Default Profile

HaleemaMalik

@username

No bio available.

17
Posts
4
Followers
1
Following
اس زندگی کو ایک مضبوط دل کی ضرورت ہے جو اس کے بوجھ اٹھا سکےایسا دل جو یہ سمجھتا ہو کہ درد اس سفر کا ایک حصہ ہےاور یہ کہ صدمے دراصل تکلیفوں کے پردے میں چھپے ہوئے اسباق ہیںآپ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا انکار کر کے، یا اپنے حالاتِ زندگی سے بھاگ کر نجات نہیں پا سکتے،بلکہ حقیقت کا شجاعت اور صبر کے ساتھ سامنا کرنے سے ہی بچ سکتے ہیںزندگی ہمیں سخت حالات کے ذریعے نکھارتی ہے تاکہ ہمیں طاقت سکھائےاور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو دریافت کر سکیںکیونکہ کمزوری آپ کو جینے کا راستہ نہیں دے گیبلکہ شجاعت ہی آگے بڑھتے رہنے کی کنجی ہےہر گراوٹ کھڑے ہونے کا ایک نیا موقع ہےاور ہر درد سمجھداری کا ایک راستہ ہےہمت نہ ہاریں، کیونکہ زندگی ان کے لیے ہے جو ثابت قدمی اور ایمان کے ساتھ اس کا سامنا کرتے ہیں۔ 

ہر زندہ انسان اس طرح نہیں جی سکتا جیسے وہ چاہتا ہےکچھ لوگ اپنے خوابوں کے مطابق جی رہے ہیں اور کچھ لوگ اپنے حالات کے مطابق جی رہے ہیں، کچھ لوگوں نے اپنا راستہ خود چنا ہے اور کچھ لوگوں پر راستہ ان سے پوچھے بغیر مسلط کر دیا گیا ہےہر مسکراہٹ کا مطلب رضا مندی نہیں ہوتا، ہر خاموشی کا مطلب سکون نہیں ہوتا، اور ہر وہ شخص جو کسی مقام پر پہنچا ہے، ضروری نہیں کہ شروع سے ہی یہ اس کا اپنا انتخاب رہا ہوکبھی کبھار زندگی ہمیں اپنی خواہشات کو پورا کرنے سے زیادہ حالات کے سانچے میں ڈھلنا سکھاتی ہے، اور ان معمولی ترین چیزوں کے لیے لڑنا سکھاتی ہے جو دوسروں کو بڑی آسانی سے مل جاتی ہیںاس لیے کسی کے ظاہر کو دیکھ کر اس کی زندگی کے بارے میں فیصلہ نہ کرو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے سکون کے پیچھے ہزاروں ملتوی شدہ خواہشات ہوں، اور اس کی طاقت کے پیچھے ہزاروں ایسی جنگیں ہوں جن کا اس نے کبھی کسی سے ذکر تک نہ کیا ہو۔

ہر بکھر جانا آنکھ سے دکھائی نہیں دیتاکچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو بالکل خاموشی سے ٹوٹتے ہیں جبکہ ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں، اور کچھ روحیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں اندرونی جنگیں اس طرح نچوڑ لیتی ہیں کہ کوئی ان کا شور تک نہیں سن پاتا اس لیے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کریں، کیونکہ ہر انسان کی ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو وہ کسی کو نہیں سناتا، ایک ایسا درد ہوتا ہے جس کی وہ وضاحت نہیں کر سکتا اور ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو وہ اکیلا لڑ رہا ہوتا ہےبعض اوقات انسان کو حل کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ایک ایسے شخص کی ہوتی ہے جو اسے سمجھے، اور ایک ایسے دل کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے محسوس کرے، بغیر اس کے کہ اسے اپنے اندر کی ہر بات کی وضاحت کرنی پڑےپس لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا کوئی عام سا اخلاق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا اثر ہے جو دلوں میں طویل عرصے تک باقی رہتا ہے۔

تھکاوٹ کوئی عذر نہیں۔ اور نا بڑھاپا۔ - اور نا مشکل راستہ
ایک دن میں نے آئینے میں دیکھاتو میرے نقوش تو ویسے ہی تھے، لیکن اندر سے میں ستر سال کی عمر عبور کر چکا تھا سنگدلی نے میرے کندھے پر اس طرح تھپکی دی کہ مجھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا، اور مجھے بوڑھوں جیسی وہ حکمت اور بے رغبتی عطا کر دی ان چیزوں کے لیے جن کے پیچھے ہم طویل عرصے تک بھاگتے رہے اور وہ اس قابل ہی نہ تھیںمیرے اندر شروعات کا تجسس اور انجام کا خوف بجھ چکا ہےاب میں طوفانوں کا استقبال ایک پرسکون دل کے ساتھ کرتا ہوںدھوکا؟ مجھے اس کی امید تھیدوستوں کا بچھڑنا؟ زندگی کا اصول ہےیہاں تک کہ وہ صدمے جو کل تک مجھے توڑ دیتے تھے اور میری روح نچوڑ لیتے تھے، آج میں ان پر مسکرا دیتا ہوں، ایک ایسے شخص کی مسکراہٹ جو آخر کار کھیل کو سمجھ گیا ہو اب درد مجھے رلاتا نہیں، بلکہ وہ میرے اندر ایک خاموش ہنسی کو بیدار کرتا ہے، ایک ایسی ہنسی جو کڑوی سمجھ بوجھ سے بھری ہومیرا معذرتوں کا غلاف ختم ہو چکا ہے اب میرے پاس دوسروں کے دیے ہوئے زخموں کو سینے کی طویل صلاحیتیں باقی نہیں رہیں، اور نہ ہی ان لوگوں کے لیے بہانے تلاش کرنے کی ہمت ہے جنہوں نے جان بوجھ کر مجھے تکلیف پہنچائی میں نے وہ دارالکفالت بند کر دیا ہے جو میں نے نااہل لوگوں کے لیے کھول رکھا تھا، اور اپنا ہاتھ چھڑا لیا ہے ہر وہ ہاتھ جو سچائی کے ساتھ مجھ سے وابستہ نہیں تھا، میں نے اسے امن کے ساتھ جانے دیا آخر کار اب میں اپنی ذات کی طرف متوجہ ہوا ہوں، اپنے پرسکون کونے کو تلاش کرتا ہوں، اور اپنے سکون کو ایک ایسے دین کی طرح اپناتا ہوں جس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ مجھے قبول نہیںوہ اب مجھے سرد مہر اور شاید سنگدل کہتے ہیں اور میں انہیں ملامت بھی نہیں کرتاکیونکہ جو شخص دیوار کو باہر سے دیکھتا ہے وہ یہ نہیں جانتا کہ گھر اندر سے کیسے جلا ہے وہ نہیں جانتے کہ میں نے خاموشی میں کتنی جنگیں لڑیں تاکہ میرا دل پتھر نہ بن جائے، اور کتنی بار میں نے اپنی معصومیت کو گلے لگایا جب وہ دنیا کے تمسخر پر رو رہی تھی، اور کتنے زخموں کو میں نے چھپایا کیونکہ یہ دنیا ہماری معصومیت کو کچلتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہے اور پھر پیچھے مڑ کر یہ تک نہیں کہتی: مجھے افسوس ہےمیرے دوست، میں سنگدل نہیں ہوںمیں نے تو بس اپنے تھکے ہوئے دل کو حکمت کے عصا پر ٹیک دیا ہےاور اپنے سکون کے بستر بوریا کو باندھ کر، سادہ لوح لوگوں کے شہروں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
 حلیمہ ملک
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔
postImage
نیند آ جائے تو پھر خواب بھی آجاتے ہیں وقت اچھا ہو تو "احباب" بھی آجاتے ہیں
یہ "مقدر" ہے کناروں پہ بسنـے والوں کا فصل پک جائے تو سیلاب بھی آ جاتے ہیں🖤✨
توہین زندگی نہ ہوئی۔
postImage
کبھی کبھی زندگی انسان کو اُس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں مضبوط رہنا مجبوری بن جاتا ہے، خواه دل مزید لڑنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ انسان اندر سے تھک چکا ہوتا ہے، مگر حالات اُسے پھر سنبھلنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بہادر ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اُس کے پاس ٹوٹ جانے کی بھی اجازت نہیں بچتی۔ سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب انسان مضبوط اس لیے نہیں بنتا کہ وہ چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ اُس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔
وقت کے ساتھ انسان لڑنا تو سیکھ لیتا ہے، مگر خوش رہنا بھول جاتا ہے۔ وہ مسکراہٹ جو کبھی دل سے آیا کرتی تھی، اب صرف چہرے تک محدود رہ جاتی ہے۔ اندر ایک خاموش تھکن بسی ہوتی ہے، ایک ایسی تھکن جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ بعض لوگ صرف سکون چاہتے ہیں، محبت چاہتے ہیں، کوئی ایسا کندھا چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی مضبوطی اتار کر کچھ دیر کمزور ہو سکیں مگر زندگی اکثر اُنہیں دوبارہ آزمائشوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
لیکن شاید اصل بہادری ہمیشہ مضبوط رہنے میں نہیں بلکہ اپنے درد کو تسلیم کرنے میں ہے۔ خود کو یہ اجازت دینے میں ہے کہ آپ ہر وقت پتھر نہیں بن سکتے۔
postImage
ایک عورت کیلئے زندگی اور میچیورٹی کی وہ سٹیج خطرناک ہوتی ہے جب اس کا دل آنکھوں ، بالوں اور ہونٹوں کی تعریفوں سے بھی نہ بہلے جبکہ وہ صرف اس بات پہ اطمینان اور خوشی محسوس کرے جب اس کے یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی فیسیں وقت پہ سہولت سے ادا ہوچکی ہوں ۔کچن کے سارے دراز گروسری سے ، اور فریج انڈے دودھ اور پھلوں سے بھرا ہوا ہو ۔کوئی سرکاری و نیم دستاویز اور کام پینڈنگ نہ ہو۔ تمام برقی آلات درست کام کررہے ہوں ،صحت اچھی ہو اورہیلپر گھرصاف کرکے جاچکی ہو۔🫣