userPic

Mubashar Hassan

Mubashar2802

A person who loves learning and teaching, and who is receiving all blessings through gratitude.

10
Posts
2
Followers
0
Following
زیرِ نظر مسئلہ آپ کے خیال میں لڑکوں میں زیادہ ہوتا ہے یا لڑکیوں میں؟
جب ذہانت پر امتحانی خوف حاوی ہو جائے (ایک طالبہ کا سفر)#مسئلہچند ماہ قبل میرے پاس کالج کی ایک انتہائی ہونہار طالبہ کا کیس آیا۔ کلاس ٹیسٹ اور اسائنمنٹس میں اس کی کارکردگی شاندار ہوتی تھی، لیکن جیسے ہی وہ فائنل امتحانی ہال میں بیٹھتی، اس کا ذہن بالکل سن (Blank) ہو جاتا۔ پرچہ سامنے آتے ہی دھڑکن تیز ہو جانا اور سب کچھ بھول جانا اس کا معمول بن چکا تھا۔ اس کے والدین سمجھے کہ شاید یہ یادداشت کی کمزوری یا محنت کی کمی ہے۔#اصل_الجھن کیا تھی؟جب ہم نے سیشن کا آغاز کیا تو واضح ہوا کہ یہ یادداشت کا مسئلہ بالکل نہیں تھا۔ دراصل اس طالبہ کے تحت الشعور نے امتحانی ہال کے ماحول کو ایک 'خطرے' کے طور پر رجسٹر کر لیا تھا۔ پچھلے کسی ایک امتحان میں ہونے والی گھبراہٹ نے اس کے ذہن میں ایک منفی پیٹرن بنا دیا تھا، اور اب ہر امتحان میں اس کا دماغ آٹو پائلٹ پر اسے اسی خوف کی کیفیت میں لے جاتا تھا۔
#سائنسی_حل اور دو ماہ کا ایکشن پلان ہم نے اس منفی پیٹرن کو توڑنے کے لیے مائنڈ سائنسز کی ایک انتہائی موثر تکنیک اینکرنگ (Anchoring) کا استعمال کیا۔ چونکہ ذہن کی ری پروگرامنگ راتوں رات نہیں ہوتی، اس لیے میں نے اسے دو ماہ کی ایک باقاعدہ پریکٹس شیٹ اور فارم بنا کر دیا جس کے واضح ایس او پیز تھے۔ اس فارم میں ایک ہفتہ وار رپورٹ کا نظام شامل تھا، جس کے ذریعے اس کی روزانہ کی پیشرفت باقاعدگی سے مجھ تک پہنچ رہی تھی۔اس دو ماہ کے سفر کو ہم نے 21، 21 دن کے تین سائنسی مراحل میں تقسیم کیاپہلے 21 دن (بنیاد اور روٹین بنانا)اس مرحلے کا مقصد تکنیکی طور پر پرانے خوف کے پیٹرن (Pattern Interrupt) کو توڑنا اور اس کے ذہن کو روزانہ ایک مخصوص وقت پر ذہنی مشقیں کرنے کی روٹین کا پابند بنانا تھا۔دوسرے 21 دن (نئی عادت انسٹال کرنا) جب ذہن نے نئی روٹین کو قبول کر لیا، تو ہم نے باقاعدہ طور پر کامیابی، فوکس اور پرسکون رہنے کے احساس کو ایک مخصوص جسمانی اشارے (Anchor) کے ساتھ اس کے ذہن میں انسٹال کیا۔تیسرے 21 دن (نئی عادت کو مضبوط بنانا) اس آخری مرحلے میں اس اینکر کو بار بار متحرک کیا گیا تاکہ یہ نیا رویہ اس کی شخصیت کا پختہ حصہ بن جائے اور تحت الشعور میں خوف کی جگہ مکمل اعتماد لے لے۔
#نتیجہ_کیا_ملاالحمدللہ دو ماہ کی اس منظم ذہنی مشق اور ہفتہ وار نگرانی کے بعد، جب حالیہ امتحانات کے دوران اس طالبہ نے امتحانی ہال میں بیٹھ کر اپنا 'اینکر' استعمال کیا، تو اس کے اعصاب بالکل پرسکون رہے۔ اس کی دھڑکن نارمل رہی اور وہ اپنا پرچہ مکمل فوکس کے ساتھ حل کرنے میں کامیاب رہی۔
اگر آپ کا بچہ یا آپ خود کسی مخصوص صورتحال (انٹرویو، امتحان یا پبلک سپیکنگ) میں گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ آپ کی قابلیت کی کمی نہیں، صرف تحت الشعور کی غلط پروگرامنگ ہے۔ اور اسے ایک منظم اور سائنسی طریقے سے باآسانی ری پروگرام کیا جا سکتا ہے۔
کلاس نمبر 20 #صبح_کا_پکا ارادہ شام تک کیوں ٹوٹ جاتا ہے؟ (اپنے تحت الشعور کو 'ہیک' کرنے کا حیرت انگیز طریقہ)
"میں روز صبح اٹھ کر تہیہ کرتا ہوں کہ آج غصہ نہیں کروں گا، یا آج سے اپنا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد میں دوبارہ وہی پرانی غلطی کر بیٹھتا ہوں۔ میرا اپنے ہی دماغ پر کنٹرول کیوں نہیں ہے؟"یہ سوال ہم میں سے ہر شخص نے کبھی نہ کبھی خود سے ضرور پوچھا ہوگا۔ ہم شعوری طور پر تو خود کو بدلنا چاہتے ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم پرانی عادتوں کے غلام بن جاتے ہیں۔ مسئلہ آپ کے ارادے کی کمزوری میں نہیں، بلکہ اس 'سافٹ ویئر' میں ہے جو آپ کے دماغ میں برسوں سے انسٹال ہے۔
 تحت الشعور: آپ کا آٹو پائلٹ سسٹممائنڈ سائنسز اور این ایل پی (NLP) کے مطابق، انسانی دماغ کے دو حصے ہیں: شعور (Conscious Mind) اور تحت الشعور (Subconscious Mind)۔ ہماری زندگی اور عادات کا 95 فیصد حصہ ہمارا تحت الشعور کنٹرول کرتا ہے۔جب آپ کوئی کام مسلسل کرتے ہیں، تو دماغ میں ایک پختہ راستہ (Neural Pathway) بن جاتا ہے اور وہ کام 'آٹو پائلٹ' پر چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحث، منطق یا زبردستی سے عادات نہیں بدلتیں، بلکہ اس آٹو پائلٹ سسٹم کو 'ری-پروگرام' کرنا پڑتا ہے۔
 ری-پروگرامنگ کیسے کریں؟ (پیٹرن بریکنگ)اپنے تحت الشعور کو ری-پروگرام کرنے کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی پرانی عادات کو توڑ کر ان کی جگہ نئی عادات اپنائیں۔ اس عمل کو این ایل پی میں 'پیٹرن انٹرپٹ' (Pattern Interrupt) کہتے ہیں۔ جب آپ معمول سے ہٹ کر کوئی کام کرتے ہیں، تو آپ کا آٹو پائلٹ سسٹم ٹوٹتا ہے اور آپ کا شعور (Conscious Mind) فوراً جاگ جاتا ہے۔
اس کی چند بہترین اور عملی مثالیں یہ ہیں #تسبیح_فاطمہ_کا طریقہ بدلیںہم میں سے اکثر لوگ نماز کے بعد تسبیح فاطمہ انگلیوں کے پوروں پر گنتے ہوئے ہمیشہ نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ اپنے دماغ کو جگانے اور نیا پیٹرن بنانے کے لیے اسے تبدیل کریں۔ چند دن پوروں پر اوپر سے نیچے کی طرف گنیں، یا دائیں سے بائیں گننا شروع کریں۔ آپ حیران ہوں گے کہ اس چھوٹے سے عمل سے آپ کا دماغ کتنا حاضر اور فوکسڈ ہو جائے گا، اور خیالات بھٹکنا بند ہو جائیں گے۔#گھڑی_کی_کلائی تبدیل کریں۔ اگر آپ برسوں سے الٹے (بائیں) ہاتھ پر گھڑی باندھ رہے ہیں، تو کچھ دن کے لیے اسے سیدھے (دائیں) بازو پر باندھنا شروع کر دیں۔ جب بھی آپ وقت دیکھنے کے لیے ہاتھ اٹھائیں گے اور گھڑی وہاں نہیں ہوگی، تو آپ کا دماغ فوراً آٹو پائلٹ سے نکل کر ایک لمحے کے لیے رک جائے گا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے دماغ کو نیا پیغام دے سکتے ہیں۔ 
#بائیں_ہاتھ_کا استعمال کریںروزمرہ کے چھوٹے کاموں میں اپنے اس ہاتھ کا استعمال کریں جو آپ عام طور پر استعمال نہیں کرتے۔ مثلاً اگر آپ سیدھے ہاتھ سے برش کرتے ہیں، تو کل صبح الٹے (بائیں) ہاتھ سے برش کرنے کی کوشش کریں۔ چونکہ دماغ کے لیے یہ نیا کام ہے، اس لیے وہ فوراً الرٹ ہو جائے گا اور نئے نیورل کنکشنز (Neural connections) بننا شروع ہو جائیں گے۔
 #شکر_گزاری_اور نئے راستےجب آپ ان چھوٹی تبدیلیوں سے اپنے دماغ کو حاضر کر لیں، تو فوراً شکر گزاری کی طاقت کا استعمال کریں۔ شکر گزاری وہ اینٹی وائرس ہے جو ان نئے راستوں (Neural Pathways) کو مثبت سوچ کے ساتھ پختہ کر دیتا ہے۔
 #آج_کی_عملی مشقآج ہم اپنے تحت الشعور کو ری-پروگرام کرنے کی یہ سادہ لیکن طاقتور مشق کریں گے 1. اپنی کوئی ایک انتہائی معمولی روزمرہ کی عادت منتخب کریں (جیسے جوتے پہننے کی ترتیب، کنگھی کرنے کا انداز، یا راستے کا انتخاب)۔ 2. اگلے 3 دن تک اس کام کو بالکل مختلف اور الٹے انداز سے کریں۔ 3. جب بھی اس تبدیلی کی وجہ سے آپ کا دماغ چونک جائے، تو فوراً ایک گہرا سانس لیں، مسکرائیں اور دل میں کہیں"میں شعوری طور پر اپنی زندگی بدلنے کے اس عمل کے لیے اللہ کا شکر گزار ہوں۔"
 #مطالعہ_کے_لیے کتاب کی تجویزاس موضوع کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کے لیے ڈاکٹر جو ڈسپینزا (Dr. Joe Dispenza) کی مشہور کتاب "Breaking the Habit of Being Yourself" کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ کس طرح ہم اپنی پرانی سوچ اور عادات کے قیدی بن چکے ہیں اور کیسے ہم اپنے تحت الشعور کی ری-پروگرامنگ سے ایک بالکل نئی شخصیت اور حقیقت تخلیق کر سکتے ہیں۔کمنٹس میں بتائیں کہ تحت الشعور کو بیدار کرنے کے لیے آج آپ کون سی چھوٹی سی تبدیلی لانے والے ہیں؟ آپ کا ایک کمنٹ کسی دوسرے کے لیے آئیڈیا بن سکتا ہے۔مبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)
#SubconsciousMind #Reprogramming #MindSciences #NLP #PatternInterrupt #GratitudeCoach #MubasharHassan #مبشرحسن #شکرگزاری #ذہنی_سکون #عادات_کی_تبدیلی
postImage
کلاس نمبر 19#ڈپریشن_اور_انگزائٹی_کا21روزہ حتمی علاج (جو لاکھوں روپے کی فیس کے بعد ملتا ہے)
آج کی کلاس کوئی عام تحریر نہیں ہے۔ آج میں آپ کو عملی طور پر وہ راز بتانے جا رہا ہوں جو آپ کے ڈپریشن، انگزائٹی اور تمام ذہنی مسائل کا حتمی حل ثابت ہوگا۔یہی مشقیں آگے جا کر آپ کے ان چار بڑے مقاصد کے حصول کے لیے بھی استعمال ہوں گی جو آپ کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے، اور آپ کو واقعی 'زیرو سے ہیرو' بنا دیں گے۔ مگر ٹھہریے! یہ چاروں مقاصد میں یہاں پبلک میں شیئر نہیں کروں گا۔ یہ میں صرف ان لوگوں کو بتاؤں گا جو یہ مکمل تحریر پڑھ کر کمنٹس میں لکھیں گے: "مجھے چار مقاصد جاننے ہیں۔"
#ایک_لاکھ_روپے_والی_دوااب آئیے ان عملی مشقوں اور رازوں کی طرف جو بڑے بڑے لائف کوچز لاکھوں روپے فیس لے کر اپنے کلائنٹس کو بتاتے ہیں۔ اسے محض ایک تحریر نہ سمجھیں، یہ آپ کے لیے 'مکمل 21 دن کی دوا' ہے۔ میرا آپ سے چیلنج ہے کہ اس پر مسلسل 21 دن عمل کرنے کے بعد بھی اگر آپ کے ذہنی مسائل ختم نہ ہوئے، تو میں آپ کو بالکل فری (Free of cost) تین ماہ کی ون آن ون کوچنگ دوں گا۔
#وہ_جادوئی_مشقیں_کیا_ہیں؟ان 21 دنوں کے لیے آپ کا روزمرہ کا شیڈول یہ ہوگا1. موبائل کا بائیکاٹ (رات):رات سونے سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے اپنا موبائل فون مکمل بند کر دیں یا کم از کم اس کا انٹرنیٹ آف کر دیں۔2. الارم کا اصول: صبح جاگنے کے لیے موبائل پر الارم ہرگز ہرگز نہ لگائیں (اس کے لیے کوئی روایتی ٹائم پیس یا گھڑی استعمال کریں)۔3. رات کی میڈیٹیشن (Meditation): رات بستر پر لیٹنے سے پہلے 5 منٹ کے لیے پرسکون ہو کر بیٹھ جائیں۔ آنکھیں بند کریں اور شروع میں 3 بار گہرے سانس کی مشق کریں۔(نوٹ: اس دوران ذہن میں بے تحاشا خیالات آئیں گے، ان سے گھبرانا نہیں ہے، انہیں چلنے دیں۔ بس آپ نے 5 منٹ مکمل خاموشی سے بیٹھے رہنا ہے۔)4. رات کی شکر گزاری: میڈیٹیشن کے بعد ایک کاپی پر آج کے دن کی کوئی سی 3 نعمتیں لکھیں جنہیں آپ نے استعمال کیا یا محسوس کیا، اور ان پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ (شرط: ان 21 دنوں میں کسی بھی نعمت کو دوبارہ دہرانا نہیں ہے)۔5. صبح کی میڈیٹیشن: صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل کو ہاتھ نہیں لگانا۔ فوراً بستر پر بیٹھ کر دوبارہ رات والی 5 منٹ کی خاموش میڈیٹیشن کی مشق دہرائیں۔6.صبح کی شکر گزاری: میڈیٹیشن کے فوراً بعد کاپی پر مزید 3 نئی نعمتیں لکھیں اور شکر ادا کریں۔ موبائل کا بائیکاٹ (صبح):جاگنے کے بعد پہلے آدھے گھنٹے تک موبائل کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں۔
#دو_انتہائی_ضروری_گزارشات 1. اپنے ارد گرد موجود ہر اس شخص کو یہ تحریر ضرور بھیجیں جو کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ، الجھن یا پریشانی کا شکار ہے۔ 2. مجھے ان باکس میں اپنے ذہنی مسائل کے حوالے سے صرف اور صرف وہ لوگ میسج کریں جو یہ 21 دن کی مشقیں پوری ایمانداری سے مکمل کر چکے ہوں۔میرا کامل یقین ہے کہ انشاءاللہ ان مشقوں کے بعد آپ کے اندر ایسا سکون اترے گا کہ آپ کو کسی اور مشق کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ شاید آپ کو میری بھی ضرورت نہیں رہے گی۔کمنٹ میں لکھنا مت بھولیے گا: مجھے چار مقاصد جاننے ہیںمبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)
#MentalHealth #DepressionCure #AnxietyRelief #MindSciences #NLP #21DaysChallenge #GratitudeCoach #MobashirHassan #مبشرحسن #شکرگزاری #ذہنی_سکون
postImage
کلاس نمبر 18محدود کرنے والے عقائد (Limiting Beliefs) - وہ نادیدہ زنجیریں جو آپ کو اڑنے نہیں دیتیں
" میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے، مواقع بھی سامنے ہیں، لیکن جب بھی قدم اٹھانے لگتا ہوں تو اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ 'تم سے نہیں ہو پائے گا' یا 'یہ تمہارے بس کی بات نہیں'۔"یہ اس شخص کا جملہ تھا جو بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود سالوں سے ایک ہی جگہ رکا ہوا تھا۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں تھا، بلکہ اس کے ذہن میں بیٹھی ہوئی ایک نادیدہ زنجیر تھی۔#محدود_کرنے_والے_عقائد_کیا_ہیں؟این ایل پی (NLP) میں ہم سکھاتے ہیں کہ ایک عقیدہ (Belief) دراصل محض ایک 'خیال' ہوتا ہے جسے آپ نے یا آپ کے ماحول نے اتنی بار دہرایا ہوتا ہے کہ آپ کا تحت الشعور (Subconscious) اسے حتمی سچ (Absolute Truth) مان لیتا ہے۔یہ بالکل سرکس کے اس ہاتھی کی طرح ہے جسے بچپن میں ایک کمزور رسی سے باندھا جاتا ہے۔ بچپن میں وہ اسے توڑ نہیں پاتا، اور جب وہ طاقتور ہاتھی بن جاتا ہے، تب بھی وہ اس کمزور رسی کو نہیں توڑتا کیونکہ رسی اس کے پاؤں میں نہیں، اس کے دماغ میں ہوتی ہے۔ ہم انسانوں کے دماغ میں بھی ایسی ہی خیالی رسیاں بندھی ہیں: "میں تو پیدائشی سست ہوں"، "میری عمر زیادہ ہو گئی ہے سیکھنے کے لیے"، یا "میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا"۔#شکر_گزاری_اور_عقائد_کی_تبدیلیشکر گزاری آپ کے ذہن کی پرانی اور وائرس زدہ فائلوں کو ڈیلیٹ کرنے کا بہترین اینٹی وائرس ہے۔ جب آپ اس بات پر شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اب تک کن کن صلاحیتوں، صحت اور مواقع سے نوازا ہے، تو آپ کا دماغ 'میں نہیں کر سکتا' کے اندھیرے سے نکل کر 'میرے پاس کیا کیا طاقت ہے' کی روشنی میں آ جاتا ہے۔ شکر گزاری آپ کو احساس دلاتی ہے کہ آپ بے بس نہیں ہیں۔#آج_کی_عملی_مشقآج ہم اپنے ایک منفی عقیدے کی زنجیر کو توڑنے کی خالص این ایل پی مشق کریں گے1۔ ایک کاغذ پر اپنا وہ سب سے بڑا ڈر یا جملہ لکھیں جو آپ کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے (مثلاً میں نیا ہنر نہیں سیکھ سکتا، یا لوگ کیا کہیں گے)۔2۔ اب اس جملے کے آگے ایک بڑا سا سوالیہ نشان لگائیں اور اپنے لاشعور کو چیلنج کریں "کیا یہ بات 100 فیصد سچ ہے؟ کیا دنیا میں کبھی کسی اور نے ان حالات میں کامیابی حاصل نہیں کی؟"3۔ اپنے ذہن سے ماضی کی کوئی ایک چھوٹی سی کامیابی ڈھونڈیں (جب آپ نے ڈر کے باوجود کوئی مشکل کام کیا ہو)، اس پر اللہ کا شکر ادا کریں، اور پرانے جملے کو کاٹ کر نیا مثبت جملہ لکھیں"اگر میں ماضی میں مشکلات سے نکل سکتا تھا، تو میں آج بھی راستہ بنا سکتا ہوں۔"
#مطالعہ_کے_لیے_کتاب_کی_تجویزکیرول ڈویک (Carol Dweck) کی مشہور کتاب Mindset: The New Psychology of Success کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب آپ کو بتائے گی کہ کس طرح صرف اپنا مائنڈ سیٹ (Fixed vs Growth) بدل کر آپ اپنی ان صلاحیتوں کو جگا سکتے ہیں جو برسوں سے سوئی ہوئی ہیں۔آپ کے خیال میں وہ کون سا ایک محدود کرنے والا عقیدہ (Limiting Belief) ہے جس نے ہمارے معاشرے کے زیادہ تر لوگوں کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے؟ کمنٹس میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیں، آپ کا ایک کمنٹ کسی کی ذہنی زنجیر توڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔مبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)#LimitingBeliefs #MindSciences #NLP #GrowthMindset #GratitudeCoach #MobashirHassan #مبشرحسن #شکرگزاری #ذہنی_سکون
postImage

"مبشر صاحب، میری بیٹی 22 سال کی اسپیشل چائلڈ ہے۔۔۔ میں اس کی خدمت کرتے کرتے تھک چکی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں کسی سخت امتحان یا عذاب میں ہوں، کیا اللہ مجھ سے ناراض ہے؟"جب وہ مجھ سے ملیں تو ان کی آنکھوں میں بائیس سال کی تھکن اور دل میں انجانے خوف کا ڈیرہ تھا۔ یہ کہانی صرف ان کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو مسلسل کسی کی دیکھ بھال (Caregiving) کرتے ہوئے اپنی ذہنی اور جسمانی توانائی کھو بیٹھتے ہیں اور اسے اپنی بدقسمتی سمجھنے لگتے ہیں۔
#تھکن_ناراضگی_نہیں_انسانی_فطرت_ہےمائنڈ سائنسز میں اس کیفیت کو کیئر گیور برن آؤٹ (Caregiver Burnout) کہتے ہیں۔ جب آپ مسلسل سالوں تک کسی دوسرے انسان کی مکمل ذمہ داری اٹھاتے ہیں، تو آپ کا اعصابی نظام (Nervous System) شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جسم میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) کی زیادتی آپ کو اداس اور چڑچڑا کر دیتی ہے۔ یہ تھکاوٹ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ آپ سے ناراض ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا جسمانی اور ذہنی ہارڈویئر آرام مانگ رہا ہے۔
#این_ایل_پی_اور_ری_فریمنگاین ایل پی (NLP) میں ہم سکھاتے ہیں کہ آپ کے حالات آپ کو اتنا دکھ نہیں دیتے جتنا ان حالات کو دیا گیا معنی (Meaning) آپ کو تکلیف دیتا ہے۔ جب آپ اسے 'سخت امتحان' یا 'بوجھ' کا نام دیتے ہیں، تو دماغ اسی حساب سے تحت الشعور (Subconscious) میں درد اور مایوسی پیدا کرتا ہے۔ ہم نے اس فریم کو بدلا (Reframing): "اللہ ہر کسی کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ وہ ایک معصوم فرشتے کی تاحیات خدمت کر سکے۔ یہ امتحان نہیں، یہ آپ کا عظیم انتخاب ہے۔" جب معنی بدلتا ہے، تو احساس فوراً بدل جاتا ہے۔
#شکر_گزاری_سکون_کا_راستہشکر گزاری بوجھ کو طاقت میں بدلنے کا بہترین ٹول ہے۔ جب ہم نعمتوں پر فوکس کرتے ہیں، تو ہماری توجہ اس بات سے ہٹ جاتی ہے کہ کیا چھن گیا، اور اس پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ کیا عطا ہوا۔ اس ماں کو بھی یہی سکھایا گیا کہ وہ اپنی اس ہمت اور اس خاص درجے پر اللہ کا شکر ادا کریں جو انہیں اس خدمت کے عوض مل رہا ہے۔ شکر گزاری دماغ کی ری پروگرامنگ کرتی ہے اور تھکاوٹ کو روحانی تسکین میں بدل دیتی ہے۔
#آج_کی_عملی_مشقآج ہم زاویہ نگاہ بدلنے (Reframing) کی ایک طاقتور مشق کریں گے:1۔ جب بھی تھکن یا مایوسی کا احساس حاوی ہو، گہرا سانس لیں اور آنکھیں بند کر لیں۔2۔ دل پر ہاتھ رکھیں اور خود سے مسکرا کر مکمل یقین کے ساتھ کہیں: "یہ میرے لیے باعثِ فخر اور خوش نصیبی ہے کہ اللہ نے مجھے اس عظیم اور بابرکت خدمت کے لیے منتخب کیا۔"3۔ دن میں کم از کم 15 منٹ صرف اپنی ذات کے لیے نکالیں (Self-Care) اور اس دوران مکمل خاموشی یا سکون محسوس کریں۔4۔ رات سونے سے پہلے اپنی اس طاقت اور صبر پر اللہ کا شکر ادا کریں جس نے آج کا دن خوبصورتی سے گزارنے میں مدد کی۔
#مطالعہ_کے_لیے_کتاب_کی_تجویزاس موضوع پر وکٹر فرینکل (Viktor Frankl) کی شہرہ آفاق کتاب Man's Search for Meaning کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب آپ کو سکھائے گی کہ انسان مشکل ترین حالات اور شدید ترین دکھ میں بھی کس طرح زندگی کا مقصد (Meaning) تلاش کر کے خود کو ذہنی طور پر مضبوط رکھ سکتا ہے۔ہم اکثر اپنی سب سے بڑی نعمتوں کو ہی سب سے بڑا بوجھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کیا آپ کے آس پاس کوئی ایسا شخص ہے جو کسی کی مسلسل خدمت کرتے ہوئے اندر سے ٹوٹ چکا ہو؟ یا آپ نے خود کبھی کسی مشکل کو ایک نئے اور مثبت زاویے سے دیکھ کر سکون پایا ہو؟ کمنٹس میں اپنا تجربہ شیئر کریں، آپ کی بات کسی مایوس دل کے لیے امید بن سکتی ہے۔مبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)
#SpecialChild #CaregiverBurnout #MindSciences #NLP #Reframing #GratitudeCoach #MobashirHassan #مبشرحسن #شکرگزاری #ذہنی_سکون #زاویہ_نگاہ
postImage

دماغی شور (مینٹل کلٹر) - جب ذہن خاموش نہیں ہوتا

کیا آپ کے سر میں بھی ہر وقت ٹریفک کا شور رہتا ہے؟ ایک ٹاسک ابھی ختم نہیں ہوا کہ دوسرے کی فکر، ماضی کے پچھتاوے، مستقبل کے ڈر، اور ابھی کے ہزار کام؟ اگر ہاں، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اس حالت کو مائنڈ سائنسز کی زبان میں مینٹل کلٹر یا دماغی شور کہتے ہیں۔ یہ وہ بوجھ ہے جو ہمیں تھکا دیتا ہے، ہماری توجہ (فوکس) کو تباہ کرتا ہے اور ہمیں حال (پریزنٹ مومنٹ) میں جینے نہیں دیتا۔#دماغی_شور_کیا_ہے؟جس طرح گھر میں غیر ضروری چیزیں جمع ہو جائیں تو چلنے کی جگہ نہیں بچتی، بالکل اسی طرح جب دماغ میں غیر ضروری خیالات، ادھورے کاموں کی فہرستیں، اور منفی سوچیں جمع ہو جائیں تو سکون اور تخلیقی صلاحیت (کریئیٹیویٹی) کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ مائنڈ سائنسز کے مطابق، یہ شور دراصل ہمارے اعصابی نظام (نرووس سسٹم) پر ایک اضافی بوجھ ہے، جو اینگزائٹی (اینگزائٹی) کا باعث بنتا ہے۔#شکر_گزاری_اور_ذہنی_صفائیشکر گزاری (گریٹیٹیوڈ) اس دماغی شور کو خاموش کرنے کا ایک زبردست اوزار ہے۔ جب آپ نعمتوں کو گننا شروع کرتے ہیں، تو آپ کا دماغ ملٹی ٹاسکنگ اور پریشانیوں سے ہٹ کر ایک مثبت نقطے پر مرکوز (فوکس) ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ شور مچاتی ہوئی ونڈوز کو بند کر کے صرف ایک پرسکون ونڈو کھول لیں۔ شکر گزاری دماغ کی ری پروگرامنگ (ری پروگرامنگ) کرتی ہے اور ہمیں توکل کی حالت میں لاتی ہے۔#آج_کی_عملی_مشق: دماغی بوجھ اتارنا (برین ڈمپ)آج ہم ایک این ایل پی (این ایل پی) تکنیک کریں گے جو آپ کے دماغی شور کو فوری کم کرے گی:ایک کاغذ اور قلم لیں۔اگلے 5 سے 10 منٹ تک، بغیر سوچے سمجھے، ہر وہ بات، پریشانی، کام، یا خیال جو آپ کے دماغ میں آ رہا ہے، اسے کاغذ پر لکھ دیں۔ (اسے برین ڈمپ کہتے ہیں)۔جب دماغ خالی محسوس ہو، تو اس کاغذ پر ایک نظر ڈالیں اور اہم کاموں کو نشان زد کریں، اور باقی کو اللہ کے سپرد کر کے کاغذ کو پھاڑ دیں یا الگ رکھ دیں۔یہ سادہ سی مشق آپ کے خیالات کو ایک ترتیب دے کر دماغ کا بوجھ ختم کر دیتی ہے۔#مطالعہ_کے_لیے_کتاب_کی_تجویزرچرڈ کارلسن (رچرڈ کارلسن) کی مشہور کتاب ڈونٹ سویٹ دی سمال سٹف... اینڈ اٹس آل سمال سٹف کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب آپ کو سکھائے گی کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کو دماغ میں جگہ دے کر اپنی زندگی کو پیچیدہ نہ بنائیں۔کیا آپ بھی اس دماغی شور سے پریشان ہیں؟ آپ کے خیال میں کون سی ایک چیز آپ کے دماغ میں سب سے زیادہ شور مچاتی ہے؟ کمنٹس میں شیئر کریں، شاید لکھنے سے آپ کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔مبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)#MentalClutter #BrainDump #Mindfulness #MentalHealth #Focus #Gratitude #NLP #Overthinking #SelfCare #Mindset #MentalClarity #PersonalDevelopment #UrduBlog #LifeCoach

postImage

#لوگوں_کا_خوف_یا_اپنا_وہم؟


مائنڈ سائنسز اور این ایل پی کی رو سے، "لوگوں کا خوف" دراصل لوگوں کا خوف نہیں ہوتا، بلکہ اپنے ہی ذہن میں بنائی گئی ایک غلط تصویر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہمیں جج کر رہے ہیں، ہماری خامیاں ڈھونڈ رہے ہیں اور ہمیں ناپسند کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی ہی الجھنوں اور سوچوں میں مگن ہوتے ہیں، ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ آپ کے ہر قدم پر نظر رکھیں۔ یہ خوف دراصل آپ کے اپنے نفس کی کمزوری ہے جو آپ کو قید میں رکھتی ہے۔
#ماضی_کے_زخم_اور_مستقبل_کا_ڈر"لو کانفیڈنس" (Low Confidence) کی جڑیں اکثر ماضی کے کسی برے تجربے یا بچپن کی کسی تلخ یاد میں ہوتی ہیں۔ شاید کبھی کسی نے آپ کا مذاق اڑایا ہو، یا آپ کی صلاحیتوں پر شک کیا ہو۔ وہ ایک لمحہ آپ کے تحت الشعور میں نقش ہو گیا اور اب وہ آپ کو ہر نئے موقع پر ڈراتا رہتا ہے۔ این ایل پی میں ہم سکھاتے ہیں کہ کس طرح ماضی کے ان "منفی اینکرز"  کو توڑ کر نئے، مثبت اور طاقتور اینکرز بنائے جاتے ہیں۔
#شکر_گزاری_کانفیڈنس_کا_تعویذشکر گزاری صرف نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے وجود اور اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کا نام بھی ہے۔ جب آپ اپنی خوبیوں، اپنی کامیابیوں اور اپنی منفرد صلاحیتوں پر فوکس کرتے ہیں، تو آپ کا کانفیڈنس خود بخود بڑھنے لگتا ہے۔ شکر گزاری آپ کو یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ اللہ کی ایک بہترین تخلیق ہیں اور آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو آپ کو کامیاب بنانے کے لیے کافی ہے۔ مائنڈ سائنسز میں اسے سیلف لو  اور سیلف ورتھ بڑھانے کا بہترین طریقہ مانا جاتا ہے۔
#آج_کی_عملی_مشق۔ آج ہم ایک بہت طاقتور این ایل پی تکنیک کریں گے جسے"کانفیڈنس سرکل" کہتے ہیں:1۔ ایک پرسکون جگہ پر کھڑے ہو جائیں اور آنکھیں بند کر لیں۔2۔ تصور کریں کہ آپ کے سامنے زمین پر ایک چمکدار، سنہری دائرہ ہے۔3۔ اب اپنی زندگی کے اس لمحے کو یاد کریں جب آپ سب سے زیادہ کانفیڈنٹ محسوس کر رہے تھے۔ اس احساس کو گہرائی سے محسوس کریں، وہ آوازیں سنیں جو اس وقت تھیں، وہ منظر دیکھیں جو آپ کے سامنے تھا۔4۔ جب وہ احساس اپنی انتہا پر پہنچ جائے، تو ایک قدم آگے بڑھا کر اس سنہری دائرے کے اندر داخل ہو جائیں۔ محسوس کریں کہ وہ کانفیڈنس آپ کے پورے جسم میں بجلی کی طرح دوڑ رہا ہے۔5۔ اس حالت میں 2 منٹ رہیں اور پھر دائرے سے باہر آ جائیں۔ اس مشق کو روزانہ دہرائیں، خاص طور پر کسی اہم کام سے پہلے۔
#مطالعہ_کے_لیے_کتاب_کی_تجویزاس موضوع پر سوسن جیفرز کی کتاب کا مطالعہ کریں۔ یہ کتاب آپ کو سکھائے گی کہ خوف ایک فطری ردعمل ہے، لیکن اسے آپ کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کتاب آپ کو خوف کے باوجود آگے بڑھنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی عملی تکنیکیں سکھائے گی۔ہم اکثر لوگوں کے ڈر سے اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا موقع آیا ہے جب آپ نے لو کانفیڈنس کی وجہ سے کوئی بڑا موقع گنوا دیا ہو؟ یا پھر آپ نے اس خوف کا مقابلہ کر کے کوئی ایسی کامیابی حاصل کی ہو جس پر آپ کو فخر ہو؟ کمنٹس میں اپنا تجربہ شیئر کریں، آپ کی کہانی کسی دوسرے کے لیے مشعل راہ بن سکتی ہے۔مبشر حسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)

postImage

کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی سب سے بڑی کامیابی آپ کے دماغ کی سلیٹ پر لکھی جا سکتی ہے؟
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ تخیل صرف بچوں کا کھیل ہے، لیکن ہوزے سلوا  نے ثابت کیا کہ یہ مائنڈ کنٹرول اور کامیابی کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس ہتھیار کو اپنی بربادی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پریشانی (Worry) کیا ہے؟ یہ منفی ویژلائزیشن (Negative Visualization) ہے۔ آپ دن میں سو بار تصور کرتے ہیں کہ 'اگر میں ناکام ہو گیا تو کیا ہوگا'، 'اگر انہوں نے ریجیکٹ کر دیا تو'۔ اور آپ کا دماغ اس منفی تصویر کو حقیقت سمجھ کر اسے پورا کرنے کے لیے عمل کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس کا حل:ہوزے سلوا کی تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ جب ہمارا دماغ پرسکوُن ہو (الفا سٹیٹ میں)، تو تخیل کے ذریعے تحت الشعور کو پروگرام کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل بہت آسان ہے

: ذہنی مشق۔ اسے صرف رات کو سونے سے پہلے نہیں، بلکہ #ابھی بھی کیا جا سکتا ہے۔

ابھی کی عملی مشق: 1 منٹ کا الفا تخیلصرف ایک منٹ کے لیے، جہاں بھی ہیں، پرسکون بیٹھ جائیں۔ آنکھیں بند کریں اور تین گہرے سانس لیں۔ اپنے دماغ کو ڈھیلا چھوڑ دیں (الفا سٹیٹ کی طرف بڑھیں)۔ اب اپنے ذہن میں ایک بڑی اور روشن سکرین کا تصور کریں۔ اس سکرین پر اپنی زندگی کے کسی ایک چھوٹے سے مقصد کو مکمل ہوتا ہوا دیکھیں۔ تصور کریں کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے اور آپ کو خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اس تصویر میں رنگ، آواز اور احساس بھر دیں۔ صرف ایک منٹ کے لیے اس سکرین کو دیکھتے رہیں۔ پھر آنکھیں کھول لیں۔این ایل پی کی زبان میں اسے 'فیوچر پیسنگ' (Future Pacing) کہتے ہیں۔ یہ مشق آپ کے اعصابی نظام کو کامیابی کے لیے پروگرام کر دیتی ہے۔ اگر آپ نے اپنی کامیابی کا ذہنی نقشہ نہیں بنایا، تو آپ اسے عملی زندگی میں بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ آپ کو مواقع نظر نہیں آئیں گے کیونکہ آپ کا دماغ ناکامی کی تصویریں تلاش کر رہا ہے۔مطالعہ کے لیے #کتاب کی تجویزاس موضوع کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے اور ویژلائزیشن کے ذریعے تحت الشعور کو پروگرام کرنے کے لیے ڈاکٹر جوزف مرفی  کی مشہور کتاب

The Power of Your Subconscious Mind

کا مطالعہ کریں۔خاص طور پر اس کا باب

"Practical Techniques in Mental Healings"ضرور پڑھیں، جو آپ کو ذہنی تصاویر کو حقیقت بنانے کا طریقہ سکھائے گا۔#اپنے_سفر کو پروفیشنل انداز میں آگے بڑھائیں اگر آپ اپنے تخیل کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں اور اپنی سوچ کو منظم سمت دینا چاہتے ہیں، تو میرا (100 دن کا گروتھ اور گول سیٹنگ روڈ میپ) اس سفر میں آپ کا بہترین ساتھی بن سکتا ہے۔ اس مینٹورشپ پروگرام میں، ہم سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح مائنڈ سائنسز اور منطقی طریقہ کار (SOPs) کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذات، کیریئر اور پیشہ ورانہ اہداف کو اگلے 100 دنوں کے اندر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ یہ پروگرام ان لوگوں کے لیے ہے جو جمود توڑ کر عملی نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔مبشرحسن(شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)

postImage
#کمی_پر_مسلسل_توجہ (ایک خاموش قاتل)
انسانی ذہن کی ایک سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ خود بخود اس چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ اسے نفسیات میں کمی کا احساس یا Scarcity Mindset کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاموش عادت ہے جس میں انسان اپنی تمام تر توانائیاں، وقت اور سوچ اس بات پر صرف کرتا ہے کہ اس کے پاس کون سے وسائل، مواقع یا تعلقات نہیں ہیں۔ جب دماغ مسلسل کمی کے زاویے سے سوچتا ہے، تو یہ اندرونی طور پر ایک ایسا منفی اینکر (Anchor) بنا لیتا ہے جو ہر ملنے والی نعمت اور موقع کو بھی شک اور عدم تحفظ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔دماغ جب مسلسل کمی پر فوکس کرتا ہے تو وہ سامنے موجود بہترین مواقع کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ ایک مضبوط ریپو (ریپو) قائم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ انسان ہر شخص میں خامیاں تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہ سوچ ہمیں مسلسل بقا کی جنگ میں الجھائے رکھتی ہے، جس سے شدید اعصابی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور زندگی کا مجموعی سکون ختم ہو جاتا ہے۔اس کیفیت سے نکلنے کا واحد اور منطقی حل کثرت کی سوچ یعنی Abundance Mindset کو اپنانا ہے۔ اپنی ذہنی کیفیات (Sub-modalities) کو شعوری طور پر تبدیل کریں۔ جب بھی ذہن میں یہ خیال آئے کہ آپ کے پاس کیا نہیں ہے، تو فوراً ایک کاغذ پر وہ تین چیزیں لکھیں جو آپ کے پاس موجود ہیں اور جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں۔ شکر گزاری محض ایک احساس نہیں بلکہ ذہن کی سمت بدلنے کا ایک عملی ٹول ہے جو دماغ کو کمی سے نکال کر موجودہ وسائل کے بہترین استعمال کی طرف لے جاتا ہے۔اس موضوع کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے اشفاق احمد کی کتاب 'زاویہ' (حصہ اول) کے باب "حاصل اور لاحاصل" کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔ اس باب میں انتہائی سادہ انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ کس طرح موجودہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہماری زندگی میں سکون لاتا ہے اور صرف لاحاصل کے پیچھے بھاگنا ہمیں کیسے کھوکھلا کر دیتا ہے۔اگر آپ ان الجھنوں سے نکل کر ایک پرسکون اور بامقصد زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو میرا ایک 30 دن کا کورس 'سلسلہ شکر گزاری' اس حوالے سے آپ کی مدد کر سکتا ہے، جس کے اندر میں ذہنی کیفیات کو کنٹرول کرنے، منفی سوچ کے پیٹرنز کو توڑنے اور شکر گزاری کو ایک باقاعدہ عادت بنانے جیسی عملی چیزیں سکھاتا ہوں۔ یہ کورس میں سال میں دو سے تین دفعہ کرواتا ہوں۔ اگر آپ جلدی اپنے تمام ذہنی، جسمانی اور مالی مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کورس کو اپنے لیے پرائیویٹ بھی بک کر سکتے ہیں، جس میں روزانہ ایک گھنٹہ آپ کی انفرادی رہنمائی کے لیے دیا جائے گا۔مبشرحسن (شکر گزاری کوچ، معلم، کنسلٹنٹ)
#ScarcityMindset #Abundance #Gratitude #MentalPeace #Mindset #PersonalGrowth #شکرگزاری #ذہنی_سکون #مبشرحسن
postImage
  • ناکامی سے کامیابی کی طرف جانے کا فارمولا
  • جو شخص ہر وقت شکوہ کرتا رہتا ہے، اپنی ناکامیوں کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ہر وقت سسٹم اور موسم سے ناراض نظر آتا ہے وہ کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے برعکس جب کوئی شخص زندگی کی کسی ناکامی کو تجربے کے طور پر لیتا ہے۔ دوسروں سے اور اپنی غلطیوں سے مسلسل سیکھتا رہتا ہے۔ تواتر کے ساتھ اپنے اوپر کام کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر "شکرگزاری" کی عادت کو اپناتا ہے تو وہ جلد ہی کامیاب ہو جاتا ہے۔
You’ve reached the end.