Live Audio

کیا ہم اپنے بچوں کے لئے گھر بنا رہے ہیں یا ایسے بچے بنا رہے ہیں جو خود گھر بنا سکیں ـ ہمارے معاشرے میں یہ المیہ ہے کہ بچوں کو ذہنی طور پر بڑا نہیں ہونے دیتے ـ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ میرے بچے کی ابھی عمر ہی کیا ہے ـ کر لے گا جب بڑا ہوگاـ ابھی تو اس کے کھیلنے کے دن ہیں ـ ابھی تو صرف 22 سال کا ہی ہے ابھی یہ ذمہ داریاں کہاں اٹھا سکتا ہے؟زیادہ تر ذمہ داریوں کا بوجھ شادی کے بعد تک کے لئے سنبھال کر رکھا جاتا ہے ـ کہ شادی کے بعد میچور ہو جائے گا ـ سدھر جائے گا ـ ذمہ دار ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ ـ خدارا اپنے بچوں کے ساتھ یہ جاہلانا طرز عمل بند کریں ـ اور اسے میٹرک کے بعد ہی بزنس تجارت جو بھی کاروبار کرنا ہو اس کی ٹریننگ شروع کروا دیا کریں اور یہ جو والد بیچارے نے بیٹوں کے گھر بنانے کی ساری کی ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی ہے ـ اپنے بیٹوں کو جوان ہوتے ہی سونپ دیں ـ اپ اپنی جوانی تو دے چکے ہیں ـ ان کی پرورش کرنے میں 15، 16 سال بہت ہوتے ہیں خالص سونے جیسی شفقت، پیار، محبت تحفظ ،اچھا لباس، اچھی خوراک اچھی نیند ـ یہ سب بہت زیادہ ہے جو اپ اپنی اولاد کے لئے کر چکے ہیں ـ اب انہیں ازاد چھوڑ دیں ـ اپنی زندگی کے بارے میں کچھ فیصلے کرنے دیں ـ انہیں بتائیں کہ اب انہیں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھانی ہیں اپنے گھر خود بنانے ہیں جتنی جلدی گھر بنا لو گے اتنی جلدی شادی کر دی جائے گی ـ

امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ نے ایک بار کہا تھا کہ


بچوں کو اتنا دو کہ وہ کچھ بھی کر سکیں لیکن اتنا نہ دو کہ انہیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے


اسلام کی تعلیمات بھی کچھ ایسی ہی ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو ایک انصار نے اپنا ادھا مال پیش کردیا انہوں نے فرمایا

مجھے بازار کا راستہ بتا دو یعنی سہارا نہیں موقع چاہیے

اپ بھی اپنے بچوں کو موقع دیں کہ وہ بار بار کام کریں اور اپنے تجربے سے سیکھیں انہیں وراثت کا عادی نہ بنائیں بلکہ انہیں کمانے کے نئے راستے اور طریقے بتائیں بچپن سے انہیں سکھائیں کہ

اپنا خرچ خود اٹھانا ہے

کام کرو

بچت کرو

اپنی کریڈٹ ہسٹری بناؤ

اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو سمجھو اور انہیں پورا کرو ـ تاکہ معاشرے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکوـ

Bahut garmi hai 🙂
Unfortunately… We live amongst dangerous, jealous and evil people with friendly faces
کیا آپ بھی اپنی ضرورتوں کے لیے بندوں کی طرف دیکھتے ہیں؟ یاد رکھیں، دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ 'یا غنیُ' (Ya Ghani) کا مطلب ہے وہ ذات جو سب سے بے نیاز ہے اور سب کو غنی کرنے والی ہے۔ جو شخص چلتے پھرتے اس نام کا ورد کرتا ہے، اللہ اسے کبھی لوگوں کا محتاج نہیں ہونے دیتا اور اسے ایسی جگہ سے عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اپنی پیشانی کو صرف ایک در پر جھکائیں اور آج سے ہی اس نام کو اپنا معمول بنا لیں۔
یہ ایک بے لگام معاشرہ ہے جہاں تم اپنے خاموش رہنے پر بھی مجرم ٹھہرائے جاتے ہو
-وقت گزاری کے لیے کسی بھی چیز کا انتخاب کر لینا  مگر کسی کی بیٹی کا مت کرنا کیونکہ عورت کمزور ہو سکتی ہے مگر عورت بنانے والا نہیں
تمہاری دعائیں تمہیں نہیں بچا سکتیں اگر تمہاری زبان دوسروں کو تباہ کرتی ہے
Irfan Alee Saiyad shared fromMera kakar 's post
اگر دیر کا مطلب انکار ہوتا، تو اللہ۔سبحانہٰ و تعالیٰ حضرت یعقوبؑ کو برسوں بعد حضرت یوسفؑ سے نہ ملواتے۔ بعض اوقات تاخیر محرومی نہیں ہوتی، بلکہ بہترین وقت پر عطا ہونے والی رحمت ہوتی ہے۔
Irfan Alee Saiyad shared fromManan Arshad Mughal's post
ذہنی طور پر مضبوط کیسے بنیں

Pull down to refresh