Live Audio

same here I need Care
نطشے کہتا ہے کہ اگر آپ کاکروچ کو ماریں تو آپ ہیرو ہیں اور اگر آپ خوبصورت تتلی کو مار دیں تو آپ ولن۔ اخلاقیات بھی جمالیاتی معیار رکھتی ہیں۔ 
ہر دعا دعا نہیں ہوتی۔ اسی طرح دعا پر آمین بھی اگلے کے کاروبار اور عمل کے زیر اثر کی جاتی ہے۔ ایک کفن فروش نے دعا مانگی یا اللہ کاروبار میں برکت دے۔ کسی نے آمین نہیں کہا۔
کاروبار کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کیا بیچ رہا ہوں، دکان کے باہر قرانی آیت لکھی ہونی چاہئیے۔
مکان جیسے بھی بنایا ہو اس پر ہذا من فضل ربی کی تختی اس کے پاک ہونے کی سند بن جاتی۔ 
دوستی میں باہمی مفادات کا رشتہ ہی پروان چڑھتا ہے۔ امیر کبھی غریب کا دوست نہیں بنا۔ 
کوئی بھی مذہب ہو اس نے اپنے حق ہونے کا پیغام دیا ہے۔دوسرے کا مذہب نیچ لگتا ہے۔
سیاست میں سیاہ و سفید نہیں ہوتا۔ اس کا رنگ گرے ہے۔ مرتا ہے تو کارکن مرتا ہے لیڈر رنگ بدل لیتا ہے۔
مٹی کے مزاج میں محبت ہے وہ کبھی دوسری مٹی سے نفرت نہیں سکھاتی۔ ریاست ریاست سے نفرت سکھاتی ہے۔
الفاظ ہتھیار بھی ہوتے ہیں یہ کسی کی جان بھی لے سکتے ہیں اور الفاظ مرہم بھی ہوتے ہیں۔ ان کو برتنے والا اپنے کردار کا تعین خود کرتا ہے۔
محبت کی بیل اظہار محبت یا تجدید محبت کا پانی مانگتی ہے وگرنہ یہ سوکھ جاتی ہے۔ اگر آپ اظہار میں ناکام ہیں تو انجام میں ناکامی بھی آپ کا مقدر ہوتی۔ 
بدتمیز انسان کبھی مراد نہیں پا سکتا لیکن وہ دوسرے کی راہ کھوٹی کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ 
یہ کچھ تلخ حقیقتیں ہیں جن تک پہنچتے ایک عمر لگ جاتی ہے۔ اور جب انسان پر آشکار ہوتیں ہیں تب وہ عمر کا کثیر حصہ بِتا چکا ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے آپ کا تجربہ یا مشاہدہ کچھ معاملات میں یکسر مختلف ہو۔ میرا تو یہی رہا۔
Sometimes life doesn't go the way you want but it goes the way it's supposed to be! Trust God in the twists & turns…
کھانا سفید پلیٹ میں کھاؤ گے یا نیلی پلیٹ میں؟بچوں کی تربیت میں ایک بہت پرانی غلطی ہم سب کرتے آئے ہیں اور وہ یہ کہ ہم بچے کو ہر وقت حکم دیتے رہتے ہیں۔ یہ کرو، وہ کرو، ابھی کرو، فوراً کرو۔ اور پھر جب بچہ نہیں مانتا تو ہم کہتے ہیں کہ یہ بہت ضدی ہے، سنتا ہی نہیں۔ لیکن ذرا سوچیں، اگر کوئی آپ کو دن بھر بس حکم ہی دیتا رہے، آپ کی رائے کبھی نہ پوچھے، آپ کی پسند کو کوئی اہمیت نہ دے، تو کیا آپ خوش دلی سے مانیں گے؟ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان، خواہ بچہ ہو یا بڑا، اندر سے ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی رائے کو وزن دیا جائے، اسے لگے کہ فیصلے میں وہ بھی شامل ہے۔ جیسے ہی یہ احساس ملتا ہے، مزاحمت آدھی ہو جاتی ہے اور تعاون خود بخود بڑھ جاتا ہے۔اس اصول کو عملی زندگی میں آزمانا بہت آسان ہے، بس سوال کا انداز بدلنا ہوتا ہے۔ کھانے کے وقت "کھانا کھاؤ" کہنے کے بجائے پوچھیں: "بیٹا، آج سفید پلیٹ میں کھاؤ گے یا نیلی میں؟" اب بچے کا ذہن انکار کرنے کے بجائے پلیٹ چننے میں لگ جاتا ہے اور کھانا خود بخود شروع ہو جاتا ہے۔ ہوم ورک کروانا ہو تو کہنے کے بجائے پوچھیں: "کھانے سے پہلے کرنا ہے یا بعد میں؟" موبائل بند کروانا ہو تو پوچھیں: "پانچ منٹ بعد رکھو گے یا دس منٹ بعد؟" صبح سکول کے لیے تیار کروانا ہو تو پوچھیں: "پہلے شرٹ پہننی ہے یا جوتے؟" رات کو سونے کا وقت ہو تو کہیں: "ایک کہانی سنو گے یا بس تھوڑی دیر باتیں کریں گے؟" غور کریں تو ہر بار اصل مقصد وہی رہتا ہے جو آپ چاہتے ہیں، بس بچے کو لگتا ہے کہ فیصلہ اس کا اپنا ہے۔ اور یہی احساس سب کچھ بدل دیتا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں ہر فیصلے میں ہماری رائے لی جائے ہمیں اہمیت دی جائے ایک چھوٹا بچہ بھی یہی چاہتا ہے ۔بہت سے گھروں میں بچے صبح سے شام تک صرف احکام سنتے ہیں اور آہستہ آہستہ یا تو ڈھیٹ ہو جاتے ہیں یا خاموش دباؤ میں زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر اپنی رائے خود نہیں بنا پاتے کیونکہ انہیں کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ اس کے برعکس جس بچے کو گھر میں مسلسل یہ احساس ملے کہ اس کی بات سنی جاتی ہے، اس کی پسند کو اہمیت دی جاتی ہے، تو وہ بچہ اعتماد کے ساتھ بڑا ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ اس کا تعلق بھی گہرا ہوتا ہے اور گھر کا ماحول بھی ہلکا اور خوشگوار رہتا ہے۔ شروع میں یہ طریقہ عجیب لگ سکتا ہے کیونکہ ہم اس انداز کے عادی نہیں، لیکن چند دن آزما کر دیکھیں، فرق خود محسوس ہو گا۔ بچہ وہی کرے گا جو آپ چاہتے ہیں، بس اس بار خوشی سے کرے گا۔ یاد رہے یہ ہی طریقہ ہر انسان کے لیے کامیاب ہے چاہے وہ بچہ ہو ،بیوی، شوہر، ماتحت یا اسکول مدرسہ کے شاگرد جب چاہیں جہاں چاہیں آزما کر دیکھ لیں آپ کے ایک جملے کی تبدیلی سے ان شاء اللہ ناقابل یقین نتائج ملیں گے ۔تحریرBeenish Iftikhar

جوڑوں کا درد اور یورک ایسڈ: ہومیوپیتھک نقطۂ نظر اور احتیاط


جسم کے چھوٹے اور بڑے جوڑوں میں درد، سوزش اور جکڑن کی ایک بڑی وجہ خون میں یورک ایسڈ (Uric Acid) کا بڑھ جانا ہے۔ جب جسم پروٹین کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے اس فضلہ کو پیشاب کے راستے باہر نکالنے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ سوئیوں کی شکل کے کرسٹلز بن کر جوڑوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جسے طبی زبان میں 'گاGaussian' یا 'گٹھیا' (Gout) بھی کہا جاتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اس مسئلے کو صرف وقتی طور پر دبانے کے بجائے، جسم کے اندرونی نظام کو درست کرتا ہے تاکہ وہ یورک ایسڈ کو قدرتی طریقے سے خارج کر سکے۔

یورک ایسڈ بڑھنے اور جوڑوں کے درد کی وجوہات

  • غیر متوازن غذا: بڑے کا گوشت (Red Meat)، جگر، گردے، اور سی فوڈ کا زیادہ استعمال۔
  • گردوں کی سستی: جب گردے خون کو صحیح طریقے سے فلٹر کرنے اور فضلے کو باہر نکالنے کی صلاحیت کم کر دیتے ہیں۔
  • پانی کی شدید کمی: دن بھر میں کم پانی پینا، جس سے یورک ایسڈ جسم میں جمنے لگتا ہے۔
  • موٹاپا اور سست طرزِ زندگی: وزن کا زیادہ ہونا اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری۔

ہومیوپیتھک طرزِ علاج کی افادیت

ہومیوپیتھی میں یورک ایسڈ اور جوڑوں کے درد کا علاج مریض کے موروثی اثرات، طرزِ زندگی اور انفرادی علامات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

  • میٹابولزم کی اصلاح: یہ علاج جسم کے اندر پروٹین کے ہضم ہونے اور یورک ایسڈ کے بننے کے عمل (Metabolism) کو متوازن بناتا ہے۔
  • گردوں کے افعال میں بہتری: ہومیوپیتھک طریقہ کار گردوں کو متحرک کرتا ہے تاکہ وہ خون میں موجود اضافی یورک ایسڈ کو قدرتی طور پر فلٹر کر کے باہر نکال سکیں۔
  • درد اور سوزش کا خاتمہ: یہ علاج جوڑوں کی سوجن، سرخی اور شدید درد کو بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ یا معدے کو نقصان پہنچائے آہستہ آہستہ مکمل ختم کر دیتا ہے۔

یورک ایسڈ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے چند مفید مشورے

  1. پانی کا کثرت سے استعمال: دن میں کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں تاکہ یورک ایسڈ فلش آؤٹ ہو سکے۔
  2. غذا میں تبدیلی: ہائی پیورین (High-Purine) غذاؤں جیسے بڑا گوشت، پالک، اور دالوں کا استعمال عارضی طور پر کم کریں اور تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں۔
  3. لیموں پانی اور چیری کا استعمال: لیموں کا رس اور چیری (Cherries) جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
  4. باقاعدہ واک: روزانہ ہلکی چہل قدمی جوڑوں کی لچک کو برقرار رکھتی ہے اور فضلے کو جمع ہونے سے روکتی ہے۔

اگر آپ بھی جوڑوں کے شدید درد، پیر کے انگوٹھے کی سوجن یا یورک ایسڈ کے بار بار بڑھنے سے پریشان ہیں، تو عارضی پین کلرز پر انحصار کرنے کے بجائے کسی مستند ہومیوپیتھک معالج سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے مزاج کے مطابق اس کا مستقل اور جڑ سے علاج ممکن ہو سکے۔


نصیرالدین

رجسٹرڈ ہومیوپیتھک ڈاکٹر


آٹھویں کلاس میں داخل ہوتے ہی میں نے ساری کلاس کو ایک نظر دیکھا کونے میں ایک بچہ خاموش بیٹھا تھا۔ نظریں جھکی ہوئیں۔ چہرہ سپاٹ تھا۔ مجھ پتہ چل گیا کہ یہی میرا ٹارگٹ ہے۔
👈میں نے پہلے دن اس کا نام یاد کیا۔اگلے دن بھری کلاس میں اسے نام سے پکارا۔وہ چونکا، گھبرایا اور پھر مسکرایا۔چند دن بعد وہی بچہ ہر سبق میں ہاتھ اٹھانے لگا۔جس بچے کی نظریں جھکی رہتی تھیں، اب وہ سب سے زیادہ سوال کرتا تھا۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا؟یہ راز ریپو بلڈنگ میں تھا۔
👈ریپو بلڈنگ یعنی اپنے طلبہ کے ساتھ اعتماد اور ربط قائم کرنا۔ یہ احساس دینا کہ تم محفوظ ہو۔ تمہاری بات اہم ہے۔بغیر اس تعلق کے، بہترین تدریسی حکمتِ عملی بھی اپنا مکمل اثر نہیں دکھا پاتی۔
مشتاق احمد یوسفی والے انداز میں کہوں تو آپ وہاں خارش کر رہے ہیں جہاں خارش ہو ہی نہیں رہی۔
👈تو ریپو بنتی کیسے ہے؟✅شرمیلے بچے کا نام سب سے پہلے یاد کریں اور بھری کلاس میں پکاریں۔✅مسکرانے پہ ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں ہے، استعمال کریں۔✅ان کی رائے مانگیں، سنیں اور محسوس کروائیں کہ آپ نے واقعی سنا۔
بس۔ اتنا کافی ہے شروع کرنے کے لیے۔
جب ریپو مضبوط ہو تو تلخ بات بھی ہضم ہو جاتی ہے۔ استاد کلاس روم کے ہر مسئلے پہ آسانی سے قابو پا سکتا ہے۔
ریپو بلڈنگ ایسی کرنسی ہے جس سے آپ کلاس روم کا ہر بحران خرید سکتے ہیں... اور وہ بھی سستے داموں۔
آپ کو اپنے کسی شرمیلے سٹوڈنٹ کا نام یاد ہے؟
ثناءاللہ مدنیGuidea 
#leadership #communication #publicspeaking #ContentCreation #teaching #ثنا_اللہ_مدنی #مؤثر_کمیونیکیشن #publicspeakingtips

آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑھ گیا خرچہ، موبائل فون کا اور فیکس کا

حکم جاری ہو گیا ہے اب وفاقی ٹیکس کا

حسرتِ دیدار پر اشکوں کی طغیانی پہ ٹیکس

وہ جو نلکوں میں نہیں آتا، اُسی پانی پہ ٹیکس

کوچۂ جاناں کی لمبائی پہ چوڑائی پہ ٹیکس

عاشقِ ناشاد کی کمزور بینائی پہ ٹیکس

شوہر مظلوم کی دل پھینک آزادی پہ ٹیکس

ایک شادی کی رعایت، دوسری شادی پہ ٹیکس

طفلِ دوئم پر جب این او سی طلب فرمائیں گے

پہلے بچے کے بقایا جات مانگے جائیں گے

ٹیکس زردہ پر اگر دے دو تو بریانی فری

صرف پاکستانیوں پر ٹیکس، افغانی فری

اور سب کو ہے معافی صرف بدحالوں پر ٹیکس

شاعروں پر، منشیوں پر اور قوالوں پر ٹیکس

اتنے پیسوں میں کہاں سے گھر میں آٹا جائے گا

آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹاجائے گا

ناظمؔ بزم سخن دے دے، اضافہ ٹیکس کا

اک لفافہ شاعری کا، اک لفافہ ٹیکس کا

اے مرے محنت کشو! دن رات مزدوری کرو

پیٹ کے دوزخ سے پہلے تم یہ جرمانہ بھرو

اپنی قسمت میں نہیں ہے کوئی دن آرام کا

تین ہفتے ٹیکس کے ہیں، ایک ہفتہ کام کا

اے کنوارو! وصل کی چاہت سے پہلے مال دو

ورنہ اپنی شادیوں کو التوا میں ڈال دو

خالد عرفان

اگر آپ اپنے والدین سے چھپا کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں کھلا رھے ھیں تو آپ بہت بڑے بیوقوف ھیں کیونکہ آپ اپنے بچوں کو سکھا رھے ھیں کہ بڑھاپے میں آپ کے ساتھ کیا کرنا ھے

اپ کی کامیابی کا فیصلہ 
اخری سانسں پر ہو گا۔

“آپ کی پیدائش کا ستارہ کوئی بھی ہو، اپنی قسمت کا ستارہ آپ خود ہیں ۔”

Pull down to refresh