userPic

Dr Hafizullah khan

Dr Hafizullah khan

Dr. Qari Hafiz Ullah Khan is a dedicated PhD Scholar in Islamic Studies 🎓 specializing in the intersection of Islamic Jurisprudence and modern technology, particularly social media 📱 in Pakistan. With a diverse career as a Government Teacher, AIOU Tutor, and Quran & Tajweed Instructor 📖, he bridges the gap between traditional religious scholarship and contemporary academic excellence."

13
Posts
2
Followers
3
Following
سورہ الکافرون صرف اختلافِ عقیدہ کا اعلان نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچنے کا نام ہے۔ کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں مکالمہ ہو سکتا ہے، اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں سمجھوتہ ممکن نہیں ہوتا۔ ارتقاء اور جمود، عدل اور استحصال، آزادی اور غلامی، روشنی اور تاریکی کبھی ایک ہی چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم ریاستِ پاکستان اور سوشل میڈیا کے باہمی تعلق کو دیکھتے ہیں، تو یہ قرآنی فلسفہ ہمیں ایک نئی جہت دکھاتا ہے۔​پاکستان میں سوشل میڈیا جہاں معلومات کی رسائی کا ایک تیز ترین ذریعہ بن چکا ہے، وہاں یہ فکری انتشار، نظریاتی جنگ اور اخلاقی گراوٹ کا میدان بھی بن چکا ہے۔ آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر ملکی سالمیت، اسلامی اقدار اور سماجی تانے بانے پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔ الغرض، سوشل میڈیا پر ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جہاں جھوٹ اور سچ، حق اور باطل کو اس طرح خلط ملط کر دیا گیا ہے کہ عام شہری کے لیے نظریاتی شناخت برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔​سورہ الکافرون ہمیں سکھاتی ہے کہ جو نظام انسان کی صلاحیتوں کو دباتا، شعور کو قید کرتا اور حق کو چھپاتا ہے، اس کے ساتھ مصالحت نہیں بلکہ واضح لاتعلقی درکار ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر نئی صبح کا آغاز، گزشتہ رات کی تاریکی سے وفاداری نبھا کر نہیں ہوتا۔ پاکستانی معاشرے میں جب سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد، لادینیت اور مغربی افکار کو ڈیجیٹل یلغار کی صورت میں مسلط کرنے کی کوشش کی جائے، تو ریاست اور افراد دونوں کے لیے سورہ الکافرون کا پیغام مشعلِ راہ ہے۔​سوشل میڈیا پر اخلاقی باؤنڈریز اور ڈیجیٹل اخلاقیات کا تعین کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "تمہارے لیے تمہارا راستہ، اور میرے لیے میرا راستہ" کا اصول دراصل نفرت کا اعلان نہیں، بلکہ اصول پر استقامت کا اعلان ہے۔ ریاستِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانین اور ضابطے وضع کرے جو شہریوں کے شعور کو قید نہ کریں، بلکہ انہیں گمراہی سے بچائیں۔ جب تک ہم فکری طور پر باطل نظریات سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کریں گے، ہم ایک خوددار اور نظریاتی ریاست کے طور پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
سورہ یوسف کا آفاقی اسلوب: عصرِ حاضر کے پاکستانی معاشرے اور سوشل میڈیا کے لیے ایک متبحر رہنماسورہ یوسف قرآنِ کریم کا وہ شاہکار ہے جسے خود باری تعالیٰ نے "احسن القصص" (بہترین قصہ) قرار دیا۔ اس سورت کا مطالعہ جہاں روح کو جلا بخشتا ہے، وہاں انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور ریاستی امور کے ایسے گوشے وا کرتا ہے جو آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔اگر ہم تدبر کی نگاہ سے دیکھیں تو یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ حسد کی آگ انسان کو اس حد تک اندھا کر سکتی ہے کہ اپنے ہی خونی رشتے انسان کو ہلاکت کے کنویں میں ڈالنے سے دریغ نہیں کرتے۔ تاہم، اللہ کی تدبیر دیکھیے کہ جہاں اپنے منہ موڑ لیتے ہیں، وہاں غیر نجات دہندہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ سورت ہمیں یہ حوصلہ دیتی ہے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو ایک پارسا انسان پر بھی جھوٹی تہمت لگائی جا سکتی ہے، اور بغیر کسی جرم کے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑ سکتی ہیں۔ لیکن غیبی مدد کا اصول یہ ہے کہ آخر کار براءت مل کر ہی رہتی ہے۔ پاکستان کے موجودہ منظرنامے میں، جہاں سوشل میڈیا پر کسی کی پگڑی اچھالنا، فیک نیوز پھیلانا اور بغیر تحقیق کے کردار کشی کرنا ایک عام رجحان بن چکا ہے، سورہ یوسف کا یہ پہلو ہمیں صبر، ضبط اور الٰہی انصاف پر یقینِ کامل کا درس دیتا ہے۔دوسری طرف، یہ سورت ایک فردِ واحد کی مظلومیت سے شروع ہو کر ریاست کے سب سے اعلیٰ منصب تک پہنچنے کی داستان ہے۔ ظلم اور ہجر کے طویل مراحل سے گزرنے کے بعد جب حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر کا عظیم منصب اور اقتدار ملا، تو انہوں نے انتقام کے بجائے حسنِ تدبیر، معاشی حکمتِ عملی اور تقویٰ کے ذریعے ملک کو قحط سالی سے نکالا۔ ریاستِ پاکستان کے تناظر میں، جہاں مایوسی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ عزت کا حصول صرف اور صرف تقویٰ اور امانت داری سے ہی ممکن ہے۔ یہ سورت ایک نویدِ سحر ہے کہ ہجر کاٹا جا سکتا ہے، بچھڑے مل سکتے ہیں اور اللّٰہ کی رحمت سے ہر سچا خواب پورا ہو سکتا ہے۔قرآن کے اس اسلوب میں عجب کشش اور جاذبیت ہے۔ اس کا حسنِ بیان دلوں کو تسلی دیتا ہے، اس کی فصاحت و بلاغت عقل کو حیران کرتی ہے، اور اس کی نصیحتیں مایوس دلوں میں ایک قوی امیدِ نو پیدا کرتی ہیں۔ یہ سورت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کے طوفان اور ملکی حالات کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہر پاکستانی کے لیے صراطِ مستقیم ہے۔
آج کے سوشل میڈیا کے دور میں جہاں 'فیک نیوز' اور 'کردار کشی' کے ذریعے کسی کو بھی مجرم بنا دیا جاتا ہے، ہم سورہ یوسف کے اسوہ سے اپنی ڈیجیٹل اخلاقیات کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟سورہ یوسف ہمیں سکھاتی ہے کہ بدترین معاشی و معاشرتی بحران کے بعد بھی عروج ممکن ہے۔ آپ کے خیال میں موجودہ ملکی حالات میں مایوسی کو امید میں بدلنے کے لیے ریاست اور شہریوں کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟اس سورت کا کون سا ایسا پہلو یا آیت ہے جو آپ کو زندگی کی سب سے بڑی آزمائش میں سب سے زیادہ حوصلہ اور تسلی دیتی ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
یادِ رفتگان: مولانا گل بر خان محسوددنیا میں اساتذہ تو تمام ہی قابلِ احترام اور لائقِ صد تکریم ہوتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ لیکن زندگی کے سفر میں کچھ ایسی ہستیاں ملتی ہیں ۔جن کا نقشِ قدم دل و دماغ پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتا ہے۔ آج میں جس عظیم استادِ محترم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ علم و عمل کا ایک انمول ہیرا تھے۔ جنہیں دنیا محترم مولانا گل بر خان محسود کے نام سے جانتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر وہ انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ" ماسیدے ایستوذ" یعنی محسود استاد کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ مجھے ان کی سرپرستی میں پانچ سال سے زائد کا طویل عرصہ طالب علمی اور خدمت گزاری کا بے حد مبارک موقع ملا۔ یہ ایک ایسا یادگار علمی سفر تھا ۔جو پنج گنج، گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی کے ادبی چمنستانوں سے شروع ہوا اور خلاصۃ کیدانی کی ابتدائی فقہی حدود سے گزرتا ہوا کنز الدقائق کے باب النکاح کی عمیق ابحاث تک جاری رہا۔ ان کا درس دینے کا انداز اتنا دلنشیں تھا کہ کتاب کا ہر لفظ ذہن میں اتر جاتا تھا۔مولانا مرحوم شیخ سعدی شیرازی کے کلام اور ان کی شخصیت کے ساتھ عشق کی حد تک محبت کرتے تھے۔ انہیں فارسی ادب سے اس قدر گہرا شغف تھا۔ کہ وہ گلستانِ سعدی کے قطعات کو اپنے مخصوص اور مسحور کن ترنم میں گنگنایا کرتے تھے، جس سے پورا ماحول علمی اور روحانی وجد میں آ جاتا تھا۔ بوستانِ سعدی کا وہ مشہور اشعار ان کا خاص پسندیدہ تھا ۔جس میں مٹی اور پھول کی ہمنشینی کا دلکش مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس کلام کو سناتے ہوئے وجدانی کیفیت میں اڑ جاتے تھے۔ وہ اشعار اور ان کا خوبصورت اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:اگر غلط ہے تو صحیح کرنے کی درخواست ۔۔۔گلی خوش بوئے در حمام روزےرسید از دستِ محبوبے بہ دستمبدُو گفتم کہ مشکی یا عبیرےکہ از بوئے دل آویز تو مستمبگفتا من گِلے ناچیز بودمولیکن مدّتے با گُل نشستمجمالِ ہمنشیں در من اثر کردوگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستمترجمہ: ایک دن حمام میں کسی محبوب کے ہاتھ سے ایک خوشبودار مٹی کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں آیا۔ میں نے اس مٹی سے کہا کہ تو مشک ہے یا عنبر؟ کیونکہ میں تیری دلآویز خوشبو سے مست ہو رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا۔ کہ میں تو ایک ناچیز مٹی ہی تھی، لیکن کچھ عرصہ مجھے پھول کی ہمنشینی کا شرف حاصل رہا۔ اس ہمنشیں کے حسن اور صحبت نے مجھ پر اثر کر دیا، ورنہ میں تو وہی عام مٹی ہوں، جو پہلے تھی۔مولانا اکثر صحبتِ صالح کے اثرات کو واضح کرنے کے لیے فارسی شعر بھی اپنے مخصوص انداز میں گنگنایا کرتے تھے کہ" صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند،" یعنی اچھے کی صحبت تمہیں اچھا بنا دیتی ہے اور برے کی صحبت تمہیں برائی کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن ہائے افسوس کہ اس وقت میری عمر چھوٹی تھی اور میری اپنی نالائقی و کم فہمی آڑے آئی، جس کی بنا پر میں ان کے بحرِ علم سے وہ فیض حاصل نہ کر سکا، جس طرح علم حاصل کرنے اور اسے یاد رکھنے کا اصل حق تھا۔ مولانا علم کے ساتھ عمل پر بے پناہ زور دیتے تھے۔ اور اکثر فرمایا کرتے تھے(مولانا محمد ربان شاہ کے حوالے سے)۔کہ انسان کے پاس اگر ایک چھٹانک علم ہو، تو اس کے مقابلے میں ایک من عمل ہونا چاہیے، کیونکہ عمل کے بغیر علم محض ایک بے ثمر درخت کی مانند ہے۔علاقہ ککی کے" غیور عوام" خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مالدار ہوں یا غریب، صحیح العقل ہوں یا فاتر العقل، مولانا ان تمام لوگوں سے یکساں اور بے پناہ محبت کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی ،کہ عوام بھی ان سے دل و جان سے محبت کرتے تھے ۔اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ مولانا انتہائی زہد و تقویٰ والی درویشانہ زندگی گزارتے تھے۔ اور ان کا یہی تقویٰ ان کے کلام میں وہ تاثیر پیدا کرتا تھا کہ وہ معاشرے میں جس کو بھی نصیحت فرماتے، لوگ فوراً دل و جان سے اس پر عمل پیرا ہو جاتے۔ مولانا کے قدردان سماج کے ہر طبقے میں موجود تھے، یہاں تک کہ محترم عطاء اللہ جان مرحوم جیسے معززین بھی ان کی بے پناہ قدر اور تعظیم کرتے تھے۔ مولانا صاحب انتہائی صاحبِ کرامات بزرگ اور جید عالمِ دین تھے، اور آج بھی ککی کے بزرگوں میں ایسے درجنوں اکابرین موجود ہیں۔ جو آپ کو مولانا کی برحق کرامات کے بارے میں چشم دید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کی مستجاب الدعوات شخصیت کا یہ عالم تھا، کہ ان سے دعائیں کروانے کے لیے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آتے تھے، جن میں سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے امیر و غریب افراد شامل ہوتے تھے۔مولانا کی زندگی میں زہد و ورع کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا ،کہ وہ عورتوں سے انتہائی درجے کی کنارہ کشی اور اجتناب فرماتے تھے۔ تاکہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر قائم رہ سکیں۔ عوام ان کی خدمت میں بہت بڑی مقدار میں مالی امداد اور نذرانے پیش کرتے تھے، لیکن دنیا سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا ،کہ مولانا ان پیسوں کو کبھی گنتے تک نہیں تھے۔ بلکہ فوراً ہی غریب اور ضرورت مند لوگوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ ان کے اس مالِ امداد سے سب سے زیادہ مستفید وہ فاتر العقل اور مجذوب لوگ ہوتے تھے۔ جن کا معاشرے میں کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تھا۔ ان کی شفقت اور ظرافت کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک فاتر العقل نوجوان کو کچھ روپے دے رہے تھے اور ساتھ ہی نصیحت فرما رہے تھے کہ محترم آپ آج سے باقاعدگی کے ساتھ نماز شروع کریں۔ اس مجنون نے آگے سے معصومیت سے جواب دیا کہ مولوی صاحب میں تو پرائیویٹ امتحان دیتا ہوں۔۔ اس معصومانہ اور عجیب بات کو سن کر مولانا صاحب بہت زیادہ ہنسے اور اس کی نادانی پر مسکرا دیے۔مولانا کے اساتذہ کی فہرست بھی انتہائی جلیل القدر علمائے کرام پر مشتمل ہے۔ ان کے اساتذہ میں فقیر عبد الواسع مرحوم جہانگیر ککی، اور مولانا تقی الدین مرحوم کے دادا مولانا گل اکبر شامل تھے، جن سے برصغیر کی مشہور انقلابی شخصیت حاجی فقیر ایپی نے بھی علمِ دین حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ربان شاہ مرحوم الدیوبندی، اور مولانا محمد عثمان شاہ صاحب مدظلہ العالی جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ مولانا زرطلا خان مدظلہ خود بھی بہت بڑے صاحبِ تقویٰ عالمِ دین ہیں، لیکن وہ خود مولانا کو درسِ قرآن بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے اس شاگرد کو عقیدت و محبت سے دبا بھی رہے ہیں۔ یہ ان کا اپنے شاگرد کی علمی و روحانی عظمت کا اعتراف تھا۔ میری ربِ کریم سے عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام محسن اساتذہ کرام سمیت محترم مولانا گل بر خان محسود صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین۔ڈاکٹر قاری حفیظ اللہ خان@highlight
postImage
سوشل میڈیا اور موبائل فون کا بے دریغ استعمال عصرِ حاضر کا وہ ناسور بن چکا ہے جو اب ضرورت یا عادت کی حدوں کو پار کر کے ایک جان لیوا لت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس جدید وباء نے رنگ و نسل، عمر اور طبقے کی تفریق کے بغیر پوری دنیا کی اکثریتی آبادی کو اپنی سنگین لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اب کیا بوڑھے، کیا جوان اور کیا بچے، سبھی اس سحرِ انگیز جال میں اس طرح جکڑے جا چکے ہیں کہ زندگی کی حقیقی رعنائیاں پسِ پشت چلی گئی ہیں۔ کائنات کا ہر رشتہ، چاہے وہ ماں اور بچے کا مقدس تعلق ہو، استاد اور شاگرد کا علمی رشتہ ہو، یا کسی نوکر اور افسر کا پیشہ ورانہ موازنہ ہو، اس لت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ امارت کی چمک دمک ہو یا غربت کی تاریکی، اس سحرِ عام نے ہر گھر کے آنگن میں اپنا ڈیرہ جما لیا ہے。اس فکری زوال کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ ہر فرد اپنی بنیادی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ وقت بے وقت موبائل کی اس مادی دنیا میں گم ہو جانا اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ ہمارے سامنے جیتے جاگتے رشتہ دار، عزیز و اقارب اور مہمان بیٹھے ہوتے ہیں، سائلین اور ضرورت مند ملازمین ہماری ایک نظرِ کرم کے منتظر ہوتے ہیں، دکان کے سامنے خریدار کھڑا ہوتا ہے، کسان کو کھیت میں ہل چلانا ہوتا ہے، اور گاڑی کا مسافر باہر کھڑا ڈرائیور کی توجہ کا طالب ہوتا ہے، مگر ہم ہیں کہ ہر دو منٹ بعد سجدہ سہو کی طرح موبائل اٹھا کر یہ دیکھنے پر مجبور ہیں کہ مجازی دنیا میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اگر ہم فیس بک، ٹوئٹر یا انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر نہ بھی جائیں، تو واٹس ایپ کے پیغامات کو دیکھنا گویا ہماری زندگی کا ایک ایسا فرضِ عین بن چکا ہے جس کی قضا ممکن ہی نہیں。اس لایعنی مصروفیت کے نتیجے میں کتابوں اور اخبارات کا مطالعہ، جو کبھی انسانی ذوق کا عروج اور علم کا سرچشمہ تھا، اب قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔ ابنِ رشد، غزالی اور رازی کے علمی وارث اب ورق گردانی کی لذت سے یکسر محروم ہو چکے ہیں۔ اس ذہنی انتشار کا یہ عالم ہے کہ جب کسی ضروری کام یا کسی قریبی شخص کو فون کرنے کے لیے آلہ ہاتھ میں اٹھایا جاتا ہے، تو واٹس ایپ پر موصول ہونے والے پیغامات کا ایک سیلابِ بلا خیز سامنے آتا ہے۔ انسان اس میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ وہ اصل مقصد ہی بھول جاتا ہے اور یوں ضروری کام کا پورا ستیا ناس ہو جاتا ہے。یہ صورتحال اب صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک عالمی المیہ بن چکی ہے۔ دنیا بھر کے نفسیاتی و سماجی ماہرین اور محققین کے لیے یہ وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس سنگین موضوع پر ہنگامی بنیادوں پر تحقیق کریں۔ ہمیں ایک ایسا متوازن اور جامع طریقہ کار دریافت کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے ذریعے انسانیت اس ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ اپنی حقیقی اور عملی زندگی کے فرائض بھی احسن طریقے سے سرانجام دے سکے۔ اگر اس فکری اور اخلاقی بحران کا فوری تدارک نہ کیا گیا، تو انسانی تہذیب اور خاندانی نظام کے حق میں اس کے نتائج انتہائی تباہ کن اور ہولناک ہوں گے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک دل خراش ویڈیو سامنے آئی۔ جس میں ایک سفید ریش بزرگ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے فروخت کیے گئے بکرے کے بدلے ملنے والے پچپن ہزار روپے کے جعلی نوٹ ہاتھ میں لیے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر دل افسردہ ہو گیا۔ افسوس اس بات کا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو ایک معصوم اور مجبور بزرگ کو دھوکا دینے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ شاید شیطان بھی یہ منظر دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہتا ہو کہ میرے بعض شاگرد ابھی تک پوری لگن سے اپنا کام کر رہے ہیں۔
لیکن کہانی کا دوسرا رخ نہایت خوبصورت اور امید افزا ہے۔ جب باباجی کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اور لوگوں نے ان کی آنکھوں میں چھپے درد، مجبوری اور بے بسی کو محسوس کیا ۔تو پشتون سماج کے مخیر حضرات میدان میں آگئے۔ لوگوں نے دل کھول کر مدد کی ۔اور چند ہی دنوں میں باباجی کو سات لاکھ روپے سے زائد مالی تعاون فراہم کیا گیا۔ ان کے چہرے پر لوٹ آنے والی مسکراہٹ نے ثابت کر دیا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
شاید ایسے ہی مواقع کے لیے کہا گیا ہے:
"دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں"
یہ واقعہ پشتون معاشرے کے دو رخ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ ایک رخ دھوکے، لالچ اور بے حسی کا ہے، جبکہ دوسرا رخ اخوت، ہمدردی اور انسان دوستی کا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ نیکی کا پلڑا کہیں زیادہ بھاری نظر آتا ہے۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو بھی نمایاں کیا ہے۔ اگر یہی پلیٹ فارم ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو یہ مظلوموں کی آواز بن سکتا ہے۔ پشاور کی مغوی بچی کے معاملے میں بھی سوشل میڈیا نے عوامی توجہ پیدا کرنے اور مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ہمارے غیور عوام زندہ باد، پشتون قوم زندہ باد، جو مشکل وقت میں اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑتی۔
postImage
قائد اعظم محمد علی جناح نے فلسطین کی تقسیم کے منصوبے کو اخلاقی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے ایک ’ناجائز بچہ‘ کہا تھا۔ ان کے نزدیک اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ خود اس کے اپنے چارٹر کے خلاف اور عدل و انصاف کے مسلمہ اصولوں سے متصادم تھا۔ اسی اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کے سفر کی ممانعت کا درج ہونا محض ایک سفارتی نوٹ نہیں، بلکہ ہمارے قومی عزم، اسلامی تشخص اور سفارتی جرات کی ایک زندہ علامت ہے۔موجودہ دور میں ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا رخ اختیار کیا ہے۔ بظاہر یہ معاہدے سیموئیل پی ہنٹنگٹن (Samuel P. Huntington) کی مشہور زمانہ کتاب تہذیبوں کا تصادم (The Clash of Civilizations) کے نظریے کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے بظاہر مسلم اور یہودی ریاستوں کے مابین تعلقات استوار ہو رہے ہیں۔ کہ کسی بھی طرح مسلم امہ کے لیے اسرائیلی مسلہ نارمل ہو۔۔مگر گہرائی میں دیکھا جائے، تو یہ معاہدے تہذیبی خطوط کو مٹانے کے بجائے، انہیں مزید الجھا رہے ہیں، کیونکہ یہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور دیرینہ قربانیوں کو یکسر پس پشت ڈال کر صرف مادی و سیاسی مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات انتہائی حیران کن رہے ہیں۔۔ کہ ابراہیمی معاہدے کسی بھی مستقبل کی ایران ڈیل کا لازمی حصہ ہوں گے۔ اس طرح کے بیانات نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہیں، بلکہ وہ خطے کی جغرافیائی اور تاریخی پیچیدگیوں کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ دوسری طرف، سعودی عرب کا یہ موقف، کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممکن نہیں، ایک انتہائی حقیقت پسندانہ اور متوازن سفارتی اقدام ہے۔اس بین الاقوامی دباؤ اور بدلتے ہوئے منظر نامے میں پاکستان نے اپنا موقف انتہائی واضح اور جرات مندانہ رکھا ہے۔ ملکی قیادت، وزیر خارجہ اور دفاعی مقتدرہ نے بارہا، اس عزم کو دہرایا ہے کہ فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر کوئی بھی علاقائی معاہدہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ یہ پاکستان کا وہ دلیرانہ موقف ہے۔ جو قائد اعظم کی سیاسی و ایمانی میراث کا تسلسل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک معاشی فوائد اور تجارتی مصلحتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، پاکستان نے مادی فائدے پر اصولوں کی پاسداری کو ترجیح دی ہے۔اس پورے منظر نامے کا ایک سب سے اہم اور حساس پہلو "وحدت ادیان" (Syncretism) کا علمی و فکری خدشہ ہے۔  کہ تمام ادیان کو اکھٹا کی جائے ،اس کے دوبئی ایک ایسا عبادت خانہ قائم کیا گیا ہے کہ تینوں مذاہب اس میں عبادت کر سکتے ہیں ۔۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام قرآن مجید کی رو سے امن، سلامتی، اور خالص توحید کے داعی ہیں، جبکہ ان کے نام پر قائم کی جانے والی موجودہ سیاسی ریاست فلسطینی بچوں اور بے گناہ انسانوں کے خون سے لتھڑی ہوئی ہے۔ مسلم علما اور اصحابِ دانش اس نکتے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کہ مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے خوبصورت لبادے میں کہیں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کی مرکزیت اور مظلوم کی حمایت کے جذبے کو سرد تو نہیں کیا جا رہا؟پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت بھی بین الاقوامی سطح پر اصول پرستی کی ایک درخشندہ مثال ہے ۔۔جب پوری دنیا مفاد پرستی اور حقیقت پسندی (Realism) کا شکار ہو چکی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک زمین کا ٹکڑا یا علاقائی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ضمیر، بین الاقوامی قانون اور مسلم امہ کی حمیت کا معاملہ ہے۔ قائد اعظم کا وژن آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ کہ مسلم امہ کی حقیقی یکجہتی، مظلوم کی داد رسی اور عدل و انصاف کی پاسداری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔یہ پائیدار اور غیر متزلزل موقف نہ صرف عالمی برادری میں پاکستان کے قومی وقار اور خودداری کی حفاظت کرتا ہے، بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن اور قابل فخر مثال قائم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ حق اور سچائی کے راستے پر مضبوطی سے کھڑا رکھے۔
#قائد_اعظم_کا_وژن #فلسطین_فنڈامنٹل_رائٹس #ابراہیمی_معاہدے #پاکستان_کا_موقف #تہذیبوں_کا_تصادم #اسلامی_سیاست #خارجہ_پالیسی #بین_المذاہب_مکالمہ #Gaza #AbrahamAccords #Huntington #PakistanForeignPolicy
سوشل میڈیا اور پاکستان میں دہشت گردی کا پھیلاؤ: ریاستی چیلنجز اور لائحہ عملاکیسویں صدی میں سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے جس نے دنیا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں اس کا ایک بھیانک رخ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پھیلاؤ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے طویل عرصے تک ڈیجیٹل دنیا کے اس خطرے کو وہ ریاستی اہمیت نہیں دی جس کا یہ تقاضا کرتی تھی، جس کے نتیجے میں آج مسلح تنظیمیں ورچوئل اسپیس میں انتہائی متحرک اور بعض اوقات ریاستی بیانیے پر حاوی نظر آتی ہیں۔مصلح پسند عناصر سوشل میڈیا کو نوجوانوں کی ذہن سازی (Brainwashing) اور بھرتیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پیٹر ڈبلیو سنگر اور ایمرسن ٹی بروکنک اپنی کتاب "LikeWar: The Weaponization of Social Media" میں لکھتے ہیں کہ جدید دور میں جنگیں اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ انٹرنیٹ پر کلکس اور شیئرز کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔ پاکستان میں عسکریت پسند دور بیٹھ کر موبائل فونز کے ذریعے کارروائیوں کو ریکارڈ کرتے اور پروپیگنڈا وائرل کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، پختون بیلٹ کے بعض دیہی اور کم تعلیم یافتہ علاقوں میں نوجوان محض سوشل میڈیا پر "ہیرو" بننے اور اپنی ویڈیوز پبلک ہونے کی سستی شہرت کے شوق میں ان تنظیموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں بنوں میں ہلاک ہونے والے افغان نژاد عسکریت پسند "استاد عبداللہ سعید" (المعروف استاد یاسر دوم) کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس کے وائرل بیانات نے سینکڑوں پختون نوجوانوں کو متاثر کیا۔ جے ایم برگر اپنی کتاب "Extremism" میں واضح کرتے ہیں کہ انتہا پسند گروہ کس طرح سوشل میڈیا الگورتھم کا فائدہ اٹھا کر مظلومیت اور شناخت کا جھوٹا بیانیہ بیچتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستِ پاکستان روایتی طریقوں سے نکل کر ایک جامع اور جدید ڈیجیٹل حکمتِ عملی وضع کرے۔ عسکریت پسندوں کے اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کبریا ہارمونی کی کتاب "Weapons of Mass Psychological Destruction" کے اصولوں کے مطابق کاؤنٹر نریٹو (متبادل بیانیے) کو ریاستی سطح پر نافذ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔#SocialMediaAndTerrorism #DigitalJurisprudence #CounterTerrorism #CyberSecurityPakistan #NationalSecurity #DigitalEthics #CounterNarrative #AcademicResearch #PakistanDefense #PashtunYouth #HybridWarfare #StrategicStudies
آج لائبریری میں امام ابو جعفر الطحاویؒ (متوفی 321ھ) کی شہرہ آفاق کتاب "العقیدۃ الطحاویۃ" کے چند ابواب دوبارہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ چوتھی صدی ہجری میں لکھے گئے یہ چند جملے موجودہ 2026ء کے پاکستانی معاشرے، فکری انتشار اور ڈیجیٹل دور کے تناظر میں یہ الفاظ اتنے جاندار اور متعلقہ محسوس ہوئے کہ میں اپنے خیالات شیئر کیے بغیر نہ رہ سکا۔معاشرتی امن اور ریاستی استحکام کے حوالے سے اس عظیم متن سے تین بنیادی نکات (Key Takeaways) جو آج ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں:1۔ ڈیجیٹل تکفیر کا فتنہ اور اہل قبلہ کی حرمتامام طحاویؒ لکھتے ہیں:«وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ، مَا لَمْ يَسْتَحِلَّهُ»"اور ہم اہل کلمہ و قبلہ میں سے کسی کو بھی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیتے، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھنے لگے۔"آج ہمارے سوشل میڈیا (LinkedIn, X, Facebook) کا حال دیکھیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کو بھی دائرہ اسلام، حب الوطنی یا انسانیت سے خارج کر دینا بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے۔ یہ "ڈیجیٹل تکفیر" معاشرتی تانے بانے کو ادھیڑ رہی ہے۔ کلمہ گو کی حرمت کا یہ بنیادی اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ نظریاتی و سیاسی اختلافات کو فتووں اور غداری کے سرٹیفکیٹس کی جنگ نہیں بننا چاہیے۔2۔ مسلح گروہ، "خروج" اور ریاست کا نظمِ اجتماعیکتاب کا دوسرا سنہری اصول یہ ہے:«وَلَا نَرَى الْخُرُوجَ عَلَى أَئِمَّتِنَا وَوُلَاةِ أُمُورِنَا وَإِنْ جَارُوا، وَلَا نَدْعُو عَلَيْهِمْ، وَلَا نَنْزِعُ يَدًا مِنْ طَاعَتِهِمْ»"اور ہم اپنے ائمہ اور ولاۃِ امور (حکمرانوں) کے خلاف خروج (بغاوت) کو جائز نہیں سمجھتے خواہ وہ ظلم و زیادتی ہی کیوں نہ کریں، اور نہ ہم ان کے لیے بددعا کرتے ہیں، اور نہ ہی ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔"پاکستان نے گزشتہ دہائیوں میں "شریعت" یا "اصلاح" کا نام لے کر اٹھنے والے عسکری و مسلح گروہوں کا جو زہر چکھا ہے، اس کا علاج اسی اسلامی فکر میں ہے۔ اسلام میں نظمِ اجتماعی (ریاستی رٹ) کی حفاظت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ انارکی اور خانہ جنگی کے مقابلے میں ظالم حکومت کے دور میں بھی پرامن اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی فرد یا گروہ کو نہیں دی جا سکتی۔3۔ افواہ سازی بمقابلہ علمِ الہیٰ پر یقینجب سوشل میڈیا پر سستی شہرت اور پروپیگنڈے کے لیے ادھوری معلومات پھیلائی جاتی ہیں، تو امام طحاویؒ کا یہ جملہ یاد آتا ہے:«وَنَقُولُ: اللَّهُ أَعْلَمُ فِيمَا اشْتَبَهَ عَلَيْنَا عِلْمُهُ»"اور جس چیز کا علم ہم پر مشتبہ ہو جائے (حقائق واضح نہ ہوں)، تو ہم کہتے ہیں: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"یہ ایک جملہ سوشل میڈیا کے دور میں "تحقیقِ احوال" اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے۔نتیجہ فکر:عقیدہ طحاویہ محض ایک نظریاتی کتاب نہیں، بلکہ مسلم معاشرے کا "امن نامہ" ہے۔ پاکستان کو فکری اور داخلی طور پر مستکم کرنے کے لیے ہمیں اپنے نوجوانوں کو ان کلاسیکی اور متوازن علمی اصولوں سے روشناس کروانا ہوگا، تاکہ وہ نہ تو کسی ریاست مخالف عسکری پروپیگنڈے کا شکار ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا کے فکری انتشار کا حصہ بنیں۔#Pakistan #SocialOrder #IslamicJurisprudence #SocialMedia #Peace #ThoughtLeadership #DG_ISPR
اللہ الصمد اور سنسکرت کا ایک لفظامیرِ شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی زندگی کا ہر ورق علم و حکمت اور عشقِ الٰہی سے لبریز ہے۔ ان کی سوانح میں ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز واقعہ ملتا ہے، جو قرآن مجید کی آفاقیت اور صفتِ صمدیت کی ایسی تفسیر بیان کرتا ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔شاہ جی فرماتے ہیں کہ جب وہ برطانوی دورِ حکومت میں جیل میں قید تھے، تو ایک دن ان کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ قرآنِ کریم کا وہ شہرہ آفاق ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کریں جو شاہ عبد القادر دہلوی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے جیل میں وہ نسخہ منگوایا اور گہرے تدبر کے ساتھ اس کا مطالعہ شروع کیا۔جب شاہ جی سورہ اخلاص کی دوسری آیت پر پہنچے، تو وہاں "اللہ الصمد" کا جو ترجمہ شاہ عبد القادرؒ نے کیا تھا، وہ ان کے لیے بالکل نیا اور اچھوتا تھا۔ انہوں نے اس کا معنی "نراسترک" لکھا ہوا تھا۔ شاہ جی فرماتے ہیں کہ یہ لفظ میری سمجھ سے بالاتر تھا اور اس کی گہرائی تک نہ پہنچ پانے کے باعث میں سخت بے چین ہو گیا۔اسی بے چینی کے عالم میں انہیں خیال آیا کہ جیل میں ایک ہندو پنڈت بھی قید ہے، کیوں نہ اس سے رجوع کیا جائے۔ شاہ جی اس پنڈت کے پاس گئے اور پوچھا کہ سنسکرت زبان میں "نراسترک" کے کیا معنی ہیں؟ شاہ جی لکھتے ہیں کہ میرا یہ پوچھنا ہی تھا کہ پنڈت پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی اور وہ وجد میں آ کر جھومنے لگا۔کافی دیر کے بعد جب وہ اپنی اصل کیفیت میں واپس آیا، تو شاہ جی نے حیرت سے پوچھا: "اے اللہ کے بندے! میں نے تو صرف ایک لفظ کا مطلب پوچھا تھا، تم پر یہ کیسی حالت طاری ہو گئی؟" پنڈت نے گہرے سانس لے کر کہا: "شاہ جی! کیا آپ یہ سچ سن سکیں گے؟" شاہ جی نے فرمایا: "ہاں، کیوں نہیں! ضرور سناؤ۔"پنڈت نے ادب سے سر جھکایا اور بولا: "سنو پھر! ’نراسترک‘ سنسکرت کا وہ عظیم لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ’وہ ذات جس کا کام کائنات کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور اگر وہ خود نہ چاہے تو کائنات میں کسی کا کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا۔‘"شاہ جی فرماتے ہیں کہ پنڈت کے منہ سے صفتِ صمدیت کی یہ جامع ترین تعریف سن کر مجھ پر بھی ایک سحر طاری ہو گیا اور مجھے اپنے ہوش و حواس کا پتا نہ رہا۔ بے شک میرا رب ہی "الصمد" یعنی سب سے بے نیاز اور سب کی ضرورت ہے۔قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ (1) اَللّٰهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ (3) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ (4)
سوشل میڈیا کا محاذ اور ہماری غفلتڈاکٹر قاری حفیظ اللہ خان آج پاکستان بیک وقت کئی اندرونی و بیرونی محاذوں پر نبردآزما ہے، لیکن ان میں سب سے اہم اور خطرناک محاذ "سوشل میڈیا" کا ہے،جسے پاکستانی عوام صرف انٹرٹرمنٹ کا ذریعہ سمجھتی ہے اور جسے بدقسمتی سے ریاستی سطح پر وہ اہمیت نہیں دی گئی، جس کا یہ متقاضی تھا۔ ڈیجیٹل دور میں روایتی ہتھیاروں سے زیادہ پروپیگنڈا اثر انداز ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کو وہ اہمیت نہیں دی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔ جب جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ممالک اس میدان میں خود کو پیچھے محسوس کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔حالیہ پاک افغان تنازع کو ہی دیکھ لیجیے۔ افغان حکومت اور ان کے نیٹ ورکس نے سوشل میڈیا کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی پوری "پروپیگنڈا وار" کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، افغان سوشل میڈیا ہینڈلز اپنے داخلی مسائل پر بات کرنے کے بجائے، پوری قوت سے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف ہماری حالت یہ ہے کہ ہم داخلی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ ہمارے اپنے ہی کچھ سوشل میڈیا صارفین نادانی یا ایجنڈے کے تحت ریاستی اداروں کے خلاف مہم جوئی کا حصہ بن جاتے ہیں، جس سے دشمن کا کام مزید آسان ہو جاتا ہے۔سوشل میڈیا کا یہ زہر کس طرح ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اپنے آبائی علاقے بنوں کی صورتحال دیکھ کر بخوبی ہوتا ہے، جہاں ڈیجیٹل پروپیگنڈے نے مقامی سطح پر شدید بے چینی اور دوریاں پیدا کیں، جس کا شاید ریاستی اداروں کو درست اندازہ بھی نہ ہو۔تاریخ گواہ ہے کہ "فیک نیوز" اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہمیشہ سے ریاستوں کے لیے زہرِ قاتل رہا ہے۔ میری پی ایچ ڈی تحقیق کا موضوع بھی اسی حساسیت کے گرد گھومتا ہے کہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے کردار کا فقہ اسلامی کی روشنی میں تحقیقی جائزہ"۔ اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیک نیوز نے دورِ رسالتؐ میں "واقعہ افک" کے ذریعے ریاستِ مدینہ کو ذہنی و سماجی طور پر شدید متاثر کیا، اور بعد ازاں اسی پروپیگنڈا وار نے خلافتِ راشدہ کے مثالی دور کو بھی گہرے زخم دیے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست پاکستان سوشل میڈیا کو ایک باقاعدہ دفاعی محاذ تسلیم کرے۔ ہمیں سنسر شپ کے بجائے ایک مضبوط، مثبت اور کاؤنٹر بیانیے (Counter-Narrative) کی ضرورت ہے تاکہ قومی یکجہتی کا تحفظ کیا جا سکے۔