Default Profile

beenish iftikhar

Beenish Iftikhar

I am a university campus manager and books lover who can spent more time in reading books then on social media

31
Posts
4
Followers
0
Following

کہاوت ہے کہ اگر تمھاری بحث کسی بدتمیز شخص سے ہو رہی ہو تو چپ کر کے ہار مان لو۔ کیونکہ تمھاری آواز میں چاہے کتنا ہی دم کیوں نہ ہو تم کتے سے اونچا نہیں بھونک سکتے


میاں صاحب اور ان کے چاہنے والے( پٹواری) ایک بات نہیں سمجھ پا رہے۔ میاں صاحب یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جب ان کی حکومت ختم ہوئ( 2017 میں پانامہ کیس میں پاکستان کا سرمایہ چوری کر کے پانامہ کے پیچھے چھپانے کے جرم میں جس کا متفقہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے دیا تھا) تب عوام نے ان کے لیے جلوس کیوں نہ نکالے اور احتجاج کیوں نہ کیا جیسا کہ عمران خان کے لیے کیا۔ جو بات انھیں سمجھ نہیں آتی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتے وہ بڑی سادہ سی ہے کہ2013 میں میاں صاحب الیکشن نہیں جیتے تھے۔ دھاندلی کی گئ تھی اور عمران خان کی حکومت روکنے کے لیے انھیں لایا گیا تھا۔ لوگ اس کے لیے باہر نکلتے اور لڑتے مرتے ہیں جسے ووٹ دیا ہو۔ 1985 سے لے کر آج تک یہ لوگ جعلی ووٹوں اور دھاندلی سے جیتتے ہیں لیکن شاید کوئ میاں صاحب کو بتاتا ہی نہیں یا وہ خود ہی اس خود فریبی کا شکار ہیں کہ وہ کوئ بہت بڑے لیڈر یا اوتار ہیں۔ انھیں نہ کبھی ووٹ پڑے تھے نہ پڑیں گے۔ چند مفاد پرست مکار پراپرٹی ڈیلر ، کچھ بے ایمان تاجر کچھ حرام خور سرکاری افسر اور دو درجن نوے سالہ بوڑھی منحوس لاشیں انھیں غلط فہمی سے نکلنے نہیں دیتیں۔

تحریر

Beenish Iftikhar

جدید دور میں دیوتاؤں کی خصوصیات۔ایک ریسرچ پڑھ رہا تھا جس میں مجھے سیموٹک اینالسز پہ مواد درکار تھا۔ پڑھتے پڑھتے ایک جگہ سے کچھ ایسا ملا کہ تھوڑی حیرت ہوئی ۔ 
قدیم معاشروں میں انسان زندگی کے ہر شعبے کے لیے الگ دیوتا بناتا تھا۔جیسے محبت کے لئے وینس دیوی، جنگ کے لئے مارس، علم کے اپالو، تجارت کے لئے مرکری زراعت کے لئے سیرس، سمندر کے لئے نپچون دیوتا۔ قدیم یونانیوں کے بڑے چودہ دیوتا اور چھوٹے تین سو ستر دیوتا تھے ۔۔ اور ہر دیوتا کی ایک ڈیوٹی تھی 
لیکن آج ایک ہی اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ پلیٹ فارم یہ ہیں ۔ محبت کے لئے ڈیٹنگ سائٹ، جنگ کے انفارمیشن وارفیر، علم کے لئے گوگل ، اے آئی ، تجارت کے ایمیزون، پیغام رسانی کے لئے واٹس ایپ ، تفریح کے ٹک ٹاک یو ٹیوب نیوگیشن کے لئے گوگل ایپس۔۔کتنی عجیب بات ہے کہ انسان جن صفات کو قدیم معاشروں میں دیوتاؤں یا مافوق الفطرت قوتوں سے منسوب کرتا تھا، جدید ڈیجیٹل معاشرے میں انہی صفات کا اظہار الگورتھمک نظاموں میں دیکھنے لگا ہے۔تحریر Beenish Iftikhar
‏عطاء اللہ شاہ بخاری اپنا ایک لطیفہ بیان کرتے ہیں۔  ایک مرتبہ ایک مرید میرے پاس آیااور کہا کہ میری بکریوں کو بھیڑیا پڑجاتا ہے، اس لئے کوئی تعویذ لکھ دیں۔  (شاہ صاحب روشن خیال پیر تھے) کہنے لگے کہ میں نے اس سے کہا کہ مرید تو ایسا کر کہ بکریوں کی حفاظت کے لئے ایک کتا رکھ لے۔  میں تجھے تعویذ بھی لکھ دیتا ہوں۔  
جواب میں مرید نے کہا کہ
 " نہ پیرا مینڈھاتے پیر وی توں تے کتا وی توں "( نہیں پیر صاحب، میرے تو پیر بھی آپ ہیں اور کتا بھی آپ )
(گھنگھرو ٹوٹ گئے/آپ بیتی قتیل شفائی)
قرآنِ کریم کا ایک طبی معجزہ: غائب ہو جانے والے جڑواں بچے (Vanishing Twin Syndrome)میں آپ کو حیران نہیں کرنا چاہتا لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے سورہ الرعد میں ایک ایسے طبی معجزے کا ذکر کیا ہے جو ماضی کی طب (میڈیسن) کے بالکل برعکس ہے؟ قرآن فرماتا ہے کہ رحمِ مادر (بچے دانی) بعض جنین (Fetuses) کو خود میں جذب کر لیتی ہے اور وہ ماں کے جسم سے خون کا ایک قطرہ بہے بغیر ہی غائب ہو جاتے ہیں!
قرآن نے اس انتہائی پیچیدہ طبی رجحان (Medical Phenomenon) کو 1400 سال پہلے صرف ایک لفظ میں بیان کر دیا تھا۔ ایک ایسا لفظ جسے ہم سب پڑھتے ہیں لیکن اس پر غور نہیں کرتے! آئیے اس کہانی کو جانتے ہیں جس پر ڈاکٹر اور ماہرینِ لسانیات دونوں دنگ رہ جاتے ہیں 
اگر آپ سورہ الرعد کھولیں تو آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ملے گا:
اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ"اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں اٹھائے ہوئے ہوتی ہے، اور جو کچھ رحم (بچے دانیاں) گھٹاتے ہیں اور جو کچھ وہ بڑھاتے ہیں، اور اس کے ہاں ہر چیز ایک مقررہ اندازے سے ہے۔" (سورہ الرعد: 8)
کیا آپ نے اس لفظ {تَغِيضُ} (تغیض) کو دیکھا؟ آئیے اس میں چھپا سائنسی معجزہ دیکھتے ہیں:
لغت اور تفسیر کے آئینے میں:     لغت میں "غیض" کا مطلب: لغت میں اس کا مطلب ہے کسی چیز کا کم ہونا، سکڑنا اور جذب ہو جانا (بالکل اسی طرح جیسے زمین پانی کو چوس یا جذب لیتی ہے اور وہ غائب ہو جاتا ہے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے طوفان کے بارے میں سورہ ہود کی آیت 44 میں آیا ہے: وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ یعنی اے زمین اپنا پانی نگل جا)۔
     امام ابن عطیہ نے اپنی تفسیر میں فرمایا: "تغیض" کا مطلب ہے رحم سے کسی چیز کا نکل جانا اور غائب ہو جانا۔
     امام السعدی نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ حمل کا کم ہو جانا یا پگھل کر ختم ہو جانا۔
سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ بنتا ہے: "رحمِ مادر جنین (بچے) کو خود میں جذب کر لیتا ہے اور اسے اندر ہی مکمل طور پر چھپا (غائب کر) دیتا ہے"!!
جدید سائنس کیا کہتی ہے؟سن 1945 تک، ڈاکٹروں کو اس موضوع کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا! یہاں تک کہ انہوں نے ایک انتہائی عجیب و غریب طبی رجحان دریافت کیا جسے میڈیکل کی زبان میں (Vanishing Twin Syndrome) یا "غائب ہو جانے والے جڑواں بچے کا سنڈروم" کہا جاتا ہے۔
یہاں دو نکات میں قرآنی الفاظ کی حیرت انگیز درستی ملاحظہ فرمائیں:
   1... جنین کا جذب ہونا (Fetus absorption):میڈیکل سائنس نے ثابت کیا ہے کہ جڑواں بچوں کے حمل (Twin Pregnancies) کے 30 فیصد کیسز میں، ایک جنین حمل کے بالکل شروع میں ہی غائب ہو جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ رحمِ مادر (یا دوسرا مضبوط جنین) اس کمزور جنین کے پانی اور باڈی ٹشوز کو خود میں جذب کر لیتا ہے اور وہ ایسے غائب ہو جاتا ہے جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ماں کو اس دوران نہ تو کوئی درد محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خون (Bleeding) بہتا ہے۔ (یہی وہ چیز ہے جو لفظ "تغیض" کا اصل مفہوم ہے)۔
  2.... مراحل کی ترتیب (Timing):آیت مبارکہ نے حمل کے مراحل کو حیرت انگیز درستگی کے ساتھ ترتیب دیا ہے:
پہلے فرمایا: {مَا تَحْمِلُ} (حمل کا ٹھہرنا)  
پھر فرمایا: {تَغِيضُ} (جنین کا جذب ہونا اور غائب ہونا) 
پھر فرمایا: {تَزْدَادُ} (رحم کا پھیلنا اور بچے کا نشوونما پانا)۔
سائنسی اور طبی طور پر... "وینشنگ ٹوئن سنڈروم" صرف حمل کے پہلے سہ ماہی (پہلے 12 ہفتوں) میں ہی وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جو رحم کے "بڑھنے اور پھیلنے" (تزداد) کے مرحلے سے پہلے کا ہے، کیونکہ رحم کا بڑا ہونا حمل کے ڈھائی سے تین مہینے بعد شروع ہوتا ہے!
سبحان اللہ! لسانی اور طبی سائنس کا کتنا لاجواب ملاپ ہے! یہ اللہ ہی کا کلام ہے۔
سچ سچ بتائیے... آپ نے کتنی بار یہ آیت پڑھی ہوگی لیکن اس طبی راز پر کبھی غور نہیں کیا ہوگا؟ اپنی رائے کا اظہار کریں اور اسے شیئر کریں تاکہ ہر کوئی قرآن کی عظمت کو دیکھ سکے!  تفصیل کے لیے :د/ ھارون جاد کی کتاب (المعجزۃ) ثناءاللہ حسین: 2/6/26... اسلام آباد ۔۔۔ یوم الثلاثاء
ہماری دفعہ گیدڑ پہاڑی چڑھا دیتے ہیں یہ موٹر وے کا نقشہ دیکھ رہا تھا ۔ پہلے موٹر وے بنی تو منڈی بہاوالدین سے پرے مغربی سائیڈ پہ سرگودھا چکوال کو دے دی گئی ۔ اب موٹر وے بن رہی ہے تو گجرات جہلم کو دے دی گئی ہے ۔ دونوں موٹر وے کا نقشہ دیکھ کے لگتا ہے کہ زبردستی کمان کی طرح کھینچ کے منڈی بہاوالدین کو درمیان سے نکالا گیا ہے ۔۔ جبکہ لاہور اسلام آباد اگر سیدھی لکیر کھینچی جائے تو وہ منڈی بہاوالدین سے گزر کے جاتی ہے۔اگر یہی موٹر وے لاہور سے سیدھی گوجرنوالہ حافظ آباد جہلم سے پنڈی بنائی جاتی تو جہاں فاصلہ دو سو پچھتر کلو میٹر ہے وہ شاید پچاس کلومیٹر اور کم ہو جاتا ۔ کہتے ہیں کھنگی تے مار کے چھیل لینڑی اے پر تینوں نئی دینڑی۔فاصلہ کم ہونے کے اعلانات پہ ایک لطیفہ یاد آی کہ بدو نے ایک عالم شیخ سے کہا کہ اگر میں اونٹ کو بھگا کے پہاڑ پہ چڑھاوں ۔۔ یا اونٹ کو بھگا کے پہاڑ سے اتاروں تو آپ کو کون سا اچھا لگے گا ۔ شیخ نے آنکھیں سکیڑ کے بدو کو دیکھا اور کہا اگر تو اونٹ کو سیدھی سڑک پہ بھگا لے تو تجھے کیا تکلیف ہوتی ہے ۔ یعنی توں سدھی انگل کیوں نئی لیندا۔۔ تحریر Beenish Iftikhar
postImage
پنجاب گورنمنٹ نے سمر کیمپ کی اجازت دے کر بظاہر علم کا چراغ تو جلایا، مگر "اختیاری" قرار دے کر اس چراغ کے گرد تفریق کی دیوار بھی کھڑی کر دی۔چھٹیوں کا اعلان ہوا، بچوں کو نانیاں دادیوں کے سپرد کر دیا گیا، سکول وینز کے معاہدے ختم ہو گئے، اور جب تعلیمی ویرانی پھیل گئی تو اعلان آیا:"سمر کیمپ کھل گئے، جس کا دل چاہے آ جائے۔"
مگر سوال یہ ہے کہ آئے کون؟وہی بچے جو سکول کے قریب رہتے ہیں یا جن کے والدین ذاتی سواری رکھتے ہیں۔دور دراز علاقوں کے بچے، خصوصاً وہ بچیاں جن کے لیے وین والا دو تین سواریوں پر الگ چکر نہیں لگاتا، مجبوراﹰ گھروں میں بیٹھ کر ستمبر کا انتظار کر رہی ہیں۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25A ہر بچے کو مساوی تعلیم کا حق دیتا ہے۔ اگر چند بچے اضافی تدریس، سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع حاصل کریں جبکہ باقی صرف فاصلے اور وسائل کی کمی کے باعث محروم رہ جائیں، تو یہ "اختیار" نہیں بلکہ عملی ناانصافی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس محرومی کا ذمہ دار کون ہو گا؟وہ ماں جس کے پاس روزانہ آنے جانے کا کرایہ نہیں؟وہ بچی جسے چھٹی دے کر مجبوری تھما دی گئی؟یا وہ پالیسی جس نے "اختیاری" کا لبادہ اوڑھ کر اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ لیا؟
اگر سمر کیمپ واقعی ضروری تھے تو انہیں باقاعدہ پلاننگ، ٹرانسپورٹ اور پیشگی شیڈول کے ساتھ لازمی بنایا جاتا۔اور اگر اختیاری ہی رکھنا تھا تو پھر متبادل بھی دیا جاتا:واٹس ایپ کلاسز، ہوم ورک پیکجز، آن لائن اسائنمنٹس، یا کمیونٹی لرننگ سنٹرز۔
آدھوں کی ترقی اور آدھوں کی پسماندگی تعلیم نہیں، طبقاتی تقسیم ہے۔تعلیم سہولت والوں کا حق نہیں، ہر بچے کا حق ہے۔
#اختیاری_نہیں_انصاف_چاہیے#CEOEducationپنجاب گورنمنٹ نے سمر کیمپ کی اجازت دے کر بظاہر علم کا چراغ تو جلایا، مگر "اختیاری" قرار دے کر اس چراغ کے گرد تفریق کی دیوار بھی کھڑی کر دی۔ تحریرBeenish Iftikhar
طوطا طالب علم اور مہنگائی پہلے سکولوں میں چھٹیاں کی تھیں پھر سمر کیمپ کے نام پہ دوبارہ سکول کھول لیے لیکن سکولوں میں حاضری بہت کم رہی ۔ حاضری نہ ہونے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بچوں نے چھٹیوں میں نانکے جانا ہوتا ہے یا گھومنے پھرنے جانا ہوتا ہے ۔ اب ظاہر ہے بچوں کے والدین بھی سمجھتے ہیں بچوں نے اگر دو ماہ چھٹیاں کر بھی لیں تو چھوٹا سا سلیبس کا کتابچہ چھٹیوں کے بعد ٹیوشن میں کور کروا دیں گے ۔ گرمی غضب کی ہے والدین اس لیے بھی بچوں کو نہیں بھیجتے ۔ لوگوں کی آمدنی بہت کم ہو گئی ہے ۔ اس لیے بھی نہیں بھیجتے کہ آنے جانے کے اخراجات بہت زیادہ ہو گئے ہیں ۔ مجھے حیرت اس بات پہ ہے کہ یونی ورسٹیوں نے کلاسز آن لائن کر دی ہیں کہ پٹرول بڑھنے کی وجہ سے نہ اساتذہ روز سفر کر سکتے ہیں نہ طلبہ ۔۔ اس لیے آن لائن کلاسز پھر یہ پرائمری سکول اور ہائی سکول والوں کو کیا گڑا پڑا ہے کہ بچوں کو اس مہنگائی اور عذاب ناک گرمی سکولوں میں بلایا جائے جہاں گھروں کے مقابلے میں زیادہ گرمی ہونی ہے اور بجلی بھی نہیں ہونی ۔آج سوشل میڈیا پہ کسی من چلے نے پوسٹ لگائی تھی کہ طوطا ، طوائف اور طالب علم اگر ہاتھ سے نکل جائیں تو واپس نہیں آتے ۔۔ 😁😁😁واپس نہ آنے والی چیزیں اور بھی بہت ہیں جن میں پٹرول کی قیمت اور مہنگائی بھی شامل ہیں ۔ سنا ہے ستمبر تک بڑی گاڑیوں کی قیمت میں بڑی کمی ہونے کا رہی ہے ۔ یعنی بیس بیس لاکھ تک قیمتیں کم ہو جائیں گی ۔ جیسے جہازوں کے پٹرول میں کمی ہوئی ہے تحریر Beenish Iftikhar
استاد:الجھن کسے کہتے ہیں
شاگرد: دانت میں پھنس جانے والا گوشت کا ٹکڑا جب باوجود کوشش کے باوجود بھی نہ نکلے اسے الجھن کہتے ہیں۔۔۔۔
استاد: اور خوشی کسے کہتے ہیں
شاگرد: جب دانت میں پھنسا وہ ٹکڑا اچانک نکل آئے جبکہ آپ نا امید ہوچکے ہوں اس حالت کا نام خوشی ہے۔۔۔۔
استاد: اور غم و غصہ کی ملی جلی کیفیت
شاگرد: ایک دانت سے گوشت کا ٹکڑا نکلنے کے بعد اچانک آپ کو معلوم ہو کہ دوسری طرف بھی پھنسا ہے
استاد: اور جدوجہد
شاگرد: جب آپ دوسرے دانت سے ٹکڑا نکالنے کے لئے خلال یا ماچس کی تیلی اٹھا کر آپریشن شروع کرتے ہیں۔۔۔۔


استاد نے ایک زور کی چپیڑ لگائی اور کہا ابے او قصائی کی اولاد یہ دانت اور گوشت سے نکلے گا یا نہیں 🤣
گھوڑا جھوٹ بولتا ہے
کوچوان گھوڑا تانگہ گلی میں چھوڑ کر سواری کا ٹرنک رکھنے اندر گیا۔تو قریب سے گزرتے ہوئے ایک آدمی کو دیکھ کر گھوڑے نے کہا۔ السلام علیکم !آدمی پہلے تو ٹھٹھکا پھر گردن موڑ کر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔گھوڑے نے گردن اُٹھا کر قدرے بلند آواز میں کہا!میں نے کہا! السلام علیکم!آدمی آُسی طرح ڈرا ڈرا سہما سہما واپس لوٹا اور گھوڑے کے پاس آکر بولا!کیا تم نے السلام علیکم کہا؟ کیوں نہیں ! گھوڑے نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔ یہ تو تم مجھے اب اس پھٹیچر تانگے میں جُتا ہوا دیکھ رہے ہو، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میں پچھلے سال سیزن کی ریس میں اول رہا تھا۔ گھوڑے نے ابھی یہ جُملہ پورا ہی کیا تھا کہ اندر سے اُس کا مالک برآمد ہوا۔ ایک غیر آدمی کو یوں اپنے تانگے کے پاس رُکے دیکھ کر بولا!اس گدھے نے آپ کو روکا ہوگا؟ بے شک ۔ آدمی نے اقرار کیا۔ اور اس لپاڑیئے نے یہ بھی کہا ہوگا میں پچھلے سال سیزن کی ریس میں اول رہا تھا؟ جی ہاں! کہہ تو رہا تھا۔ جُھوٹا ہے سالا! کوچوان نے چابُک جھٹک کر کہا!دوم رہا تھا۔
اس مختصر بات کا مطلب!ہمارے مُلک میں اچھے بھلے ٹیلنٹ کو کوچوان قسم کے لوگ گھوڑے بنا کر صرف اپنے مفاد کی خاطر ضائع کر رہے ہیں۔  سوچنے والی بات ہے!تحریرBeenish Iftikhar