
F.R.B
میرا نام فضل رحیم ہے، لیکن پیار و محبت سے دوست مجھے ’بابا‘ پکارتے ہیں۔ میں لفظوں کا مسافر ہوں اور خیالات کی دنیا میں جینا میرا اثاثہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کائنات کی ہر شے ایک کہانی سنا رہی ہے، اور ایک لکھاری کا کام بس اس خاموش آواز کو الفاظ کا لباس پہنانا ہے۔ اسی فلسفے کو میں اپنی تخلیق کی شکل دیتا ہوں۔ میں صرف لکھتا نہیں ہوں، بلکہ الفاظ سے تصویریں بناتا ہوں۔ چاہے وہ جذبات سے بھرپور افسانے اور کہانیاں ہوں، سوچ کو نئی سمت دینے والی منظر نگاری اور مکالمے، حقیقت کو آشکار کرتے مضامین، یا تجارتی تشہیر کے لیے لکھی گئی تحریریں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میری لکھی ہوئی ہر سطر پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے اور اسے کچھ دیر کے لیے سوچنے پر مجبور کر دے۔ لکھنا میرے لیے کوئی عام پیشہ نہیں، یہ میرے اندر کی بے چینی کو سکون دینے کا ذریعہ اور کائنات سے گفتگو کا ایک بہانہ ہے۔ اگر آپ بھی الفاظ کی اس سحر انگیز دنیا پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے خیالات کو ایک گہرا، خوبصورت اور جاندار روپ دینا چاہتے ہیں، تو میں آپ کے خوابوں کو لفظوں کا سچ دینے کے لیے حاضر ہوں۔"
..پھر زندگی بڑی ہوتی گئی
آج صبح جب کمرے کی کھڑکی کھولی تو سامنے والی عمارت کی بالکونی میں ایک باپ اپنے چھوٹے بچے کے کپڑے ٹھیک کر رہا تھا۔
بچہ ضد میں رو رہا تھا اور باپ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش تھا، جیسے یہ سب اس کے لیے نیا نہ ہو۔
یہ منظر بظاہر بہت معمولی تھا، مگر زندگی کے کچھ لمحے اپنی سادگی میں ہی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ میں نے کچھ دیر اسے دیکھا، اور پھر جانے کیوں وقت جیسے ایک پل کو ٹھہر گیا اور اگلے ہی لمحے دل کئی برس پیچھے چلا گیا…
اور اپنی عیدیں یاد آنے لگیں۔
وہ چھوٹا سا گھر، ماں کی آواز، جو فجر کے بعد بھی گھر کے ہر کونے میں موجود محسوس ہوتی تھی، گرم پانی کی بالٹی، جس میں ہاتھ ڈال کر عید کی صبح کا آغاز ہوتا تھا
اور نئے کپڑوں کو پہننے سے پہلے بار بار دیکھنا، جیسے وہ کپڑے نہیں، کوئی خواب ہو جو ابھی سچ ہونے والا ہو۔
اور ابا کا وہ خاموش سا انداز، جس میں نہ زیادہ باتیں ہوتی تھیں نہ زیادہ اظہار، مگر ہر چیز موجود ہوتی تھی۔
ایک نظر کافی ہوتی تھی یہ سمجھانے کے لیے کہ محبت کہی نہیں جاتی، نبھائی جاتی ہے۔
تب عید ایک مکمل دن نہیں، ایک مکمل احساس ہوتا تھا۔
نہ فاصلے تھے، نہ کمی کا شعور، نہ یہ خیال کہ خوشی بھی کبھی ادھوری محسوس ہو سکتی ہے۔
پھر زندگی نے اپنا رُخ بدل لیا۔ وقت آگے بڑھتا گیا، اور خوشی پیچھے رہ گئی، کم نہیں ہوئی، بس سمجھ میں مختلف ہو گئی۔
نماز کے بعد دوستوں کے ساتھ گلی سے گزرا تو شہر اپنی عید کے رنگ میں تھا، کہیں ہنسی تھی، کہیں شور، کہیں خاموش خوشی جو لفظوں میں نہیں آتی۔
اسی راستے میں چند بچے نظر آئے، ان کے چہروں پر وہی بے ساختہ روشنی تھی جو کسی تجربے، کسی حساب، کسی فکر سے آزاد ہوتی ہے۔
وہ اپنی دنیا میں مکمل تھے، جیسے ابھی زندگی نے انہیں چھوا ہی نہ ہو۔
میں کچھ دیر وہاں کھڑا رہا، اور یہ احساس واضح ہو گیا کہ کچھ خوشیاں بیان نہیں ہوتیں، صرف دیکھی جاتی ہیں۔
اور شاید خوشی کہیں کھو نہیں جاتی…
وہ صرف وقت کے ساتھ انسان کے دیکھنے کا انداز بدل دیتی ہے۔
ابھی دن باقی ہے۔
شہر میں زندگی اپنی رفتار سے چل رہی ہے، لوگ مل رہے ہیں، بچے کھیل رہے ہیں، اور ہر طرف ایک سادہ سی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا، اور دل میں کوئی شور نہیں تھا، نہ کوئی خالی پن، بس ایک خاموش سا ادراک تھا کہ زندگی اپنے ہر رنگ میں مکمل نہیں، مگر جاری ضرور ہے۔
آپ تمام کو عید مبارک ۔۔۔۔🌺
کتابوں سے میرا رشتہ۔
کتابوں سے میری محبت کا یہ عمل مطالعہ نہیں،ایک باطنی سفر ہے ایک ایسی ہجرت جو انسان کو خود سے باہر نہیں بلکہ اپنے ہی اندر کی ان تہوں تک لے جاتی ہے جہاں اکثر روشنی نہیں پہنچتی۔
کتاب میرے لیے شے نہیں، شعور ہے- ایک زندہ مکالمہ، جو وقت سے آزاد ہو کر مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے علوم کو کبھی مضامین کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ایک مسلسل ارتقاء کی صورت میں محسوس کیا ہے- جہاں ہر علم دوسرے کی طرف ایک دروازہ ہے۔
یہ سفر کچھ یوں شروع ہوتا ہے۔۔۔
جب میں فلسفہ پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی اپنے راز دھیرے دھیرے مجھ پر کھول رہی ہو۔ سوال میرے اندر جنم لیتے ہیں، جواب میرے اندر بکھر جاتے ہیں، اور میں ایک ایسی جستجو میں داخل ہو جاتا ہوں جس کی کوئی انتہا نہیں- صرف شعور کی گہرائی ہے۔
جب میں منطق پڑھتا ہوں تو سوچ کے دھاگے سلجھنے لگتے ہیں۔ میں پہچاننے لگتا ہوں کہ دلیل کہاں ختم ہوتی ہے اور مغالطہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ ذہن کو قائل کرنا اور اسے بہکانا، دونوں میں کتنا باریک فرق ہے۔
جب میں نفسیات پڑھتا ہوں تو میں اپنے ہی باطن کے ان گوشوں سے واقف ہوتا ہوں جنہیں میں نے کبھی شعوری طور پر نہیں دیکھا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ انسان صرف وہ نہیں جو وہ ظاہر کرتا ہے، بلکہ وہ بھی ہے جو وہ خود سے چھپاتا ہے۔
جب میں سماجیات پڑھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں صرف "میں" نہیں ہوں، بلکہ ایک پورے نظام کا حصہ ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ معاشرہ انسان کو کیسے تراشتا ہے، اور انسان کس طرح معاشرے کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
جب میں سیاسیات کا مطالعہ کرتا ہوں تو اقتدار کے پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے کھیل مجھ پر آشکار ہونے لگتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ سچ ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا، اور جھوٹ ہمیشہ جھوٹ دکھائی نہیں دیتا۔ انسان لفظوں سے حقیقت کو کیسے بدل دیتا ہے- یہ ہنر بھی یہیں سمجھ آتا ہے۔
جب میں بین الاقوامی تعلقات (IR) کو سمجھتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ دنیا صرف نقشوں پر بنی سرحدوں کا نام نہیں، بلکہ طاقت، مفاد اور حکمتِ عملی کے درمیان جاری ایک مسلسل مکالمہ ہے۔
دینیات کا مطالعہ مجھے ایک ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ یہاں مجھے اصول ملتے ہیں، ایک سمت ملتی ہے، ایک ایسا سکون جو سوالوں کے شور میں بھی قائم رہتا ہے۔ یقین آہستہ آہستہ میرے اندر جڑ پکڑنے لگتا ہے۔
جب میں ادب کی دنیا میں قدم رکھتا ہوں تو میں خود سے آشنا ہوتا ہوں۔ ہر کہانی ایک آئینہ بن جاتی ہے، ہر نظم میرے اندر کے کسی ان کہے جذبے کو زبان دیتی ہے۔ میں دوسروں کے قصے پڑھتے پڑھتے اپنے وجود کی کہانی سمجھنے لگتا ہوں۔
اور جب میں ناول پڑھتا ہوں تو میں ایک نئی دنیا میں داخل ہو جاتا ہوں- ایک ایسی دنیا جہاں کردار سانس لیتے ہیں، جہاں دکھ اور خوشی حقیقت بن جاتے ہیں۔ میں ان کہانیوں میں کھو کر خود کو ڈھونڈتا ہوں، اور کبھی کبھی خود کو کھو کر ہی خود کو پا لیتا ہوں۔
جب میں روداد پڑھتا ہوں تو مجھے انسان کی اندرونی دنیا کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ محض واقعات نہیں ہوتے، بلکہ احساسات کی وہ لہریں ہوتی ہیں جو کسی اور کے دل سے اٹھ کر میرے دل تک پہنچتی ہیں، اور مجھے یہ سکھاتی ہیں کہ ہر زندگی اپنے اندر ایک خاموش داستان لیے ہوتی ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹتا ہوں تو وقت میرے سامنے جھکنے لگتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ عروج کیسے زوال میں بدلتا ہے، اور زوال کیسے نئی ابتدا کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ تاریخ مجھے یہ سکھاتی ہے کہ انسان بدلتا ہے، مگر اس کی فطرت اکثر وہی رہتی ہے۔
جب میں جرمیات کا مطالعہ کرتا ہوں تو میں انسان کے اندھیرے پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہاں جرم محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ حالات، نفسیات اور سماج کے پیچیدہ امتزاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
جب میں بائیولوجی پڑھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ تمام شعور، جذبات اور خیالات ایک جسمانی نظام کے اندر جنم لیتے ہیں۔ زندگی محض ایک راز نہیں، ایک ترتیب بھی ہے۔
جب میں فزکس پڑھتا ہوں تو مجھے کائنات کے قوانین کی وہ ترتیب دکھائی دیتی ہے جو ہر شے کو ایک نظام میں باندھے رکھتی ہے۔ حرکت، توانائی اور وقت- یہ سب مجھے یہ سکھاتے ہیں کہ وجود محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مربوط حقیقت ہے۔
جب میں علمِ کیمیا پڑھتا ہوں تو میں مادّے کی ان تبدیلیوں کو سمجھنے لگتا ہوں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔ عناصر کا ملاپ، ان کی نئی صورتیں- یہ سب مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ تبدیلی ہی اصل فطرت ہے۔
اور جب میں فلکیات کی وسعتوں میں جھانکتا ہوں تو مجھے اپنی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ لامتناہی کائنات، یہ خاموش ستارے- یہ سب مجھے یہ سکھاتے ہیں کہ میں کتنا معمولی ہوں، اور پھر بھی میرے وجود میں ایک پوری کہانی پوشیدہ ہے۔
جب میں علمِ تجارت کو دیکھتا ہوں تو میں دنیا کے عملی چہرے سے روشناس ہوتا ہوں- یہاں قدر، مفاد اور ضرورت انسان کے فیصلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔
اسی لیے، میں دنیا کے بڑے ناموں کے ساتھ تصویر بنانے کے بجائے ایک کتاب کے ساتھ خود کو قید کرنا زیادہ باعثِ فخر سمجھتا ہوں۔ کیونکہ کتاب میرے لیے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک کائنات ہے اور اسی کائنات میں میری اصل دنیا آباد ہے۔۔
فضل رحیم بابا ۔۔✍️
#booknow #philosophy #poetry #booklovers
intoBlog - Audio, Express, Blog