ہر انسان کو ایک جیسی غذا فائدہ کیوں نہیں دیتی؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق ہر انسان کا جسم، مزاج، اعضاء کی کیفیت اور اندرونی تاثیر ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔اسی لیے ایک ہی غذا کسی ایک انسان کے لیے طاقت بن سکتی ہے، جبکہ دوسرے کے لیے بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر:کسی شخص کے جگر میں پہلے سے گرمی زیادہ ہو تو گرم غذائیں اُس کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔جبکہ کسی دوسرے انسان میں سردی یا کمزوری ہو تو وہی غذا اُس کے لیے فائدہ مند بن سکتی ہے۔اسی طرح:کسی کے اعصاب میں خشکی زیادہ ہوتی ہے،کسی میں تری،کسی کا معدہ کمزور ہوتا ہے،اور کسی کا ہاضمہ تیز ہوتا ہے۔لہٰذا ہر جسم غذا کو ایک جیسا ردِعمل نہیں دیتا۔نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق غذا کا انتخاب:جسم کے مزاج،عضو کی حالت،موسم،عمر،اور بیماری کی کیفیت کے مطابق ہونا چاہیے۔مثال:دہی کسی کے لیے ٹھنڈک اور سکون بن سکتا ہے،لیکن کسی دوسرے میں بلغم، سستی یا معدے کی خرابی پیدا کر سکتا ہے۔یعنی:“ہر غذا ہر انسان کے لیے یکساں دوا نہیں ہوتی۔درست غذا وہی ہے جو انسان کے مزاج اور اعضاء کے مطابق ہو۔”جب انسان اپنی جسمانی کیفیت کو سمجھے بغیر صرف ذائقے یا عادت کی بنیاد پر کھاتا ہے، تو آہستہ آہستہ جسم کا توازن بگڑنے لگتا ہے اور بیماریاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
۔ Pak Health System سے آپکو یہ پتا چلے گا کہ آپ کا مزاج یا جسمانی کیفیت کیا ہے ، آپکی بیماری کی وجہ کون کون سی غذائیں ہیں اور آپکی صحت کن غذاوں میں چھپی ہے