شطرنج کھیلتے ہوئے آپ کا دماغ مکمل طور پر ایکٹو ہوتا ہے اور یہ ماضی کو سوچنے سے لیکر مستقبل کی منصوبہ بندی تک سب کچھ کر رہا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ، شطرنج جیسی سٹریٹیجی والی گیمز کو جوانی میں کھیلنے کی عادت بڑھاپے میں ہمیں یاداشت کی کمزوری سے بچا سکتی ہیں۔
وہیں پر، شطرنج آپ کو یہ بات ضرور سکھاتی ہے کہ اپنی زندگی میں ہونے والی غلط باتوں کی وجہ باہری دنیا نہیں بلکہ آپ کی کوئی بات ہی ہے۔ انسان شطرنج کھیلنے سے سیلف اکاؤنٹبلٹی بھی سیکھتا ہے۔
یوٹیوب سے آپ اپنا گھر چلا سکتے ہیں، مہینے کے تیس چالس ہزار نہیں، چار پانچ لاکھ تک آسانی سے کما سکتے ہیں۔ ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے اور وہ تجربہ کامیاب ہو چکا ہے۔ ہم نے محرک چینل کو اس سارے پراسس سے کامیاب ہوتے دیکھا ہے ،بس اس میں ایک قباحت ہے یا یوں کہیں کہ ایک مشقت ہے کہ آپ کو دو تین گھنٹے اس پر روزانہ دینے ہیں۔ اور صبر کے ساتھ تین مہینے نہیں، ایک سال سے ڈیڑھ سال تک پھر سے پھل دینا شروع کرتا ہے اور پھر چلتا رہتا ہے۔
یہ سب کچھ آپ بھی کر سکتے ہیں، بس اس کے لیے دو تین شرائط ہیں کہ آپ پہلے ریسرچ کریں، کہ آپ کی niche کیا ہو گی، پھر اس میں کیا ہو گا، کس طرح ہو گا۔ تھوڑا سا آپ کا پاگل پن اور کام تو آپ گھر بیٹھے چار سے پانچ لاکھ کما سکتے ہیں۔
معاشیات کا ایک قانون ہے ، جسے "میتھیو ایفیکٹ" (Matthew Effect) کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ جس کے پاس پہلے سے کچھ موجود ہو، اسے مزید ملتا جاتا ہے، اور جس کے پاس کم ہو، اس کے لیے ایک ایک قدم آگے بڑھنا پہاڑ سر کرنے جیسا ہوگا۔
پہلی نظر میں یہ ناانصافی محسوس ہوتی ہے، لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے اپنی زندگی کے اردگرد دیکھیے۔ ایک طالب علم جسے شروع میں اچھا تعلیمی ماحول ملا، وہ بہتر یونیورسٹی گیا، بہتر نوکری پائی اور اب وہ مواقع کے سمندر میں تیر رہا ہے۔ دوسری طرف، ایک ایسا بچہ جس نے بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر آغاز کیا، اسے اپنی ہر کامیابی ثابت کرنے کے لیے دس گنا زیادہ خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ یہی فرق شہرت میں بھی ہے۔ ایک مشہور مصنف کی کتاب کا سرورق دیکھتے ہی ہزاروں ہاتھ اسے خریدنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں، جبکہ ایک نیا لکھنے والا برسوں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مشہور مصنف کی تحریر زیادہ بہتر ہو، لیکن اس کا "نام" اسے وہ اعتماد دے دیتا ہے جو ایک نیا شخص نہیں پا سکتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قانون کا مطلب یہ ہے کہ کامیابی صرف خوش قسمت لوگوں کی میراث ہے؟
قطعاً نہیں۔ میتھیو ایفیکٹ کا اصل سبق یہ ہے کہ زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ "آغاز" ہے۔ پہلی کامیابی، پہلا ایک لاکھ، یا پہلے سو قاری، یہ سب حاصل کرنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جس لمحے آپ وہ پہلی اینٹ رکھ دیتے ہیں، آپ ایک ایسے پہیے کو گھما دیتے ہیں جس کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ پہلی کامیابی کے بعد دوسری کامیابی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، کیونکہ اب آپ کے پاس "ساکھ" کا سرمایہ موجود ہوتا ہے۔
کامیاب لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی پوری توانائیاں کسی بڑی چیز کے انتظار میں ضائع نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک چھوٹا سا فائدہ حاصل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج وہ ایک چھوٹا سا فائدہ بھی پیدا کر لیں، تو آنے والے وقت میں وہی فائدہ ان کی "بڑی طاقت" بن جائے گا۔
اس لیے، دوسروں کے پاس موجود دولت یا شہرت دیکھ کر شکایت کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ آج ایسا کون سا چھوٹا سا قدم اٹھا سکتے ہیں جو آپ کو اس "میتھیو ایفیکٹ" کے دائرے میں لے آئے؟ کیونکہ یاد رکھیں، دنیا صفر سے شروع کرنے والوں کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ قانونِ قدرت ہے کہ دنیا ہمیشہ رفتار پکڑنے والوں کے حق میں ہوتی ہے۔ اپنی پہلی کامیابی کا آغاز کریں، باقی راستے خود بنتے چلے جائیں گے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں 1950 کی دہائی میں ڈاکٹر کرٹ رچٹر Curt Richter نے ایک تجربہ کیا جس میں انہوں نے چوہوں کو پانی کے ایک حوض میں ڈالا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ پانی میں کتنی دیر تک تیر سکتے ہیں۔
اوسطاً وہ 15 منٹ کے بعد ہار مان لیتے اور ڈوبنے لگتے۔
لیکن جب وہ تھک کر ہارنے لگتے، تو تحقیقاتی ٹیم انہیں باہر نکال لیتی، انہیں خشک کرتی، چند منٹ آرام دینے کے بعد دوبارہ حوض میں ڈال دیتی۔
اس دوسرے دور میں آپ کا خیال ہے کہ وہ کتنی دیر تک تیر سکے؟
یاد رہے کہ وہ صرف چند منٹ پہلے ہی تک تیرنے میں ناکام ہو چکے تھے۔
کیا وہ دوبارہ 15 منٹ تیر سکے؟
10 منٹ؟
5 منٹ؟
نہیں!
60 گھنٹے!
یہ کوئی لفظوں کی غلطی نہیں ہے۔
بالکل صحیح! چوہے 60 گھنٹے تک تیرتے رہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ چونکہ چوہوں کو یقین تھا کہ آخرکار انہیں بچا لیا جائے گا، انہوں نے اپنے جسموں کو اس حد تک دھکیل دیا جو پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ اس پر تھوڑا غور کریں!
اگر امید اور یقین کی وجہ سے تھکے ہوئے چوہے اتنی دیر تک تیر سکتے ہیں، تو آپ کا خود پر یقین اور آپ کی صلاحیتوں پر یقین آپ کے لئے کیا کچھ کر سکتا ہے؟
یاد رکھیں کہ آپ کس قابل ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ یہاں کیوں ہیں۔ "تیرتے رہیں۔" اور کبھی ہمت نہ ہاریں۔
بالوں کا گرنا آج کل مردوں اور عورتوں دونوں میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ذہنی تناؤ، کیمیکل والے شیمپو کا استعمال اور ناقص غذا اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ عام طور پر لوگ بالوں کو گرنے سے روکنے کے لیے صرف بیرونی تیل یا شیمپو بدلتے ہیں، لیکن ہومیوپیتھک فلسفہِ علاج کے مطابق، بالوں کا گرنا جسم کے اندرونی نظام میں کسی خرابی یا کمی کا اشارہ ہوتا ہے۔ اس لیے جب تک اندرونی وجہ کا علاج نہ کیا جائے، بال مستقل طور پر صحت مند نہیں ہو سکتے۔
ہومیوپیتھی بالوں کے گرنے کی جڑ (Root Cause) کو تلاش کر کے اس کا علاج کرتی ہے۔
اگر آپ بھی بالوں کے بے تحاشا گرنے، گنج پن یا خشکی (Dandruff) سے پریشان ہیں اور مہنگے پروڈکٹس آزما کر تھک چکے ہیں، تو کسی مستند ہومیوپیتھک معالج سے رجوع کریں۔ وہ آپ کی انفرادی علامات کے مطابق ایک محفوظ اور مستقل علاج تجویز کر سکتے ہیں۔
نصیرالدین
رجسٹرڈ ہومیوپیتھک ڈاکر
Pull down to refresh