تمہیں جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے،
دنیا میں دل نہ لگانا، تھک جانا، ٹوٹ جانا… یہ سب عارضی ہے۔
تمہاری روح کی اصل پکار جنت ہے، نہ کہ دنیا کی چمک۔"
"وَإِنَّ ٱلۡآخِرَةَ هِيَ ٱلدَّارُ"
“اور بے شک آخرت ہی اصل گھر ہے”
(سورة غافر 39)
اپنے آپ پر یقین — وہ طاقت جو سب کچھ بدل دیتی ہے
دنیا میں سب سے مشکل کام پہاڑ چڑھنا نہیں، دوسروں کو منانا نہیں، حالات بدلنا نہیں۔
سب سے مشکل کام ہے اپنے آپ پر یقین رکھنا۔ کیونکہ جب انسان خود پر شک کرتا ہے تو دنیا کا کوئی انسان اس پر یقین نہیں کرتا - کوئی طاقت اسے آگے نہیں بڑھا سکتی۔
اور جب انسان خود پر یقین کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔
یقین وہ روشنی ہے جو دل کے اندھیروں کو ختم کرتی ہے۔ یقین وہ طاقت ہے جو انسان کو گرتے ہوئے بھی اٹھا دیتی ہے۔ یقین وہ دروازہ ہے جو بند راستوں میں بھی امید کی کرن پیدا کرتا ہے۔
اپنے آپ پر یقین کیوں ضروری ہے؟
پہلا سبب: آپ اپنی زندگی کے سب سے قریب انسان ہیں
دنیا آپ کو نہیں جانتی، مگر آپ خود کو جانتے ہیں۔ آپ کی صلاحیتیں، آپ کے خواب، آپ کی محنت — یہ سب آپ کے اندر ہیں۔ اگر آپ خود پر یقین نہیں رکھیں گے تو دوسرا کوئی کیوں رکھے گا۔
دوسرا سبب: یقین فیصلوں کو مضبوط کرتا ہے
شک انسان کو کمزور کرتا ہے۔ یقین انسان کو واضح سمت دیتا ہے۔ جب آپ یقین کے ساتھ قدم اٹھاتے ہیں تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
تیسرا سبب: یقین مشکلات کو چھوٹا کر دیتا ہے
مشکل وہی بڑی لگتی ہے جسے ہم بڑا سمجھتے ہیں۔ یقین انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ
“میں کر سکتا ہوں، میں سنبھال سکتا ہوں، میں آگے بڑھ سکتا ہوں۔”
چوتھا سبب: یقین اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے
جب انسان خود پر یقین رکھتا ہے تو دراصل وہ اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔ اور اللہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو خود کو کمزور نہیں سمجھتا۔
اپنے آپ پر یقین کیسے پیدا کریں؟
روزانہ اپنے دل میں یہ جملے ڈالیں-
میں قابل ہوں- میں بہتر ہو رہا ہوں- اللہ میرے ساتھ ہے- میں اپنی منزل تک ضرور پہنچوں گا
حرف آخر
اگر آپ کا یقین مضبوط ہو تو آپ کبھی نہیں ٹوٹتے- زندگی میں سب کچھ بدل سکتا ہے — حالات، لوگ، موسم، وقت
جس انسان کو خود پر یقین ہو، وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ اپنے آپ پر یقین رکھیں — یہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔
سورۂ فیل محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے امید، یقین اور توکل کا ابدی پیغام ہے۔ ابرہہ کا لشکر اپنے زمانے کی سپر پاور تھا۔ اس کے پاس طاقت، وسائل، منصوبہ بندی اور ظاہری برتری موجود تھی، جبکہ مکہ کے باشندے بظاہر کمزور اور بے بس تھے۔ لیکن جب حق کے محافظ اللہ تعالیٰ ہوں تو ظاہری طاقتیں اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔
آج ہم سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں رائے، فکر، نظریات اور ثقافتوں کی جنگ جاری ہے۔ بڑی بڑی میڈیا کمپنیاں، طاقتور ادارے، سرمایہ دار گروہ اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد جدید دور کے "لشکر" بن چکے ہیں۔ ان کے پاس وسائل کی فراوانی، جدید ٹیکنالوجی اور کروڑوں لوگوں تک رسائی موجود ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف انہی کی آواز سنی جائے گی اور انہی کا بیانیہ غالب رہے گا۔
لیکن سورۂ فیل ہمیں ایک مختلف حقیقت سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حق کی کامیابی صرف وسائل اور تعداد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک سچا لفظ، ایک مخلص پیغام، ایک علمی مضمون یا ایک مختصر ویڈیو لاکھوں دلوں تک پہنچ کر وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو بڑے بڑے میڈیا نیٹ ورکس بھی پیدا نہیں کر پاتے۔
سوشل میڈیا نے عام انسان کو بھی اظہارِ رائے کا موقع دیا ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کو دیانت، علم اور خیر کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور حق کی اشاعت کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ قرآن کا پیغام، سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور معاشرتی اصلاح کے موضوعات آج چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔
تاہم سورۂ فیل ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ باطل کے پاس وقتی طاقت ضرور ہو سکتی ہے، لیکن دائمی غلبہ نہیں۔ جھوٹ، پروپیگنڈا، نفرت اور گمراہی پر مبنی مہمات وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر ان کا انجام "کَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ" جیسا ہی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو دبانے کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہوئی ہے۔
آج کے مسلمان کے لیے سورۂ فیل کا پیغام یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے میدان میں خوف، مایوسی اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔ اگر اس کا مقصد حق کی خدمت، علم کی ترویج اور اللہ کی رضا ہو تو ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم بھی ابابیل کے کنکروں کی طرح بڑے بڑے باطل بیانیوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اصل طاقت فالوورز، لائکس اور ویوز میں نہیں، بلکہ حق، اخلاص اور اللہ کی مدد میں ہے۔
ہمارے وطن کی فلاپ اور مسترد شدہ تعلیمی سٹرکچر نوجوانوں کو ضائع کرتی جارہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جو خود عالمی اداروں کی جانب سے فیل اور ناکام قرار دیا گیا ہو ، لیکن اسے تبدیل نہیں کیا جارہا۔ اگر یہ سسٹم نہیں تبدیل ہو رہا تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس فلاپ تعلیمی نظام میں اپنے بچوں کو جھونک دینا چاہیے یانہیں ؟
Pull down to refresh