userPic

سردار

باغی

انسان دو باتوں کو لے کر پریشان ہے ماضی کو اور مستقبل کو اور وہ دونوں اس کے ہاتھ میں نہیں جو اس وقت میسر ہے اس کو اچھے سے جیو کل کا اچھا سوچ کر ہمیشہ اچھا ہی ہو گا ان شاءاللہ

27
Posts
9
Followers
0
Following
بارش کا موسم ہو اور ساتھی تیرا ساتھ ہو
اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھیں 
سورۃ الفلق: ترجمہ اور مختصر تشریح
تعارف
سورۃ الفلق قرآنِ مجید کی 113ویں سورت ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس میں 5 آیات ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ہر قسم کے ظاہری اور باطنی شر سے اپنی پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
آیت 1
ترجمہ
کہو: میں صبح کے پیدا کرنے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔
تشریح
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے ذریعے ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ ہم ہر مشکل، خوف اور پریشانی کے وقت صرف اللہ کی پناہ حاصل کریں۔ "فلق" سے مراد صبح کا نمودار ہونا ہے، جو اندھیرے کے بعد روشنی کی آمد کی علامت ہے۔
---
آیت 2
ترجمہ
ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی۔
تشریح
دنیا میں بعض چیزیں انسان کے لیے نقصان یا آزمائش کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں تمام مخلوقات کے ممکنہ شر سے اپنی حفاظت طلب کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
---
آیت 3
ترجمہ
اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے۔
تشریح
رات کے وقت بہت سے خطرات، خوف اور پوشیدہ نقصانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر رات کے شر سے اپنی پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی ہے۔
---
آیت 4
ترجمہ
اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔
تشریح
اس آیت میں جادو، ٹونے ٹوٹکے اور ایسے تمام اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے جو انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
---
آیت 5
ترجمہ
اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
تشریح
حسد ایک خطرناک بیماری ہے جو انسان کو دوسروں کی نعمتیں دیکھ کر جلانے پر آمادہ کرتی ہے۔ حسد کرنے والا بعض اوقات اپنے حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے بھی پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔
---
سورۃ الفلق کا مرکزی پیغام
سورۃ الفلق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان ہر قسم کے خوف، جادو، حسد، برائی اور پوشیدہ خطرات سے بچنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔
حاصلِ کلام
سورۃ الفلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم دعا ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی ہر برائی، ہر نقصان اور ہر خوف کے مقابلے میں سب سے مضبوط پناہ صرف اللہ رب العالمین کی پناہ ہے۔
سورۃ الناس — انسان کی حفاظت کی دعاسورۃ الناس قرآنِ پاک کی آخری سورت ہے۔ یہ ایک مختصر مگر نہایت جامع سورت ہے جو انسان کو ہر قسم کے وسوسوں، برائیوں اور شیطانی حملوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دیتی ہے۔ترجمہ:شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔کہہ دیجیے: میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی،لوگوں کے بادشاہ کی،لوگوں کے معبودِ برحق کی،وسوسہ ڈالنے والے، پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے،جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے،خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔مختصر تشریح:یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی پناہ ہے۔ دنیا میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو انسان کے دل و دماغ کو پریشان کرتی ہیں۔ کبھی منفی خیالات، کبھی خوف، کبھی حسد اور کبھی گناہوں کی طرف مائل کرنے والے وسوسے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں سکھایا کہ ایسے تمام حالات میں صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے، کیونکہ وہی رب ہے، وہی بادشاہ ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے۔سورۃ الناس ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہر برائی ہمیشہ کھلی شکل میں نہیں آتی، بعض اوقات وہ خیالات اور وسوسوں کی صورت میں دل میں داخل ہوتی ہے۔ اس لیے ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے آباد رکھے اور صبح و شام اس سورت کی تلاوت کو اپنی عادت بنائے۔پیغام:جب دل بے چین ہو، حالات مشکل ہوں، یا منفی خیالات پریشان کریں تو سورۃ الناس پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔ جو شخص اپنے رب کے قریب رہتا ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ پاک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عورت کا معاشرے میں کردار 
حوصلے جیت جاتے ہیں 
میں اپنے پہلے دس فالورز کے نام پر ایک کہانی لکھوں گا