userPic

Hassan Raza

Pak Health System

Pak Health System یہ لوگوں کو بیماریوں سے نکالنے اور صحت مندی کی طرف لیکر جانے والا ایسا نظام ہے جس کی بنیاد درست غذاوں کے استعمال کا علم ہے۔ کوئی انسان، کیسی بھی بیماری میں اور کتنے ہی عرصے سے مبتلا کیوں نہ ہو، درست غذائی رہنمائی سے شفا یاب ہو جاتا ہے ۔ یہ دراصل قانون فطرت ہے

16
Posts
3
Followers
0
Following
ہر انسان کو ایک جیسی غذا فائدہ کیوں نہیں دیتی؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق ہر انسان کا جسم، مزاج، اعضاء کی کیفیت اور اندرونی تاثیر ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔اسی لیے ایک ہی غذا کسی ایک انسان کے لیے طاقت بن سکتی ہے، جبکہ دوسرے کے لیے بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر:کسی شخص کے جگر میں پہلے سے گرمی زیادہ ہو تو گرم غذائیں اُس کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔جبکہ کسی دوسرے انسان میں سردی یا کمزوری ہو تو وہی غذا اُس کے لیے فائدہ مند بن سکتی ہے۔اسی طرح:کسی کے اعصاب میں خشکی زیادہ ہوتی ہے،کسی میں تری،کسی کا معدہ کمزور ہوتا ہے،اور کسی کا ہاضمہ تیز ہوتا ہے۔لہٰذا ہر جسم غذا کو ایک جیسا ردِعمل نہیں دیتا۔نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق غذا کا انتخاب:جسم کے مزاج،عضو کی حالت،موسم،عمر،اور بیماری کی کیفیت کے مطابق ہونا چاہیے۔مثال:دہی کسی کے لیے ٹھنڈک اور سکون بن سکتا ہے،لیکن کسی دوسرے میں بلغم، سستی یا معدے کی خرابی پیدا کر سکتا ہے۔یعنی:“ہر غذا ہر انسان کے لیے یکساں دوا نہیں ہوتی۔درست غذا وہی ہے جو انسان کے مزاج اور اعضاء کے مطابق ہو۔”جب انسان اپنی جسمانی کیفیت کو سمجھے بغیر صرف ذائقے یا عادت کی بنیاد پر کھاتا ہے، تو آہستہ آہستہ جسم کا توازن بگڑنے لگتا ہے اور بیماریاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
۔ Pak Health System سے آپکو یہ پتا چلے گا کہ آپ کا مزاج یا جسمانی کیفیت کیا ہے ، آپکی بیماری کی وجہ کون کون سی غذائیں ہیں اور آپکی صحت کن غذاوں میں چھپی ہے 
پاکستان میں بیماریاں تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہیں؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابقنظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق بیماری اچانک پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ جسم کے اعضاء میں آہستہ آہستہ بگڑنے والے مزاج، غلط غذاؤں اور خراب طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج پاکستان میں بیماریاں تیزی سے بڑھنے کی بڑی وجوہات یہ ہیں:بے وقت کھانافاسٹ فوڈ اور بازاری غذاؤں کا زیادہ استعمالٹھنڈے مشروبات اور مصنوعی چیزیںجسمانی حرکت اور ورزش کی کمیرات دیر تک جاگناذہنی دباؤ، غصہ اور بے سکونیاور قدرتی غذاؤں سے دورییہ تمام چیزیں جسم کے مختلف اعضاء کے مزاج کو خراب کرتی ہیں۔مثال کے طور پر:غلط اور گرم غذائیں جگر اور صفرا کی گرمی بڑھاتی ہیں۔مسلسل ذہنی دباؤ دماغ اور اعصاب میں خشکی پیدا کرتا ہے۔سستی اور بے حرکتی معدہ اور عضلات کو کمزور کرتی ہے۔مصنوعی اور بے جان غذائیں خون اور رطوبات کو خراب کرتی ہیں۔پھر یہی خرابیاں آہستہ آہستہ:شوگر،بلڈ پریشر،موٹاپا،معدے کے مسائل،جلدی بیماریاں،اعصابی کمزوری،اور ذہنی دباؤ جیسی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق:“جب غذا، نیند، عادات اور طرزِ زندگی فطرت کے خلاف ہو جائیں، تو جسم کے اعضاء اپنا توازن کھو دیتے ہیں، اور یہی بیماریوں کے پھیلنے کی اصل وجہ بنتا ہے۔”صحت صرف دوا سے نہیں،بلکہ درست غذا، متوازن مزاج اور فطری زندگی سے واپس آتی ہے۔۔ Pak Health System فطری طریقہ علاج ہے، جو آپکو کسی بھی طرح کی گھمبیر بیماری سے نکلنے میں مدد کرے گا 
ہماری روزمرہ خوراک جسم کو طاقت دے رہی ہے یا بیماری؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق خوراک صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہیں، بلکہ جسم کے اعضاء کی تاثیر، مزاج اور طاقت بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ہر غذا اپنے اندر ایک خاص تاثیر رکھتی ہے:کچھ غذائیں گرمی بڑھاتی ہیں،کچھ سردی،کچھ خشکی،اور کچھ تری پیدا کرتی ہیں۔اگر انسان اپنی جسمانی ضرورت اور مزاج کے مطابق غذا کھائے تو:جگر متوازن رہتا ہے،معدہ مضبوط ہوتا ہے،اعصاب پُرسکون رہتے ہیں،اور جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر روزانہ ایسی غذائیں کھائی جائیں جو جسم کے مزاج کے خلاف ہوں، تو آہستہ آہستہ اعضاء کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔آج ہماری روزمرہ خوراک میں:زیادہ چکنائی،بازاری اشیاء،کولڈ ڈرنکس،مصنوعی مشروبات،فاسٹ فوڈ،حد سے زیادہ چینی،اور بے وقت کھاناعام ہو چکا ہے۔یہ غذائیں وقتی ذائقہ تو دیتی ہیں، مگر جسم کے اندر:جگر کی گرمی،معدہ کی خرابی،اعصاب کی کمزوری،خون کی خرابی،اور جسمانی سستی پیدا کر سکتی ہیں۔یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق:“غذا ہی طاقت بھی بنتی ہے اور بیماری بھی۔یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کیا، کب اور کس مقدار میں کھا رہے ہیں۔”اگر خوراک جسم کے مزاج کے مطابق ہو تو وہ دوا بن جاتی ہے،اور اگر خلافِ مزاج ہو تو آہستہ آہستہ بیماری کی بنیاد بن جاتی ہے۔Pak Health System کا حصہ بنیں اور پائیں مستقل طور پر بیماریوں سے نجات کی رہنمائی 
دوا وقتی آرام دیتی ہے اور بیماری واپس کیوں آ جاتی ہے؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق بیماری صرف ایک علامت کا نام نہیں، بلکہ جسم کے کسی عضو کی تاثیر، مزاج اور افعال کے بگاڑ کا نتیجہ ہوتی ہے۔اکثر اوقات دوا:درد کو دبا دیتی ہے،سوزش کو وقتی کم کر دیتی ہے،یا علامات کو خاموش کر دیتی ہے،لیکن بیماری کی اصل وجہ یعنی:غلط غذا،خراب طرزِ زندگی،مسلسل ذہنی دباؤ،یا کسی عضو کی بڑھی ہوئی گرمی، خشکی، تری یا سردیاگر برقرار رہے، تو بیماری دوبارہ ظاہر ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر:اگر جگر کی گرمی اور صفراوی زیادتی کم نہ ہو تو جلدی مسائل یا غصہ بار بار واپس آ سکتا ہے۔اگر اعصاب کی خشکی برقرار رہے تو بے خوابی، گھبراہٹ اور کمزوری دوبارہ ہو سکتی ہے۔اگر معدہ مسلسل غلط غذاؤں سے متاثر رہے تو قبض، گیس اور بدہضمی ختم نہیں ہوتی۔یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق:“صرف بیماری کو دبانا علاج نہیں،بلکہ اُس عضو کی اصل خرابی اور غلط غذا کو درست کرنا حقیقی علاج ہے۔”جب تک انسان اپنی غذا، عادات اور جسمانی مزاج کے مطابق زندگی نہیں اپناتا، بیماری وقتی دبنے کے بعد دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے۔
۔۔ Pak Health System کا حصہ بنیں اور بیماریوں سے پاک اور صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائیں۔
تری کیا ہے؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق تری اُس کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں جسم یا کسی عضو میں نرمی، رطوبت، سکون اور لچک موجود ہو۔تری جسم کو نرم، پُرسکون اور متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔یہ کیفیت خاص طور پر دماغ اور اعصاب سے گہرا تعلق رکھتی ہے، کیونکہ دماغ اور اعصاب کی اصل تاثیر نرم، لطیف اور تر مانی جاتی ہے۔جب دماغ اور اعصاب میں مناسب تری موجود ہو تو:ذہن پُرسکون رہتا ہےنیند بہتر آتی ہےسوچ متوازن رہتی ہےاعصاب مضبوط رہتے ہیںجسم میں سکون اور برداشت پیدا ہوتی ہےلیکن جب یہ تری کم ہونے لگتی ہے تو اعصاب اور دماغ میں خشکی بڑھتی ہے، اور پھر علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جیسے:بے خوابیگھبراہٹذہنی دباؤچڑچڑاپنکمزوریٔ اعصاببھولنے کی عادتجسم میں کھنچاؤ یا کپکپیاسی طرح اگر دماغ اور اعصاب میں حد سے زیادہ تری بڑھ جائے تو:سستیزیادہ نیندذہنی دھندکم توجہیاور بوجھل پن پیدا ہو سکتا ہے۔یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق:“دماغ اور اعصاب کی صحت کا دارومدار متوازن تری پر ہے۔نہ زیادہ خشکی مفید ہے اور نہ حد سے زیادہ تری۔”اسی لیے غذا، نیند، ذہنی سکون اور اعصابی آرام کو دماغی صحت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
۔ Pak Health System کو فالو کریں اور فطری طریقے سے بیماریوں سے نجات پائیں۔
گرمی کیا ہے؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق گرمی اُس کیفیت کو کہتے ہیں جب جسم یا کسی عضو میں حرارت، تیزی اور فعالیت اپنی فطری حد سے بڑھ جائے۔یہ کیفیت خاص طور پر جگر اور صفرا کے نظام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔جگر جسم کا وہ اہم عضو ہے جو غذا کو بدل کر توانائی، خون اور مختلف رطوبات بناتا ہے۔جب جگر میں حرارت بڑھتی ہے تو اس سے صفرا زیادہ بنتا ہے یا تیز ہو جاتا ہے۔صفرا کیا کرتا ہے؟ صفرا جسم میں:حرارت،تیزی،ہاضمہ،اور تحلیل (توڑنے) کے عمل کو بڑھاتا ہے۔لیکن جب صفرا حد سے بڑھ جائے تو جسم میں گرمی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جیسے:منہ کا کڑوا ہونازیادہ پیاسسینے میں جلنغصہ اور چڑچڑاپنپیلا پیشابجلد پر دانے یا خارشجسم میں بے چینی اور تپشہیپاٹائیٹس دیگر صفراوی (گرمی سے ہونے والی) بیماریاں یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق: “جگر گرمی پیدا کرنے والا بنیادی عضو ہے، اور صفرا اُس گرمی کا ظاہری اظہار ہے۔”اگر جگر متوازن ہو تو صفرا بھی متوازن رہتا ہے، ہاضمہ بہتر رہتا ہے اور جسم میں طاقت و نشاط قائم رہتی ہے۔لیکن جب جگر مسلسل گرم غذاؤں، ذہنی دباؤ، غصے، نیند کی کمی یا غلط خوراک سے متاثر ہو تو صفرا بڑھ جاتا ہے اور مختلف بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔اسکا علاج تر اور سرد غذاؤں کا استعمال ہے۔ یہ غذائیں جگر میں بننے والے صفرا کو اعتدال پر کے آئیں گی اور صفرا یعنی گرمی سے ہونے والی بیماریوں کے خاتمے کا سبب بنیں گی ۔
۔ Pak Health System کا حصہ بنیں اور پائیں صحت مند زندگی 
خشکی کیا ہے ؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق خشکی اُس کیفیت کو کہا جاتا ہے جب جسم یا کسی خاص عضو میں رطوبت، نرمی اور لچک کم ہو جائے اور وہاں سختی، کھنچاؤ یا سوکھاپن پیدا ہونے لگے۔یہ خشکی صرف جلد تک محدود نہیں ہوتی بلکہ:اعصاب،عضلات،دماغ،جوڑوں،آنتوں،اور جسم کے دوسرے اعضاء میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔اس نظریے کے مطابق خشکی عموماً اُس وقت بڑھتی ہے جب:خشک تاثیر والی غذائیں مسلسل زیادہ کھائی جائیں، اور اس کے نتیجے میں دل اور عضلات کے بہت زیادہ بڑھ خشکی کا مادہ یعنی سودا کثیر مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور باقی رطوبات جیسے بلغم وغیرہ کو کہ اپنے اپنے افعال سر انجام دینے کے لیے انتہائی ضروری ہیں ، ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ اور یہاں سے پیدا ہوتی ہیں خشکی کی بیماریاں ۔ اور صحت یہی ہے کہ اس خشکی کو دوسری غذاؤں اور دواؤں سے ختم کیا جائے نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق خشکی زیادہ تر اعصابی غلبے اور رطوبات کی کمی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اگر خشکی مسلسل بڑھتی رہے تو جسم کا توازن متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس سے مختلف دائمی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اسی لیے اس نظریے میں کوشش کی جاتی ہے کہ جسم میں دوبارہ اعتدال، رطوبت اور نرمی پیدا کی جائے تاکہ صحت بحال ہو سکے۔
۔ Pak Health System کا حصہ بنیں اور پائیں بیماریوں سے نجات کا راستہ 
خوراک کو کس بنیاد پر کھانا چاہئے ؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق خوراک کو صرف ذائقے، عادت یا پیٹ بھرنے کے لیے نہیں کھانا چاہئے بلکہ جسم کے اعضاء، مزاج اور تاثیر کی ضرورت کے مطابق کھانا چاہئے۔اس نظریے کے مطابق ہر خوراک جسم کے کسی نہ کسی نظام پر خاص اثر ڈالتی ہے۔کچھ غذائیں:دل اور عضلات کو طاقت دیتی ہیں،کچھ دماغ اور اعصاب کو،اور کچھ جگر اور غدد کو تقویت دیتی ہیں۔اسی لیے صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان تینوں طرح کی غذائیں متوازن مقدار میں استعمال کرے تاکہ جسم کے تمام نظام اعتدال میں رہیں۔اگر کوئی شخص مسلسل صرف ایک ہی تاثیر والی غذائیں کھاتا رہے، مثلاً:بہت زیادہ گرم،بہت زیادہ ٹھنڈی،بہت زیادہ چکنائی والی،یا مسلسل تر یا خشک غذائیں،تو جسم کا توازن بگڑنا شروع ہو جاتا ہے، اور یہی بگاڑ آگے چل کر بیماری کی شکل اختیار کرتا ہے۔نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق خوراک کے اصول:خوراک مزاج کے مطابق ہواعضاء کی ضرورت کے مطابق ہومتوازن ہوموسم اور عمر کے مطابق ہواعتدال کے ساتھ کھائی جائےمسلسل ایک ہی قسم کی غذا نہ کھائی جائےاسی لیے اس نظریے میں کہا جاتا ہے کہ: “غذا ہی اصل علاج ہے، اگر اسے صحیح بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔”اور جب انسان اپنی خوراک کو جسم کے اعضاء کی ضرورت اور تاثیر کے مطابق استعمال کرتا ہے تو:صحت بہتر رہتی ہے،جسم متوازن رہتا ہے،اور بیماریوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
۔Pak Health System کا حصہ بنے اور پائیں مستقل صحت مندی کے لیے مکمل غذائی رہنمائی 
صحت کیا ہے ؟ اور یہ کیسے قائم رہتی ہے ؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق صحت اُس حالت کا نام ہے جس میں جسم کے تمام اعضاء اپنی فطری تاثیر، مزاج اور افعال کے مطابق متوازن طریقے سے کام کر رہے ہوں۔یعنی جسم میں نہ کسی عضو کی تاثیر حد سے زیادہ بڑھی ہوئی ہو اور نہ کمزور ہوئی ہو۔اس نظریے کے مطابق انسانی جسم بنیادی طور پر مختلف مفرد اعضاء اور ان کی تاثیرات پر قائم ہے، جیسے:۔دل اور عضلاتی نظام۔ دماغ اور اعصابی نظام۔جگر اور غدی نظامجب یہ سب اپنے اعتدال میں ہوں تو انسان جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر خود کو بہتر محسوس کرتا ہے، اور یہی صحت ہے۔اور صحت قائم کیسے رہے گی؟ جب ہم تینوں طرح کی خوراکیں استعمال کریں گے جو دل اور عضلات ، جگر اور غدد، دماغ اور اعصاب کی غذائی ضروریات پورا کریں گی۔ اگر ان میں سے ایک طرح کی خوراک کی مسلسل زیادتی ہو گی تو جسم کا نظام غیر متوازن ہو جائے گا ۔اسی لیے علاج میں صرف دوا نہیں بلکہ:غذا،مزاج،طرزِ زندگی،اور عضو کی اصل تاثیرکو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔۔ Pak Health System کا حصہ بنیں اور مسلسل خراب صحت کو مستقل تندرستی میں بدلیں۔