userPic

Haroon Saif

Malik Haroon

I am Haroon, A Mphil Islamic Scholar... Writer, poet & I am a Book-Lover & I love travelling.

2
Posts
7
Followers
5
Following

غلطی، معافی اور تلافی: اسلامی اصولِ انصاف کی روشنی میں فرد اور معاشرہ کی اصلاح کا اسلامی تجزیہ

✍🏻: حافظ ہارون سیف اعوان

فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور.


انسان خطا و نسیان کا پتلا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو اسکی چھوٹی موٹی غلطیوں پر ڈھیل دے دی ہے اور صغیرہ گناہوں کو نیکیوں کے ذریعے مٹانے کا بندوبست کر دیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ 

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ... سورۃ ہود، آیت: 114

اردو ترجمہ: “بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امید، اصلاح اور رحمت کا عظیم اصول بیان فرمایا کہ اخلاص کے ساتھ کی گئی نیکیاں، توبہ، عبادات اور اعمالِ صالحہ انسان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ آیت مومن کو مایوسی کے بجائے رجوع، اصلاح اور نیکی کی کثرت کی ترغیب دیتی ہے۔

شریعتِ اسلامیہ نے انسان کی فطری کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی اصلاح، تطہیر اور رجوع الی اللہ کا مکمل راستہ بھی عطا کیا ہے۔ اسی حقیقت کو نبی اکرم ﷺ نے نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا: “کُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ...” (الحدیث)

یعنی اولادِ آدم سب خطاکار ہیں اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرتے ہیں۔ 

اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ: اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ... یعنی “گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔” ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ اصلاح، امید اور عملی واپسی کا درس دیتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ” (البقرہ: 222)

ترجمہ: بے شک اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

یہ آیت اس حقیقت پر نقلی دلیل ہے کہ خطا کا اصل علاج اخلاص کے ساتھ رجوع الی اللہ ہے۔ عقلی طور پر بھی انسان چونکہ خواہشات، غفلت یا جذبات کے زیر اثر غلطی کر بیٹھتا ہے، اس لیے ایک مہذب اور عادل نظام وہی ہوگا جو اصلاح کا دروازہ کھلا رکھے۔ اگر غلطی کے بعد واپسی کا راستہ نہ ہو تو معاشرہ مایوسی، بگاڑ اور انتقام کا شکار ہو جائے۔

لیکن توبہ کی قبولیت خصوصاً حقوق العباد میں صرف زبانی معافی سے مکمل نہیں ہوتی۔ اگر کسی نے کسی کی عزت مجروح کی، مال ہڑپ لیا، دھوکہ دیا یا جسمانی نقصان پہنچایا تو اس پر تین ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:

(1) گناہ پر حقیقی ندامت،

(2) آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم،

(3) متاثرہ شخص سے معافی اور حق کی واپسی یا تلافی کرنا۔

یہی عدل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ حدیثِ مبارک کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق کا فیصلہ انتہائی باریکی سے ہوگا۔ اس لیے کسی انسان کو نقصان پہنچا کر صرف نفلی عبادات، تسبیحات اور ذکر اذکار کی حد تک عبادات کرنا کافی نہیں جب تک مظلوم کا حق ادا نہ ہو۔

“ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں..!

سوال یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیاں سدھارتے کیسے ہیں”

یہ نوٹ دراصل خود احتسابی کا بنیادی اصول ہے۔ 

غلطی سدھارنے کے لیے پہلا قدم اپنی خطا تسلیم کرنا ہے، کیونکہ انکار اصلاح کی راہ بند کر دیتا ہے۔ 

دوسرا قدم شرمندگی ہے، جو دل کو نرم کرتی ہے۔ 

تیسرا قدم عملی اصلاح ہے کہ جہاں بگاڑ پیدا کیا وہاں بہتری لائی جائے۔

مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے غصے میں آکر اپنے دوست پر جھوٹا الزام لگا دیا جس سے اس کی عزت متاثر ہوئی تو صحیح اصلاح یہ ہوگی کہ وہ پہلے اللہ سے سچی توبہ کرے پھر اپنے دوست سے معافی مانگے جن لوگوں کے سامنے الزام لگایا تھا وہاں حقیقت واضح کرے اور اگر اس الزام سے مالی یا سماجی نقصان ہوا تو حتی المقدور اس کی تلافی کرے۔ 

یہی حقیقی توبہ ہے اور محض “معاف کر دو” کہہ دینا کافی نہیں جب تک نقصان کا ازالہ نہ ہو۔

عقلی اعتبار سے بھی یہی رویہ اعتماد بحال کرتا ہے۔ معاشرے میں تعلقات صرف معذرت سے نہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے سے مضبوط ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنی غلطی مان کر اسے درست کرتا ہے وہ اخلاقی طور پر زیادہ بلند ہوتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جو انا کی وجہ سے غلطی پر قائم رہے۔

خلاصہ یہ کہ انسان سے خطا ہونا فطری ہے، مگر خطا پر اصرار تباہ کن ہے۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ گناہ کے بعد مایوسی نہیں بلکہ سچی توبہ، حقوق کی ادائیگی اور عملی اصلاح اختیار کی جائے۔ اللہ کے حقوق میں استغفار اور بندوں کے حقوق میں معافی و تلافی ضروری ہے۔ پس کامیاب وہ نہیں جو کبھی نہ گرے بلکہ کامیاب وہ ہے جو گر کر سنبھل جائے، اپنی اصلاح کرے اور اللہ و بندوں دونوں کے حقوق ادا کرکے بہتر انسان بن جائے۔

*"محبوبہ کا جمال، عاشق کی وارفتگی اور عشق کی ازلی داستان"*

✍🏻: ہارون سیف


یہ حسین و جمیل پری چہرہ لڑکیاں واقعی ناز و انداز اور فطری نخریلی کیفیت کی مالک ہوتی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو حسن عطا فرماتا ہے تو اس کے ساتھ نزاکت، لطافت، نرمی اور دلکشی... خود بخود شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ بقول شخصے


نزاکت بن نہیں سکتی حسینوں کے بنانے سے...  

خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے... 


 ان کی زبان بولتی ہے مگر اس سے کہیں زیادہ ان کی آنکھیں، ان کے چہرے کے خدوخال، ان کے اندازِ نشست و برخاست اور ان کے وجود کی بے آواز لہریں انسان کے دل پر چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ محض بات نہیں کرتیں، ان کا ہر لمحہ، ہر حرکت، ہر خاموشی گویا! ایک داستان سناتی ہے۔ بدن کی خاموش بولی میں جو تاثیر ہوتی ہے، وہ بلند سے بلند خطیب کے الفاظ میں بھی نہیں ملتی۔ اسی لئے مؤمن خان مؤمن نے اس انداز گفتگو کا نچوڑ اس طرح نکالا ہے کہ:


*جلوہ دکھا کے حسن کا یوں کر لیا اسیر...*

آنکھوں سے ان کی دل نے پیا جام آہستہ آہستہ...


کبھی ان کا ہلکا سا مسکرانا، کبھی نظریں چرا کر دوبارہ ملا دینا، کبھی پلکوں کا نیم وا ہونا، ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے بہار نے خود اپنے ہاتھوں سے دِل میں پھول سجا دیے ہوں۔ اور پھر ان کی خاموشی، وہ خاموشی جس میں ہزار گونجیں چھپی ہوتی ہیں... دل کے اندر دور تک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔

جیسے اقبال نے عورت کے وجود کی رنگینی کو اس انداز میں بیان کیا کہ: 


وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ...

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں...


مرد تو فطرتاً حسن کا اسیر واقع ہوا ہے۔ جب اسے ایسی نازک اندام، خوش لہجہ اور دل ربائی سے بھرپور لڑکی رفیقہ حیات کی صورت مل جائے تو وہ اس کے حکم بجا آوری پر اپنی جان تک نچھاور کر دیتا ہے، جیسے پروانہ شمع پر بلا چیخ و پکار جان دے دیتا ہے۔ پروانہ شمع کی تپش جانتا ہے مگر اس کی روشنی کا اسیر ہو کر اپنی ہلاکت کو گوارا کر لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح محب اپنی محبوبہ کی مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا چراغ سمجھ کر، اس کی رضا کو اپنی جاں سے زیادہ عزیز جان کر، اس کی سمت جاتے اپنا توازنِ اختیار کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ عاشق اپنا اختیار اپنی معشوقہ کو دان کر دیتا ہے. محبت کا یہ بھید بھی عجیب ہے کہ عورت کی ایک لطف و کرم بھری نگاہ مرد کی دنیا کو بسا بھی دیتی ہے اور کسی لمحے عورت کا چشمِ ناز کا مرد سے ذرا سا پھیر لینا اسکی پوری کائنات کو تہس نہس کر دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔

اس کے بعد شاید جون ایلیا نے ایسے اشعار تک لکھ ڈالے کہ:


یارو! کچھ تو حال سناؤ اس کی قیامت بانہوں کا...

وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہونگے...


کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ عورت کی آنکھیں فقط دیکھتی نہیں بلکہ مرد کے دلوں میں اترتی، روحوں میں رس گھولتی اور خواہشات کو اپنے محور میں گھما لیتی ہیں۔ مرد اپنی پسندیدہ عورت کے اشاروں پر ناچتا دکھائی دیتا ہے؛ کبھی اس کے ایک تبسم پر خوشی سے دیوانہ، کبھی اس کے روٹھنے پر بےقرار اور بےچین... اور جب وہ عورت ہنس دے، وہ مرد راضی ہو جائے... جب وہ عورت اپنی آنکھوں کے اشارے سے کچھ کہ دے، تو مرد اپنا سب کچھ قربان کر دینا، اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے... مرد تو اپنی خواہشیں، اپنی ضدیں، اپنا تکبر، اپنی پوری زندگی تک... وہ اسکی لمسِ محبت کی حرارت اور اس کی طرف سے قبولیت کے لمحے کو اپنے وجود کی سب سے بڑی نعمت سمجھتا ہے۔ 

اسی لئے احمد فراز نے محبوبہ کو ایسی ترکیب بتلائی کہ جس میں محب ہارنے کو تیار نظر آتا ہے کہ: 


تو محبت سے کوئی چال تو چل...

*ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے...*


اردو ادب کے شعراء نے اس کیفیت کو طرح طرح سے بیان کیا ہے۔ کہیں محبوب کی مسکراہٹ کو قوسِ قزح کہا گیا، کہیں اس کی خاموشی کو سازِ دل، کہیں اس کی آنکھوں کو کائنات کے رازوں کا درجہ ملا۔ میر تقی میر نے کہا تھا:


*عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب...*

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک...


اور غالب نے تو محبوبہ کے تبسم کی حرارت میں پورا جہان سمو دیا تھا اور اس کے روٹھ کر جانے کو قیامت سے تشبیہ دی تھی یہ کہتے ہوئے کہ:


*جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کو ملیں گے...*

کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور...


 یہ کیفیت آج بھی ویسی ہی ہے۔ عورت کے حسن کی روشنی صدیوں پہلے بھی پروانوں کو جلاتی تھی اور آج بھی مرد کے دلوں کو روشن کر رہی ہے۔ عورت کے ناز و انداز کی یہی تاثیر ہے کہ وہ بغیر بولے، بغیر فریاد کیے، صرف اپنے وجود کی لطافت سے اور بدن کے جلوؤں سے مرد کے دل پر حکومت کرتی آئی ہے۔ 

محبت کے اس جہاں میں وہ عورت ملکہ حسن ہے اور مرد اس کی حکومت کا فرماں بردار سپاہ سالار اور محافظ ہے جو ہر لمحہ اس کے ایک اشارے پر دنیا تج دینے کو تیار رہتا ہے۔

مظفر زیدی نے وعدہ ملاقات کو حشر تک ملتوی کرنے پر سراپا احتجاج بن کر ہی کہا ہوگا کہ


خوب! یہ تم نے کہا، حشر میں مل جائیں گے...

*اس قدر بھیڑ میں ہوتی ھے ملاقات بھلا...؟*

You’ve reached the end.