آج لائبریری میں امام ابو جعفر الطحاویؒ (متوفی 321ھ) کی شہرہ آفاق کتاب "العقیدۃ الطحاویۃ" کے چند ابواب دوبارہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ چوتھی صدی ہجری میں لکھے گئے یہ چند جملے موجودہ 2026ء کے پاکستانی معاشرے، فکری انتشار اور ڈیجیٹل دور کے تناظر میں یہ الفاظ اتنے جاندار اور متعلقہ محسوس ہوئے کہ میں اپنے خیالات شیئر کیے بغیر نہ رہ سکا۔معاشرتی امن اور ریاستی استحکام کے حوالے سے اس عظیم متن سے تین بنیادی نکات (Key Takeaways) جو آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں:1۔ ڈیجیٹل تکفیر کا فتنہ اور اہل قبلہ کی حرمتامام طحاویؒ لکھتے ہیں:«وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، مَا لَمْ يَسْتَحِلَّهُ»"اور ہم اہل کلمہ و قبلہ میں سے کسی کو بھی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیتے، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھنے لگے۔"آج ہمارے سوشل میڈیا (LinkedIn, X, Facebook) کا حال دیکھیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کو بھی دائرہ اسلام، حب الوطنی یا انسانیت سے خارج کر دینا بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔ یہ "ڈیجیٹل تکفیر" معاشرتی تانے بانے کو ادھیڑ رہی ہے۔ کلمہ گو کی حرمت کا یہ بنیادی اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ نظریاتی و سیاسی اختلافات کو فتووں اور غداری کے سرٹیفکیٹس کی جنگ نہیں بننا چاہیے۔2۔ مسلح گروہ، "خروج" اور ریاست کا نظمِ اجتماعیکتاب کا دوسرا سنہری اصول یہ ہے:«وَلَا نَرَى الْخُرُوجَ عَلَى أَئِمَّتِنَا وَوُلَاةِ أُمُورِنَا وَإِنْ جَارُوا، وَلَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا نَنْزِعُ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِمْ»"اور ہم اپنے ائمہ اور ولاۃِ امور (حکمرانوں) کے خلاف خروج (بغاوت) کو جائز نہیں سمجھتے خواہ وہ ظلم و زیادتی ہی کیوں نہ کریں، اور نہ ہم ان کے لیے بددعا کرتے ہیں، اور نہ ہی ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔"پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں "شریعت" یا "اصلاح" کا نام لے کر اٹھنے والے عسکری و مسلح گروہوں کا جو زہر چکھا ہے، اس کا علاج اسی اسلامی فکر میں ہے۔ اسلام میں نظمِ اجتماعی (ریاستی رٹ) کی حفاظت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ انارکی اور خانہ جنگی کے مقابلے میں ظالم حکومت کے دور میں بھی پرامن اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی فرد یا گروہ کو نہیں دی جا سکتی۔3۔ افواہ سازی بمقابلہ علمِ الہیٰ پر یقینجب سوشل میڈیا پر سستی شہرت اور پروپیگنڈے کے لیے ادھوری معلومات پھیلائی جاتی ہیں، تو امام طحاویؒ کا یہ جملہ یاد آتا ہے:«وَنَقُولُ: اللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا اشْتَبَهَ عَلَيْنَا عِلْمُهُ»"اور جس چیز کا علم ہم پر مشتبہ ہو جائے (حقائق واضح نہ ہوں)، تو ہم کہتے ہیں: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"یہ ایک جملہ سوشل میڈیا کے دور میں "تحقیقِ احوال" اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے۔نتیجہ فکر:عقیدہ طحاویہ محض ایک نظریاتی کتاب نہیں، بلکہ مسلم معاشرے کا "امن نامہ" ہے۔ پاکستان کو فکری اور داخلی طور پر مستکم کرنے کے لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان کلاسیکی اور متوازن علمی اصولوں سے روشناس کروانا ہوگا، تاکہ وہ نہ تو کسی ریاست مخالف عسکری پروپیگنڈے کا شکار ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا کے فکری انتشار کا حصہ بنیں۔
#Pakistan #SocialOrder #IslamicJurisprudence #SocialMedia #Peace #ThoughtLeadership #DG_ISPR