
naseeruddin
Registered Homeopathic Doctor Online consultant.
ہائی کولیسٹرول ایک ایسا مسئلہ ہے جو اکثر برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی طبی معائنے یا خون کے ٹیسٹ کے دوران اپنی رپورٹ دیکھتے ہیں۔ اگر کولیسٹرول کی سطح مسلسل بلند رہے تو یہ دل اور خون کی شریانوں کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
کولیسٹرول ایک چکنائی نما مادہ ہے جو جسم کے لیے ضروری بھی ہے۔ یہ ہارمونز، وٹامن ڈی اور جسم کے بعض اہم افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن جب اس کی مقدار ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ اضافی کولیسٹرول کو خون سے نکالنے میں مدد دیتا ہے اور دل کی صحت کیلئے مفید سمجھا جاتا ہے۔
یہ شریانوں میں جمع ہو سکتا ہے اور خون کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بھی خون میں موجود چکنائی کی ایک قسم ہے، جس کی زیادتی دل کے امراض کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔
ہائی کولیسٹرول اکثر کسی واضح علامت کے بغیر موجود رہتا ہے، اسی لیے اسے "خاموش مسئلہ" کہا جاتا ہے۔ اس کی تشخیص عموماً خون کے ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔
اگر کولیسٹرول مسلسل زیادہ رہے تو:
جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔
گھی، تلی ہوئی اشیاء اور فاسٹ فوڈ کا استعمال محدود کریں۔
روزانہ کم از کم 30 منٹ کی واک دل اور شریانوں کی صحت کیلئے مفید ہے۔
صحت مند وزن کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تمباکو نوشی دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی صحت، جسمانی ساخت، غذا، ہاضمہ اور دیگر علامات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بعض افراد ہائی کولیسٹرول سے متعلق مجموعی صحت کے مسائل میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں، تاہم باقاعدہ میڈیکل چیک اپ اور خون کے ٹیسٹ انتہائی اہم ہیں۔
تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
ہائی کولیسٹرول ایک ایسا مسئلہ ہے جسے بروقت توجہ اور صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ مناسب غذا، ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ دل کی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"دل کی بیماریوں سے بچاؤ — صحت مند دل کیلئے 10 آسان عادات"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
"اگر میری قبض ٹھیک نہ ہوئی تو میں اپنا پیٹ پھاڑ کر اپنی آنتیں باہر نکالوں گا اور پھر خود صاف کروں گا!"
یہ الفاظ تھے اتر پردیش (بھارت) سے تعلق رکھنے والے میرے ایک مریض اوم پرکاش کے، جو مجھ سے آن لائن مشورہ کر رہا تھا۔
پہلی نظر میں یہ الفاظ عجیب، غیر منطقی اور حد سے زیادہ لگتے ہیں، لیکن جب آپ روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں جو کئی کئی سال سے قبض، گیس، پیٹ پھولنے، بدہضمی، آئی بی ایس اور آنتوں کے مسائل کا شکار ہوں تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، یہ ایک انسان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی تھکن کی چیخ ہوتی ہے۔
میرے پاس ایسے مریض بھی آتے ہیں جو کہتے ہیں:
"ڈاکٹر صاحب! ہاتھ سے پاخانہ نکالنا پڑتا ہے۔"
"ڈاکٹر صاحب! زندگی عذاب بن گئی ہے۔"
"میں ہر وقت اپنے پیٹ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔"
"مجھے لگتا ہے میری کوئی خطرناک بیماری ہے۔"
اور بعض اوقات کچھ لوگ اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ زندگی سے ہی بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان آنتوں کو Second Brain (دوسرا دماغ) کہتے ہیں۔
گٹ برین ایکسس (Gut-Brain Axis) کیا ہے؟
آپ کے دماغ اور آنتوں کے درمیان ایک مسلسل رابطہ موجود ہوتا ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔
جب آپ پریشان ہوتے ہیں تو پیٹ خراب ہو جاتا ہے، اور جب آنتیں خراب ہوتی ہیں تو دماغ متاثر ہوتا ہے۔
یعنی دماغ آنتوں پر اثر ڈالتا ہے اور آنتیں دماغ پر۔
اسی لیے بعض لوگوں کو امتحان، انٹرویو یا ذہنی دباؤ کے دوران دست لگ جاتے ہیں یا پیٹ میں مروڑ شروع ہو جاتے ہیں۔
سیروٹونن اور آنتوں کا تعلق
بہت سے لوگوں کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جسم میں موجود تقریباً 90 فیصد سیروٹونن آنتوں میں بنتا ہے۔
سیروٹونن ایک اہم کیمیکل ہے جو:
✔ موڈ بہتر کرتا ہے
✔ خوشی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتا ہے
✔ نیند کو متاثر کرتا ہے
✔ آنتوں کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے
جب آنتوں کی صحت خراب ہوتی ہے، آنتوں میں سوزش ہوتی ہے یا گٹ بیکٹیریا کا توازن بگڑ جاتا ہے تو سیروٹونن کے نظام پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
نتیجتاً:
- چڑچڑاپن بڑھ سکتا ہے
- غصہ زیادہ آ سکتا ہے
- بے چینی پیدا ہو سکتی ہے
- ڈپریشن کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں
- ہر وقت بیماری کا خوف لاحق رہ سکتا ہے
بعض مریضوں کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کیوں دی جاتی ہیں؟
بہت سے مریض حیران ہوتے ہیں جب آئی بی ایس یا دائمی قبض کے ساتھ انہیں اینٹی ڈپریسنٹ دوا دی جاتی ہے۔
وہ فوراً کہتے ہیں:
"ڈاکٹر صاحب! کیا آپ مجھے پاگل سمجھتے ہیں؟"
حقیقت یہ ہے کہ ایسا بالکل نہیں۔
بعض اینٹی ڈپریسنٹ ادویات دماغ اور آنتوں کے درمیان موجود اعصابی رابطے کو متوازن کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
یہ ادویات:
✔ آنتوں کی حساسیت کم کر سکتی ہیں
✔ پیٹ کے درد میں کمی لا سکتی ہیں
✔ بے چینی اور ڈپریشن کم کر سکتی ہیں
✔ مریض کی مجموعی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں
اسی لیے دنیا بھر میں آئی بی ایس اور بعض دائمی آنتوں کے مریضوں میں یہ ادویات مناسب مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ایک اور بڑی غلطی
میں روزانہ ایسے مریض دیکھتا ہوں جو اپنی بیماری سے زیادہ اپنی بیماری کے بارے میں سوچ سوچ کر بیمار ہو جاتے ہیں۔
ہر وقت گوگل سرچ کرنا...
ہر درد کو کینسر سمجھنا...
ہر گیس کو خطرناک بیماری سمجھنا...
ہر رپورٹ کو بار بار دیکھنا...
یہ عادتیں خود ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہیں، اور ذہنی دباؤ آنتوں کو مزید خراب کرتا ہے۔
یہ ایک شیطانی چکر بن جاتا ہے۔
آنتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے کیا کریں؟
✔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے پرسکون نیند لیں۔
✔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک یا ورزش کریں۔
✔ پانی مناسب مقدار میں پئیں۔
✔ فائبر والی غذائیں استعمال کریں:
دلیا، سلاد، سبزیاں، پھل، بیج، بادام، اخروٹ اور دالیں۔
✔ دہی اور قدرتی پروبائیوٹکس کو خوراک کا حصہ بنائیں۔
✔ تمباکو نوشی اور نشے سے مکمل پرہیز کریں۔
✔ بیکری آئٹمز، فاسٹ فوڈ اور بازاری کھانوں کو محدود کریں۔
✔ حسد، موازنہ اور دوسروں کی زندگیوں سے متاثر ہونے کی عادت چھوڑیں۔
✔ شکرگزاری اپنائیں۔
✔ ہر چھوٹی علامت کو خطرناک بیماری سمجھ کر خوفزدہ نہ ہوں۔
✔ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں لیکن اپنی صحت کی ذمہ داری خود بھی لیں۔
یاد رکھیں
اگر آپ کی آنتیں بیمار ہیں تو صرف آپ کا معدہ متاثر نہیں ہوتا، آپ کی نیند، آپ کی سوچ، آپ کا موڈ، آپ کی خوشی، آپ کی توانائی اور بعض اوقات زندگی کے بارے میں آپ کا پورا نقطۂ نظر متاثر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے آنتوں کا خیال رکھیں...
کیونکہ بعض اوقات صحت کا سفر دماغ سے نہیں، آنتوں سے شروع ہوتا ہے۔
Copied
خون کی کمی یا انیمیا ایک عام طبی مسئلہ ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم میں سرخ خون کے خلیات (Red Blood Cells) یا ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہو جائے۔ ہیموگلوبن جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے، اس لیے اس کی کمی پورے جسم پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
خون کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
ابتدائی مراحل میں علامات واضح نہیں ہوتیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ شکایات سامنے آ سکتی ہیں:
خواتین میں خون کی کمی نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے، خاص طور پر:
اسی لیے خواتین کو اپنی خوراک اور صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
صحت مند خون کیلئے متوازن غذا بہت ضروری ہے۔
مفید غذائیں:
وٹامن C والی غذائیں آئرن کے جذب میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی علامات، کمزوری کی نوعیت، بھوک، نیند اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بعض افراد خون کی کمی سے متعلق کمزوری اور تھکن میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔
تاہم خون کی کمی کی اصل وجہ جاننے کیلئے خون کے ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔
اگر:
تو فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔
خون کی کمی ایک عام مگر اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص، مناسب غذا اور درست علاج کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ صحت مند خون، فعال جسم اور بہتر زندگی کی بنیاد ہے۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"ہائی کولیسٹرول — دل کی صحت کا خاموش دشمن"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
آج کل بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، کام میں دل نہیں لگتا، جسم میں جان نہیں رہتی اور معمولی محنت کے بعد بھی کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔ اکثر لوگ اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ مسلسل کمزوری بعض اوقات جسم کے اندر موجود کسی بیماری یا غذائی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
کمزوری ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو جسمانی یا ذہنی طور پر توانائی سے محروم محسوس کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ کام انجام دینا مشکل ہو سکتا ہے اور کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
کمزوری کے ساتھ درج ذیل علامات بھی دیکھی جا سکتی ہیں:
جسم کو توانائی کیلئے متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خوراک میں ضروری غذائی اجزاء کم ہوں تو کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔
مفید غذائیں:
پانی کی کمی بھی تھکاوٹ اور کمزوری کا باعث بن سکتی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کے تمام افعال کیلئے ضروری ہے۔
ہومیوپیتھی میں کمزوری کو صرف ایک علامت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی بنیادی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مریض کی جسمانی ساخت، نیند، بھوک، ذہنی کیفیت اور دیگر علامات کو مدنظر رکھ کر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔
اگر:
تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
کمزوری اور تھکاوٹ کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جسم اکثر علامات کے ذریعے ہمیں اپنی کیفیت سے آگاہ کرتا ہے۔ متوازن غذا، مناسب آرام اور بروقت طبی مشورہ بہتر صحت کی طرف اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"خون کی کمی (Anemia) — علامات، وجوہات اور قدرتی احتیاطی تدابیر"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
ذہنی دباؤ یا اسٹریس جدید زندگی کا ایک عام حصہ بن چکا ہے۔ مالی مسائل، خاندانی ذمہ داریاں، کاروباری مشکلات، ملازمت کا دباؤ اور مستقبل کی فکر انسان کو ذہنی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ وقتی دباؤ ایک فطری ردِعمل ہے، لیکن جب یہ مستقل صورت اختیار کر لے تو جسمانی اور ذہنی صحت دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔
ذہنی دباؤ دراصل جسم اور دماغ کا کسی مشکل یا پریشان کن صورتحال پر ردِعمل ہوتا ہے۔ معمولی دباؤ انسان کو بہتر کارکردگی پر آمادہ کر سکتا ہے، لیکن مسلسل دباؤ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ذہنی دباؤ مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتا ہے:
مسلسل ذہنی دباؤ کئی بیماریوں کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے، جن میں:
شامل ہیں۔
نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن دل کو سکون فراہم کر سکتی ہے اور پریشانیوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔
ہلکی جسمانی سرگرمی ذہنی تناؤ کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
اچھی نیند دماغ کو تازگی اور سکون فراہم کرتی ہے۔
اچھا ماحول اور مثبت گفتگو ذہنی کیفیت بہتر بنا سکتی ہے۔
قابلِ اعتماد دوست، خاندان یا ماہر سے بات کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
ہومیوپیتھی میں مریض کی ذہنی اور جسمانی کیفیت کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ خوف، غصہ، غم، بے چینی اور دیگر جذباتی عوامل کو مدنظر رکھ کر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ بعض افراد ذہنی دباؤ اور بے خوابی کے مسائل میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔
اگر:
تو ماہرِ صحت یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ لینا ضروری ہے۔
ذہنی دباؤ زندگی کا حصہ ضرور ہے، لیکن اسے اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ مثبت سوچ، اچھی عادات، روحانی سکون اور مناسب مدد کے ذریعے ذہنی دباؤ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ صحت مند ذہن ہی صحت مند جسم کی بنیاد ہے۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"کمزوری اور تھکاوٹ — جسم کے اہم اشارے جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
موٹاپا صرف ظاہری شکل کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی حالت ہے جو جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ آج کے دور میں غیر متوازن غذا، کم جسمانی سرگرمی اور مصروف طرزِ زندگی کی وجہ سے موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت اسے کئی بیماریوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔
جب جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہو جائے اور وزن صحت مند حد سے بڑھ جائے تو اسے موٹاپا کہا جاتا ہے۔ موٹاپا آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور اکثر لوگ اس کی سنگینی کو اس وقت سمجھتے ہیں جب دیگر صحت کے مسائل سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
موٹاپا کئی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے، جیسے:
اپنی خوراک میں سبزیاں، پھل، دالیں اور پروٹین شامل کریں۔ چکنائی اور میٹھے مشروبات کم استعمال کریں۔
روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی یا ہلکی ورزش وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
پانی نہ صرف جسم کیلئے ضروری ہے بلکہ بعض اوقات غیر ضروری بھوک کو بھی کم کر سکتا ہے۔
کم نیند وزن بڑھنے کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔
بے وقت کھانے کی عادت وزن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ہومیوپیتھی میں مریض کی جسمانی ساخت، مزاج، بھوک، نیند اور دیگر علامات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بعض افراد وزن کے مسائل میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں، تاہم وزن کم کرنے کیلئے صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر:
تو طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
موٹاپا ایک قابلِ توجہ مسئلہ ہے، لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ مناسب غذا، ورزش اور مستقل مزاجی کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں وقت کے ساتھ بڑی کامیابی کا سبب بن سکتی ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"ذہنی دباؤ (Stress) — خاموش دشمن اور صحت پر اس کے اثرات"۔
نصیر الدین
ھومیو پیتھک ڈاکٹر
آج کے جدید دور میں موبائل، کمپیوٹر اور ٹی وی کا استعمال ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ گھنٹوں اسکرین کے سامنے رہنے کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ بچوں سے لے کر بڑوں تک، بہت سے لوگ نظر کی کمزوری، آنکھوں کی تھکن اور سر درد کی شکایت کرتے ہیں۔
نظر کی کمزوری کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے:
نظر کی کمزوری یا آنکھوں کی تھکن میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ لوگ اکثر پلکیں کم جھپکتے ہیں، جس کی وجہ سے آنکھیں خشک ہونے لگتی ہیں اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔
ضرورت کے علاوہ مسلسل موبائل استعمال نہ کریں۔
اندھیرے میں موبائل یا کتاب پڑھنا آنکھوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
ہر 20 منٹ بعد چند سیکنڈ کیلئے دور دیکھنا مفید ہو سکتا ہے۔
گاجر، سبز پتوں والی سبزیاں، مچھلی اور پھل آنکھوں کیلئے فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
نیند کی کمی آنکھوں کی تھکن اور سر درد کو بڑھا سکتی ہے۔
ہومیوپیتھی میں آنکھوں کے مسائل کے دوران مریض کی مجموعی علامات، کمزوری، سر درد، ذہنی دباؤ اور دیگر کیفیتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بعض افراد آنکھوں کی تھکن اور کمزوری میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔
تاہم نظر کی واضح کمزوری یا آنکھوں کی بیماریوں میں ماہرِ چشم سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔
اگر:
تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
آنکھیں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ جدید دور میں ان کی حفاظت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ مناسب احتیاط، متوازن غذا اور بروقت معائنہ آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"موٹاپا — درجنوں بیماریوں کی جڑ اور اس سے بچاؤ کے آسان طریقے"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
دمہ ایک عام مگر حساس بیماری ہے جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں سانس کی نالیاں سوج جاتی ہیں یا تنگ ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مریض کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ دمے کا شکار ہیں، اور بچوں میں بھی یہ بیماری کافی عام دیکھی جاتی ہے۔
دمہ کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
کچھ افراد میں ذہنی دباؤ بھی دمے کی شدت بڑھا سکتا ہے۔
دمہ کی علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن عام طور پر:
جیسی علامات دیکھی جا سکتی ہیں۔
دمے کے مریضوں میں بعض چیزیں علامات کو بڑھا سکتی ہیں، جیسے:
ہومیوپیتھی میں دمے کے مریض کی مجموعی کیفیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مثلاً:
ان تمام عوامل کی بنیاد پر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔
تاہم شدید دمے کی صورت میں فوری طبی امداد اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل انتہائی ضروری ہے۔
اگر:
تو فوری طبی امداد ضروری ہے۔
دمہ ایک قابلِ کنٹرول بیماری ہے، بشرطیکہ مریض احتیاط، مناسب علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائے۔ بروقت توجہ اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے دمے کے مریض بھی ایک بہتر اور فعال زندگی گزار سکتے ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
جلد انسانی جسم کا سب سے بڑا عضو ہے، جو نہ صرف جسم کو بیرونی جراثیم سے بچاتی ہے بلکہ ہماری مجموعی صحت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ جب جلد متاثر ہوتی ہے تو انسان جسمانی تکلیف کے ساتھ ذہنی پریشانی بھی محسوس کرتا ہے۔ خارش، ایگزیما، دانے اور الرجی جیسے مسائل آج کل بہت عام ہو چکے ہیں۔
جلدی مسائل کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے:
ایگزیما جلد کی ایک عام بیماری ہے جس میں:
جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
بچوں اور بڑوں دونوں میں یہ مسئلہ پایا جا سکتا ہے۔
خارش صرف جلدی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض اوقات:
کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔
روزانہ صفائی جلدی انفیکشن سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
مناسب پانی جلد کو hydrated رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
پھل، سبزیاں اور قدرتی غذائیں جلد کیلئے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
ہر cosmetic ہر جلد کیلئے مناسب نہیں ہوتا۔
ہومیوپیتھی میں جلدی بیماریوں کے دوران صرف ظاہری علامات نہیں بلکہ مریض کی مجموعی کیفیت، مزاج، غذا اور دیگر جسمانی علامات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
بعض افراد خارش، ایگزیما اور الرجی کے مسائل میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔
اگر:
تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
جلد کی بیماریاں عام ضرور ہیں، لیکن انہیں مسلسل نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ مناسب صفائی، اچھی غذا اور بروقت علاج جلد کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند جلد انسان کے اعتماد اور بہتر زندگی کا اہم حصہ ہے۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
"دمہ (Asthma) — سانس کی تکلیف، احتیاط اور ہومیوپیتھی کا نقطۂ نظر"۔
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
بواسیر ایک ایسی بیماری ہے جس کا سامنا بہت سے لوگ کرتے ہیں، لیکن جھجھک یا شرمندگی کی وجہ سے اس کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ عموماً مقعد کے اردگرد رگوں میں سوجن پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کے باعث درد، جلن اور بعض اوقات خون آ سکتا ہے۔
بواسیر کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
یہ مقعد کے اندر ہوتی ہے اور ابتدا میں زیادہ درد محسوس نہیں ہوتا، لیکن خون آ سکتا ہے۔
یہ مقعد کے باہر ہوتی ہے اور اس میں درد، سوجن اور خارش زیادہ ہو سکتی ہے۔
قبض بواسیر کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ سخت پاخانے کی وجہ سے رگوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے سوجن اور تکلیف پیدا ہو سکتی ہے۔
ہومیوپیتھی میں مریض کی علامات، درد کی نوعیت، قبض کی کیفیت اور عمومی صحت کو مدنظر رکھ کر علاج کیا جاتا ہے۔ بعض افراد بواسیر کی تکلیف میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔
تاہم اگر خون زیادہ آئے یا شدید درد ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
اگر:
تو فوری ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
بواسیر ایک عام بیماری ہے لیکن بروقت احتیاط اور مناسب علاج کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ متوازن غذا، پانی کا مناسب استعمال اور قبض سے بچاؤ اس بیماری سے حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگلے بلاگ کا موضوع:
نصیر الدین
رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر
intoBlog - Audio, Express, Blog