Live Audio

 سب سے مشکل کام!


پیسے کمانا مشکل نہیں مستقل مزاجی (Consistency) برقرار رکھنا مشکل ہے۔

جو لوگ ہر روز اپنے مقصد کے لیے تھوڑا تھوڑا کام کرتے ہیں، وہی لوگ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو، دولت قسمت سے نہیں بنتی یہ آپ کی عادتوں، محنت اور صبر سے بنتی ہے۔

#Mrihsan

             حسرت  میں اپنے محبوب سے ملاقات نہ کر سکا، اور انتظار میں ہزاروں سورج نکلے اور ڈوب گئے، یعنی بہت وقت گزر گیا۔ جب محبوب کے پاس جانے کا وقت تھا، تب بھی موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ اب دل میں یہ حسرت ہے کہ کاش ایک بار پھر وہ وقت مل جائے تو میں اپنے محبوب کو دیکھ کر اپنی زندگی کا مقصد پورا کر لوں۔
حقی مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ملنے والے موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکیں، ان کے ہاتھ افسوس اور دکھ کے سوا کچھ نہیں آتا۔
دوسروں کی نعمتیں اور اپنی محرومیاں شمار کرنے سے ناشکری،ڈپریشن ،حسد اور مایوسی جیسے امراض پیدا ہوتے ہیں
جس نے تیری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھیوہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی🥰🥰
( گزشتہ سے پیوستہ )بلا شبہ یہ خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر مرحومہ کا حسن ظن ہی تھا کہ انہوں نے بچوں کی شرارتوں کو چالاکی کا دلکش نام دے ڈالا مگر ہم تو اسے چالاکی کی آڑ میں کھلی بے باکی ہی کہیں گے ـ    گھر میں مطالعے کے لئے مخصوص چھوٹے سے کمرے میں پڑی میز پر ہماری ڈائری اور قلم ہر وقت موجود رہتے ہیں ـ روزمرہ کے ہنگاموں سے گھبرا کر ہم کبھی کبھی سخن کی فکر کے بہانے یہاں آ کے بیٹھ جاتے ہیں اور خیالات کے طوطے اڑاتے رہتے ہیں ؛ ایسے میں اچانک کوئی انوکھا خیال ذہن کے پردے پر پر وارد ہو تو ہم فوراً اسے قلم کے شکنجے میں کس کر ڈائری میں قید کر لیتے ہیں ـ گزشتہ سال ہمارے کچھ دور پار کے مہمان اپنے دو شوخ و شنگ بچوں سمیت ہمارے مہمان بنے ـ ایک بچی کی عمر چار پانچ سال رہی ہوگی جبکہ دوسرا بچہ شاید ڈھائی تین سال کا تھا ـ یقین مانیں شرارت کا اصل مفہوم ان بچوں کے کرتوت دیکھ کر ہی ہماری سمجھ میں آیا ـ جب سے یہ لوگ آئے تھے ہمیں اپنا آپ خود اپنے ہی گھر میں اجنبی اجنبی سا لگنے لگا تھا ـ ان کے آمد کی برکت سے ہمارے گھر سمیت پورے محلے نے خیر سے فجر کی نماز بروقت ادا کرنی شروع کر دی تھی ـ وہ یوں کہ ان بچوں میں سے کوئی ایک علی الصبح اذانوں کے ساتھ ہی انتہائی بلند اور غیر مہذب انداز میں رونا شروع کر دیتا تھا ـ یہ مشق کم و بیش آدھے گھنٹے تک ضرور جاری رہتی تھی ؛ ساتھ ہی ساتھ ماں کے چمکارنے پچکارنے کی بے سری صدائیں ماحول کو دو آتشہ بنا لیتی تھیں ـ یہ ظالم تب ہی خاموش ہوتے جب سارا محلہ خود کو کوستے کوستے اٹھ نہ کھڑا ہوتا ـ ستم بالائے ستم یہ کہ محلے بھر کو جگانے کے بعد یہ فتنہ پرداز خود آرام سے دوبارہ سو جاتے اور کوئی پہر دن چڑھے ہی بیدار ہوتے ـ       آفت کے یہ پرکالے دن بھر نت نئی مہم جوئی کی جستجو میں رہتے تھے ـ ہمارا مطالعے کا کمرہ کھلا پاکر ایک دن وہاں بھی گھس گئے اور اپنی موجودگی کے ان مٹ نقوش چھوڑ کر ہی وہاں سے نکلے ـ ہمیں صورت حال کی سنگینی کا ادراک اس وقت ہوا جب تنہائی کی گود میں سما کر خود پہ حال طاری کئے ہوئے ہم الہام شدہ اشعار کو نقل کرنے وہاں پڑی اپنی ڈائری کھول بیٹھے ـ دیکھ کر ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے ـ ڈائری کے صفحات طرح طرح کی گل کاری سے رنگین بن چکے تھے ـ کہیں پہ گدھے کی تصویریں بنانے کی بھونڈی کوششیں کی جا چکی تھیں تو کسی صفحے پر نئے زمانے کی لیلیٰ کو پریوں کے لباس میں زمین پہ اتارا گیا تھا ـ کسی صفحے پر ہندسہ نویسی اور حروف سازی کا مقابلہ ہو چکا تھا ـ اہم یادداشتوں اور ضروری رابطہ نمبروں والے صفحوں پر اندھا دھند قلم چلا کر اس کی دھار تیز کرنے کی مربوط کوششیں ہو چکی تھیں ـ دل تو چاہتا تھا کہ عدم تشدد کو خیر باد کہہ کر ابھی ان ناہنجاروں کی خبر لیں مگر فساد کے اندیشے سے اپنے ارادے سے باز رہے ـ   اس سے اگلے دن کتے کے بچے کی سالگرہ منانے(حالانکہ اس کتے کے بچے کو گلی سے پکڑ کر گھر میں لانے کے تین دن بھی پورے نہیں ہوئے تھے ) کی دلکش تقریب میں ہماری عینک ڈوری سے باندھ کر بطورِ تحفہ اس کے گلے میں لٹکائی گئی کہ سر دست گھر میں کوئی ہار دستیاب نہیں تھا ـ وہ تو شکر ہے ہم بروقت موقعے پر پہنچے اور اپنی عینک اور عزت دونوں کو کتے پہ قربان ہونے سے صاف بچا لیا ـ(بچے ہماے عہد کے از پروفیسر نور کمال شاہ )
سفارش،نا انصافی اور قومی بحران  تحریر: اللہ نواز خان allahnawazk012@gmail.com پاکستان میں نا انصافی اور سفارش بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔سفارش اور ناانصافی سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔سفارش کےزور پر عہدے حاصل کر لیے جاتے ہیں،حالانکہ حاصل کرنے والا اہل نہیں ہوتا۔نا اہل کا عہدہ حاصل کرنا نا انصافی کہلاتا ہے۔سفارش کےذریعے سزا بھی معاف کر دی جاتی ہے،اس طرح سزا معاف کرنا ظلم کہلاتا ہے اور یہ بھی نا انصافی کے زمرے میں آتا ہے۔ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے پاکستان میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہو چکا ہے نیز روز بروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔میرٹ کے نظام کا خاتمہ ہونے سے ملک میں کئی قسم کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔قابل افراد کی حق تلفی ہو رہی ہے۔قابل فرد جب دیکھتا ہے کہ نا اہل نوازے جا رہے ہیں تو اس کے اندر غصہ پیدا ہوتا ہے اور یہ غصہ اس کو جرائم کی طرف راغب کر دیتا ہے۔چوری، ڈکیتی،کرپشن اور دیگر جرائم میں اضافہ ناانصافی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اقربا پروری نے بھی پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔سیاست سے بھی نظام میں بڑی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔حکمران طبقہ ان افراد کو نوازتا ہے،جو اس کو ووٹ دیتے ہیں۔پاکستان میں ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے سماجی فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔امیر،امیر تر اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔ناانصافی اور سفارش کی وجہ سے جب عہدے نا اہل لوگوں کو ملیں تو وہ کرپشن بھی کرتے ہیں اور ظلم وجبر بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دولت یا حاصل کیا گیا عہدہ،معاشرے میں بہت بڑے بحران پیدا کر دیتا ہے۔انصاف کا حصول انتہائی مشکل ہے لیکن دولت سے انصاف آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے،چاہے انصاف کی بجائے ظلم ہی کیوں نہ کیا جا رہاہو۔ایک غریب یا مجبور آدمی سر توڑ کوشش کرنے کے باوجود بھی اپنا حق حاصل نہیں کر پاتا،لیکن طاقتور اور باختیار فرد آسانی سے بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے۔ انصاف کسی قوم یا ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔جو معاشرے انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں اور نا انصافی وسفارش کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔اسلام نے عدل و انصاف کا خصوصی حکم دیا ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالی ہے"اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو"(النساء.58) دین اسلام میں انصاف کی خصوصی تاکید کی گئی ہے اور سفارش یا اقربا پروری سے منع کیا گیا ہے۔اللہ تعالی نے خالص انصاف کا حکم دیا ہے تاکہ کامیابی کا حصول ممکن ہو سکے۔اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی قوم کی دشمنی کی وجہ سے بھی عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑا جائے۔اسی طرح کسی قوم کی دوستی یا رشتہ داری کی وجہ سے بھی عدل و انصاف کا نظام برحال میں قائم رکھا جائے۔قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے"کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو،انصاف کرو یہی تقوی کے زیادہ نزدیک ہے"(المائدہ.8) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی یہی درس دیا ہے کہ انصاف کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے،اگر انصاف کی وجہ سے قریبی فرد بھی متاثر ہو رہا ہو تو پھر بھی نا انصافی نہ کی جائے۔انصاف کرتے وقت کسی سفارش کو بھی مد نظر نہ رکھا جائے۔ایک حدیث کے مطابق،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ قریش قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نےچوری کی تھی کافی فکرمند ہوئے،وہ کہنے لگے اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟لوگوں نے جواب دیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟چنانچہ اسامہ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے گفتگوکی تو آپ نے فرمایا"کیا تم اللہ کے حدود میں ایک کے بارے میں گفتگو کر رہے ہو؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا"لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس روش کی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب اعلی خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا(بھی)ہاتھ کاٹ دیتا"(ترمذی) کوئی بھی قوم محبت اور نفرت کی پرواہ کیے بغیر انصاف کا نظام قائم کر لے تو وہ ہلاک نہیں ہوتی۔ناانصافی اور سفارش سے معاشرہ سدھرنے کی بجائےبگڑتا رہتا ہے۔ پاکستان میں عدل و انصاف کا نظام بہت حد تک بگڑ چکا ہے۔سرکاری نوکریوں کےحصول کے لیے سفارش کا سہارا لیا جاتا ہے،اس طرح ناانصافی جنم لیتی ہے۔ناانصافی اورسفارش سے نااہل افراد عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جب نااہل عہدے سنبھال لیں تو میرٹ کی پامالی عام ہو جاتی ہے اور عدل و انصاف بھی ناپید ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ایسے حکمران کا انتخاب کرنا چاہیے جواہل ہو۔نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک انتہائی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔حکمرانوں کی نااہلیت نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہت زیادہ خراب کر دیا ہے۔سیاسی عدم استحکام بھی بہت بڑھ چکا ہے۔اگر سفارش کو نظر انداز نہ کیا گیا تو مستقبل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر انصاف کا نظام قائم کر دیا گیا تو نوجوانوں میں اعتماد بڑھے گا۔ہر نوجوان اگر یہ سمجھ لے کہ حقدار کو حق مل رہا ہےتو وہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنی خدمات بہتر طور پر سر انجام دینا شروع کر دیں گے۔معاشی طور پر ملک مستحکم ہو جائے گا۔قانون کی بالادستی اور اداروں کی خود مختاری کے لیے ضروری ہے کہ سفارش اور نا انصافی کے کلچر کو ختم کیا جائے۔تمام اداروں کو رشوت،کرپشن،سفارش وغیرہ سے پاک کرنا ہوگا۔انصاف اور میرٹ سےپاکستان ترقی کی منازل طے کرے گا اور عالمی وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔

دنیا کو فتح کرنے کے لیے آپ کو کسی بھاری بھرکم اسلحے کی نہیں، بلکہ صرف 200 فقروں، جملوں اور قصوں کے ایک چھوٹے سے ذخیرے کی ضرورت ہے۔ یہ اصول بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ ایک ایسی نفسیاتی کلید ہے جو بڑے بڑے بند دروازوں کو کھول دیتی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ خشک فلسفے سے اکتا جاتی ہے لیکن کہانی اور واقعے پر کان دھرتی ہے۔ اگر آپ کے پاس 10-15 تازہ لطیفے، کچھ سبق آموز کہانیاں اور دانائی کے چند موتی (Pearls of Wisdom) ہمہ وقت تیار ہیں، تو آپ کسی بھی محفل کے بادشاہ بن سکتے ہیں۔ یہ 200 جملے آپ کے وہ 'ترکش کے تیر' ہیں جو ہر قسم کے انسانی مزاج کو شکار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس ہنر میں ماہر ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے دماغ کو ایک لائبریری کی طرح استعمال کریں۔ جب آپ کسی سے ملیں، تو گفتگو کا آغاز 'منفی' کی بجائے 'مثبت' سے کریں۔ اگر آپ کسی کے لباس، اس کی عینک یا اس کے کام کی ذرا سی تعریف سے بات شروع کرتے ہیں، تو آپ سامنے والے کے ذہن میں موجود 'دفاعی دیوار' کو گرا دیتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں جو انہیں اچھا محسوس کرائیں، اور یہ 200 منتخب جملے آپ کو وہی جادوئی شخصیت بننے میں مدد دیتے ہیں۔ آپ کی جیب میں اگر یہ ذخیرہ موجود ہے، تو آپ کبھی بھی "خاموشی کی بوجھل صورتحال" کا شکار نہیں ہوں گے، بلکہ ہر گفتگو کو ایک یادگار تجربے میں بدل دیں گے۔

اپنی زندگی میں ایک 'کمیونیکیشن ڈائری' بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس میں نئے فقرے، دلچسپ مکالمے اور سبق آموز واقعات جمع کرنا شروع کریں۔ یہ مشق آپ کو ایک ایسا 'محرک' فراہم کرے گی کہ آپ محض ایک عام بات کرنے والے نہیں، بلکہ ایک اثر انگیز شخصیت بن کر ابھریں گے۔ جب آپ لفظوں کے اس 200 رکنی لشکر کو ترتیب دے لیتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی اب آپ سے صرف ایک جملے کی دوری پر ہے۔ یاد رکھیے، بڑے سے بڑا معرکہ بھی کبھی کبھی صرف ایک صحیح وقت پر کہے گئے صحیح جملے سے جیتا جا سکتا ہے۔


“ کامیابی کی ہر بات مذہب کے خلاف نہیں ہوتی، کیوں کہ اللہ بھی انسان سے کامیابی ہی چاہتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔”

Pull down to refresh