userPic

Muhammad Abrar

Muhammad Abrar Ghauri

I'm Student of science and Philosophy.I would like to share Science, Philosophy, Poetry, Logics, Reasonings, Social and Humans approach. Thanks 👍.

26
Posts
4
Followers
0
Following
خوشگوار زندگی کے پانچ اصول:
 اپنے آپ پر اعتماد رکھیں۔ نیکی کرتے رہیں۔ ہمیشہ معاف کرنا سیکھیں۔ مثبت سوچ اپنائیں۔ کسی کو تکلیف نہ دیں۔
اپنے آپ کو اتنا مصروف۔۔۔ اتنا نظم و ضبط کا پابند۔۔۔ اور اتنا پُرعزم بنا لو۔۔۔ کہ تمہیں دوسروں کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے؟۔۔۔ اس کا پتہ چلانے۔۔۔بے معنی موازنہ کرنے۔۔ یا غیر منطقی رائے قائم کرنے کا وقت ہی نہ ملے۔۔۔
*خود پر توجہ مرکوز رکھو اور خود کے لیے وقف رہو*
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دن کا دباؤ کم ہو تو صبح کی چند منٹ بدل دیں، پورا دن چینج جائے گا۔
🌿 *صبح کی اچھی شروعات کیسے کریں؟* 
1️⃣ اچھی نیت کے ساتھ اٹھیں:اٹھتے ہی دل میں کہیں، آج کا دن اچھا گزرے گا۔ اللہ پاک میرا ساتھ دے گا۔ مزے کی بات ہم کبھی نیت کرتے ہی نہیں، روٹین جو نہیں بنی ہوئی ۔ کرکے دیکھنا سٹارٹ کر دیں۔
2️⃣ پانی پیئیں:آنکھ کھلتے ہی ایک گلاس پانی، دماغ تازہ ہوتا ہے، جسم بھی چاق و چوبند۔ امید ہے سارے لوگ کرتے ہونگے، پیاس تو سب کو لگتی ہے 
3️⃣ شکر ادا کریں:اٹھتے ہی کسی ایک چیز کا شکر کریں — صحت کا، سانس کا، زندگی کا۔ رشتے کا۔۔۔۔ شکر دماغ کا بوجھ کم کرتا ہے۔آپ سوچیں گے تو بہت ساری چیزیں مل جائے گی شکر ادا کرنے کے لیے 

4️⃣ دو منٹ کی سانس کی مشق:صبح کی تازہ ہوا میں گہری سانس لیں — دن بھر دماغ کو آکسیجن ملے گی۔ کمرے سے باہر نکل کے سانس لیں، کمرے کے اندر والے ہوا میں صبح کا آپکو پتہ ہی ہے،
5️⃣ کام کی لسٹ بنائیں:صبح اٹھ کر 2-3 اہم کام لکھ لیں، دماغ منتشر نہیں ہوگا، چیزیں منظم رہیں گی۔ یہ کام ہم سے بالکل نہیں ہوتا، اسکی پریکٹس چاہیے ہوگی، دیکھنا مزہ آئیگا
اور پھر صبح کی شروعات اگر پرسکون ہو تو دن بھر بھی سکون ۔ یعنی ذہنی دباو کی چھٹی۔۔ اسلئے صبح ہی دماغ کو ری سیٹ کرنے کا بہترین وقت ہے۔
*پوسٹ اچھی لگی تو ضرور ری ایکٹ کریں۔*
Psychologist Saira Nizam
Never return to a table where your absence brought peace, and your presence broughtdiscomfort. That seat was never meant for you.
بلوغت کے سوالنوجوانی سوالوں کی عمر ہے۔ جسم بدلتا ہے، آواز میں بھاری پن آتا ہے، جذبات بےقابو ہوتے ہیں، اور ذہن میں ایسے سوال جنم لیتے ہیں جن کا نام لینا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں خاموشی سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، کیونکہ سوال اگر جواب نہ پائیں تو وسوسہ بن جاتے ہیں۔
اکثر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ ان کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں صرف ان کے ساتھ ہی ہو رہی ہیں۔ پسینہ زیادہ آنا، جنسی خواہش (Sexual Desire) کا اُبھرنا، رات کے وقت انزال (Nightfall / Nocturnal Emission) یا ماہواری کا آغاز—یہ سب قدرتی عمل ہیں، بیماری نہیں۔ لاعلمی انہیں خوف اور شرمندگی میں مبتلا کر دیتی ہے۔
بہت سے لڑکے پوچھتے ہیں کہ بار بار جنسی خیالات آنا کیا کمزوری ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوغت کے بعد ہارمونز، خاص طور پر ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone)، ذہن اور جسم دونوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ خیالات کا آنا فطری ہے، مسئلہ تب بنتا ہے جب انسان خود پر قابو کھو دے۔کسی غلط سرگرمی میں مصروف ھو جاے
لڑکیاں اکثر یہ سوال دل میں دبائے رکھتی ہیں کہ ماہواری کے دوران موڈ کیوں بدل جاتا ہے، غصہ یا اداسی کیوں بڑھ جاتی ہے؟ اس کی وجہ ہارمونل تبدیلیاں، خاص طور پر ایسٹروجن (Estrogen) اور پروجیسٹرون (Progesterone) میں اتار چڑھاؤ ہے۔ یہ کمزوری نہیں، جسم کا ایک سائنسی ردعمل ہے۔۔کچھ نوجوان جنسی کشش (Sexual Attraction) کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں—کسی کی طرف جلد مائل ہو جانا، بار بار سوچنا، یا توجہ بٹ جانا۔ یہ عمر کا حصہ ہے، مگر یہ سیکھنا ضروری ہے کہ ہر خواہش پر عمل لازم نہیں، اور ہر جذبہ فیصلے کا حق دار نہیں ہوتا۔
ایک اور سوال جس پر نوجوان کھل کر بات نہیں کر پاتے، وہ جنسی کارکردگی اور مستقبل کی ازدواجی زندگی کا خوف ہے۔ یہ خوف زیادہ تر افواہوں، فلموں اور غلط معلومات سے پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت، اعتماد اور جذباتی تعلق مل کر تعلق کو معنی دیتے ہیں، نہ کہ کسی تصوراتی معیار پر پورا اترنا۔
نوجوانوں کے ذہن میں رضامندی (Consent) کا تصور بھی واضح ہونا چاہیے۔ کسی بھی قسم کا جسمانی یا جذباتی تعلق دونوں کی مرضی اور شعور کے بغیر درست نہیں۔ یہ سیکھنا احترام، خودداری اور انسانی وقار کا حصہ ہے، نہ کہ محض ایک اصطلاح۔
والدین اور اساتذہ کا کردار یہاں سب سے اہم ہو جاتا ہے۔ جب سوال پوچھنے پر ڈانٹ ملے، تو نوجوان جواب انٹرنیٹ یا دوستوں سے ڈھونڈتا ہے—جہاں سچ کم اور گمراہی زیادہ ہوتی ہے۔ اعتماد کا رشتہ ہی درست رہنمائی کی بنیاد ہے۔
نوجوانی میں جنسی سوالات کا ہونا بگاڑ نہیں، بلکہ فطرت کی آواز ہے۔ ان سوالوں کو سمجھداری، علم اور توازن کے ساتھ سنبھالا جائے تو یہی نوجوان ذمہ دار، باشعور اور متوازن بالغ بنتے ہیں۔
خاموشی سوال ختم نہیں کرتی، انہیں خطرناک بنا دیتی ہے۔ جواب دینا تربیت ہے، بے راہ روی نہیں۔
__مشعل سلطان
آنکھوں سے تو اٹھتے نہیں خوابوں کے جنازےدل ہے کہ اسے ناز اٹھانے کی پڑی ہے
چھت ہے کہ ٹپکتی ہے کئی ایک جگہ سےگھر کے در و دیوار سجانے کی پڑی ہے
میں خون جگر بیچنے جاتا ہوں شب و روزطعنے یہ ہی ملتے ہیں کمانے کی پڑی ہے
دو پل میں کئی بار گھڑی دیکھ چکے ہوآتے ہی تمہیں چھوڑ کے جانے کی پڑی ہے
سنتے ہو مگر کوئی توجہ نہیں دیتےکنگن کو کلائی میں گھمانے کی پڑی ہے
ڈاکٹر خلیل احمد
جب کسی معاشرے میں کوئی ایسی عادت رائج ہو جائے جس کا نقصان ہو تو وہ گناہ نہیں بلکہ رواج بن جاتی ہے اور ہر کوئی اس پر یقین رکھتا ہے جیسا کہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔۔
شہر میں کرتا تھا جو سانپ کے کاٹے کا علاج اس کے تہہ خانے سے سانپوں کے ٹھکانے نکلے
آج کا استاد متاثر کیوں نہیں کرتا؟ 
انسان کا اچھا یا براکوئی بھی عمل فائدے سے خالی نہیں ہوتا۔ہمارا ایک غلط قدم کسی کو بربادکرسکتاہے اور ایک اچھا فیصلہ کسی کی بھی زندگی بناسکتاہے۔انسانیت سازی میں جتنا بڑا کردارایک استاد کا ہے اتنا کسی اور فرد کا نہیں۔یہ وہ معزز طبقہ ہے جس کے ہاتھ میں نئی نسل کا خمیر ہوتا ہے اور اس سے وہ جوبھی شکل بنائے، معاشرہ بھی ویسا ہی بنتاہے۔
امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز ٹیچنگ سے کیا تھا۔وہ کہتاہے: ”اپنے اساتذہ پر انویسٹ کرو، تمھاری نسل کامیاب ہوجائے گی۔“ اسی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت کا انحصار اساتذہ کی تربیت پر ہے۔اگر استاد تربیت یافتہ اور قابل ہے تو وہ نسل بھی ایسی بناکر دے گاجس پر قوم کوفخر ہولیکن اگر استاد ناہل اور قابلیت سے خالی ہو تو پھر وہ نئی نسل کے لیے تعمیر نہیں تخریب کا باعث بنے گا۔
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج جس طرح ہمارا نظام تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے ایسے ہی تدریس کا شعبہ بھی بہت کمزور ہے۔سسٹم موجود ہے، وزارت بھی ہے، مراعات اور تنخواہیں بھی مل رہی ہیں لیکن نتیجہ وہ نہیں مل رہاجس کی قوم کو ضرورت ہے۔امام ابوحنیفہ ؒ سے کسی نے پوچھا کہ استاد کیسا ہوتاہے؟ انھوں نے جواب دیا:”استادکوتب دیکھو جب وہ دوسروں کے بچوں کو پڑھارہاہو اگر تو تمھیں یوں لگے کہ جس محبت اور لگن سے وہ اپنے شاگردوں کو پڑھارہا ہے وہ اس کے ذاتی بچے ہیں، تو وہ اچھا استاد ہے۔اگر اس سے ہٹ کر کچھ کررہاہے تو وہ اچھا استاد نہیں ہے۔“
آج کے زمانے میں ”اچھااستاد“ نہ ہونے کے برابر ہے۔جبکہ ماضی پرنظردوڑائیں تو اس خطے میں ایسے باکمال اساتذہ بھی گزرے ہیں جنھوں نے وسائل نہ ہونے کے باوجود کئی نسلوں کی شاندارتربیت کی۔ان کے پاس ڈگری نہیں تھی،اعلیٰ تعلیم نہیں تھی لیکن شوق تھا، جذبہ تھا، خلوص تھا اور سکھانے کاگُر انھیں آتا تھا جس کی بدولت انھوں نے اپنے شاگردوں کو اخلاقی،علمی اور فکری اعتبار سے مثالی بنالیاتھا۔ ہم آج بھی ان اساتذہ کے نام لیواہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں۔دوسری طرف آج کے اساتذہ اپنے اندر اپنے منصب کے مطابق خوبیاں پیدا کرنے میں ناکام رہے، پھرہمارے معاشرتی رویے نے بھی انھیں مایوس کیا۔ ہم نے انھیں وہ عزت نہیں دی جس کے یہ حقدار تھے جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ تدریس کا شعبہ تنزلی کا شکار ہوتاچلاگیا۔
اس مسئلے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن نے ایک مکالماتی نشست کا اہتمام کیا جس کا مقصد اس بات پر غور و خوض کرنا تھا کہ پاکستان میں تدریسی شعبے میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو کیسے درست کیا جائے تاکہ نئی نسل کی بہترین تربیت کی جاسکے۔اس میٹنگ میں شعبہ تعلیم کی سرکردہ شخصیات اور ماہرین کو دعوت دی گئی کہ وہ تشریف لاکراس اہم موضوع پر اپنے خیالات کااظہار کریں۔چنانچہ مقررہ تاریخ پر کئی سارے خواتین و حضرات نے اس مکالماتی نشست میں شرکت کی اور اپنے تجربات کی روشنی میں اس بحث کو مفید تر بنایا۔آج کی تحریر میں ہم اس نشست کے اہم نکات آپ کے سامنے پیش کریں گے۔
1۔زمانے کی ترقیاں اور آج کا استادآج کا زمانہ جہاں ہر چیز میں ترقی کرگیا ہے وہیں تعلیم اور تدریس کے میدان میں بھی شاندارترقیاں ہوئی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تدریس کے انداز اور ٹرینڈز بدل چکے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم آج بھی پرانے طریقوں کواپنائے ہوئے ہیں اور رٹہ سسٹم کو بڑھاوادے رہے ہیں۔آج کے استاد کویہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ نئے زمانے کے نئے ٹرینڈز کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔”ریسرچ بیسڈ“ ان تمام نئی تکنیک کو سیکھنا اور پھر ان کے مطابق اپنی تدریسی ذمہ داریاں انجام دینی چاہییں، اس سے نہ صرف طلبہ کی بہترین تربیت ہوگی بلکہ اساتذہ کا وقت اور توانائی بھی بچ جائے گی۔
2۔عمومی کمزوریاںآج کے اساتذہ میں کئی ساری عمومی کمزوریاں پائی جارہی ہیں جن کی وجہ سے نتائج متاثر ہورہے ہیں۔آج کااستاد ان”جدید تدریسی طریقہ کار“سے نابلد ہے جن کی بدولت ٹیچنگ کو موثر بنایاجاسکتاہے۔آج کا استاد پوری کلاس کوایک ہی فرد سمجھ کر پڑھارہاہے حالانکہ کلاس میں ہر بچہ مختلف شخصیت کا مالک ہے اور اس کو پڑھانے کے لیے اس کی شخصیت کی سطح پر آنا ضروری ہے۔آج کااستاد خودشناس نہیں ہے اور اس طاقت سے بے خبر ہے جو اس کے اندر موجو دہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو بھی خودشناس نہیں بناپارہا۔آج کے استادکی کمیونیکیشن اسکلزاور پریزنٹیشن اسکلز کمزور ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اس کے پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔آج کااستاد باڈی لینگویج کے اصولوں سے بھی ناواقف ہے۔آج کے استاد میں شخصیت سازی کافقدان ہے اور اسی وجہ سے وہ نئی نسل کی شخصیت سازی بھی نہیں کرپارہا۔ آج کے استادکا لباس بھی متاثر کن نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ باوقار نہیں لگ رہا اور اپنی ذات سے کسی کو متاثر نہیں کررہا،حالانکہ استاد کامطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو متاثر کرے۔ولیم آرتھر کہتاہے: ”معمولی استاد بناتاہے۔اچھا استاد سمجھاتاہے۔اعلیٰ استاد ظاہر کرتاہے جبکہ عظیم استاد متاثر کرتاہے۔“
3۔اساتذہ کی تقرری(Hiring)یونیورسٹی سطح پر جب اساتذہ کی تقرری ہوتی ہے تو وہاں ایک ہی چیز پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور وہ ہے پبلی کیشن۔حالانکہ ایک ریسرچر اورٹیچر میں بڑا فرق ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے یہاں تدریسی قابلیت سے زیادہ ا س بات کو دیکھاجاتاہے کہ امیدوار نے ریسرچ کتنی کی ہے۔جس کانقصان یہ ہوتاہے کہ ایسافرد جب کلاس روم میں آتاہے تو اس کو پڑھانا نہیں آتا اور نتیجہ طلبہ اور والدین کو بھگتنا پڑتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو پڑھانے کے لیے ریسرچر کی نہیں بلکہ ٹیچر کی تقرر ی کی جائے اور ریسرچر کے لیے الگ آسامی بنادی جائے۔اسی طرح اسکول لیول پر ہائرنگ کرتے وقت اساتذہ کی کمیونیکیشن اسکلز اور پریزنٹیشن اسکلز کو بھی دیکھنا چاہیے۔
4۔ٹیچنگ ٹریننگآج سے کچھ عرصہ قبل کسی بھی استاد کو ٹریننگ کے بغیر نوکری نہیں ملتی تھی لیکن پھر یہ چیز ختم ہوتی چلی گئی،اور آج یہ عالم ہے کہ اساتذہ کی ایک کثیرتعداد ایسی ہے جو بغیر کسی پروفیشنل تربیت کے بچوں کو پڑھارہی ہے، حالانکہ ٹریننگ کے بغیرکسی بھی استاد کی کارکردگی معیاری نہیں ہوسکتی۔نشست کے شرکا نے اس با ت پر زور دیاکہ پرائیوٹ اور پبلک سیکٹر میں ایسے ادارے بنانے چاہییں جو اساتذہ کو تربیت دیں اور صرف ایک دفعہ تربیت دے کر اساتذہ کو آزاد نہ چھوڑیں بلکہ سال، چھ مہینے کے وقفے سے انھیں دوبارہ تربیت دیں اور ٹریننگ کی بنیاد پر ہی ان کو ترقی دی جائے۔ان ٹریننگ پروگرامز میں ان کی پرسنالٹی ڈیویلپمنٹ کی جائے، باڈی لینگویج، لباس، بول چال،شائستگی، صبر و تحمل،مسائل کا حل، سمجھانے کا انداز، طلبہ کو موٹیویٹ کرنے،ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو باہر لانے اورانھیں انسپائر کرنے کی تربیت دی جائے۔
5۔حقوق و فرائضشرکا میں سے جن حضرات نے ٹیچرز کو ٹریننگ دی تھی ان کا کہنا تھا:”ٹریننگ کے دوران اساتذہ کا رویہ افسوسناک ہوتا تھا۔وہ موضوع کے متعلق سوالات کم جبکہ اپنی نوکری کی شکایات زیادہ کرتے نظر آتے تھے۔“مانا کہ آج کا استاد کئی سارے مسائل کا شکار ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنسبت آج کے اساتذہ کو زیادہ مراعات اور تنخواہیں مل رہی ہیں۔ان کے پاس سہولیات کی بھی فراوانی ہے لیکن کیا وہ اپنے فرائض بھی احسن انداز میں پورے کررہے ہیں؟یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس پر آج کے استاد کو سوچناچاہیے۔
6۔تین بنیادی چیزیںمعلومات، قابلیت اور رویہ، وہ تین بنیادی چیزیں ہیں جو کسی بھی استاد کے لیے بہت ضروری ہیں۔ایک ٹیچر کو اپنے مضمون پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ اضافی چیزوں کاعلم بھی ہوناچاہیے اورپھراپنے علم کے مطابق اس کے پاس قابلیت بھی ہونی چاہیے تاکہ وہ عملی طورپر اس کام کو انجام دے سکے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ بھی ایسا ہوناچاہیے جواس کی شایان شان ہو۔رویہ ایک بنیادی چیز ہے۔اگر کسی استاد کا رویہ ٹھیک نہیں اور وہ اپنے رویے سے ٹیچر لگ ہی نہیں رہا تواس کامطلب یہ ہے کہ وہ دل سے ٹیچنگ نہیں کررہا۔ایسے میں وہ طلبہ کی تربیت بھی درست سمت میں نہیں کرسکتا۔
7۔ٹیچنگ لائسنسٹریفک قوانین کااحترام کرتے ہوئے اگر ایک ڈرائیور آلٹو کار بھی بغیر لائسنس کے نہیں چلاسکتاتو بغیرلائسنس کے ایک استاد کو بھی نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری نہیں دی جانی چاہیے۔لائسنس لازمی ہونے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس شعبے میں غیر تربیت یافتہ شخص نہیں آسکے گا۔ہماراالمیہ یہ بھی ہے یہاں جو کچھ نہیں بن پاتا وہ ٹیچر بن جاتاہے۔حادثاتی ٹیچرز کی فراوانی میں تربیت کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اب ہم صرف نمبروں کی دوڑ میں لگ چکے ہیں۔لائسنس یافتہ ٹیچر کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شخص تدریسی میدان کے لیے درکار تربیت حاصل کرچکا ہے اور ہم پورے اعتماد کے ساتھ اس کو نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔تحریر: قاسم علی شاہانتخاب: شیرنواز، دیر KPK
#تعلیم #Taleem
اے پچیس کروڑ بدنصیبو!صبح اٹھتے ہی تمہارا رونا دھونا شروع ہو جاتا ہے ۔ آج بجلی نہیں ہے۔ آج پانی نہیں ہے۔ آج گیس نہیں ہے۔ آج یہ نہیں ہے۔ آج وہ نہیں ہے۔ بھئ تمہارے حکمران کوشش کر تو رہے ہیں تمہارے دکھ درد دور کرنے کی۔ رات دن لگے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے ملکوں کے دورے کر رہے ہیں۔لاؤ لشکر کے ساتھ ۔۔ کہ کسی طرح تمہارے لیے کوئی راحت کا سامان لاسکیں۔ کسی طرح تمہارے مسائل حل ہوں۔ لگے ہوئے ہیں۔ چین سے نہیں بیٹھ رہے۔ پھر بھی تمہیں ان سے شکوہ شکایت رہتی ہے۔ اب کیا مرجائیں تمہارے لیے۔ انہیں تھوڑا موقع تو دو کام کرنے کا۔۔ کوئی قوموں کی تقدیریں ایسے ہی بدل جاتیں ہیں دو چار دہائیوں میں ؟صدیاں لگتیں صدیاں ۔۔تم نہ سہی تمہاری اولاد ۔۔ یا پھر اس کی اولاد اچھا وقت بھی دیکھے گی اس ملک میں ۔ تھوڑا صبر رکھو۔۔ تھوڑا حوصلہ رکھو۔ یہ کیا رات دن رونا دھونا۔ کیسی ناشکری قوم ہو۔ تم سے تمہارے حکمرانوں کی تھوڑی سی خوشیاں نہیں دیکھی جاتیں۔ بیچارے تھوڑے سے مہنگے کپڑے پہن کے۔۔ تھوڑے سے لگژری جہازوں یا گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں تو تم انہیں کوسنا شروع کر دیتے ہو۔ یہ تو حسد والا معاملہ ہوا نا۔۔ شرافت تو نہ ہوئی۔ سدھر جاؤ بد نصیبو! سدھر جاؤ ۔۔(حنیف سمانا)