Live Audio

اپ دوسروں کی مدد کریں 
یہ جانتے ہوۓ کہ وہ اپ کی مدد نہیں کر سکتے۔

امید بدترین عذابوں میں سے بھی بدترین ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ تکلیف کو طول دیتی ہے
روزمرہ استعمال کی غذاؤں کے مزاجخشک مزاج غذائیں: اگر آپ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جو خشکی اور تیزابیت کی وجہ سے ہے تو آپ کو خشک مزاج غذاؤں سے پرہیز کی ضرورت ہے ۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی خشک مزاج غذاؤں کی فہرست :سبزیاں: کریلے ، پالک ، ساگ، چنے، لوبیا ، کچنار، چنے کی دال ، مٹر۔گوشت: مچھلی ، بڑا گوشت، کلیجیپھل: آڑو، کٹھے انگور، کھٹا آم، ناریل ، جاپانی پھل مشروبات: سکنجبین ، دودھ سوڈا، کولڈ ڈرنکس ، کافی ، پتی کا قہوہ، سرکہ، لونگ دارچینی کا قہوہ
گرم مزاج غذائیں:اگر آپ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جو صفرا کی زیادتی یعنی گرمی کی وجہ سے ہے تو آپ کو گرم مزاج غذاؤں سے پرہیز کی ضرورت ہے ۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی گرم مزاج غذاؤں کی فہرست :سبزیاں: ، بینگن، دال مونگ، لہسن، پیاز ، مولی، ہری مرچ، لال مرچ گوشت: مٹن، دیسی چکنپھل: آم شیریں، پپیتہ، میٹھے انگور، خربوزہمشروبات: شہد کا شربت ، اجوائن پودینہ کا قہوہ 
تر مزاج غذائیں: غذائیں:اگر آپ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جو بلغم کی زیادتی یعنی تری کی وجہ سے ہے تو آپ کو اعصابی یعنی تر مزاج غذاؤں سے پرہیز کی ضرورت ہے ۔ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی تر مزاج غذاؤں کی فہرست :سبزیاں: حلوہ کدو ، کدو، ٹینڈے ، گھیا توری ، شلجم، مونگرے پھل: میٹھے امرود، سردا ، انار شیریں گوشت: سری پائے مشروبات: دودھ کی لسی ، ستو، شربت بزوری 

جو جمعہ کے دن درود پڑھتا ہے اللہ اُس پر خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔

جمعہ صرف دن نہیں بلکہ روح کی تازگی کا دن ہے۔🌸

زندگی وہ کتاب ہے جس کا ہر صفحہ کچھ نہ کچھ سکھا جاتا ہے،
بس صبر کرنے والا ہی اس کا اصل مطلب سمجھ پاتا ہے

🕊️🙂
Shukar hn hawa Chali barish hoi lagta garmi ko ham py taras agya 🤡
صرف پودے لگانا کافی نہیں، ان کو درخت بنانا بھی ضروری ہےہر سال شجرکاری مہمات کے دوران لاکھوں پودے لگائے جاتے ہیں۔ تصاویر بنتی ہیں، خبریں شائع ہوتی ہیں اور لوگوں کو درخت لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے پودے چند سال بعد تناور درخت بن پاتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ صرف پودا لگانا ماحول دوستی کا پہلا قدم ہے، اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس پودے کی حفاظت، نگہداشت اور آبیاری کی جائے یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط درخت بن جائے۔ اگر پودا لگانے کے بعد اسے قسمت کے حوالے کر دیا جائے تو اکثر وہ پانی کی کمی، جانوروں کے نقصان یا موسمی اثرات کی وجہ سے سوکھ جاتا ہے۔ایک تناور درخت بننے میں کئی سال لگتے ہیں، لیکن یہی درخت آنے والی دہائیوں تک انسانوں کو آکسیجن، سایہ، پھل اور صاف ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے درخت لگانے سے زیادہ اہم کام اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ جس طرح ایک بچے کو پرورش کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ایک پودے کو بھی توجہ، پانی اور حفاظت درکار ہوتی ہے۔آج ماحولیاتی آلودگی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں ہماری ذمہ داری صرف پودے لگانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ لگایا گیا ہر پودا زندہ رہے اور ایک مکمل درخت بنے۔ اگر ہر شخص ایک پودا لگانے کے ساتھ اس کی حفاظت کا عہد بھی کر لے تو ہمارے شہر، گاؤں اور پورا ملک سرسبز و شاداب ہو سکتا ہے۔درخت مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہیں۔ اس لیے یاد رکھیں کہ شجرکاری کا مقصد صرف تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ایسے درخت پیدا کرنا ہے جو برسوں تک زمین اور انسانیت کی خدمت کر سکیں۔پودا لگانا ایک اچھا عمل ہے، لیکن اسے درخت بنانا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔🌳 پیغام: "ایک پودا لگائیں، اس کی حفاظت کریں، اور اسے درخت بنتے دیکھیں۔"

Pull down to refresh