منشیات کا زہر: اسباب, تباہ کاریاں اور تدارک تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com منشیات کا استعمال جسم اور دماغ کے علاوہ معاشرے کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔اس کواستعمال کرنے سے وقتی سکون یا سرور تو ملتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔۔اس کا استعمال کرنے والا ذہنی طور پر بھی مسائل کا شکار رہتا ہے اور دیگر مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔منشیات کی مختلف اقسام ہیں جن میں کئی تو زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور کچھ کم خطرناک۔چرس اورشراب کاشمار منشیات میں ہوتا ہے اوران کا استعمال عام ہے۔سینکڑوں ممالک میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں اور وہاں شراب کا استعمال عام ہے۔چرس کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے۔ہیروئن،افیون،کوکین،آئس اور دیگر کئی قسم کی منشیات دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اوراس کی جدید اقسام بھی دریافت کی جا رہی ہیں۔خطرناک منشیات کا عادی فرد معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔خطرناک منشیات کے استعمال سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہو جاتی ہے۔بعض اوقات ایسا فرد کسی کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔منشیات رقم کی عوض حاصل ہوتی ہے،اگر رقم نہ ہوتواس کےحصول کے لیے ڈاکے اور چوریاں بھی کی جاتی ہیں۔معاشرے کے قابل ترین افراد بھی منشیات کا شکار ہو کر کسی کام کے نہیں رہتے۔یہ ایک ایسی لت ہے جو انسان کو مردہ سے بھی بدتر کر دیتی ہے۔اکثر معاشرے کے اہم افراد منشیات کےحصول کے لیے بھیک مانگتے ہوئے بھی نظرآجاتے ہیں۔ پہلےپہل منشیات اس لیے استعمال کی جاتی ہے کہ سکون حاصل ہو۔تجسس کی خاطر بھی استعمال کی جاتی ہے۔بعض اوقات دوست یا قریبی عزیز بھی منشیات کا عادی کر دیتے ہیں۔جنسی خوشی کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔منشیات کا حصول مشکل نہیں ہوتا بلکہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔شراب کے علاوہ تقریبا تمام ممالک میں منشیات ممنوع ہے،لیکن پھر بھی دستیاب ہو جاتی ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی منشیات استعمال ہوتی ہوئی نظرآجاتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔پٹرول،صمد بانڈ اور اس قسم کے دیگر اشیاء سےبھی نشہ حاصل کیا جاتا ہے۔ہیروئن اور اس جیسے نشہ کا استعمال بہت ہی خطرناک ہے۔منشیات چھوٹے دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک استعمال ہو رہی ہے۔تعلیمی درسگاہیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔بہت سے طالب علم نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔بعض افرادآئس،شیشہ یا حقہ کو بطور فیشن استعمال کرتے ہیں،بلکہ کئی قسم کی منشیات فیشن کے نام پر بھی استعمال ہو رہی ہے۔بطور فیشن استعمال کرنے والے بعد میں عادی ہو جاتے ہیں۔منشیات استعمال کرنے والے افراد گھر والوں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔اگر گھر کا سربراہ نشے کاعادی ہو جائے تو پورا گھرانہ متاثر ہو جاتا ہے۔بچے تعلیم سے محروم اور اہل خانہ فاقے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اکثرسربراہ کی وجہ سے دیگر اہل خانہ کو بھی نشے کی لت لگ جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور معاشی پریشانیوں سے منشیات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔برے دوستوں کی صحبت،گھریلو ناچاکیاں،والدین کی عدم توجہی اور احساس کمتری سے بھی منشیات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔یہ کہنا لازمی ہے کہ چند افراد مسائل کی وجہ سے شروع کرتے ہیں،کروڑوں افراد نظر آتے ہیں جو انتہائی پریشانیوں کے باوجود بھی کسی قسم کی منشیات کا استعمال نہیں کرتے۔بعض اوقات سگریٹ کا استعمال کیا جاتا ہے،لیکن بعد میں دیگر منشیات کی طرف رغبت ہو جاتی ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے سگریٹ پیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔منشیات ایک ایسی لت ہے جس کا چھوڑنا انتہائی دشوار ہوتا ہے،لیکن ناممکن نہیں ہوتا۔پہلی بار کسی نشے کا استعمال انتہائی خوشگوار کیفیت طاری کرتا ہے،بعد میں استعمال کرنے سے پہلا سکون حاصل نہیں ہوتا تو منشیات کی مقدار میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔زیادہ خطرناک منشیات استعمال کرنے والے افراد تو معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔جیسے ہیروئنچی انتہائی غلیظ ماحول میں خوشی سے رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔ہیروئن استعمال کرنے والےکوڑے کے ڈھیروں پر بیٹھے یا لیٹےہوئےدکھائی دیتےہیں۔ان کے کپڑے گندے ہوتے ہیں اور کئی قسم کی بیماریوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔اکثرمنشیات کےعادی افراد ایک ہی سرنج کو متعدد افراد کے درمیان استعمال کرتے ہیں اور نشہ براہ راست رگوں میں داخل کرتے ہیں۔اس عمل سے ایڈز،ہیپاٹائٹس اور دیگر کئی خطرناک بیماریاں پھیل جاتی ہیں۔ منشیات کسی ایک ملک کامسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے،دفتر برائے انسدادمنشیات وجرائم(UNODC) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2023 کے دوران 316 ملین افراد نے کم از کم ایک بار غیر قانونی منشیات استعمال کی۔خفیہ طور پر بھی منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 24 کروڑ 40 لاکھ افراد دنیا بھر میں چرس استعمال کرتے ہیں۔ہیروئین اور دوسری منشیات بھی کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 70 سے 80 لاکھ کے برابر ہے۔ہو سکتا ہے یہ وہ تعداد ہے جو ریکارڈ پر ہے،اس سے زیادہ تعداد بھی ہونا ممکن ہے۔ہر سال 40 ہزار افراد پاکستان میں منشیات کے عادی ہو رہے ہیں۔دیگر ممالک میں بھی منشیات کے عادی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔منشیات کے خاتمے کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔ منشیات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے،مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔تعلیمی اداروں میں آگاہی دی جائے۔مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں منشیات کے خلاف تلقین کی جائے۔والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔اگر کوئی بچہ/بچی اس لت کا شکار ہو گیا ہے تو اس پر سختی کرنے کے علاوہ پیار سے بھی سمجھایا جائے۔ان کے علاج پر خصوصی توجہ دی جائے۔منشیات کے علاج کے لیے اسپتال تعمیر ہونے چاہیے،جہاں نشے کے عادی افراد کا علاج ممکن حد تک فری ہو۔کونسلنگ کر کے بھی منشیات سے نفرت دلائی جائے،تاکہ نشئی افراد منشیات کو چھوڑ سکیں۔منشیات کے خلاف قانون سازی کی جائے اور منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دی جائیں۔سخت قسم کی سزاؤں سے منشیات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔جو میڈیکل سٹورز نشہ آور ادویات بغیر ڈاکٹر کی تجویز کے فروخت کر رہے ہیں،ان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔کچھ میڈیکل سٹورزکے مالکان پیسوں کی خاطر نشہ آورادویات فروخت کر دیتے ہیں،حالانکہ یہ قانونی اور اخلاقی طور پر کسی طور درست نہیں۔منشیات کے خاتمے کے لیے مثبت سرگرمیوں کا فروغ بھی ضروری ہے۔جیسے کھیل یا کوئی تحریری تقریری مقابلے منعقد کرا کر منشیات کے استعمال سے روکا جا سکتا ہے۔یہ تو واضح ہے کہ منشیات سکون کے لیے استعمال کی جاتی ہے،لیکن حقیقی سکون کے لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرما دیا ہے۔"دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے"(الرعد۔28) اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو منشیات پرآسانی سے کنٹرول ہو سکتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب شراب کی حرمت کا حکم آیا تو فوری طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شراب کو چھوڑ دیا۔اب بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے ہر قسم کی منشیات کو چھوڑا جا سکتا ہے۔