
Beenish Iftikhar
I am a university campus manager and books lover who can spent more time in reading books then on social media
کہاوت ہے کہ اگر تمھاری بحث کسی بدتمیز شخص سے ہو رہی ہو تو چپ کر کے ہار مان لو۔ کیونکہ تمھاری آواز میں چاہے کتنا ہی دم کیوں نہ ہو تم کتے سے اونچا نہیں بھونک سکتے
میاں صاحب اور ان کے چاہنے والے( پٹواری) ایک بات نہیں سمجھ پا رہے۔ میاں صاحب یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب ان کی حکومت ختم ہوئ( 2017 میں پانامہ کیس میں پاکستان کا سرمایہ چوری کر کے پانامہ کے پیچھے چھپانے کے جرم میں جس کا متفقہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے دیا تھا) تب عوام نے ان کے لیے جلوس کیوں نہ نکالے اور احتجاج کیوں نہ کیا جیسا کہ عمران خان کے لیے کیا۔ جو بات انھیں سمجھ نہیں آتی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتے وہ بڑی سادہ سی ہے کہ2013 میں میاں صاحب الیکشن نہیں جیتے تھے۔ دھاندلی کی گئ تھی اور عمران خان کی حکومت روکنے کے لیے انھیں لایا گیا تھا۔ لوگ اس کے لیے باہر نکلتے اور لڑتے مرتے ہیں جسے ووٹ دیا ہو۔ 1985 سے لے کر آج تک یہ لوگ جعلی ووٹوں اور دھاندلی سے جیتتے ہیں لیکن شاید کوئ میاں صاحب کو بتاتا ہی نہیں یا وہ خود ہی اس خود فریبی کا شکار ہیں کہ وہ کوئ بہت بڑے لیڈر یا اوتار ہیں۔ انھیں نہ کبھی ووٹ پڑے تھے نہ پڑیں گے۔ چند مفاد پرست مکار پراپرٹی ڈیلر ، کچھ بے ایمان تاجر کچھ حرام خور سرکاری افسر اور دو درجن نوے سالہ بوڑھی منحوس لاشیں انھیں غلط فہمی سے نکلنے نہیں دیتیں۔
تحریر
Beenish Iftikhar

intoBlog - Audio, Express, Blog