زیرِ نظر مسئلہ آپ کے خیال میں لڑکوں میں زیادہ ہوتا ہے یا لڑکیوں میں؟
جب ذہانت پر امتحانی خوف حاوی ہو جائے (ایک طالبہ کا سفر)
#مسئلہچند ماہ قبل میرے پاس کالج کی ایک انتہائی ہونہار طالبہ کا کیس آیا۔ کلاس ٹیسٹ اور اسائنمنٹس میں اس کی کارکردگی شاندار ہوتی تھی، لیکن جیسے ہی وہ فائنل امتحانی ہال میں بیٹھتی، اس کا ذہن بالکل سن (Blank) ہو جاتا۔ پرچہ سامنے آتے ہی دھڑکن تیز ہو جانا اور سب کچھ بھول جانا اس کا معمول بن چکا تھا۔ اس کے والدین سمجھے کہ شاید یہ یادداشت کی کمزوری یا محنت کی کمی ہے۔
#اصل_الجھن کیا تھی؟جب ہم نے سیشن کا آغاز کیا تو واضح ہوا کہ یہ یادداشت کا مسئلہ بالکل نہیں تھا۔ دراصل اس طالبہ کے تحت الشعور نے امتحانی ہال کے ماحول کو ایک 'خطرے' کے طور پر رجسٹر کر لیا تھا۔ پچھلے کسی ایک امتحان میں ہونے والی گھبراہٹ نے اس کے ذہن میں ایک منفی پیٹرن بنا دیا تھا، اور اب ہر امتحان میں اس کا دماغ آٹو پائلٹ پر اسے اسی خوف کی کیفیت میں لے جاتا تھا۔
#سائنسی_حل اور دو ماہ کا ایکشن پلان ہم نے اس منفی پیٹرن کو توڑنے کے لیے مائنڈ سائنسز کی ایک انتہائی موثر تکنیک اینکرنگ (Anchoring) کا استعمال کیا۔ چونکہ ذہن کی ری پروگرامنگ راتوں رات نہیں ہوتی، اس لیے میں نے اسے دو ماہ کی ایک باقاعدہ پریکٹس شیٹ اور فارم بنا کر دیا جس کے واضح ایس او پیز تھے۔ اس فارم میں ایک ہفتہ وار رپورٹ کا نظام شامل تھا، جس کے ذریعے اس کی روزانہ کی پیشرفت باقاعدگی سے مجھ تک پہنچ رہی تھی۔اس دو ماہ کے سفر کو ہم نے 21، 21 دن کے تین سائنسی مراحل میں تقسیم کیاپہلے 21 دن (بنیاد اور روٹین بنانا)اس مرحلے کا مقصد تکنیکی طور پر پرانے خوف کے پیٹرن (Pattern Interrupt) کو توڑنا اور اس کے ذہن کو روزانہ ایک مخصوص وقت پر ذہنی مشقیں کرنے کی روٹین کا پابند بنانا تھا۔دوسرے 21 دن (نئی عادت انسٹال کرنا) جب ذہن نے نئی روٹین کو قبول کر لیا، تو ہم نے باقاعدہ طور پر کامیابی، فوکس اور پرسکون رہنے کے احساس کو ایک مخصوص جسمانی اشارے (Anchor) کے ساتھ اس کے ذہن میں انسٹال کیا۔تیسرے 21 دن (نئی عادت کو مضبوط بنانا) اس آخری مرحلے میں اس اینکر کو بار بار متحرک کیا گیا تاکہ یہ نیا رویہ اس کی شخصیت کا پختہ حصہ بن جائے اور تحت الشعور میں خوف کی جگہ مکمل اعتماد لے لے۔
#نتیجہ_کیا_ملاالحمدللہ دو ماہ کی اس منظم ذہنی مشق اور ہفتہ وار نگرانی کے بعد، جب حالیہ امتحانات کے دوران اس طالبہ نے امتحانی ہال میں بیٹھ کر اپنا 'اینکر' استعمال کیا، تو اس کے اعصاب بالکل پرسکون رہے۔ اس کی دھڑکن نارمل رہی اور وہ اپنا پرچہ مکمل فوکس کے ساتھ حل کرنے میں کامیاب رہی۔
اگر آپ کا بچہ یا آپ خود کسی مخصوص صورتحال (انٹرویو، امتحان یا پبلک سپیکنگ) میں گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ آپ کی قابلیت کی کمی نہیں، صرف تحت الشعور کی غلط پروگرامنگ ہے۔ اور اسے ایک منظم اور سائنسی طریقے سے باآسانی ری پروگرام کیا جا سکتا ہے۔