Live Audio

*آپ لمبی چوڑی باتیں نہ سوچا کرو۔ یہ دیکھو کہ زندگی کیسے جا رہی ہے، زندگی میں نیکی کر لو، دوسروں کے ساتھ رحم کرو تو آپ کے ساتھ بھی رحم ہو گا۔ لوگوں کی زندگی خوشگوار بناؤ گے تو آپ بھی خوش ہو جاؤ گے، چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتے جاؤ تو بڑا نتیجہ نکلے گا۔ "آج" کا دن اچھا گزار لو اور خوشی سے کام کر لیا کرو۔
*بس اعتراض کرنا چھوڑ دو، تسلیم کر لو، تھوڑے سے بھولے بن جاؤ۔ جب آپ ایسے بن جاؤ گے، صحیح بن جاؤ گے۔ تو پھر آپ کے اندر Wisdom اور Fountain of Wisdom شروع ہو جائے گا۔ تھوڑا سا چپ رہ کے دیکھو ؎
         زمانہ ہوا ہم کو چپ رہتے ہوئے          کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا
نقش بن جاؤ، دیوار بن جاؤ، پھر آپ کے لئے کائنات کی وسعتیں ہیں۔ اپنوں کو تو وہ مغموم ہونے نہیں دیتا۔______________
سرکار حضرت واصف علی واصف رح
مشکل وقت انسان کا بہترین استاد ہے
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی خوشیوں کے پھول کھلتے ہیں تو کبھی آزمائشوں کی دھوپ انسان کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اکثر لوگ مشکل وقت سے گھبرا جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشکل وقت انسان کا بہترین استاد ہوتا ہے۔ یہ وہ استاد ہے جو بغیر کسی فیس کے زندگی کے سب سے قیمتی اسباق سکھا دیتا ہے۔
جب انسان آسانیوں میں ہوتا ہے تو اسے اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا احساس کم ہی ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی مشکلات دروازے پر دستک دیتی ہیں، وہ خود کو پہچاننے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کتنی ہمت، صبر اور برداشت موجود ہے۔ مشکل حالات انسان کو مضبوط بناتے ہیں اور اسے زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کراتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے اکثر کامیاب لوگوں نے اپنی کامیابی کا سفر مشکلات کے اندھیروں سے شروع کیا۔ اگر وہ مشکلات کے سامنے ہار مان لیتے تو شاید کبھی کامیاب نہ ہو پاتے۔ مشکلات انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ ناکامی، کامیابی کی دشمن نہیں بلکہ اس تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔
مشکل وقت ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کون ہمارے اپنے ہیں اور کون صرف وقتی ساتھی۔ آزمائش کے دنوں میں ہی رشتوں کی حقیقت سامنے آتی ہے اور انسان سچے اور مخلص لوگوں کی پہچان کر لیتا ہے۔
اگرچہ مشکل وقت بظاہر تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت سی پوشیدہ نعمتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں۔ یہی وقت انسان کے کردار کو نکھارتا، اس کی سوچ کو پختہ کرتا اور اسے مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے۔
اس لیے جب بھی زندگی میں مشکلات آئیں تو مایوس ہونے کے بجائے ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں، مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، لیکن اس سے حاصل ہونے والے سبق پوری زندگی انسان کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔ سردار 

رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :

تم میں سے کوئی موت کی تمنا کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے ، کیونکہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی امید منقطع ہو جاتی ہے ، اور مومن کی عمر تو اس کے لیے خیرو بھلائی کے اضافہ کا باعث ہے.

(صحیح مسلم: 131)

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ رض كو دودھ پلايا گيا جو پسليوں كى طرف سے نكل گيا۔

طبيب نے كہا:

اے امير المؤمنين! وصيت كر ديجيے اسليے كہ آپ مزيد زندہ نہيں رہ سكتے۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ نے اپنے بيٹے عبداللہ كو بلايا اور كہا:

ميرے پاس حذيفہ بن يمان كو لاؤ۔ حذيفہ بن يمان وہ صحابى تھے جن كو رسول اللہﷺ نے منافقين كے ناموں كى لسٹ بتائى تھى، جس كو اللہ، اللہ كے رسول اور حذيفہ كے علاوہ كوئى نہ جانتا تھا۔۔۔

حذيفہ رضى اللہ عنہ حاضر ہوئے تو امير المؤمنين سيدنا عمر رضى اللہ عنہ گويا ہوئے جبكہ خون آپ كى پسليوں سے رس رہا تھا، حذيفہ! ميں تجھے اللہ كى قسم ديتا ہوں ، كيا رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين ميں ليا ہے كہ نہيں؟

حذيفہ رضى اللہ عنہ روتے ہوئے كہنے لگے :

اے امير المؤمنين! يہ ميرے پاس رسول اللہﷺ كا راز ہے، ميں اس كو مرتے دم تك كسى كو نہيں بتا سكتا۔۔۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كہنے لگے: حذيفہ! بلاشبہ يہ رسول اللہﷺ كا راز ہے ، بس مجھے اتنا بتا ديجيے كہ رسول اللہﷺ نے ميرا نام منافقين كے جدول ميں شمار كيا ہے يا نہيں؟

حذيفہ كى ہچكى بندھ گئى ، روتے ہوئے كہنے لگے: اے عمر! ميں صرف آپ كو يہ بتا رہا ہوں اگر آپ كے علاوہ كوئى اور ہوتا تو ميں كبھى بھى اپنى زبان نہ كھولتا، وہ بھى صرف اتنا بتاؤں گا كہ رسول اللہﷺ نے آپ كا نام منافقين كى لسٹ ميں شمار نہيں فرمايا۔

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے بيٹےعبداللہ سے كہنے لگے: عبداللہ اب صرف ميرا ايك معاملہ دنيا ميں باقى ہے۔۔۔ پِسر جانثار كہنے لگا: اباجان بتائيے وہ كون سا معاملہ ہے؟

سيدنا عمر رضى اللہ گويا ہوئے بيٹا، میں رسول اللہ اور ابوبكر رضى اللہ عنہ كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہوں۔۔۔

اے ميرے بيٹے! ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كے پاس جاؤ اور ان سے اجازت طلب كرو كہ عمر اپنے ساتھيوں كے پہلو ميں دفن ہونا چاہتا ہے۔۔۔ ہاں بيٹا، عائشہ رضى اللہ عنہا كو يہ نہ كہنا كہ امير المؤمنين كا حكم ہے بلكہ كہنا كہ آپ كا بيٹا عمر آپ سے درخواست گزار ہے۔۔۔

ام المؤمنين عائشہ رضى اللہ عنہا كہنے لگيں، ميں نے يہ جگہ اپنى قبر كے ليے مختص كر ركھى تھى، ليكن آج ميں عمر كے ليے اس سے دستبردار ہوتى ہوں۔۔۔


عبداللہ مطمعن لوٹے اور اپنے اباجان كو اجاز ت کا بتایا، سيدنا عمر رضى اللہ عنہ يہ سن كر اپنے رخسار كو زمين پر ركھ ديا، آداب فرزندى سے معمور بيٹا آگے بڑھا اور باپ كى چہرے كو اپنے گود ميں ركھ ليا ، باپ نے بيٹے كى طرف ديكھا اور كہا اس پيشانى كو زمين سے كيوں اٹھايا۔۔۔۔

اس چہرے كو زمين پر واپس ركھ دو، ہلاكت ہوگى عمر كے ليے اگر اس كے رب نے اس كو قيامت كے دن معاف نہ كيا۔۔۔ ! رحمك اللہ يا عمر

سيدنا عمر رضى اللہ عنہ بيٹے عبدأللہ كو يہ وصيت كركے اس دار فانى سے كوچ كر گئے:

جب ميرے جنازے كو اٹھايا جائے اور مسجد نبوى ميں ميرا جنازہ پڑھا جائے، تو حذيفہ پر نظر ركھنا كيونكہ اس نے وعدہ توڑنے ميں تو شايد ميرا حيا كيا ہو، لیکن دھيان ركھنا وہ ميرا جنازہ بھى پڑھتا ہے يا نہيں؟

اگر تو حذيفہ ميرا جنازہ پڑھے تو ميرى ميت كو رسول اللہﷺ كے گھر كى طرف لے كر جانا، اور دروازے پر كھڑے ہو كر كہنا : يا ام المؤمنين! اے مومنوں كى ماں، آپ كے بيٹے عمر كا جسد خاكي آيا ہے۔۔۔ ہاں يہاں بھي ياد ركھنا امير المؤمنين نہ كہنا عائشہ مجھ سے بہت حياء كرتى ہے۔۔۔ اگر تو عائشہ رضى اللہ عنہا اجازت مرحمت فرما ديں تو ٹھيك، اگر اجازت نہ ملے تو مجھے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفنا دينا۔


عبداللہ بن عمر رضى اللہ عنہ كہتے ہيں ابا جان كا جنازہ اٹھايا گيا تو ميرى نظريں حذيفہ پر تھيں، حذيفہ آئے اور انھوں نے اباجان كا جنازہ پڑھا۔۔۔ ميں يہ ديكھ كر مطمعن ہوگيا، اور اباجان كى ميت كو عائشہ رضى اللہ عنہا كے گھر كى طرف لے كر چلے جہاں اباجان كے دونوں ساتھى آرام فرما تھے۔۔

دروازے پر كھڑے ہو كر ميں نے كہا: يا أمّنا، ولدك عمر في الباب هل تأذنين له؟

اماں جان! آپ كا بيٹا عمر دروازے پر كھڑا ہے، كيا آپ اس كو دفن كى جازت ديتى ہيں؟

اماں عائشہ رضى اللہ عنہا نے كہا: مرحبا ، امير المؤمنين كو اپنے ساتھيوں كے ساتھ دفن ہونے پر مبارك ہو۔ رضى اللہ عنہم ورضوا عنہ

اللہ راضى ہو عمر سے جنہوں نے زمين كو عدل كے ساتھ بھر ديا ، پھر بھى اللہ سے اتنا زيادہ ڈرنے والے، اس كے باوجود كہ رسول اللہﷺ نے عمر كو جنت كى خوشخبرى دى۔۔

تمہیں جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے،

دنیا میں دل نہ لگانا، تھک جانا، ٹوٹ جانا… یہ سب عارضی ہے۔

تمہاری روح کی اصل پکار جنت ہے، نہ کہ دنیا کی چمک۔"

"وَإِنَّ ٱلۡآخِرَةَ هِيَ ٱلدَّارُ"

“اور بے شک آخرت ہی اصل گھر ہے”

(سورة غافر 39)

 اپنے آپ پر یقین — وہ طاقت جو سب کچھ بدل دیتی ہے

 

دنیا میں سب سے مشکل کام پہاڑ چڑھنا نہیں، دوسروں کو منانا نہیں، حالات بدلنا نہیں۔

سب سے مشکل کام ہے اپنے آپ پر یقین رکھنا۔ کیونکہ جب انسان خود پر شک کرتا ہے تو دنیا کا کوئی انسان اس پر یقین نہیں کرتا - کوئی طاقت اسے آگے نہیں بڑھا سکتی۔

اور جب انسان خود پر یقین کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔

یقین وہ روشنی ہے جو دل کے اندھیروں کو ختم کرتی ہے۔ یقین وہ طاقت ہے جو انسان کو گرتے ہوئے بھی اٹھا دیتی ہے۔ یقین وہ دروازہ ہے جو بند راستوں میں بھی امید کی کرن پیدا کرتا ہے۔

اپنے آپ پر یقین کیوں ضروری ہے؟

پہلا سبب: آپ اپنی زندگی کے سب سے قریب انسان ہیں

دنیا آپ کو نہیں جانتی، مگر آپ خود کو جانتے ہیں۔ آپ کی صلاحیتیں، آپ کے خواب، آپ کی محنت — یہ سب آپ کے اندر ہیں۔ اگر آپ خود پر یقین نہیں رکھیں گے تو دوسرا کوئی کیوں رکھے گا۔

دوسرا سبب: یقین فیصلوں کو مضبوط کرتا ہے

شک انسان کو کمزور کرتا ہے۔ یقین انسان کو واضح سمت دیتا ہے۔ جب آپ یقین کے ساتھ قدم اٹھاتے ہیں تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔

تیسرا سبب: یقین مشکلات کو چھوٹا کر دیتا ہے

مشکل وہی بڑی لگتی ہے جسے ہم بڑا سمجھتے ہیں۔ یقین انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ

 “میں کر سکتا ہوں، میں سنبھال سکتا ہوں، میں آگے بڑھ سکتا ہوں۔”

چوتھا سبب: یقین اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے

جب انسان خود پر یقین رکھتا ہے تو دراصل وہ اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔ اور اللہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے جو خود کو کمزور نہیں سمجھتا۔

اپنے آپ پر یقین کیسے پیدا کریں؟

روزانہ اپنے دل میں یہ جملے ڈالیں-

 میں قابل ہوں- میں بہتر ہو رہا ہوں- اللہ میرے ساتھ ہے- میں اپنی منزل تک ضرور پہنچوں گا

حرف آخر

اگر آپ کا یقین مضبوط ہو تو آپ کبھی نہیں ٹوٹتے- زندگی میں سب کچھ بدل سکتا ہے — حالات، لوگ، موسم، وقت

جس انسان کو خود پر یقین ہو، وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ اپنے آپ پر یقین رکھیں — یہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔

#BelieveInYourself #Motivation #InnerPower

گاڑی آہستہ چلاؤ - آگے خطرناک موڑ اور آبادی ہے  ایک لمحے کی جلدی، زندگی بھر کا پچھتاوا  ڈاکٹر طارق حسين سومرو فیملی فزیشن، لاڑکانہ ٹریفک حادثات سے بچاؤ پر تفصیلی پیغام1. Good Heading -مؤثر عنواناسپیڈ کا نشہ یا زندگی کی ہوش؟ موڑ پر آہستہ، گھر پر خیر سے  خطرناک موڑ + آبادی = موت کا پھندا۔ گاڑی آہستہ، دعا تیز  سڑک پر جلدی دکھانا مردانگی نہیں، بے وقوفی ہے۔2. Vigilant Driving چوکنا ڈرائیونگ کیوں ضروری؟موڑ + آبادی = ڈبل خطرہ:1. Blind Turnموڑ پر سامنے والا نظر نہیں آتا۔ سامنے موٹر سائیکل، بچہ، گدھا گاڑی ہو سکتی ہے۔2. آبادی: بچے گیند لے کر بھاگتے ہیں، عورتیں سامان لے کر روڈ کراس کرتی ہیں، بائیک والے اچانک مڑتے ہیں۔3. ری ایکشن ٹائم: 100km/h پر گاڑی 1 سیکنڈ میں 28 میٹر جاتی ہے۔ بریک لگاؤ گے تب تک حادثہ ہو چکا ہو گا۔ 40km/h پر 11 میٹر۔ جان بچ جائے گی۔ڈاکٹر کا اصول: "موڑ دیکھا نہیں، پاؤں بریک پر رکھا نہیں"۔3. Social سماجی نقصان1 ایک حادثہ، 10 گھر برباد : ڈرائیور مر گیا، 4 بچے یتیم، بیوی بیوہ، ماں بوڑھی۔ پورا محلہ جنازے پر۔2. آبادی میں حادثہ: اگر بچہ کچل دیا تو خون بہا، دشمنی، جیل۔ آپ کی 3 نسلیں برباد۔3. ٹریفک جام: ایک گاڑی ٹکرائی، پورا شہر لیٹ۔ ایمبولینس نہیں گزر سکی، مریض مر گیا۔لاڑکانہ-قمبر روڈ، رتہ کوٹ موڑ، باڈھ روڈ - ہر مہینے 2-3 جنازے اسی "جلدی" کی وجہ سے۔4. Medical حادثے کا میڈیکل نتیجہ - میں روز ER میں دیکھتا ہوں سر جی1. Head Injuryہیلمٹ/سیٹ بیلٹ نہیں = دماغ پھٹ گیا۔ بچ گیا تو "سبزی" بن کر 20 سال بستر پر۔2. Spinal Cordکمر ٹوٹ گئی = نیچے کا دھڑ مفلوج۔ پیشاب پاخانہ بستر پر۔3. خون کی کمی: 2 لیٹر خون بہہ گیا = 10 منٹ میں موت۔ 4. ہڈیاں: ٹانگ، بازو کٹ گئے۔ مصنوعی ٹانگ 8 لاکھ کی، وہ بھی چل نہیں سکتی۔سچ: 60km سے اوپر حادثہ = 80% موت یا معذوری۔ 40km پر = 80% معمولی چوٹ۔ فرق صرف "پاؤں" کا ہے۔5. Moral اخلاقی ذمہ داریآپ کی گاڑی میں صرف آپ نہیں بیٹھے۔ آپ کی ماں کی دعا، بیوی کا انتظار، بچوں کا مستقبل بیٹھا ہے۔ جلدی کر کے اگر کسی کی ماں کا بیٹا مار دو گے تو قیامت میں کیا منہ دکھاؤ گے؟ مرد وہ نہیں جو 180 پر گاڑی بھگائے۔ مرد وہ ہے جو 40 پر گاڑی روک کر بچے کو گزرنے دے۔6. Islamic اسلام کا حکم - اللہ فرماتا ہے: "اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو" سورہ بقرہ 195۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے" بخاری۔اسپیڈ سے گاڑی چلا کر دوسرے کی جان خطرے میں ڈالنا گناہ ہے۔ اگر کسی کو مار دیا تو "قتلِ خطا" کا کفارہ، دیت، 60 روزے۔ قبر میں سکون نہیں ملے گا۔دعا: گاڑی میں بیٹھ کر "بسم اللہ" پڑھو، موڑ پر "آہستہ" کر دو۔ یہ سنت بھی ہے، حفاظت بھی۔آخری پیغام - بھائیو، منزل دیر سے پہنچو گے تو لوگ 10 منٹ انتظار کر لیں گے۔ قبر میں جلدی پہنچ گئے تو کوئی واپس نہیں لائے گا۔3 سنہری اصول:1. موڑ = 40km: سائن بورڈ پڑھو "آہستہ چلاؤ"۔2. آبادی = ہارن + آہستہ: بچہ اچانک آ سکتا ہے۔3. سیٹ بیلٹ + ہیلمٹ : مرنا لکھا ہو تو بھی چوٹ کم ہو گی۔نعرہ: "اسپیڈ کم، زندگی زیادہ۔ موڑ پر بریک، گھر پر شریک"اللہ پاک ہمیں اور ہماری اولاد کو حادثات سے محفوظ رکھے۔ آمین

سورۂ فیل اور سوشل میڈیا کا دور

سورۂ فیل محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے امید، یقین اور توکل کا ابدی پیغام ہے۔ ابرہہ کا لشکر اپنے زمانے کی سپر پاور تھا۔ اس کے پاس طاقت، وسائل، منصوبہ بندی اور ظاہری برتری موجود تھی، جبکہ مکہ کے باشندے بظاہر کمزور اور بے بس تھے۔ لیکن جب حق کے محافظ اللہ تعالیٰ ہوں تو ظاہری طاقتیں اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔

آج ہم سوشل میڈیا کے دور میں زندہ ہیں۔ یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں رائے، فکر، نظریات اور ثقافتوں کی جنگ جاری ہے۔ بڑی بڑی میڈیا کمپنیاں، طاقتور ادارے، سرمایہ دار گروہ اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد جدید دور کے "لشکر" بن چکے ہیں۔ ان کے پاس وسائل کی فراوانی، جدید ٹیکنالوجی اور کروڑوں لوگوں تک رسائی موجود ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف انہی کی آواز سنی جائے گی اور انہی کا بیانیہ غالب رہے گا۔

لیکن سورۂ فیل ہمیں ایک مختلف حقیقت سکھاتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حق کی کامیابی صرف وسائل اور تعداد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک سچا لفظ، ایک مخلص پیغام، ایک علمی مضمون یا ایک مختصر ویڈیو لاکھوں دلوں تک پہنچ کر وہ اثر پیدا کر دیتی ہے جو بڑے بڑے میڈیا نیٹ ورکس بھی پیدا نہیں کر پاتے۔

سوشل میڈیا نے عام انسان کو بھی اظہارِ رائے کا موقع دیا ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کو دیانت، علم اور خیر کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور حق کی اشاعت کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ قرآن کا پیغام، سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور معاشرتی اصلاح کے موضوعات آج چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم سورۂ فیل ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ باطل کے پاس وقتی طاقت ضرور ہو سکتی ہے، لیکن دائمی غلبہ نہیں۔ جھوٹ، پروپیگنڈا، نفرت اور گمراہی پر مبنی مہمات وقتی شور تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر ان کا انجام "کَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ" جیسا ہی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو دبانے کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہوئی ہے۔

آج کے مسلمان کے لیے سورۂ فیل کا پیغام یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے میدان میں خوف، مایوسی اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہو۔ اگر اس کا مقصد حق کی خدمت، علم کی ترویج اور اللہ کی رضا ہو تو ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم بھی ابابیل کے کنکروں کی طرح بڑے بڑے باطل بیانیوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اصل طاقت فالوورز، لائکس اور ویوز میں نہیں، بلکہ حق، اخلاص اور اللہ کی مدد میں ہے۔

ہمارے وطن کی فلاپ اور مسترد شدہ تعلیمی سٹرکچر نوجوانوں کو ضائع کرتی جارہی ہیں۔ ایک ایسا نظام جو خود عالمی اداروں کی جانب سے فیل اور ناکام قرار دیا گیا ہو ، لیکن اسے تبدیل نہیں کیا جارہا۔ اگر یہ سسٹم نہیں تبدیل ہو رہا تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس فلاپ تعلیمی نظام میں اپنے بچوں کو جھونک دینا چاہیے یانہیں ؟


Pull down to refresh