userPic

Sanaullah Madni

sanaullahmadni

Teacher Trainer Communication Coach

7
Posts
6
Followers
0
Following
آٹھویں کلاس میں داخل ہوتے ہی میں نے ساری کلاس کو ایک نظر دیکھا کونے میں ایک بچہ خاموش بیٹھا تھا۔ نظریں جھکی ہوئیں۔ چہرہ سپاٹ تھا۔ مجھ پتہ چل گیا کہ یہی میرا ٹارگٹ ہے۔
👈میں نے پہلے دن اس کا نام یاد کیا۔اگلے دن بھری کلاس میں اسے نام سے پکارا۔وہ چونکا، گھبرایا اور پھر مسکرایا۔چند دن بعد وہی بچہ ہر سبق میں ہاتھ اٹھانے لگا۔جس بچے کی نظریں جھکی رہتی تھیں، اب وہ سب سے زیادہ سوال کرتا تھا۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا؟یہ راز ریپو بلڈنگ میں تھا۔
👈ریپو بلڈنگ یعنی اپنے طلبہ کے ساتھ اعتماد اور ربط قائم کرنا۔ یہ احساس دینا کہ تم محفوظ ہو۔ تمہاری بات اہم ہے۔بغیر اس تعلق کے، بہترین تدریسی حکمتِ عملی بھی اپنا مکمل اثر نہیں دکھا پاتی۔
مشتاق احمد یوسفی والے انداز میں کہوں تو آپ وہاں خارش کر رہے ہیں جہاں خارش ہو ہی نہیں رہی۔
👈تو ریپو بنتی کیسے ہے؟✅شرمیلے بچے کا نام سب سے پہلے یاد کریں اور بھری کلاس میں پکاریں۔✅مسکرانے پہ ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں ہے، استعمال کریں۔✅ان کی رائے مانگیں، سنیں اور محسوس کروائیں کہ آپ نے واقعی سنا۔
بس۔ اتنا کافی ہے شروع کرنے کے لیے۔
جب ریپو مضبوط ہو تو تلخ بات بھی ہضم ہو جاتی ہے۔ استاد کلاس روم کے ہر مسئلے پہ آسانی سے قابو پا سکتا ہے۔
ریپو بلڈنگ ایسی کرنسی ہے جس سے آپ کلاس روم کا ہر بحران خرید سکتے ہیں... اور وہ بھی سستے داموں۔
آپ کو اپنے کسی شرمیلے سٹوڈنٹ کا نام یاد ہے؟
ثناءاللہ مدنیGuidea 
#leadership #communication #publicspeaking #ContentCreation #teaching #ثنا_اللہ_مدنی #مؤثر_کمیونیکیشن #publicspeakingtips

کمیونیکیشن میں KISS سے کیا مراد ہے؟


میں اُس چِپ چِپ والی 'کِس' کی بات نہیں کر رہا جو آپسمجھ رہے ہیں اگر آپ نے پبلک میں ایسا کچھ کیا تو شاید تھپڑ پڑ جائے، لیکن اگر آپ نے گفتگو میں ' KISS' principle استعمال نہ کیا، تو لوگ آپ کو سننا چھوڑ دیا گے!


 اسی اصول کی طاقت پر البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا "اگر تم کسی چیز کو سادہ الفاظ میں نہیں سمجھا سکتے ،تو تم خود نہیں سمجھے۔" یہ جملہ پڑھ کر میں نے ایک بار اپنی پوری پریزنٹیشن دوبارہ لکھی تھی۔کیونکہ میں نے اس میں "ہولسٹک کمیونیکیشن فریم ورک" اور "پیراڈائم شفٹ" جیسے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔مجھے لگا کہ کہ سیشن کے بعد مجھے یہ ڈائیلاگ ضرور سننا پڑے گا "یار، تم کہنا کیا چاہتے تھے؟"

گفتگو کا بیڑا غرق کیسے ہوتا ہے؟

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ لوگ جتنا زیادہ پڑھ لکھ جاتے ہیں، ان کی گفتگو اتنی ہی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ سیمینارز میں اکثر ایسے اسپیکر ہوتے ہیں جو دو گھنٹے بولتے ہیں۔ انگریزی اصطلاحات کی بارش ہوتی ہے۔ سلائیڈیں رنگ برنگی ہوتی ہیں۔مگر باہر نکل کر پوچھیں "آج کیا سیکھا"؟ تو جواب ملتا ہے "بہت انسپائرنگ تھا۔انسپائرنگ کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے " سمجھ کچھ نہیں آئی لیکن مزہ بہت آیا ہے" کیوں کہ سیشن تالیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔

کمیونیکیشن میں KISS کیا ہے؟

KISS یعنی Keep It Simple and Short یہ صرف communication کا اصول نہیں، یہ سامنے والے کی عزت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔جب آپ سادہ بولتے ہیں آپ کہتے ہیں: "میں تمہارا وقت قیمتی سمجھتا ہوں۔"جب آپ مشکل الفاظ بولتے ہیں آپ دراصل کہتے ہیں: "میری بات سمجھنا تمہاری ذمہ داری ہے۔"عربی مقولہ ہےخَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَدَلَّبہترین کلام وہ ہے جو کم ہو اور سمجھ میں آئے۔کیوں کہ کمیونیکیشن وہ نہیں جو آپ کہتے ہیں بلکہ وہ ہے جو سامنے والا سمجھتا ہے۔

کمیونیکیشن میں KISS کیوں ضروری ہے؟

انسانی دماغ پیچیدگی سے جلد تھک جاتا ہے۔جدید تحقیق بتاتی ہے کہ ہماری توجہ کا دورانیہ پہلے سے کم ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا، نوٹیفکیشنز اور معلومات کی بھرمار نے لوگوں کو مختصر اور واضح پیغامات کا عادی بنا دیا ہے۔اس لیے آج سوال یہ نہیں کہ آپ کتنا جانتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آپ دوسروں کو کتنا آسانی سے سمجھا سکتے ہیں۔

کمیونیکیشن میں KISS کیسے کریں؟

چار اصول یاد رکھیں

1️⃣چھوٹے جملے بولیں

جب آپ پانچ باتیں ایک ساتھ کہتے ہیں تو سامنے والے کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ ایک وقت میں ایک جملہ اور ایک ہی بات کہیں۔

2️⃣ مشکل الفاظ کی جگہ آسان الفاظ کا استعمال

خود سے پوچھیں کہ "اگر مجھے یہی بات ایک 12 سال کے بچے کو سمجھانی ہو تو میں کیسے کہوں گا؟

3️⃣اصل نکتے پر آئیں

تمہید باندھنے میں وقت ضائع نہ کریں۔ سوشل میڈیا کی زبان میں اسے کہتے ہیں "No Fluff, Just Stuff" (کوئی فالتو بات نہیں، صرف کام کی بات)۔

4️⃣غیر ضروری تفصیلات ختم کریں۔

 خود سے پوچھیں کہ " کیا میری بات پہلی دفعہ سننے والا سمجھ جائے گا؟" اگر جواب 'نا' میں ہو، تو بے رحم ہو کر غیر ضروری جملوں کی کانٹ چھانٹ کر دیا کریں۔
دنیا کے بہترین کمیونیکیٹر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا "مجھے جوامع الکلم (مختصر الفاظ،مفہوم زیادہ) کے ذریعے دوسروں پر فضیلت دی گئی ہے۔مجھے بتائیں کہ آپ اپنی گفتگو کو سادہ رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
ثناء اللہ مدنی
#KISSPrinciple #EffectiveCommunication #PublicSpeakingTips #SoftSkillsTraining #Guidea #گفتگو_کا_فن #مؤثر_کمیونیکیشن #ثنا_اللہ_مدنی


اے آئی اساتذہ کا دوست یا دشمن؟
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اب مستقبل نہیں، بلکہ موجودہ دور کی ضرورت ہے۔ جو اساتذہ AI ٹولز سیکھیں گے، وہ نہ صرف اپنا وقت بچائیں گے بلکہ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر تعلیم بھی دے سکیں گے۔ یہ کالم اساتذہ کے لیے AI سیکھنے کی اہمیت، فوائد اور عملی طریقوں پر روشنی ڈالتا ہے۔
✅اساتذہ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سیکھنا کیوں ضروری ہے؟میں جب بھی کلاس روم میں داخل ہوتا ہوں، مجھے مستقبل کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے جہاں ہر طالب علم کے ہاتھ میں ایک گیجٹ ہوگا جس پہ وہ تعلیم حاصل کرےگا، اس کے پاس نہ کوئی کتاب ہوگی اور نہ کاپی، اساتذہ بھی سب کچھ سمارٹ سکرینز کے ذریعے سکھائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کا طالب علم ٹیکنالوجی کی گود میں پل کر بڑا ہو رہا ہے اور ہم اساتذہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ان سے کافی پیچھے ہیں۔ اگر ہم نے خود کو نہ بدلا، تو ہم تعلیمی مہارتوں اور تدریسی میدان میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا AI نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس تبدیلی سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اب یہ اساتذہ پر منحصر ہے کہ وہ اسے ایک چیلنج سمجھتے ہیں یا ایک بہترین موقع۔
ایک استاد کی حیثیت سے میں محسوس کرتا ہوں کہ AI ہماری جگہ نہیں لے سکتا۔ ہاں، مگر AI استعمال کرنے والا استاد، روایتی استاد سے آگے ضرور نکل جائے گا۔ آئیے اس اہم موضوع کو چند بنیادی سوالات اور حقائق کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔
✅کیا AI واقعی اساتذہ کا وقت بچا سکتا ہے؟جی ہاں، AI اساتذہ کے انتظامی کاموں کا وقت آدھا کر سکتا ہے۔ یہ ٹولز سیکنڈوں میں لیسن پلانز اور سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امتحانی پرچے تیار کر دیتے ہیں۔ اس طرح اساتذہ کا قیمتی وقت بچتا ہے جو وہ طلبہ کی تربیت پر لگا سکتے ہیں۔مائیکروسافٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اساتذہ اپنا 60 فیصد وقت تدریس کے علاوہ دیگر دفتری کاموں میں صرف کرتے ہیں۔ AI ان تمام بوجھل کاموں کو خودکار نظام پر منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
✅کلاس روم میں AI استعمال کرنے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟اس کا سب سے بڑا فائدہ ہر طالب علم کی انفرادی ضرورت کے مطابق پڑھانا ہے۔ AI ٹولز کمزور اور ذہین طلبہ کے سیکھنے کی رفتا کو جانچ اس کے مطابق ٹیچنگ سٹائل بتاتے ہیں۔ یہ ہر بچے کے لیے اس کی ذہنی صلاحیت کے مطابق مواد تیار کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ آپ کے پڑھانے کے طریقے سے سمجھ نہیں پا رہا تو آپ AI کے ذریعے اس طالب علم کے مطابق اپنا تدریسی طریقہ اپنا سکتے ہیں۔عالمی ادارے 'یونیسکو' (UNESCO) کی تعلیمی رپورٹ کے مطابق، پرسنلائزڈ لرننگ یعنی انفرادی تدریس سے بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت میں50 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ میں خود اپنی کلاس میں اس کے حیرت انگیز نتائج دیکھ چکا ہوں۔
✅کیا AI کے آنے سے اساتذہ کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی؟نہیں، AI کبھی بھی ایک شفیق اور مخلص استاد کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مشین کے پاس معلومات تو ہو سکتی ہیں محسوسات نہیں، وہ بچوں کی اخلاقی تربیت اور حوصلہ افزائی نہیں کر سکتی۔ استاد کا جذباتی تعلق اور انسانی لمس تعلیم کی بنیادی روح ہے۔ ایک اچھا استاد بچے کی آنکھوں کی الجھن پڑھ لیتا ہے جو AI نہیں کر سکتا۔فوربس (Forbes) میگزین کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق، تعلیم کے شعبے میں انسانی اساتذہ کی طلب ہمیشہ برقرار رہے گی۔ تاہم، صرف وہی اساتذہ مارکیٹ میں ٹک پائیں گے جو جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال جانتے ہوں گے۔
✅اساتذہ کو اپنے تعلیمی سفر میں کون سے AI ٹولز سیکھنے چاہئیں؟اساتذہ کو بنیادی طور پر ChatGPT، Google Gemini اور کینوا (Canva) جیسے ٹولز سے آغاز کرنا چاہیے۔ ChatGPT سے آپ اسباق کی تیاری اور کوئز منٹوں میں بنا سکتے ہیں۔ Canva کی مدد سے تعلیمی چارٹس اور خوبصورت پریزنٹیشنز تیار کی جا سکتی ہیں۔
• ChatGPT: اسباق کے خاکے اور سوالات تیار کرنے کے لیے۔• Google Gemini: جدید ترین تحقیق اور معتبر معلومات کی فوری رسائی کے لیے۔• Canva AI: سیکنڈوں میں پرکشش تعلیمی تصاویر اور سلائیڈز بنانے کے لیے۔
✅ایک عام استاد ڈیجیٹل دور کا جدید ترین استاد کیسے بن سکتا ہے؟سب سے پہلے اپنے اندر کا خوف ختم کریں اور روزانہ صرف 15 منٹ کسی AI ٹول کو دیں۔ یوٹیوب پر موجود مفت کورسز دیکھیں اور کلاس روم کے چھوٹے کاموں میں اس کا تجربہ کریں۔ یاد رکھیں، ہر بڑا سفر پہلے چھوٹے قدم سے ہی شروع ہوتا ہے۔میرا مشورہ ہے کہ آپ آج ہی سے شروعات کریں۔ اپنی اگلی کلاس کے لیے ایک دلچسپ کہانی یا کوئز AI کی مدد سے تیار کریں۔ آپ خود دیکھیں گے کہ بچوں کی توجہ اور دلچسپی میں کتنا نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر دور اپنے اساتذہ سے نئی مہارتیں مانگتا ہے۔ کبھی بلیک بورڈ ضروری تھا اور کبھی وائیٹ، پھر کمپیوٹر آیا اور اب AI کا دور ہے۔ جو استاد سیکھنے سے انکار کرے گا، وہ کل پیچھے رہ جائے گا۔ بہترین استاد وہی ہوتا ہے، جو خود سیکھنا کبھی نہیں چھوڑتا۔
 آج ہی سے AI کو اپنا تدریسی ساتھی بنائیں۔
ثناءاللہ مدنی 
کرلو سے کروا لو تک کا سفر
🔴انسانی تاریخ میں پہلی بار، ہم نے سوچنے کا ٹھیکہ مشینوں کو دے دیا ہے۔ اب ہم 'گوگل کر لو' کے عہد سے نکل کر 'اے آئی سے کروا لو' کے خطرناک دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
👈کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو کسی دور کی پہچان بن جاتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب کسی محفل میں کوئی سوال پوچھ لیا جاتا تو فوراً آواز آتی:"یار، گوگل کر لو۔"انسان کو خود ڈھونڈنا، پڑھنا، سمجھنا اور پھر نتیجہ اخذ کرنا پڑتا تھا۔
👈آج منظر بدل چکا ہے۔اب کسی مضمون کا خاکہ بنانا ہو، کسی موضوع کو سمجھنا ہو، ای میل لکھنی ہو، سفر کا منصوبہ بنانا ہو یا کسی پیچیدہ مسئلے کا حل درکار ہو تو اکثر لوگ کہتے ہیں:"اے آئی سے کروا لو۔"
✔️گوگل نے معلومات کے دروازے سب کے لیے کھول دیے تھے، مگر ان دروازوں کے اندر جانا اور جواب تلاش کرنا انسان کا کام تھا۔ وہ جواب نہیں دیتا تھا، جواب تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا تھا۔
✅اے آئی نے اس سفر کو ایک قدم آگے بڑھا دیا ہے۔ اب صرف راستہ نہیں ملتا بلکہ معلومات ترتیب پا کر جواب کی شکل میں سامنے آ جاتی ہیں۔ گویا لائبریری کی الماریوں میں خود تلاش کرنے کے بجائے ایک معاون آپ کے لیے مطلوبہ مواد چن کر پیش کر دیتا ہے۔
✔️گوگل کے زمانے میں سب سے قیمتی چیز معلومات تھی۔✅ اے آئی کے زمانے میں سب سے قیمتی چیز سوچ ہے
✔️پہلے جواب تلاش کرنا مشکل تھا،✅آج جواب پر شک کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
📍لیکن کیا سب کچھ آسان ہو گیا ہے؟اگر جواب اتنی آسانی سے ملنے لگیں تو کیا انسان سوچنا چھوڑ دے گا؟میری نظر میں اصل مسئلہ یہی ہے۔سہولت ہمیشہ فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن سہولت پر مکمل انحصار خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔اے آئی ایک ایسا جادوئی اوزار ہے جو آپ کے ہاتھ کاٹ کر آپ کو سونے کی بیساکھی دے دیتا ہے۔ سہولت اتنی ہے کہ واہ واہ، نقصان یہ کہ آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتے۔ٹیکنالوجی جتنی طاقتور ہوتی جاتی ہے، انسان کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔
📍اس تبدیلی سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟1️⃣انفارمیشن نہیں، انڈرسٹینڈنگ اہم ہے۔ایک وقت تھا جب معلومات نایاب تھی، آج ہر جگہ موجود ہے۔اصل فرق یہ ہے کہ کون معلومات کو سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔
2️⃣سوال پوچھنا ایک نئی مہارت بن چکا ہے۔اب صرف جواب ڈھونڈنا نہیں، بلکہ صحیح سوال پوچھنا اہم ہے۔جتنا واضح سوال ہوگا، اتنا بہتر جواب ملے گا۔
3️⃣جمود موت ہے، سیکھتے رہنا بقا ہے۔ٹیکنالوجی بدل رہی ہے: کل گوگل تھا، آج AI ہے، کل کچھ اور ہوگا۔جو لوگ سیکھتے رہتے ہیں وہی آگے بڑھتے ہیں۔تبدیلی کو سمجھنے والے عموماً نئے مواقع سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
4️⃣انسان کی اصل طاقت اب بھی انسان ہی ہےاے آئی آپ کو بہترین جواب دے سکتا ہے،لیکن سوچنا اور فیصلہ کرنا اب بھی انسان کا کام ہے۔
📍اصل سوال کیا ہے؟اصل سوال یہ نہیں کہ گوگل بہتر ہے یا اے آئی۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان ٹولز کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔اسے غلام بن کر نہیں ،مالک اور ڈرائیور بن کر استعمال کریں۔اگر ہم انہیں اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے تو فائدہ حاصل کریں گے۔
"گوگل کر لو" سے "اے آئی سے کروا لو" تک کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اوزار بدلتے رہتے ہیں، لیکن سیکھنے کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔
اے آئی جواب دے سکتا ہے،لیکن سوال اب بھی انسان ہی پیدا کرتا ہے۔
📢ایمانداری سے بتائیے، پچھلے ایک ہفتے میں آپ نے کوئی ایسا کام کیا ہے جس میں اے آئی کا سہارا نہ لیا ہو؟ کمنٹس میں اپنے تجربے سے ضرور آگاہ کریں۔
ثناءاللہ مدنی 
#sanaullahmadni Guidea #ai #ArtificialIntelligence #CriticalThinking #DigitalTransformation

 گفتگو کی نفسیات 

  آرٹ آف لسننگ (Art of Listening)


کیا آپ جانتے ہیں کہ 90% لوگ گفتگو کے دوران صرف اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، آپ کی بات سن نہیں رہے ہوتے؟
میں نے اپنی پروفیشنل لائف اور تدریس میں یہ بات سیکھی ہے کہ انسان کی پہچان اس کی گفتگو سے ہوتی ہے اور گفتگو کا اصل راز الفاظ کے انتخاب سے زیادہ آپ کے رویے اور توجہ میں چھپا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کے ساتھ گفتگو میں دوسروں کی بات توجہ سے سننے کی بجائے اپنی باری اور بولنے کے انتظار میں رہتے ہیں جس وجہ سے وہ بات کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں 

چند مختصر سوالات سے اس کو سمجھتے ہیں۔


❓گفتگو کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلا کام کیا کریں؟

اپنی باری کا انتظار کرنے کے بجائے سامنے والے کی بات پوری توجہ سے سنیں۔ جب آپ مکمل سنتے ہیں تو سامنے والا خود کو اہم محسوس کرتا ہے۔ جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے سنیں

❓گفتگو کے دوران موبائل چھونا آپ کا امیج کیسے برباد کرتا ہے؟

فون دیکھنا سامنے والے کی توہین ہے اور آپ کی عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ جب کوئی بات کر رہا ہو تو اپنا موبائل فون ہرگز چیک نہ کریں۔

❓لوگوں کے نام یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟

گفتگو کے دوران لوگوں کے نام پکارنا تعلق کو فوری طور پر مضبوط بناتا ہے۔ انسان کو اپنا نام سننا دنیا کی سب سے پیاری آواز لگتا ہے۔

❓اپنی بات میں ٹھہراؤ اور وزن کیسے پیدا کریں؟

الفاظ میں جلدی کرنے کے بجائے ہمیشہ واضح اور آرام دہ لہجہ اختیار کریں۔ اپنی بات کو سادہ رکھیں اور بہت زیادہ لمبی وضاحتوں سے بچیں۔لمبی وضاحتیں آپ کے اثر کو کم کر دیتی ہیں۔ بات سادہ اور ٹو دی پوائنٹ رکھیں۔

❓جسمانی زبان (Body Language) کی اہمیت کیا ہے؟

الفاظ صرف 7 فیصد کام کرتے ہیں، اصل جادو آپ کی آنکھوں کا رابطہ (Eye Contact) اور ایک قدرتی مسکراہٹ کرتی ہے۔ یہ آپ کی بات کو معتبر بناتے ہیں۔

📢کیس سٹڈی

تصور کریں، آپ کا دوست بڑے شوق سے اپنی کامیابی کی کہانی سنا رہا ہے اور آپ بیچ میں کہہ دیں : ہاں میرے ساتھ بھی ایسا ہوا تھا۔ یہیں بات کا مڈل آرڈر فیل ہو جاتا ہے..."بجائے اس کے کہ آپ اپنی کہانی شروع کر دیں، اس سے سوال پوچھیں۔ "پھر کیا ہوا؟" یہ تین الفاظ آپ کی حقیقی دلچسپی ظاہر کریں گے اور سامنے والا آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔

اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟

ایک حالیہ سروے کے مطابق، 80 فیصد لوگ ان افراد کو پسند کرتے ہیں جو اچھے سامع ہوتے ہیں۔ میں آپ کو یہ مشورہ دوں گا کہ اس فہرست میں سے کوئی ایک نکتہ آج ہی آزمائیں۔ کل کا انتظار کرنے کے بجائے آج ہی اپنی شخصیت میں بہتری لائیں۔

گفتگو میں دوسروں کی توجہ کیسے حاصل کریں؟


کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ محفل میں بولنا شروع کریں اور لوگ اپنے موبائل فون اٹھا لیں؟ گفتگو میں سب کچھ ہونے کے باوجود اس کا اثر سامعین کے چہرے پہ ظاہر کیوں نہیں ہوتا؟
اس کیفیت کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو کچھ ایسے کہا جائے گا کہ:♻️"اگر آپ کے پاس دنیا کا بہترین آئیڈیا ہے لیکن اسے بیان کرنے کا فن نہیں، تو وہ آئیڈیا بیکار ہے"
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اثر صرف ان لوگوں کا ہوتا ہے جو سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ 
ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید بہت مشکل الفاظ یا عالمانہ گفتگو ہی توجہ کا مرکز بنتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اگر آپ اپنی گفتگو کو "بات چیت"کی بجائے "اثر"بنانا چاہتے ہیں، تو یہ 5 اصول سوالات کی شکل میں آپ کے لیے ہیں جو گفتگو سے پہلے آپ نے خود سےپوچھنے ہیں۔

1️⃣کیا آپ کی بات سادہ اور واضح ہے؟

لوگوں کے پاس وقت کم ہے اور وہ الجھی ہوئی باتوں سے کتراتے ہیں۔ وہ پیچیدہ وضاحتوں کے بجائے واضح اور دوٹوک جواب چاہتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اپنی بات کو ایک سادہ فریم ورک میں ڈھالیں:• یہ بات اہم کیوں ہے؟• یہ اصل میں ہے کیا؟• یہ کام کیسے کرتی ہے؟• اور اب سامنے والا اس سے فائدہ کیسے اٹھا سکتا ہے؟
"آپ اپنی بات کو جتنا سمجھنے میں آسان بنائیں گے، دوسروں پر اثر انداز ہونا اتنا ہی سہل ہو جائے گا۔ "

2️⃣کیا آپ وہی زبان بولتے ہیں جو آپ کا مخاطب سمجھتا ہے؟

اکثر لوگ اپنی قابلیت جھاڑنے کے لیے مشکل اصطلاحات استعمال کرتے ہیں، لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ آپ جتنا عام فہم اور 'Relatable' ہوں گے، اتنا ہی زیادہ لوگ آپ کی بات سنیں گے۔مثال کے طور پر، اگر آپ کا کوئی دوست پریشانی میں آپ سے کہتا ہے کہ "یار! میرا دل بہت گھبرا رہا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں؟" تو آپ اسے یہ کہنے کے بجائے کہ "تم دراصل 'اینگزائٹی' (Anxiety) یا شدید نفسیاتی تناؤ کا شکار ہو"، بس اتنی عام فہم بات کہیں: "میں تمہاری بات سمجھ سکتا ہوں، آؤ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں اور اس کا کوئی حل نکالتے ہیں۔" "لوگ ہمیشہ ان سے جڑتے ہیں جو ان کی طرح بات کرتے ہیں۔"

3️⃣کیا آپ کہانیوں کے ذریعے بات سمجھاتے ہیں؟

محض معلومات فراہم کرنا کافی نہیں، کیونکہ معلومات بہت جلد بھول جاتی ہیں، لیکن کہانیاں ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔ میں ہمیشہ اس فارمولے پر عمل کرتا ہوں: سبق ← کہانی ← حاصلِ کلام۔سبق: گفتگو میں اچھے الفاظ سے زیادہ سامنے والے کو توجہ سے سننا اہم ہے۔کہانی: "کچھ دن پہلے میرے پاس ایک پریشان حال شخص آیا۔ وہ اپنے کیریئر کے بارے میں بہت الجھا ہوا تھا۔ میں نے اس کی بات کاٹنے یا اسے فوری مشورے دینے کے بجائے، پورے بیس منٹ صرف سر ہلا کر خاموشی سے اس کی دکھ بھری داستان سنی۔ جب وہ اپنی بات مکمل کر چکا، تو اس کے چہرے پر ایک سکون تھا اور اس نے مجھ سے کہا: 'سر! آپ سے بات کر کے میرا آدھا مسئلہ حل ہو گیا ہے'، حالانکہ میں نے ابھی ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔"حاصلِ کلام: "تب مجھے سمجھ آیا کہ بعض اوقات لوگوں کو آپ کے عالمانہ مشوروں کی نہیں، بلکہ صرف ایک دھیان سے سننے والے کان کی ضرورت ہوتی ہے۔""اپنی گفتگو کو روزمرہ زندگی کی مثالوں سے جوڑیں۔"

4️⃣کیا آپ کی سوچ دوسروں سے مختلف ہے؟

انہی لوگوں کو توجہ ملتی ہے جو بھیڑ چال کا حصہ نہیں بنتے بلکہ کچھ الگ سوچتے ہیں۔ بھیڑ چال سے ہٹ کر سوچنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایلون مسک بن جائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب سب لوگ صرف 'مسئلے' پر رو رہے ہوں، آپ اکیلے 'حل' پر بات کر رہے ہوں۔جب آپ کے پاس اپنے مضبوط نظریات اور منفرد خیالات ہوتے ہیں، تو لوگ خود بخود آپ کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔ لکیر کا فقیر بننے کے بجائے جب آپ دنیا کو ایک الگ زاویے سے دیکھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، تو لوگ آپ کی بات کو وزن دیتے ہیں۔"مسائل سے زیادہ حل کی طرف توجہ دیں"

5️⃣کیا آپ مسئلے کی جڑ تک پہنچ پاتے ہیں؟

زیادہ تر لوگ سطحی مشورے دیتے ہیں، لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اصل خرابی کی نشاندہی کر سکیں۔ اگر کوئی ناکام ہو رہا ہے تو اسے یہ کہنے کے بجائے کہ تمہیں زیادہ محنت کی ضرورت ہے، یہ کہیں کہ محنت تو آپ بہت کر رہے ہیں، لیکن آپ کی توانائی غلط جگہوں پر صرف ہو رہی ہے۔ ہمیں صرف آپ کا فوکس درست کرنے کی ضرورت ہے۔
جب آپ کسی کے اصل مسئلے کو پہچان لیتے ہیں، تو سامنے والے کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ اسے واقعی سمجھتے ہیں۔ اور یاد رکھیں، "انسان ہمیشہ انہی پر بھروسہ کرتا ہے جو ان کے احساسات اور مسائل کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔"
📢مختصر یہ کہ، گفتگو صرف لفظوں کا تبادلہ نہیں بلکہ اثر پیدا کرنے کا فن ہے۔ اگر آپ سادہ رہیں گے، کہانیوں کا سہارا لیں گے اور مخاطب کے اصل درد کو سمجھیں گے، تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی بات کو نظر انداز کیا جائے۔"آپ کے خیال میں گفتگو کے دوران سامنے والے کا دل جیتنے کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟ خاموشی، مسکراہٹ یا الفاظ کا چناؤ؟ نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور لکھیے، میں ہر کمنٹ خود پڑھوں گا۔"
ثناء اللہ مدنی

Two people said the same thing.One was ignored.One was taken seriously.The difference wasn’t the words.It was the delivery.
You’ve reached the end.