتا ہے۔یہ فنڈز کم فری ہوتے ہیں،زیادہ حصہ قرض پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک اور افسوسناک صورتحال یہ بھی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ فنڈز زیادہ تر کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔ماحول کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پوری دنیا مل کر کام کرے تاکہ آلودگی پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔
27 مئی عید قربان ہوگی۔اس دن مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور ذبح کریں گے۔بہت سے مسلمان صاحب استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اس نیکی کے عمل کو سر انجام نہیں دے سکیں گے۔جو قربانی کر رہے ہیں،ان کو چاہیے کہ ان افراد تک خصوصی طور پر گوشت پہنچائیں،جو قربانی کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔اکثریت سفید پوش افراد کی ہے،جو گوشت بھی نہیں مانگ سکتے۔ان گھروں میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں،جو چند بوٹیوں کے لیے سسک رہے ہوتے ہیں۔ان افراد تک گوشت پہنچانا بہت بڑی نیکی ہے،جو سفید پوشی کی وجہ سے گوشت مانگ نہیں سکتے۔غریب رشتہ داروں اورمحلے میں غریب افراد تک ہر ممکن حد تک گوشت پہنچانے کی کوشش کی جائے۔قربانی کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ویسےجو عمل بھی کیا جائے،نیک نیتی سے کیا جائے۔اللہ تعالی نے واضح ارشاد فرما دیا ہے کہ"اللہ تک ان (جانوروں)کا گوشت نہیں پہنچتا اور ناخون, بلکہ اس تک تمہارا تقوی پہنچتا ہے"(سورۃ الحج۔37) قربانی کا اصل اجر حاصل کرنے کے لیے خالص نیت کے ساتھ حقداروں تک گوشت پہنچانا چاہیے۔
27 مئی عید قربان ہوگی۔اس دن مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانور ذبح کریں گے۔بہت سے مسلمان صاحب استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اس نیکی کے عمل کو سر انجام نہیں دے سکیں گے۔جو قربانی کر رہے ہیں،ان کو چاہیے کہ ان افراد تک خصوصی طور پر گوشت پہنچائیں،جو قربانی کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔اکثریت سفید پوش افراد کی ہے،جو گوشت بھی نہیں مانگ سکتے۔ان گھروں میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں،جو چند بوٹیوں کے لیے سسک رہے ہوتے ہیں۔ان افراد تک گوشت پہنچانا بہت بڑی نیکی ہے،جو سفید پوشی کی وجہ سے گوشت مانگ نہیں سکتے۔غریب رشتہ داروں اورمحلے میں غریب افراد تک ہر ممکن حد تک گوشت پہنچانے کی کوشش کی جائے۔قربانی کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ اللہ راضی ہو جائے۔ویسےجو عمل بھی کیا جائے،نیک نیتی سے کیا جائے۔اللہ تعالی نے واضح ارشاد فرما دیا ہے کہ"اللہ تک ان (جانوروں)کا گوشت نہیں پہنچتا اور ناخون, بلکہ اس تک تمہارا تقوی پہنچتا ہے"(سورۃ الحج۔37) قربانی کا اصل اجر حاصل کرنے کے لیے خالص نیت کے ساتھ حقداروں تک گوشت پہنچانا چاہیے۔
قربانی کا حقیقی مقصد تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com قربانی کا مقصد یہ نہیں کہ جانور ذبح کر دیےجائیں اور ان کا گوشت کھا لیا جائے،بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی انا،ذاتی خواہشات اور مال کی محبت کو قربان کر دیا جائے۔قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب سیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں۔قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔"اے میرے پروردگار مجھ کو نیک بیٹا عطا فرما. پس ہم نے ان کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی،پھر جب وہ(اسماعیل) ان کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچاتو(ابراہیم علیہ السلام) نے کہا.اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں،اب تو سوچ تیرا کیا خیال ہے؟اس نے کہا'اے میرے ابا! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔اگر اللہ نے چاہا توآپ مجھے صابر پائیں گے۔پھر جب دونوں (باپ بیٹا) نے حکم مان لیا اور باپ نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا. تو ہم نے اسے پکارا،اے ابراہیم! تو نے خواب کو سچ کر دکھایا'ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں. بے شک یہ کھلا ہوا (اور واضح) امتحان تھا. اور ہم نے بڑے ذبیحہ (جانور) کے ساتھ اس (اسماعیل) کافدیہ دے دیا اور ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کو باقی رکھا. (الصفات100.107) قرآن میں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو امتحان میں کامیاب کہا گیا ہے۔ابراہیم علیہ السلام پر آزمائش آئی کہ وہ اپنا بیٹا ذبح کریں۔یہ بہت بڑی ازمائش تھی لیکن ابراہیم علیہ السلام اس ازمائش میں کامیاب ہو گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے بھی آزمائش تھی،لیکن وہ بغیر پس و پیش کے اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔کتنا عظیم واقعہ ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہے۔دونوں کے لیے ایک بہت بڑا امتحان تھا،جس میں دونوں باپ بیٹے کامیاب ہو گئے۔اللہ تعالی نے ان کی اس قربانی کو پسند کیا اور ان کا ذکر انے والوں کے لیے باقی رکھ دیا۔تمام مسلمان ہر سال اس عظیم الشان قربانی کی یاد مناتے ہیں۔یہ قربانی قیامت تک قائم رہے گی اور قیامت تک ان باپ بیٹے کا ذکر ہوتا رہے گا۔ جانوروں کی قربانی کا بنیادی مقصد گوشت کھانا یا کھلانا نہیں بلکہ تقوی اور اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت ہے۔اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ قربانی گوشت کے حصول کے لیے کی جا رہی ہے،تو یہ انتہائی غلط بات ہے۔اللہ تعالی نے واضح ارشاد فرما دیا ہے"اللہ تک ان(جانوروں) کا گوشت نہیں پہنچتا اور نہ خون،بلکہ اس تک تمہارا تقوی پہنچتا ہے"(سورۃ الحج. 37) قربانی کے واقعہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کی اطاعت اوراس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نظراتے ہیں،دوسری طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ایثار اور صبر نظر آتا ہے۔یہ بہت ہی عظیم صبر تھاکہ ایک لڑکا اپنےآپ کو ذبح کروانے کے لیے پیش کر دے اور مقصد یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔قربانی کا سبق بھی یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے مال،دولت اور جان سمیت کسی چیز کی پرواہ نہ کی جائے۔قربانی کی اسلام میں بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔قرآن میں ایک جگہ پر ذکر کیا گیا ہے"سو اپنے رب کے لیے نماز پڑھا کر اور قربانی دیا کر"(سورۃ الکوثر.2) قربانی دیتے وقت اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھا جائے۔دکھاوے کے لیے اگر قربانی کی جائے تو وہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ایک حدیث کے مطابق' اللہ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے،(مسلم) اللہ تعالی یہ دیکھتا ہے کہ کس نیت سے قربانی دی جا رہی ہے۔قربانی کی ادائیگی اس نیت سے کی جائے کہ یہ اللہ کا حکم ہے،تب ہی کامیابی ملتی ہے۔قربانی نہ کرنے والوں کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے۔ایک حدیث کے مطابق"جس کو قربانی دینے کی گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ دے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے"(ابن ماجہ) قربانی کے بھی ایام متعین ہیں،ان کے علاوہ قربانی نہیں دی جا سکتی لیکن صدقہ یا خیرات دیے جا سکتے ہیں۔قربانی اسلامی مہینےذوالحجہ کی11،10 اور 12 تاریخ کو دی جاتی ہے۔ قربانی پر بہت سے ملحدین یا غیر مسلم اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ایک رسم ہے،اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ان کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ کثیر سرمایہ ضائع ہوتا ہے۔بے تحاشہ جانور ذبح کر دیے جاتے ہیں،ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مساکین،بیواؤں اور یتیموں کی اس سرمایہ سے کفالت کی جا سکتی ہے۔اس سرمائے سے غربت بھی ختم ہو سکتی ہے۔ان کی اس قسم کی غیر معقول دلیلوں سے بہت سے افراد متاثر بھی ہو جاتے ہیں۔اگر ان دلیلوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ آسانی سے رد ہو جاتی ہیں۔سب سےپہلے تو یہ کہ قربانی کی ادائیگی کوئی رسم نہیں بلکہ حکم ربی ہے۔اسلام میں بہت سے احکامات سر انجام دیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کی جائے۔کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غربت نہیں تھی؟اس وقت بھی غربت تھی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی قربانی دی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی قربانی ادا کرنے کا حکم دیا۔موجودہ دور کے زمانے اور اس زمانے کی غربت کا جائزہ لیا جائے تو بہت بڑا فرق نظرآ جاتا ہے۔اس طرح کے اعتراضات حج پر بھی کیے جاتے ہیں،لیکن حج ایک اہم فریضہ ہے۔جانور ذبح کیے جا رہے ہیں،لیکن پھر بھی حلال جانور زیادہ نظر اتے ہیں۔مساکین،بیواؤں یا یتیموں کے لیے اسلام نے زکوۃ اور صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے۔صدقہ وخیرات کے ذریعے بھی مجبوروں کی مدد کی جا سکتی ہے۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ سرمایہ ضائع ہو رہا ہے،اس میں کوئی حقیقت نہیں۔قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت سے سرمایہ گردش میں رہتا ہے۔بے شمار افراد قربانی کے جانور پال کر اپنی زندگیاں گزر بسر کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ قربانی صاحب استطاعت پر واجب ہے۔جانور پالے جاتے ہیں،ان کو منڈی تک فروخت کرنے کے لیےلایا جاتا ہے اور اس طرح کمائی کی جاتی ہے۔بہت سے خاندان صرف قربانی کے جانوروں کی وجہ سے خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔جانوروں کو چمڑا بھی فروخت ہوتا ہے اور یہ بہت بڑی انڈسٹری بن گیا ہے۔چمڑے سے کئی قسم کی مصنوعات تیار ہوتی ہیں اور یہ مصنوعات فیکٹریوں میں تیار ہوتی ہیں،اس طرح بے شمار افراد اس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔بہتر منصوبہ بندی سے غربت میں خاتمہ ہو سکتا ہے،صرف قربانی ادا نہ کرنے کی وجہ سے غربت ختم نہیں ہوگی۔مسلمان اگر سرمایہ فضولیات پر خرچ کریں تو کسی کو تکلیف نہیں ہوتی لیکن قربانی کی وجہ سے بہت سےلوگوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ان کا مقصد غربت کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ قربانی سے روکنا ہوتا ہے۔قربانی کا ایک یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ گوشت ان لوگوں تک بھی پہنچ جاتا ہے جو غربت کی وجہ سے گوشت خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔اس لیے قربانی کی ادائیگی کی جائے،اس کا کوئی نقصان نہیں لیکن فائدے بے شمار ہیں۔
پاکستان میں مہنگی ادویات اور بڑھتا ہواصحت کا بحرانتحریر:اللہ نواز خانallahnawazk012@gmail.comپاکستان میں مہنگائی بہت زیادہ بڑھ رہی ہے اور ادویات کی قیمتوں میں بھی بےحد اضافہ ہو گیا ہے۔علاج کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق مختلف قسم کی ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا اور بعض ادویات کی241 فیصد کے حساب سے قیمتیں بڑھیں۔صحت کے مسائل پہلے بھی زیادہ تھے،اب ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے صحت کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ایک عام پاکستانی بڑی مشکل سے گزر بسر کر رہا ہے،بیمار ہونے کی صورت میں وہ علاج نہیں کروا سکتا۔روز بروز بڑھتی ادویات کی قیمتوں کی وجہ سے کروڑوں افراد کی زندگیاں شدید خطرے کا شکار ہو چکی ہیں۔وہ مریض جو مسلسل ادویات استعمال کر رہے ہیں وہ ادویات چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا اور یہ اضافہ بے شمار مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ایک عام بخار کی گولی بھی انتہائی مہنگی ہوگئی ہے اور غریب آدمی ایک معمولی سی گولی بھی خریدنے سے قاصر ہو گیا ہے۔حکومت کا کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے کمپنیاں اپنی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔حکومت کی طرف سے بھی مناسب علاج کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے بیماریوں پر قابو نہیں پایاجاسکتا۔بڑے شہروں میں تو سرکاری اسپتال سہولتوں سے آراستہ ہوتے ہیں لیکن دیہاتوں میں ابتدائی صحت مراکز بھی موجود نہیں۔اگر کوئی بیسک ہیلتھ سینٹر موجود ہے تو وہاں ادویات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اج کل تو بڑے اسپتالوں میں بھی ادویات اور دیگر سہولیات کی کمی کے بارے میں رپورٹس درج ہو رہی ہیں۔پرائیویٹ علاج بہت ہی مہنگا ہے،کیونکہ ادویات کے علاوہ بیماریوں کی تشخیص وغیرہ کرنے کا سامان بھی مہنگا ہے۔دل، شوگر،کینسر،ذہنی بیماریاں،گردوں کے علاوہ دیگر بیماریوں کا علاج عام آدمی نہیں کراسکتا۔علاج نہ کروانے کی وجہ سے اموات کی شرح بڑھ رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک اور پاکستان کاموازنہ کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت اموات زیادہ ہوتی ہیں۔جو افراد زندہ رہ جاتے ہیں وہ مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات معمولی سی بیماری کا علاج کرنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور بعض بیماریوں کا فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو مستقبل میں بیماری خطرناک ہو جاتی ہے۔ یہ درست ہے کہ بعض ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اس لیے ہوا کہ مجبوری تھی۔قیمتوں میں اضافے کے لیے مختلف قسم کے جواز بتائے جاتے ہیں۔ایک وجہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے۔ادویات اور ادویات میں استعمال ہونے والا خام مال بیرون ملک سے خریدا جاتا ہے اور وہ خریداری ڈالروں میں ہوتی ہے اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے ادویات و خام مال کی خریداری مہنگی ہو جاتی ہے۔ایندھن بھی مہنگا ہے،کیونکہ فیکٹریوں میں ایندھن(بجلی وغیرہ کا) استعمال ہوتا ہے اور ایندھن مہنگاہونے کی وجہ سے ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ادویات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانا بھی مہنگا عمل ہوتا ہے،کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس اضافے کے اثرات ادویات پر بھی پڑے۔خام مال بھی مہنگا مل رہا ہے۔عالمی اثرات کی وجہ سے ادویات کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے،جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کیاگیا ہے۔حکومتی پالیسیاں بھی اس طرح بنائی گئی ہیں کہ ادویات کی قیمتیں کنٹرول نہیں کی جا سکتیں۔اس کے علاوہ سرکاری طور پر کمپنیوں پر کنٹرول بھی انتہائی کمزور ہے،جس کی وجہ سے کمپنیاں اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کر دیتی ہیں۔کچھ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ادویات میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں اور ماؤں کی اموات بھی بہت زیادہ دیکھنے میں آرہی ہیں۔ایک اور مسئلہ بھی سنگین نوعیت کا ہے اور وہ نقلی ادویات کی فروخت ہے۔نقلی ادویات کی پیکنگ اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اصلی نظرآئیں،لیکن وہ فائدہ کی بجائے نقصان پہنچا دیتی ہیں۔ پاکستان میں صحت کا بحران دن بدن بڑھ رہا ہے۔بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں اور بیماریوں میں اضافہ بہت ہی تشویش ناک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ مہنگا علاج عام پاکستانی کے بس میں نہیں۔حکومت ایسا نظام قائم کرے جس سے ادویات مناسب قیمت میں دستیاب ہوں اور ادویات بھی خالص ہونی چاہیے۔جان بچانے والی ضروری ادویات تو مناسب قیمت پر دستیاب ہونی چاہیے تاکہ اموات میں کمی کی جا سکے۔مختلف قسم کے امراض میں مبتلا افراد ادویات چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں،کیونکہ ادویات کی خریداری نہیں کر سکتے۔ان کے لیے زیادہ مسئلہ بڑھ رہا ہے جو تمام عمر کے لیے ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔صرف ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ ٹیسٹس وغیرہ کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔بعض اوقات شعبہ طب سے وابستہ افراد مہنگے اور غیر ضروری ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں،کیونکہ اس طرح ان کو کمیشن ملتی ہے۔طب کے شعبہ سے وابستہ افراد سے گزارش ہے کہ مریض کی مجبوریوں کو دیکھا جائے اور ایسے ٹیسٹ نہ کروائے جائیں جو غیر ضروری ہوں۔بعض اوقات متعلقہ بیماری کے علاوہ دیگر ادویات بھی تجویز کر دی جاتی ہیں اور اس طرح ایک غریب مریض پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔اگر متعلقہ بیماری کی دوائی تجویز کی جائے تو غریب مریض بھی علاج کرا سکے گا۔ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے بعض افراد بیمار ہو جائیں تو وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے،کیونکہ مہنگی دوائی کی خریداری ان کے بس سے باہر ہوتی ہے۔بعض اوقات دیسی ٹوٹکوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے اور اس طرح مرض میں اضافہ ہو جاتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تمام پاکستانیوں کےلیے ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔سرکاری طور پر فری دوائی مہیا کرنا ممکن نہ ہو تو سستی دوائی ہر ایک کی پہنچ میں ہونی چاہیے۔بعض مریض سرجری نہیں کرواتے کیونکہ ان کے پاس رقم نہیں ہوتی۔اگر سرجری کی سہولت مفت دستیاب نہ ہو تو اتنی مہنگی بھی نہ ہو کہ عام آدمی سرجری کرا ہی نہ سکے۔حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے عام ادمی بھی اپنا علاج معالجہ کرا سکے۔
تعلیمی ایمرجنسی ناکام کیوں ہوئی؟ تحریر:اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ماضی میں بھی تعلیم کی اہمیت تھی اور حال میں تو اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔جن اقوام نے ترقی کی منازل طے کی ہیں،انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے حصول پر خاصہ زور دیا۔تعلیم یافتہ اقوام مختلف قسم کی ایجادات کر رہی ہیں۔علم کی وجہ سےدیگر سیاروں پر بستیاں آباد کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔جن قوموں کی پہلی ترجیح علم ہو،ان کو ترقی یافتہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اسلام تعلیم کے حصول پر خصوصی زور دیتا ہے۔ایک حدیث کے مطابق،"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"(ابن ماجہ)اسلام میں علم کا حصول ضروری قرار دیا گیا ہے۔جنگ بدر کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھے لکھے کفار قیدیوں کو حکم دیا کہ دس،دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں اور یہ تعلیم ان قیدیوں کا فدیہ ہوگی۔آئین پاکستان کےآرٹیکل (A)25 کے مطابق پانچ سال سے لے کر 16 سال تک کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے دو سال قبل تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔وہ اعلان اپریل 2024 کوکیا گیا اورسات مئی 2024 کو نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے مطابق تعلیمی بجٹ کو 0.5فی صدسےبڑھاکر5فی صد تک کرنا تھا۔اس وقت کی رپورٹ کے مطابق دو کروڑ ساٹھ لاکھ(2600000) کے قریب بچے سکولوں سے باہر تھے اور ان کی عمریں سکول جانے کی تھیں۔اب تو شاید زیادہ اضافہ ہو گیا ہوگا،لیکن کروڑوں بچے اب بھی باہر ہیں۔افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔بلکہ یہ دعوی کرنا درست ہے کہ تعلیمی معیار بہت ہی بدتر ہو گیا ہے۔ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جس نے تعلیمی نظام کو زبردست نقصان پہنچایا۔نہ تو بچوں کو سکول داخل کیا گیا اور نہ بجٹ بڑھایا گیا۔سہولیات میں بھی کمی کر دی گئی،حالانکہ سہولیات پہلے بھی بہت ہی کم تھیں۔جو بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں،ان میں اکثریت ان طلبہ کی ہے جو معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔ تعلیمی نظام بہت ہی فرسودہ ہے۔ابھی تک رٹا سسٹم چل رہا ہے جو کہ طلباء کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے۔تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ زیادہ نمبر کس طرح حاصل کیے جائیں؟جوتعلیم پاکستانی سکولوں میں دی جا رہی ہے وہ ترقی کےلیے ناکافی ہے۔پاکستانی طلبہ کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے وہ جدید دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔پاکستان میں دوہرا نظام تعلیم ہےجس کے نقصانات بہت ہی زیادہ ہیں۔ایک طرف سرکاری درسگاہیں ہیں اور دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیں۔پرائیویٹ اداروں میں دی جانے والی تعلیم سرکاری درسگاہوں کی نسبت بہت ہی اعلی ہوتی ہے۔پرائیویٹ طور پر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کوآسانی سے ملازمتیں میسر ہو جاتی ہیں اور سرکاری درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو آسانی سے ملازمتیں حاصل نہیں ہوتیں۔ایک اور مسئلہ اساتذہ کی تربیت کا فقدان ہے اوراساتذہ کی کمی بھی ہے۔گھوسٹ سکولوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔امتحانات کے نظام میں بھی بہت سی خامیاں ہیں بلکہ امتحانی نظام انتہائی فرسودہ ہے۔شہروں کی نسبت دیہاتوں میں تعلیم کی زیادہ کمی دیکھنے میں آتی ہے،خصوصا خواتین بہت کم تعداد میں تعلیم حاصل کر پاتی ہیں۔بہت سے سکولوں میں،خصوصی طور پر دیہاتوں میں بنیادی سہولیات کی قلت بھی ہوتی ہے،جس کا اثر تعلیم کے نظام پر پڑتا ہے۔کئی سرکاری اسکولوں میں بجلی،پانی،بیت الخلا ء،کلاس رومز کی کمی،فرنیچر کی قلت سمیت بے شمار سہولیات کی کمی ہے۔آبادی بھی بڑھ رہی ہے اور تعلیمی درس گاہیں بہت ہی کم ہیں،خصوصی طور پر اعلی تعلیم کےحصول کے لیے یونیورسٹیوں کی کمی ہے۔زیادہ سے زیادہ سکولز،کالجز اور یونیورسٹیاں تعمیر کی جائیں تاکہ زیادہ پاکستانی تعلیم حاصل کر سکیں۔ دو سال قبل تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا،لیکن وہ اعلان ہی رہا۔اب دوبارہ تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا جائے،لیکن یہ خیال رکھا جائے کہ اب صرف اعلان نہ ہو بلکہ اس پر عمل درآمد بھی لازمی ہوناچاہیے۔تعلیمی بجٹ میں بھی فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔زیادہ اساتذہ کی تقرری بھی کی جائے اور ان کو جدید تربیت بھی فراہم کی جائے۔تعلیمی درسگاہوں کو جدید لیبارٹریز کی سہولت بھی میسر ہونی چاہیے۔بہتر معیار تعلیم کی طرف توجہ دی جائے تاکہ پاکستانی بچے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔دوہرا نظام تعلیم ملک کے لیے نقصان دہ ہے،بہتر یہی ہے کہ یکساں نصاب کا نظام نافذ کیا جائے۔بہت سے سکولوں کو پرائیویٹ کیا جا رہا ہے،پرائیویٹ کرنا بہتر نہیں بلکہ سرکاری سرپرستی ضروری ہے۔اگر پرائیویٹ کرنا لازمی ہے تو تعلیم کے نظام پر کسی صورت سمجھوتہ نہ کیا جائے۔کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں،ان کو داخل کرانے کے لیے ایک مہم چلائی جائے۔غربت کی وجہ سے بھی بہت سے والدین بچوں کو سکولز میں نہیں بھیجتے،اگر تعلیم کا حصول بالکل فری ہو تو غریب والدین بھی اپنے بچوں کو سکولز بھیج سکیں گے۔چائلڈ لیبر بھی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ ہے،اس رکاوٹ کا بھی حل نکالا جائے۔چائلڈ لیبر کے سلسلے میں والدین کو آگاہی دی جا سکتی ہے کہ اگر آپ کا بچہ پڑھ لکھ گیا تو مستقبل میں خاندان کے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے،لیکن دنیاوی تعلیم کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔مدارس میں بھی ایسا انتظام کیا جائے کہ دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم آسانی سے حاصل ہو سکے۔مدارس میں تعلیم تو تقریبا مفت ہوتی ہے،بلکہ رہاش،کھانا پینا اور دیگر سہولیات بھی مفت ہوتی ہیں۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ مدارس کا نظام بہتر ہے اور مزید بہتر بن سکتا ہے اگر دینی کے ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جائے۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان میں تعلیمی نظام زوال پذیر ہو رہا ہے۔اب بھی وقت ہے کہ تعلیمی نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے ورنہ مستقبل میں بہت سے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔تعلیمی ایمرجنسی پر عمل درآمد فوری طور پر شروع ہونا ضروری ہے۔تعلیم کی اہمیت کو کسی صورت میں نظر انداز نہ کیا جائے۔
مستقبل کی جنگیں: ٹیکنالوجی, تباہی اور اتحاد کی راہ تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com  جنگوں کی تاریخ بہت ہی پرانی ہے۔زمانہ قدیم میں بھی انسان جنگیں لڑتے رہے اور اب بھی لڑی جا رہی ہیں نیز مستقبل میں بھی لڑی جاتی رہیں گی۔ماضی میں جنگ ہاتھوں، پتھروں یا ڈنڈوں وغیرہ سے لڑی جاتی تھیں۔بعد میں تلوار و تیر کا استعمال ہونا شروع ہوا۔تیر و تلوار کے بعد بارود کا استعمال ہونا شروع ہو گیا۔اس طرح ترقی کرتے کرتے انسان جدید ہتھیار بنانے کے قابل ہو گیا ہے اور اب جدید ہتھیاروں سے جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔،ایٹم بم،موجودہ دور کی سب سے بڑی ایجاد ہے اور انسانیت کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بہت ہی بڑھ رہا ہے۔ہاتھوں اور ڈنڈوں سے لڑی والی جنگیں کم خطرناک ہوتی تھیں۔تلوارو تیر سے لڑی جانے والی جنگ زیادہ خطرناک ہوئی۔اب خطرہ کئی گنا بڑھ گیا ہےلیکن موجودہ خطرے سے زیادہ مستقبل میں خطرہ بڑھ جائے گا۔مستقبل میں جنگیں زیادہ خطرناک ہو جائیں گی۔مستقبل میں جنگیں سکرین پر لڑی جائیں گی۔ایک کمپیوٹر سکرین اور کی بورڈ کی مدد سے کم وقت میں دشمن کا زیادہ نقصان کیا جا سکے گا۔ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکار نظام انسانوں کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا۔انے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی پر دارومدار بڑھ جائے گا۔روایتی طریقوں کی بجائے جدید طریقے سے جنگیں لڑی جائیں گی۔مصنوعی ذہانت بھی جنگوں میں استعمال ہوگی اور اس کا استعمال بھی بہت خطرناک ہوگا۔آج کل کے دور میں بھی جہازوں کی بمباری خطرناک ہے،لیکن مستقبل میں اس سے بھی زیادہ خطرناک میزائل استعمال ہوں گے۔مستقبل میں انسانی فوجیوں کے بجائے روبوٹس کے ذریعے بھی جنگیں لڑی جائیں گی۔روبوٹس انسان فوجیوں کی نسبت بہت ہی سستے ہوں گے۔ایک فوجی کو ٹرین کر کے لڑنے کے قابل بنایا جاتا ہے اور ٹریننگ پر بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ٹریننگ کے بعد فوجی کی رہائش،کھانے پینے اور تنخواہ کی مد میں بہت بڑی رقم کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔اس کے باوجود بھی فوجی ریٹائر ہو جاتا ہےیاجنگ میں قتل یا معذور بھی ہو سکتا ہے۔لازمی طور پر یہ ایک مہنگا سودا ہے لیکن روبوٹ کو ایک دفعہ تیار کر کے اس میں پروگرام انسٹال کر دیے جائیں تو اس کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔روبوٹ کو درست حالت میں رکھنے کے لیے کچھ اخراجات ہو سکتے ہیں لیکن ایک انسانی فوجی کی نسبت پھر بھی بہت ہی سستا ہوگا۔اگر پھر بھی روبوٹ ٹوٹ جائے تو اس کو آسانی سے پھینکا جا سکتا ہے۔مستقبل میں لڑی جانے والی جنگوں میں ایک طرف تو کم نقصان ہوگا لیکن دوسری طرف بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک طاقتور ریاست تھوڑا سا خرچ کر کے کمزور ملک کو آسانی تباہ کر سکے گی۔آواز سے تیز جدید میزائل بھی بہت بڑی تباہی پھیلا سکیں گے۔ایسے میزائل تیار ہو سکتے ہیں جن کو تباہ کرنا مشکل ہوگا اور وہ کم وقت میں زیادہ نقصان کریں گے۔اس وقت امریکہ،چین،روس اور دیگر کئی ممالک جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔مستقبل میں جو ملک جدید حملوں سے اپنا بچاؤ نہیں کر سکے گا وہ ہمیشہ طاقتور ریاستوں کی تابعداری کرنے پر مجبور ہوگا۔ مستقبل میں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ دیگر طریقے بھی بطور ہتھیار استعمال کیے جائیں گے۔مثال کے طور پرآج کل تمام نظام کمپیوٹر پر منتقل ہورہاہے۔فیکٹریاں،بینکس،بجلی،صحت کا شعبہ،لینڈز،مواصلات سمیت تقریبا ہر شعبہ کمپیوٹر پر منتقل ہو گیا ہے اور مستقبل میں اس سے بھی زیادہ جدت ہوگی۔کمپیوٹرز پر سائبر اٹیک کر کے جدید سسٹم کو ناکارہ کیا جا سکےگا۔اب بھی صرف ایک ہیکر کسی بھی ریاست یا ادارے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔مستقبل میں خطرات بڑھ جائیں گے۔خلا کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔کمزور ریاستیں اپنی معلومات کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو جائیں گی۔سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کا سسٹم بھی بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔پابندیاں لگا کر بھی کسی ملک کو تباہ کیا جا سکےگا۔جنگ کی دھمکی دے کر کسی بھی ملک کو مجبور کیا جا سکے گا کہ وہ طاقتور کی تابعداری کرے۔اس کے علاوہ بیماریاں بھی بطور جنگی ہتھیار استعمال ہوں گی۔بیماریوں کے جراثیم کسی بھی ملک پر پھینک کر اس کے شہریوں کو خطرناک بیماریوں میں مبتلا کیا جاسکےگا۔ایسی بیماریاں پھیل جائیں گی جن کا علاج بھی ناممکن ہوگا۔کسی بھی مللک پر بہت زیادہ مصنوعی بارش برسا کر بھی نقصان پہنچایا جا سکےگا۔زیادہ بارش سے سیلابی صورتحال پیدا کردی جائےگی۔فصلوں پر بھی اٹیک کیے جائیں گے۔اس کی مثال اسرائیل کی دی جا سکتی ہے جس نےلبنان کی زرعی زمینوں پر زہریلا کیمیکل سپرے کیا۔مستقبل میں اس سے زیادہ خطرناک سپرے کیے جا سکتے ہیں جس سے بے شمار انسانوں کو کم نقصان کے عوض قتل کیا جا سکے گا۔جس طرح جدید تحقیقات سامنے آرہی ہیں ان سے علم ہوتا ہےکہ مستقبل میں کسی ریاست میں زیادہ درجہ حرات پیدا کر کے بھی نقصان پہنچایا جا سکے گا۔کہیں زیادہ اور کہیں درجہ حرارت بالکل کم کر کے بھی نقصان پہنچایا جا سکےگا۔یہ کہنا درست ہے کہ زیادہ ناقابل برداشت گرمی یا سردی انسانوں اور جانوروں کو بہت زیادہ نقصان پہنچائےگی۔زلزلوں کے ذریعے بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی زلزلے پیدا کر کے بہت بڑے علاقے کو تباہ کیا جا سکے گا۔مستقبل میں زیادہ خطرات سے بچنے کے لیے کمزور ممالک  اتحاد کریں اور ایک دوسرے سے تعاون کی پالیسی اپنائیں۔کمزور ممالک اگر ایک دوسرے کے مخالف رہے تو مستقبل میں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا کہ وہ طاقتوروں کے ہمیشہ غلام رہیں۔ایشیائی ممالک میں اختلافات زیادہ ہیں اور مستقبل میں یہ اختلافات بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔اگر متحدہ دفاعی نظام قائم کر دیں تو مستقبل میں بہت بڑے خطروں سے بچا جا سکے گا۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسلامی ریاستیں آپس میں ایک دوسرے کی بہت زیادہ مخالف ہیں،اگر اسلامی ریاستیں مکمل اتحاد کرلیں تو مستقبل میں بہت بڑی کامیابی ان کی منتظر ہوگی۔اسلامی ریاستیں علاقائی،لسانی،فقہی اختلافات کا شکار ہیں۔اسلامی ریاستوں میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں ان کو نظر انداز کر کے مستقبل کی طرف بڑھاجاسکتا ہے۔اسلامی ریاستوں اگر متحد ہو جائیں تو ان کا اتحاد عالمی امن کا ضامن بن سکتا ہے۔جدید علوم کا حصول لازمی کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔