
@username
No bio available.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
تم میں سے کوئی موت کی تمنا کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے ، کیونکہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی امید منقطع ہو جاتی ہے ، اور مومن کی عمر تو اس کے لیے خیرو بھلائی کے اضافہ کا باعث ہے.
(صحیح مسلم: 131)
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ رض كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے نكل گيا۔
طبيب نے كہا:
اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجيے اسليے كہ آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اپنے بيٹے عبداللہ كو بلايا اور كہا:
ميرے پاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ۔ حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللہﷺ نے منافقين كے ناموں كى لسٹ بتائى تھى، جس كو اللہ، اللہ كے رسول اور حذيفہ كے علاوہ كوئى نہ جانتا تھا۔۔۔
حذيفہ رضى اللہ عنہ حاضر ہوئے تو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى اللہ عنہ گويا ہوئے جبكہ خون آپ كى پسليوں سے رس رہا تھا، حذيفہ! ميں تجھے اللہ كى قسم ديتا ہوں ، كيا رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے كہ نہيں؟
حذيفہ رضى اللہ عنہ روتے ہوئے كہنے لگے :
اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللہﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تك كسى كو نہيں بتا سكتا۔۔۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كہنے لگے: حذيفہ! بلاشبہ يہ رسول اللہﷺ كا راز ہے ، بس مجھے اتنا بتا ديجيے كہ رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين كے جدول ميں شمار كيا ہے يا نہيں؟
حذيفہ كى ہچكى بندھ گئى ، روتے ہوئے كہنے لگے: اے عمر! ميں صرف آپ كو يہ بتا رہا ہوں اگر آپ كے علاوہ كوئى اور ہوتا تو ميں كبھى بھى اپنى زبان نہ كھولتا، وہ بھى صرف اتنا بتاؤں گا كہ رسول اللہﷺ نے آپ كا نام منافقين كى لسٹ ميں شمار نہيں فرمايا۔
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے بيٹےعبداللہ سے كہنے لگے: عبداللہ اب صرف ميرا ايك معاملہ دنيا ميں باقى ہے۔۔۔ پِسر جانثار كہنے لگا: اباجان بتائيے وہ كون سا معاملہ ہے؟
سيدنا عمر رضى اللہ گويا ہوئے بيٹا، میں رسول اللہ اور ابوبكر رضى اللہ عنہ كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔
اے ميرے بيٹے! ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كے پاس جاؤ اور ان سے اجازت طلب كرو كہ عمر اپنے ساتھيوں كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہے۔۔۔ ہاں بيٹا، عائشہ رضى اللہ عنہا كو يہ نہ كہنا كہ امير المؤمنين كا حكم ہے بلكہ كہنا كہ آپ كا بيٹا عمر آپ سے درخواست گزار ہے۔۔۔
ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كہنے لگيں، ميں نے يہ جگہ اپنى قبر كے ليے مختص كر ركھى تھى، ليكن آج ميں عمر كے ليے اس سے دستبردار ہوتى ہوں۔۔۔
عبداللہ مطمعن لوٹے اور اپنے اباجان كو اجاز ت کا بتایا، سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے رخسار كو زمين پر ركھ ديا، آداب فرزندى سے معمور بيٹا آگے بڑھا اور باپ كى چہرے كو اپنے گود ميں ركھ ليا ، باپ نے بيٹے كى طرف ديكھا اور كہا اس پيشانى كو زمين سے كيوں اٹھايا۔۔۔۔
اس چہرے كو زمين پر واپس ركھ دو، ہلاكت ہوگى عمر كے ليے اگر اس كے رب نے اس كو قيامت كے دن معاف نہ كيا۔۔۔ ! رحمك اللہ يا عمر
سيدنا عمر رضى اللہ عنہ بيٹے عبدأللہ كو يہ وصيت كركے اس دار فانى سے كوچ كر گئے:
جب ميرے جنازے كو اٹھايا جائے اور مسجد نبوى ميں ميرا جنازہ پڑھا جائے، تو حذيفہ پر نظر ركھنا كيونكہ اس نے وعدہ توڑنے ميں تو شايد ميرا حيا كيا ہو، لیکن دھيان ركھنا وہ ميرا جنازہ بھى پڑھتا ہے يا نہيں؟
اگر تو حذيفہ ميرا جنازہ پڑھے تو ميرى ميت كو رسول اللہﷺ كے گھر كى طرف لے كر جانا، اور دروازے پر كھڑے ہو كر كہنا : يا ام المؤمنين! اے مومنوں كى ماں، آپ كے بيٹے عمر كا جسد خاكي آيا ہے۔۔۔ ہاں يہاں بھي ياد ركھنا امير المؤمنين نہ كہنا عائشہ مجھ سے بہت حياء كرتى ہے۔۔۔ اگر تو عائشہ رضى اللہ عنہا اجازت مرحمت فرما ديں تو ٹھيك، اگر اجازت نہ ملے تو مجھے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفنا دينا۔
عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ كہتے ہيں ابا جان كا جنازہ اٹھايا گيا تو ميرى نظريں حذيفہ پر تھيں، حذيفہ آئے اور انھوں نے اباجان كا جنازہ پڑھا۔۔۔ ميں يہ ديكھ كر مطمعن ہوگيا، اور اباجان كى ميت كو عائشہ رضى اللہ عنہا كے گھر كى طرف لے كر چلے جہاں اباجان كے دونوں ساتھى آرام فرما تھے۔۔
دروازے پر كھڑے ہو كر ميں نے كہا: يا أمّنا، ولدك عمر في الباب هل تأذنين له؟
اماں جان! آپ كا بيٹا عمر دروازے پر كھڑا ہے، كيا آپ اس كو دفن كى جازت ديتى ہيں؟
اماں عائشہ رضى اللہ عنہا نے كہا: مرحبا ، امير المؤمنين كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارك ہو۔ رضى اللہ عنہم ورضوا عنہ
اللہ راضى ہو عمر سے جنہوں نے زمين كو عدل كے ساتھ بھر ديا ، پھر بھى اللہ سے اتنا زيادہ ڈرنے والے، اس كے باوجود كہ رسول اللہﷺ نے عمر كو جنت كى خوشخبرى دى۔۔
تمہیں جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے،
دنیا میں دل نہ لگانا، تھک جانا، ٹوٹ جانا… یہ سب عارضی ہے۔
تمہاری روح کی اصل پکار جنت ہے، نہ کہ دنیا کی چمک۔"
"وَإِنَّ ٱلۡآخِرَةَ هِيَ ٱلدَّارُ"
“اور بے شک آخرت ہی اصل گھر ہے”
(سورة غافر 39)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کیا کرو، یہ تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا باعث ہوگا۔
حوالہ: جامع ترمذی ، حدیث نمبر: 2698
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر) روتے ہوئے آئے تو آپ ﷺ نے یوں دعا کی:
اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ.
اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو۔ آمین
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔
سنن ابوداؤد : 1169
You will be Successful if You Strive in Allah's Way
"And those who Strive in Our (Cause), We will certainly guide them to Our Paths: for verily Allah is with those who do right."
Al Qur'an 29:69
منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ گالی دیتا ہے
آج ہمارے لوگوں نے گالی کو تکیہ کلام بنایا ہوا ہے 💔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص پر (مرنے کے بعد قبر میں) صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہو تو اہلِ جنت کا اور اگر وہ جہنمی ہو تو اہلِ جہنم کا، اس سے کہا جاتا ہے کہ قیامت کے روز جب تجھے اٹھایا جائے گا، یہ تیرا ٹھکانہ ہوگا۔”
حوالہ: صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 7211
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے آخرت کی حقیقت، قبر کے احوال اور انجام کی یاد دہانی کو بیان فرمایا ہے، یعنی انسان کے مرنے کے بعد اسے اپنے مستقبل کے مقام کی جھلک دکھائی جاتی ہے، تاکہ نیک لوگوں کے لیے خوشخبری اور بدکاروں کے لیے تنبیہ ہو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال درست کرے، توبہ کرے اور جنت کے راستے اختیار کرے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص نماز، نیکی، صدقہ اور تقویٰ کو اپنا معمول بنا لے تو یہ عمل اس کے لیے جنت کی خوشخبری اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بنتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ انسان کا انجام اس کے اعمال کے مطابق ہے، اس لیے دنیا میں تیاری کرنا ضروری ہے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر) روتے ہوئے آئے تو آپ ﷺ نے یوں دعا کی:
اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ.
اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو۔ آمین
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔
سنن ابوداؤد : 1169
نبی کریم ﷺ نے بڑی سادہ مگر گہری بات سمجھا دی کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جن پر گناہ کا قلم نہیں چلتا: وہ جو سو رہا ہے کیونکہ اسے ہوش نہیں، وہ بچہ جو ابھی سمجھ بوجھ اور بلوغت تک نہیں پہنچا، اور وہ شخص جو عقل سے محروم ہے۔ اس میں ہمیں اللہ کی رحمت اور عدل دونوں نظر آتے ہیں کہ مؤاخذہ وہاں ہوتا ہے جہاں اختیار اور سمجھ ہو۔ یہ تعلیم ہمیں نہ صرف شریعت کی نرمی کا احساس دلاتی ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ اصل ذمہ داری اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان شعور کے ساتھ اپنے فیصلے خود کرنے لگے، تب ہی اس کے اعمال کا وزن بھی بنتا ہے
intoBlog - Write, Speak, Inspire