دنیا کو فتح کرنے کے لیے آپ کو کسی بھاری بھرکم اسلحے کی نہیں، بلکہ صرف 200 فقروں، جملوں اور قصوں کے ایک چھوٹے سے ذخیرے کی ضرورت ہے۔ یہ اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ ایک ایسی نفسیاتی کلید ہے جو بڑے بڑے بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ خشک فلسفے سے اکتا جاتی ہے لیکن کہانی اور واقعے پر کان دھرتی ہے۔ اگر آپ کے پاس 10-15 تازہ لطیفے، کچھ سبق آموز کہانیاں اور دانائی کے چند موتی (Pearls of Wisdom) ہمہ وقت تیار ہیں، تو آپ کسی بھی محفل کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔ یہ 200 جملے آپ کے وہ 'ترکش کے تیر' ہیں جو ہر قسم کے انسانی مزاج کو شکار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس ہنر میں ماہر ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ کو ایک لائبریری کی طرح استعمال کریں۔ جب آپ کسی سے ملیں، تو گفتگو کا آغاز 'منفی' کی بجائے 'مثبت' سے کریں۔ اگر آپ کسی کے لباس، اس کی عینک یا اس کے کام کی ذرا سی تعریف سے بات شروع کرتے ہیں، تو آپ سامنے والے کے ذہن میں موجود 'دفاعی دیوار' کو گرا دیتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں جو انہیں اچھا محسوس کرائیں، اور یہ 200 منتخب جملے آپ کو وہی جادوئی شخصیت بننے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ کی جیب میں اگر یہ ذخیرہ موجود ہے، تو آپ کبھی بھی "خاموشی کی بوجھل صورتحال" کا شکار نہیں ہوں گے، بلکہ ہر گفتگو کو ایک یادگار تجربے میں بدل دیں گے۔
اپنی زندگی میں ایک 'کمیونیکیشن ڈائری' بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس میں نئے فقرے، دلچسپ مکالمے اور سبق آموز واقعات جمع کرنا شروع کریں۔ یہ مشق آپ کو ایک ایسا 'محرک' فراہم کرے گی کہ آپ محض ایک عام بات کرنے والے نہیں، بلکہ ایک اثر انگیز شخصیت بن کر ابھریں گے۔ جب آپ لفظوں کے اس 200 رکنی لشکر کو ترتیب دے لیتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی اب آپ سے صرف ایک جملے کی دوری پر ہے۔ یاد رکھیے، بڑے سے بڑا معرکہ بھی کبھی کبھی صرف ایک صحیح وقت پر کہے گئے صحیح جملے سے جیتا جا سکتا ہے۔
“ کامیابی کی ہر بات مذہب کے خلاف نہیں ہوتی، کیوں کہ اللہ بھی انسان سے کامیابی ہی چاہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔”
Pull down to refresh