بے نام سایہ(حصہ دوم)امتحان کی فیس جمع ہونے کے بعد حارث کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا تھا، لیکن ایک سوال اب بھی اس کے ذہن میں گونجتا رہتا تھا۔آخر وہ کون تھا جس نے بغیر کسی شناخت کے اس کی مدد کی تھی؟کئی دن تک اس نے سکول کے دفتر کے چکر لگائے، اساتذہ سے پوچھا، حتیٰ کہ چوکیدار سے بھی بات کی، مگر ہر بار ایک ہی جواب ملتا:"ہمیں نہیں معلوم۔"وقت گزرتا گیا اور حارث نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر لگا دی۔جب نتیجہ آیا تو اس نے پورے سکول میں نمایاں نمبر حاصل کیے۔ اساتذہ خوش تھے، والدین فخر محسوس کر رہے تھے اور محلے والے بھی اس کی کامیابی کا ذکر کر رہے تھے۔مگر حارث جانتا تھا کہ اس کامیابی میں اس کی محنت کے ساتھ ساتھ کسی انجان شخص کی دعا اور مدد بھی شامل ہے۔کالج میں داخلہ لینے کا وقت آیا تو ایک نئی مشکل سامنے کھڑی تھی۔داخلہ فیس۔گھر کے حالات پہلے جیسے ہی تھے۔والد کی صحت اب بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی اور ماں دن رات محنت کے باوجود صرف بنیادی ضروریات پوری کر پا رہی تھی۔حارث نے کئی راتیں جاگ کر حساب لگایا، مگر کوئی راستہ نظر نہیں آیا۔وہ تقریباً مایوس ہو چکا تھا کہ ایک دن کالج کے دفتر سے پیغام ملا۔"آپ کا داخلہ مکمل ہو گیا ہے۔"حارث حیران رہ گیا۔"مگر فیس؟"دفتر کے ملازم نے بے پروائی سے جواب دیا:"جمع ہو چکی ہے۔""کس نے جمع کروائی؟""یہ معلومات ہمارے پاس نہیں۔"یہ سن کر حارث کی حیرت اور بھی بڑھ گئی۔اسے یقین ہونے لگا کہ وہی شخص دوبارہ اس کی زندگی میں آیا ہے۔وہ شخص جو سامنے آئے بغیر اس کے راستے سے رکاوٹیں ہٹا رہا تھا۔کالج کی زندگی شروع ہو گئی۔پڑھائی پہلے سے زیادہ مشکل تھی، مگر حارث ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔وہ صبح جلدی اٹھتا، کالج جاتا اور شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا تاکہ گھر کے اخراجات میں بھی ہاتھ بٹا سکے۔اس دوران بھی کئی مرتبہ ایسے مواقع آئے جب اسے لگا کہ اب آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ایک بار پورے سمسٹر کی کتابیں خریدنے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں تھی۔وہ لائبریری میں بیٹھا پریشان تھا کہ لائبریرین نے اسے آواز دی۔"حارث، یہ پیکٹ تمہارے لیے آیا ہے۔"اس نے حیرانی سے پیکٹ کھولا۔اندر اس کے تمام مضامین کی نئی کتابیں موجود تھیں۔ساتھ ایک مختصر سا کاغذ رکھا تھا جس پر صرف اتنا لکھا تھا:"علم کا سفر مت روکنا۔"نہ کوئی نام، نہ کوئی پتا۔صرف چند لفظ۔حارث دیر تک اس پرچی کو دیکھتا رہا۔اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔اس نے دل ہی دل میں اس انجان محسن کے لیے دعا کی۔سردیوں کا موسم آیا تو ایک اور امتحان سامنے آ گیا۔اس سال سردی غیر معمولی تھی۔حارث کے پاس صرف ایک پرانی جیکٹ تھی جو ٹھنڈی ہوا کو روکنے سے قاصر تھی۔وہ روز کانپتے ہوئے کالج جاتا۔ایک دن کالج کے چوکیدار نے اسے روکا۔"بیٹا، یہ چیز تمہارے نام آئی ہے۔"اس نے ایک تھیلا اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔حارث نے کھول کر دیکھا تو اندر ایک گرم اور خوبصورت کوٹ رکھا تھا۔ساتھ پھر ایک مختصر سی پرچی تھی:"اپنا خیال رکھا کرو۔"اس بار حارث کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔کسی کو اس کی ضرورتوں کا اتنا خیال کیسے ہو سکتا تھا؟وہ کون تھا جو ہر مشکل وقت میں اس کے لیے سایہ بن جاتا تھا؟رات کو وہ دیر تک جاگتا رہا۔اس کے ذہن میں مختلف چہرے آتے رہے۔کبھی اسے لگتا کوئی استاد ہے۔کبھی خیال آتا شاید والد کا کوئی پرانا دوست ہو۔کبھی وہ کسی فلاحی ادارے کے بارے میں سوچتا۔مگر حقیقت تک پہنچنا ناممکن لگ رہا تھا۔دوسری طرف وہ نامعلوم شخص خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔سال گزرتے گئے۔حارث کالج کے آخری سال میں پہنچ گیا۔اس کے خواب اب پہلے سے بڑے تھے۔وہ یونیورسٹی جانا چاہتا تھا۔وہ اپنی زندگی بدلنا چاہتا تھا۔وہ اپنے والدین کے لیے آسانیاں خریدنا چاہتا تھا۔اور سب سے بڑھ کر، وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کی زندگی میں روشنی بن کر آنے والا وہ بے نام انسان آخر کون ہے۔مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس راز کا پردہ جلد اٹھنے والا ہے۔اور جب حقیقت سامنے آئے گی تو وہ صرف حیران نہیں ہوگا، بلکہ اس کا دل ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا...کیا آپ کے خیال میں حارث کو کبھی اپنے بے نام محسن کی حقیقت معلوم ہو سکے گی؟اگر آپ حارث کی جگہ ہوتے تو اس نامعلوم مددگار کو تلاش کرنے کے لیے کیا کرتے؟ کیا خاموشی سے کی گئی نیکی زیادہ قیمتی ہوتی ہے یا وہ نیکی جس کا سب کو پتا ہو؟جاننے کے لیے انتظار کیجیے...بے نام سایہ (حصہ سوم) — جاری ہے... Kiren ✍️
#BeNaamSaya#UrduStory#StorySeries#JariHai#EmotionalStory#SilentHero#KindnessMatters#HumanityFirst#HopeAndDreams#EducationalJourney#LifeLessons#UrduLiterature#ReadAndReflect#SupportEducation#MotivationalStory#NovelVibesReviews#Part2JariHai#SilentKindness#InspiringStories#UrduReaders