Live Audio

ہماری دفعہ گیدڑ پہاڑی چڑھا دیتے ہیں یہ موٹر وے کا نقشہ دیکھ رہا تھا ۔ پہلے موٹر وے بنی تو منڈی بہاوالدین سے پرے مغربی سائیڈ پہ سرگودھا چکوال کو دے دی گئی ۔ اب موٹر وے بن رہی ہے تو گجرات جہلم کو دے دی گئی ہے ۔ دونوں موٹر وے کا نقشہ دیکھ کے لگتا ہے کہ زبردستی کمان کی طرح کھینچ کے منڈی بہاوالدین کو درمیان سے نکالا گیا ہے ۔۔ جبکہ لاہور اسلام آباد اگر سیدھی لکیر کھینچی جائے تو وہ منڈی بہاوالدین سے گزر کے جاتی ہے۔اگر یہی موٹر وے لاہور سے سیدھی گوجرنوالہ حافظ آباد جہلم سے پنڈی بنائی جاتی تو جہاں فاصلہ دو سو پچھتر کلو میٹر ہے وہ شاید پچاس کلومیٹر اور کم ہو جاتا ۔ کہتے ہیں کھنگی تے مار کے چھیل لینڑی اے پر تینوں نئی دینڑی۔فاصلہ کم ہونے کے اعلانات پہ ایک لطیفہ یاد آی کہ بدو نے ایک عالم شیخ سے کہا کہ اگر میں اونٹ کو بھگا کے پہاڑ پہ چڑھاوں ۔۔ یا اونٹ کو بھگا کے پہاڑ سے اتاروں تو آپ کو کون سا اچھا لگے گا ۔ شیخ نے آنکھیں سکیڑ کے بدو کو دیکھا اور کہا اگر تو اونٹ کو سیدھی سڑک پہ بھگا لے تو تجھے کیا تکلیف ہوتی ہے ۔ یعنی توں سدھی انگل کیوں نئی لیندا۔۔ تحریر Beenish Iftikhar
postImage

کامیابی اُن لوگوں کے قدم چومتی ہے جو حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ اپنے حالات خود بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

اگر آج راستہ مشکل ہے، تو مایوس مت ہو۔ بڑے خواب ہمیشہ بڑی آزمائشوں کے بعد پورے ہوتے ہیں۔ اپنی محنت جاری رکھو، اپنے رب پر یقین رکھو، اور ہر دن خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرو۔

یاد رکھو! ایک دن تمہاری یہی خاموش جدوجہد تمہاری سب سے بڑی کامیابی کی کہانی بنے گی۔

Kindness costs nothing but means everything."

زیرِ نظر مسئلہ آپ کے خیال میں لڑکوں میں زیادہ ہوتا ہے یا لڑکیوں میں؟
جب ذہانت پر امتحانی خوف حاوی ہو جائے (ایک طالبہ کا سفر)#مسئلہچند ماہ قبل میرے پاس کالج کی ایک انتہائی ہونہار طالبہ کا کیس آیا۔ کلاس ٹیسٹ اور اسائنمنٹس میں اس کی کارکردگی شاندار ہوتی تھی، لیکن جیسے ہی وہ فائنل امتحانی ہال میں بیٹھتی، اس کا ذہن بالکل سن (Blank) ہو جاتا۔ پرچہ سامنے آتے ہی دھڑکن تیز ہو جانا اور سب کچھ بھول جانا اس کا معمول بن چکا تھا۔ اس کے والدین سمجھے کہ شاید یہ یادداشت کی کمزوری یا محنت کی کمی ہے۔#اصل_الجھن کیا تھی؟جب ہم نے سیشن کا آغاز کیا تو واضح ہوا کہ یہ یادداشت کا مسئلہ بالکل نہیں تھا۔ دراصل اس طالبہ کے تحت الشعور نے امتحانی ہال کے ماحول کو ایک 'خطرے' کے طور پر رجسٹر کر لیا تھا۔ پچھلے کسی ایک امتحان میں ہونے والی گھبراہٹ نے اس کے ذہن میں ایک منفی پیٹرن بنا دیا تھا، اور اب ہر امتحان میں اس کا دماغ آٹو پائلٹ پر اسے اسی خوف کی کیفیت میں لے جاتا تھا۔
#سائنسی_حل اور دو ماہ کا ایکشن پلان ہم نے اس منفی پیٹرن کو توڑنے کے لیے مائنڈ سائنسز کی ایک انتہائی موثر تکنیک اینکرنگ (Anchoring) کا استعمال کیا۔ چونکہ ذہن کی ری پروگرامنگ راتوں رات نہیں ہوتی، اس لیے میں نے اسے دو ماہ کی ایک باقاعدہ پریکٹس شیٹ اور فارم بنا کر دیا جس کے واضح ایس او پیز تھے۔ اس فارم میں ایک ہفتہ وار رپورٹ کا نظام شامل تھا، جس کے ذریعے اس کی روزانہ کی پیشرفت باقاعدگی سے مجھ تک پہنچ رہی تھی۔اس دو ماہ کے سفر کو ہم نے 21، 21 دن کے تین سائنسی مراحل میں تقسیم کیاپہلے 21 دن (بنیاد اور روٹین بنانا)اس مرحلے کا مقصد تکنیکی طور پر پرانے خوف کے پیٹرن (Pattern Interrupt) کو توڑنا اور اس کے ذہن کو روزانہ ایک مخصوص وقت پر ذہنی مشقیں کرنے کی روٹین کا پابند بنانا تھا۔دوسرے 21 دن (نئی عادت انسٹال کرنا) جب ذہن نے نئی روٹین کو قبول کر لیا، تو ہم نے باقاعدہ طور پر کامیابی، فوکس اور پرسکون رہنے کے احساس کو ایک مخصوص جسمانی اشارے (Anchor) کے ساتھ اس کے ذہن میں انسٹال کیا۔تیسرے 21 دن (نئی عادت کو مضبوط بنانا) اس آخری مرحلے میں اس اینکر کو بار بار متحرک کیا گیا تاکہ یہ نیا رویہ اس کی شخصیت کا پختہ حصہ بن جائے اور تحت الشعور میں خوف کی جگہ مکمل اعتماد لے لے۔
#نتیجہ_کیا_ملاالحمدللہ دو ماہ کی اس منظم ذہنی مشق اور ہفتہ وار نگرانی کے بعد، جب حالیہ امتحانات کے دوران اس طالبہ نے امتحانی ہال میں بیٹھ کر اپنا 'اینکر' استعمال کیا، تو اس کے اعصاب بالکل پرسکون رہے۔ اس کی دھڑکن نارمل رہی اور وہ اپنا پرچہ مکمل فوکس کے ساتھ حل کرنے میں کامیاب رہی۔
اگر آپ کا بچہ یا آپ خود کسی مخصوص صورتحال (انٹرویو، امتحان یا پبلک سپیکنگ) میں گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ آپ کی قابلیت کی کمی نہیں، صرف تحت الشعور کی غلط پروگرامنگ ہے۔ اور اسے ایک منظم اور سائنسی طریقے سے باآسانی ری پروگرام کیا جا سکتا ہے۔
پنجاب گورنمنٹ نے سمر کیمپ کی اجازت دے کر بظاہر علم کا چراغ تو جلایا، مگر "اختیاری" قرار دے کر اس چراغ کے گرد تفریق کی دیوار بھی کھڑی کر دی۔چھٹیوں کا اعلان ہوا، بچوں کو نانیاں دادیوں کے سپرد کر دیا گیا، سکول وینز کے معاہدے ختم ہو گئے، اور جب تعلیمی ویرانی پھیل گئی تو اعلان آیا:"سمر کیمپ کھل گئے، جس کا دل چاہے آ جائے۔"
مگر سوال یہ ہے کہ آئے کون؟وہی بچے جو سکول کے قریب رہتے ہیں یا جن کے والدین ذاتی سواری رکھتے ہیں۔دور دراز علاقوں کے بچے، خصوصاً وہ بچیاں جن کے لیے وین والا دو تین سواریوں پر الگ چکر نہیں لگاتا، مجبوراﹰ گھروں میں بیٹھ کر ستمبر کا انتظار کر رہی ہیں۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25A ہر بچے کو مساوی تعلیم کا حق دیتا ہے۔ اگر چند بچے اضافی تدریس، سرگرمیوں اور سیکھنے کے مواقع حاصل کریں جبکہ باقی صرف فاصلے اور وسائل کی کمی کے باعث محروم رہ جائیں، تو یہ "اختیار" نہیں بلکہ عملی ناانصافی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس محرومی کا ذمہ دار کون ہو گا؟وہ ماں جس کے پاس روزانہ آنے جانے کا کرایہ نہیں؟وہ بچی جسے چھٹی دے کر مجبوری تھما دی گئی؟یا وہ پالیسی جس نے "اختیاری" کا لبادہ اوڑھ کر اپنی ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ لیا؟
اگر سمر کیمپ واقعی ضروری تھے تو انہیں باقاعدہ پلاننگ، ٹرانسپورٹ اور پیشگی شیڈول کے ساتھ لازمی بنایا جاتا۔اور اگر اختیاری ہی رکھنا تھا تو پھر متبادل بھی دیا جاتا:واٹس ایپ کلاسز، ہوم ورک پیکجز، آن لائن اسائنمنٹس، یا کمیونٹی لرننگ سنٹرز۔
آدھوں کی ترقی اور آدھوں کی پسماندگی تعلیم نہیں، طبقاتی تقسیم ہے۔تعلیم سہولت والوں کا حق نہیں، ہر بچے کا حق ہے۔
#اختیاری_نہیں_انصاف_چاہیے#CEOEducationپنجاب گورنمنٹ نے سمر کیمپ کی اجازت دے کر بظاہر علم کا چراغ تو جلایا، مگر "اختیاری" قرار دے کر اس چراغ کے گرد تفریق کی دیوار بھی کھڑی کر دی۔ تحریرBeenish Iftikhar

انسان خود کو اختیارِ کُل سمجھتا ہے۔۔۔جب کے اختیار سارا اللّٰہ کا ہے کیوں نہ اُس سے توفیق مانگی جائے کے جو اختیار اُس نے آپکو اپنی ذات پر دیا ہے اُسے استعمال کر کے آپ اُسکی رضا کو پا لیں۔۔۔

Malik Riaz Ahmadshared fromMalik Riaz Ahmad's post
آج انسان ھی انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ھے۔انسانیت کو بچانا ھے تو انسان کی قدر کرنا سیکھو۔

کامیابی تین ستاروں کا مرکب ہے


کامیابی چاہتے ہیں تو سیلز کے ہنر میں ماہر ہو جائیں۔

سیلز کے ہنر میں ماہر ہونے کےلیے نیٹ ورکنگ کے ہنر میں ماہر ہونا پڑے گا۔

نیٹ ورکنگ میں ماہر ہونے کےلیے کمیونیکیشن کے ہنر میں ماہر ہونا پڑے گا 

اگر آپ ان تینوں سکلز میں ماہر ہیں تو آپ کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

postImage

Pull down to refresh