Live Audio

زندگی وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ کچھ نہ کچھ سکھا جاتا ہے،
بس صبر کرنے والا ہی اس کا اصل مطلب سمجھ پاتا ہے

🕊️🙂
Shukar hn hawa Chali barish hoi lagta garmi ko ham py taras agya 🤡
صرف پودے لگانا کافی نہیں، ان کو درخت بنانا بھی ضروری ہےہر سال شجرکاری مہمات کے دوران لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔ تصاویر بنتی ہیں، خبریں شائع ہوتی ہیں اور لوگوں کو درخت لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پودے چند سال بعد تناور درخت بن پاتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ صرف پودا لگانا ماحول دوستی کا پہلا قدم ہے، اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس پودے کی حفاظت، نگہداشت اور آبیاری کی جائے یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط درخت بن جائے۔ اگر پودا لگانے کے بعد اسے قسمت کے حوالے کر دیا جائے تو اکثر وہ پانی کی کمی، جانوروں کے نقصان یا موسمی اثرات کی وجہ سے سوکھ جاتا ہے۔ایک تناور درخت بننے میں کئی سال لگتے ہیں، لیکن یہی درخت آنے والی دہائیوں تک انسانوں کو آکسیجن، سایہ، پھل اور صاف ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے درخت لگانے سے زیادہ اہم کام اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ جس طرح ایک بچے کو پرورش کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک پودے کو بھی توجہ، پانی اور حفاظت درکار ہوتی ہے۔آج ماحولیاتی آلودگی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں ہماری ذمہ داری صرف پودے لگانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ لگایا گیا ہر پودا زندہ رہے اور ایک مکمل درخت بنے۔ اگر ہر شخص ایک پودا لگانے کے ساتھ اس کی حفاظت کا عہد بھی کر لے تو ہمارے شہر، گاؤں اور پورا ملک سرسبز و شاداب ہو سکتا ہے۔درخت مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہیں۔ اس لیے یاد رکھیں کہ شجرکاری کا مقصد صرف تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ایسے درخت پیدا کرنا ہے جو برسوں تک زمین اور انسانیت کی خدمت کر سکیں۔پودا لگانا ایک اچھا عمل ہے، لیکن اسے درخت بنانا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔🌳 پیغام: "ایک پودا لگائیں، اس کی حفاظت کریں، اور اسے درخت بنتے دیکھیں۔"
شمالی امریکہ میں بچے اپنے باپ کا گھر نہیں لیتے... اپنا گھر خود بناتے ہیں۔۔۔چند سال پہلے امریکہ میں ایک دوست کے گھر دعوت کے بعد بات بچوں کی شادیوں اور مستقبل کی طرف نکل گئی۔
محفل میں ایک کینیڈین صاحب نے بڑے فخر سے بتایا:"میرا بیٹا اگلے مہینے شادی کر رہا ہے۔"میں نے مسکرا کر پوچھا:"اچھا! پھر آپ نے اس کے لیے کیا لیا ہے؟ گھر؟ کونڈو اپارٹمنٹ؟"وہ ہنس کر بولے۔۔"نہیں، وہ خود لے رہا ہے۔"میں نے سمجھا شاید مذاق کر رہے ہیں۔ دوبارہ پوچھا:"میرا مطلب شادی کے بعد کہاں رہے گا؟"بولے: "اپنے گھر میں۔""اور وہ گھر کس نے خریدا؟""اس نے۔""اور ڈاؤن پیمنٹ کس نے دی؟""اس نے۔""اور مارگیج کون دے گا؟""وہ بھی خود دے گا۔"
پھر مسکرا کر بولے:"آخر وہ 30 سال کا ہو گیا ہے، اب اور کون دے گا؟"
محفل میں قہقہہ لگا، مگر میں سوچ میں پڑ گیا۔
کیونکہ اسی مہینے پاکستان میں ایک دوست نے مجھے اپنا تین منزلہ گھر دکھاتے ہوئےبڑے فخر سے کہا:
"یہ نیچے والا پورشن بڑے بیٹے کے لیے، پہلی منزل دوسرے کے لیے اور اوپر والی منزل تیسرے کے لیے۔"
میں نے پوچھا:"بچے کیا کرتے ہیں؟"بولے: "الحمدللہ، سب اچھی نوکریوں پر ہیں۔"میں نے پوچھا:"پھر یہ اپنے گھر خود کیوں نہیں بنا سکتے؟"چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ :) 
یہاں سے مجھے دونوں معاشروں کے درمیان ایک بہت بڑا فرق سمجھ آیا گیا۔
شمالی امریکہ میں اکثر والدین بچوں کے لیے گھر نہیں بناتے...وہ بچوں کو گھر بنانے کے قابل بناتے ہیں۔بچپن سے انہیں سکھایا جاتا ہے کہ...اپنا خرچ خود اٹھاؤ۔کام کرو۔بچت کرو۔اپنی کریڈٹ ہسٹری بناؤ۔اور اپنی زندگی کی ذمہ داری خود لو۔
اسی لیے یہاں 16 سال کا نوجوان کافی شاپ میں کام کرتا نظر آتا ہے۔
18 سال کا طالب علم پارٹ ٹائم جاب کر رہا ہوتا ہے۔
اور 25 یا 30 سال کی عمر تک بہت سے لوگ اپنی رہائش کا بندوبست خود کر چکے ہوتے ہیں۔
شادی کے بعد بھی اکثر بچے الگ اپارٹمنٹ یا کونڈو میں رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مطلب ماں باپ سے دوری نہیں ہوتا۔کئی دفعہ والدین صرف دو منٹ کی ڈرائیو پر رہ رہے ہوتے ہیں۔ہر ہفتے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔
خاندان جڑا رہتا ہے۔مگر مالی ذمہ داری الگ ہوتی ہے۔
یہاں کم ہی نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ..."ایک دن ابو کا گھر مجھے مل جائے گا۔"زیادہ تر یہ سوچتے ہیں:"ایک دن میں اپنا گھر کیسے خریدوں گا؟"
شاید اسی لیے ان میں خود اعتمادی بھی زیادہ ہوتی ہے اور رسک لینے کا حوصلہ بھی۔
امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ نے ایک بار کہا تھا:
"بچوں کو اتنا دو کہ وہ کچھ بھی کر سکیں، لیکن اتنا نہ دو کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔"
یہ جملہ جتنا سادہ ہے، اتنا ہی گہرا بھی ہے۔
اسلام کی تعلیمات بھی کچھ ایسی ہی ہیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ مدینہ پہنچے تو ایک انصار نے اپنا آدھا مال پیش کیا۔انہوں نے فرمایا:"مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔"یعنی سہارا نہیں، موقع چاہیے۔وراثت نہیں، راستہ چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کا طریقہ غلط ہے۔ہمارے ہاں خاندان مضبوط ہیں۔والدین قربانیاں دیتے ہیں۔بچے ماں باپ کے قریب رہتے ہیں۔یہ ہماری بڑی طاقت ہے۔
لیکن شاید ایک سوال ہم سب کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا ہم اپنے بچوں کے لیے گھر بنا رہے ہیں... یا ایسے بچے بنا رہے ہیں جو خود گھر بنا سکیں؟
کیونکہ ایک گھر کی قیمت چند کروڑ ہو سکتی ہے...مگر ایک خوداعتماد، محنتی اور خودمختار انسان کی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔
 تحریرBeenish Iftikhar
اج کل ہر طرف ایک ہی بات سنائی دیتی ہے کہ اے آئی (AI) سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سچ ہے یا بس انٹرنیٹ (Internet) پر چلنے والی ایک اور افواہ؟ میں نے خود یہ جاننے کی کوشش کی اور جو پتہ چلا وہ آج آپ کے ساتھ شیئر (Share) کر رہا ہوں۔ سچ یہ ہے کہ اے آئی (AI) سے کمائی ہوتی ہے — لیکن یہ راتوں رات امیر ہونے کا فارمولا (Formula) نہیں ہے۔ اس کے لیے تھوڑا وقت، تھوڑی محنت اور صحیح سمت میں چلنا ضروری ہے۔ اے آئی (AI) سے کمائی کے کئی طریقے ہیں اور میں اس سیریز (Series) میں آپ کو ایک ایک کر کے سب بتاؤں گا — بالکل آسان اور عملی انداز میں۔سب سے پہلا اور آسان طریقہ ہے کہ اے آئی (AI) ٹولز (Tools) استعمال کر کے دوسروں کے کام کریں۔ آج کل بہت سے لوگ اور کاروبار (Business) ہیں جنہیں مواد (Content) لکھوانا ہوتا ہے، تصاویر (Images) بنوانی ہوتی ہیں یا سوشل میڈیا (Social Media) پوسٹس تیار کروانی ہوتی ہیں۔ آپ اے آئی (AI) ٹولز (Tools) کی مدد سے یہ کام منٹوں میں کر سکتے ہیں اور فری لانسنگ (Freelancing) پلیٹ فارمز (Platforms) جیسے فائیور (Fiverr) اور اپ ورک (Upwork) پر بیچ سکتے ہیں۔ کئی لوگ اس طریقے سے مہینے میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے کوئی ڈگری (Degree) یا خاص تعلیم نہیں چاہیے — بس سیکھنے کی لگن ہونی چاہیے۔یہ تو صرف پہلا طریقہ تھا۔ اس سیریز (Series) میں آگے میں آپ کو یوٹیوب (YouTube)، بلاگنگ (Blogging)، ڈیجیٹل پروڈکٹس (Digital Products) اور بہت کچھ بتاؤں گا جس سے اے آئی (AI) کی مدد سے کمائی ممکن ہے۔ ہر پارٹ (Part) میں ایک نیا طریقہ ہوگا — عملی اور آزمایا ہوا۔کیا آپ اے آئی (AI) سے کمائی کرنا چاہتے ہیں؟ 💬 کمنٹ (Comment) میں بتائیں کہ آپ کون سا طریقہ پہلے آزمانا چاہیں گے۔ اگر یہ پوسٹ کام کی لگی تو ❤️ لائک (Like) کریں، اپنے دوستوں میں 🔁 شیئر (Share) کریں اور 🔔 فالو (Follow) کریں کیونکہ پارٹ 2 (Part 2) میں ایک اور زبردست طریقہ بتاؤں گا جو آپ نے شاید پہلے نہیں سنا! 🚀
Dear men,
1. Masturbation weakens the penis. 
2. Masturbation makes the sperm watery. 
3. Masturbation makes one lose weight.
4. Masturbation causes weak erections.
5. Masturbation makes you ejaculate quickly during sex. 
6. Masturbation affects sexual life and relationships.
Please avoid Masturbation!
same here I need Care
نطشے کہتا ہے کہ اگر آپ کاکروچ کو ماریں تو آپ ہیرو ہیں اور اگر آپ خوبصورت تتلی کو مار دیں تو آپ ولن۔ اخلاقیات بھی جمالیاتی معیار رکھتی ہیں۔ 
ہر دعا دعا نہیں ہوتی۔ اسی طرح دعا پر آمین بھی اگلے کے کاروبار اور عمل کے زیر اثر کی جاتی ہے۔ ایک کفن فروش نے دعا مانگی یا اللہ کاروبار میں برکت دے۔ کسی نے آمین نہیں کہا۔
کاروبار کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کیا بیچ رہا ہوں، دکان کے باہر قرانی آیت لکھی ہونی چاہئیے۔
مکان جیسے بھی بنایا ہو اس پر ہذا من فضل ربی کی تختی اس کے پاک ہونے کی سند بن جاتی۔ 
دوستی میں باہمی مفادات کا رشتہ ہی پروان چڑھتا ہے۔ امیر کبھی غریب کا دوست نہیں بنا۔ 
کوئی بھی مذہب ہو اس نے اپنے حق ہونے کا پیغام دیا ہے۔دوسرے کا مذہب نیچ لگتا ہے۔
سیاست میں سیاہ و سفید نہیں ہوتا۔ اس کا رنگ گرے ہے۔ مرتا ہے تو کارکن مرتا ہے لیڈر رنگ بدل لیتا ہے۔
مٹی کے مزاج میں محبت ہے وہ کبھی دوسری مٹی سے نفرت نہیں سکھاتی۔ ریاست ریاست سے نفرت سکھاتی ہے۔
الفاظ ہتھیار بھی ہوتے ہیں یہ کسی کی جان بھی لے سکتے ہیں اور الفاظ مرہم بھی ہوتے ہیں۔ ان کو برتنے والا اپنے کردار کا تعین خود کرتا ہے۔
محبت کی بیل اظہار محبت یا تجدید محبت کا پانی مانگتی ہے وگرنہ یہ سوکھ جاتی ہے۔ اگر آپ اظہار میں ناکام ہیں تو انجام میں ناکامی بھی آپ کا مقدر ہوتی۔ 
بدتمیز انسان کبھی مراد نہیں پا سکتا لیکن وہ دوسرے کی راہ کھوٹی کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ 
یہ کچھ تلخ حقیقتیں ہیں جن تک پہنچتے ایک عمر لگ جاتی ہے۔ اور جب انسان پر آشکار ہوتیں ہیں تب وہ عمر کا کثیر حصہ بِتا چکا ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ کا تجربہ یا مشاہدہ کچھ معاملات میں یکسر مختلف ہو۔ میرا تو یہی رہا۔
Sometimes life doesn't go the way you want but it goes the way it's supposed to be! Trust God in the twists & turns…

Pull down to refresh