"گدھا گاڑی کی دھول سے ہانگ کانگ کی چمچماتی سڑکوں تک کا سفر!" اگر آپ زندگی کی مشکلات سے ہار مان چکے ہیں تو ذرا رکیے، ڈیرہ غازی خان کے اس لڑکے کی کہانی آپ کے اندر ایک نئی آگ لگا دے گی۔
شعیب محمد، جس کے والد محمد بخش ایک غریب کسان تھے۔ اس لڑکے نے ہوش سنبھالا تو چاروں طرف صرف غربت اور محرومی دیکھی۔ لیکن اس کے سینے میں ایک ایسی ضد پل رہی تھی جو کچے مکانوں کی محتاج نہیں تھی۔
کہانی کا پہلا راز اس کی وہ خاموش محنت تھی؛ جب گاؤں کے دوسرے لڑکے آرام کرتے، تو شعیب تپتی دھوپ میں گدھا گاڑی پر بوجھ ڈھوتا اور باپ کے ساتھ کھیتوں میں مزدوری کرتا۔ کپڑوں پر مٹی اور ہاتھوں پر چھالے پڑ چکے تھے مگر دماغ کتابوں میں الجھا رہتا۔ اسی غربت میں اس نے ڈیرہ غازی خان سے بی ایس (BS) کیا اور پھر ہمت کر کے ایم ایس (MS) کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا۔
لوگوں نے سوچا کہ اب یہ غریب کسان کا بیٹا کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر کے غربت کی چکی میں پس جائے گا۔ مگر شعیب نے ولایت سے پی ایچ ڈی (PhD) کرنے کی ٹھان لی۔ لوگ ہنستے کہ "جو کل تک گدھا گاڑی چلاتا تھا، جس کے پاس اگلے وقت کی روٹی کے پیسے نہیں، وہ غیر ملکی یونیورسٹی جائے گا؟" لیکن شعیب کا خدا پر کامل بھروسہ تھا۔
یہاں سے اس کی اصل آزمائش شروع ہوئی۔ 2021 سے اس نے سکالرشپس کے لیے اپلائی کرنا شروع کیا۔ تین سال تک لگاتار ریجیکشنز (Rejections) آتی رہیں، طعنے بڑھتے گئے، مگر وہ راتوں کو جاگ کر اپلائی کرتا رہا۔ اور پھر بالآخر 2024 کی ایک صبح وہ ای میل آ گئی جس نے سب کے منہ بند کر دیے! ہانگ کانگ کی ایک ٹاپ یونیورسٹی نے نہ صرف اسے پی ایچ ڈی کے لیے فل سکالرشپ (Scholarship) دے دی، بلکہ ساتھ ہی ایک شاندار ریسرچ جاب (Research Job) بھی آفر کر دی۔
تصویر خود بول رہی ہے! کل تک گدھا گاڑی پر ننگے پاؤں بیٹھنے والا کسان کا بیٹا، آج ہانگ کانگ کی ٹاپ یونیورسٹی کا ریسرچر بن کر سوٹ بوٹ میں کھڑا ہے۔ پیغام صاف ہے: حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، خدا سچی محنت رائیگاں نہیں کرتا۔ اگر ڈیرہ غازی خان کی مٹی سے اٹھنے والا وہ لڑکا اپنی تقدیر بدل سکتا ہے، تو یقین جانیں... محنت سے سب ممکن ہے!
#InspirationalStory #DGKhan #NeverGiveUp #SuccessStory #Motivation