
@username
No bio available.
زندگی بہت مختصر ہے ـ
اس مختصر زندگی میں ہم بہت سے ایسے کام نہیں کر پاتے جو ہمارے دل کی خواہش ہوتے ہیں اور وہ ادھورے ہی رہ جاتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے عظیم اور قابل لوگ انسانیت کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن وقت نے انہیں مہلت ہی نہیں دی بعد میں لوگوں نے ان کے ادھورے کام مکمل کیے ہمیں اس مختصر سی زندگی میں دوسروں کے زیادہ سے زیادہ کام انا چاہیے اور ہمیں بغیر مطلب بغیر غرض کے دوسروں کے کام انا چاہیے تاکہ ہماری انے والی زندگی یعنی موت کے بعد ملنے والی زندگی بھی اچھی ہو ـ ہمیں موت کے بعد ملنے والی زندگی کے لیے بھی تیاری کرنی چاہیے تاکہ کل کو جب ہم اللہ تعالی کے روبرو حاضر ہوں تو ہماری انکھیں ادب سے جھکی ہوئی ہوں نہ کہ شرمندگی سےـ 😔
ہم مرتے نہیں ہیں
بلکہ رپوش ہو جاتے ہیں ـ
کیا اپ جانتے ہیں کہ ہمارے والدین کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے ـ جو ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہےـ اب اگر والدین فوت ہو گئے ہیں تو وہ تو اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن ہم ان کی خون کی صورت میں اب بھی زندہ ہیں ـ اسی طرح جب ہم نے مر جانا ہے تو ہمارے خون نے ہماری اولاد میں منتقل ہو جانا ہے اور زندہ رہنا ہے ـ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مرتے نہیں ہیں بلکہ صرف صورتیں مرتی ہیں ـ اصل باقی رہتا ہے جو ں صدیوں ںسے چلتا ا رہا ہے اور صدیوں تک چلتا رہنا ہےـ
مرد کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنایا ہےـ چنانچہ لڑکوں کو میٹرک کے بعد لازما کوئی جاب کرنی چاہیےـ کیونکہ مرد کی یہ والی عمر میٹرک کے بعد والی عمر پریکٹیکل زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کی عمر ہوتی ہے یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان کو زندگی کے دھکے کھانے چاہیے، لوگوں کے رویے برداشت کرنے چاہیے، ذمہ داریاں اٹھانی چاہیے، سیلز سیکھنے چاہیے، کاروبار سمجھنا چاہیے ،پریشر برداشت کرنا چاہیے اور حقیقی دنیا کی تلخ حقیقتوں سے واسطہ پڑناچاہیے اس سے ہی ایک مرد مضبوط اعصاب کا مالک بنتا ہے ـ اگر ہم اپنے بیٹوں کو خود فیصلے کرنے نہیں دیں گے ہر معاملے میں ان کا ہاتھ تھامے رکھیں گے تو وہ کبھی بھی پر اعتماد شخصیت نہیں بن سکیں گےـ اج کل اس عمر میں جو سختیاں برداشت کرنے والی عمر ہوتی ہے جو جوانی کا جوبن ہوتا ہے جوش ہوتا ہے جذبہ ہوتا ہے اسے ایئر کنڈیشنر سکول کالجز میں برباد کر دیا جاتا ہے ـ بچے کو پریکٹیکلی سست بنا دیا جاتا ہےـ اب جس نے چھ گھنٹے اے سی والے روم میں رہنا ہے فل سہولتوں کے ساتھ رہنا ہے اس سے زمانے کی سختیاں کیسے برداشت ہوں گی؟ اس پہ غور کریںـ

نفسیات کے مطابق پر اعتماد لوگ کون ہوتے ہیں؟
👍1: اگر اپ اپنے زندگی میں پر اعتماد بننا چاہتے ہیں تو ہر وقت دوسروں کی منظوری مت ڈھونڈیں سب سے پہلے اپنی رائے قائم کریں اور اپنے فیصلے کی قدر کریں نہ کہ کسی کی تعریف یا توثیق کی
،👍2: اپنی خامیوں کو قبول کرنا سیکھیں کیونکہ دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل نہیں بنا اس لیے ہر غلطی پر ضرورت سے زیادہ پریشان نہ ہوں اپنے اپ سے کیے گئے وعدے نبھائیں روزانہ کی چھوٹی چھوٹی مثبت عادات اور اقدامات خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں جب اپ خود پر بھروسہ کرنا سیکھ لیتے ہیں تو یہی بھروسہ اعتماد میں بدل جاتا ہےـ
👍3: کبھی بھی تنقید یا لوگوں کی رائے سے نہ گھبرائیں یہ سمجھ لیں کہ لوگ ہر حال میں کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے اس لیے اپ اپنے راستے پر چلتے رہیں زندگی میں کبھی بھی موازنہ نہ کریں کہ فلاں کے پاس یہ ہے وہ ہے بلکہ خود پر توجہ دیںـ
👍4: ہر دن خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں ہمیشہ واضح انداز میں بات کریں اور عمل کریں حقیقی اعتماد شور مچانے یا خود کو ثابت کرنے کا محتاج نہیں ہوتا یہ پرسکون متوازن اور باوقار انداز میں نظر اتا ہےـ
🌟 وہ عادات جو اعتماد پیدا کرتی ہیںـ
👍روزانہ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں
👍 چھوٹے چھوٹے چیلنجز قبول کریںـ
👍 منفی خود کلامی سے بچیں نظم و ضبط اپنائیںـ
👍 مشکل اور غیر ارام دے حالات کا سامنا کریں ـ
اعتماد کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ اپ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھیں بلکہ یہ ہے کہ غیر یقینی حالات میں بھی اپ کو خود پر بھروسہ ہو
بچپن کے قصے
ایک دفعہ جب میری عمر پانچ سال تھی اور میری کزن کی عمر 10 سال تھی ہمیں ایک چھوٹے سے سفر پہ جانا پڑا جو تقریبا پانچ منٹ کا تھا ہمیں نانی کے گھر سے خالہ کے گھر کی طرف جانا تھا اور وہاں صرف دن میں تین بسیں ہی جاتی تھی لہذا ہم جلدی جلدی نو بج کے 15 منٹ والی بس کے لیے گھر سے نکلیں اور ہم بس میں سوار ہو گئے ہم دونوں کی نانی اماں نے ٹنڈ کروا رکھی تھی نانی اماں کہتی تھی کہ گرمی بہت ہے اور تم دونوں سے بال نہیں سنبھالے جاتے ہم نے دوپٹے کو بہت اچھی طرح سے سر پہ لپیٹا ہوا تھا اور ہم بس میں سوار ہو گئے اب فاصلہ بھی تھوڑا تھا اور کنڈیکٹر ہم سے کرایہ لینے کے لیے اگیا اب ہمارے پاس کرائے کے لیے پیسے نہیں تھے اور کنڈیکٹر کہتا ہے کہ جلدی سے پیسے نکالو کرایہ نکالو میری کزن میری طرف اور میں اپنی کزن کی طرف دیکھنے لگ گئی اس نے دو تین بار ہم سے کرایہ مانگا لیکن ہمارے پاس تو پیسے نہیں تھے ہم بہت پریشان ہوں گے کہ اب ہم کیا کریں کنڈکٹر اترنےوالی کھڑکی/دروازہ میں کھڑا ہو گیا ہم مزید پریشان ہو گئے پھر میری کزن نے کہا کہ اپ جیسے ہی بس رکے گی ہمیں اتر جانا ہے کنڈیکٹر پھر ہمارے ہماری طرف ا گیا کہتا ہے نکالو ورنہ تم دونوں کے بال کھینچ دینے میں نے بالوں کا نام سن کے ہم دونوں کو بہت ہنسی ائی جو ہم نے دبا لی اور جیسے ہی کنڈیکٹر تھوڑا پیچھے گیا کرایہ لینے بس سٹاپ پہ رکی اور ہم دونوں فورا کھڑکی سے باہر اور ہم پورا راستہ ہنستے ہوئے خالہ کے گھر گئےکہ کنڈیکٹر کہہ رہا تھا کہ تم دونوں کے بال کھینچ دینے ہیں ہمارے سر پہ تو بال ہی نہیں ہیں🥺🥺🥺،،،،،،
گرمیوں کی چھٹیاں اور نانی کا گھر
مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے جب بچپن میں ہمیں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو واحد انٹرٹینمنٹ نانی کے گھر جانے کی ہوتی تھی سارا سال پلاننگ کی جاتی تمام خالہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ اتے تھے تمام کزنز مل کر ریڈی گو پٹھو گرم، چھپن چھپائی، شٹاپو، کوکلا شپاکی جمعرات ،ککلی، گڑیا گڈے کی شادی چور سپاہی اور کبھی کبھی کرکٹ جو کاغذ کی گیندیں بنا کر کھیلتے تھے کیا ہی خوبصورت دن تھے نانی کے تندور کی روٹیاں جو مکھن کے ساتھ چوپڑی ہوتی تھی جسے کبھی کبھی مسور کی دال اور کبھی اچار اور پیاز کے ساتھ کھایا جاتا جو فائو سٹار ہوٹلوں سے بھی زیادہ مزہ دیتی تھے میری نانی نے ایک بہت خوبصورت باغیچہ لگا رکھا تھا جس میں یاسمین کے پھول ، چنبیلی ،موتیا کے پھول اور رات کی رانی دوپہر بوٹی جیسے پھول لگا رکھے تھے تین چار مہندی کے پودے بھی ذرا فاصلے پر لگائے ہوئے تھے جو بہت عمدہ خوشبو دیتے تھے نانی نے ایک کچنار کا پودا بھی لگا رکھا تھا ہفتے میں ایک بار کچنار کے پھولوں کا سالن بھی بنایا جاتا تھا نانی اماں ام اور گاجروں کا مربہ بھی بناتی تھی جو بڑے بڑے مرتبانوں میں بھر بھر کر رکھا جاتا تھا اور سارا سال استعمال کیا جاتا وہ کدو کریلے ٹینڈے بینگن اور لوکی گھر میں ہی اگاتی تھی سبز مرچ کے پودے بھی لگا رکھے تھے جن کا انوکھا ذائقہ گھنٹوں تک زبان پر رہتا پھر ہم نانا نانی کے کاموں میں بھی ان کی مدد کرتے تھے جانوروں کا چارہ کاٹتے تھے ان کے نیچے صفائی بھی کرتے تھے میرے نانا ابو نے ایک سیمنٹ کی مسجد بنوا رکھی تھی اس کے پاس ایک کنواں بھی تھا اور ساتھ ایک باتھ روم بھی بنا رکھا تھا نہانے کے لیے مسجد کے اوپر درختوں کا بہت گھنا سایہ تھا اور وہاں بہت ٹھنڈی ہوا چلتی رہتی تھی میرے نانا ابو سالانہ پیر سائیں سرکار کا میلہ بھی کروایا کرتے تھے جو بہت پر رونق ہوتا 10 دیگیں پکتی اور قوال بلائے جاتے تھے ہم بہت انجوائے کرتے تھے اگر ہمیں قوالوں کے پاس جگہ نہ ملتی تو شیشم کے بڑے بڑے درختوں پر بیٹھ کر قوالی سنتے تھے بہت مزہ اتا تھا گرمیوں کی چھٹیوں کا انوکھا ہی مزہ ہوتا تھا میری ننھیال بہاولپور سائڈ صحرائی علاقے میں رہتے تھے لیکن کبھی بھی گرمی نہیں لگتی تھی وہاں نہ بجلی تھی اور نہ پنکی روشنی کے لیے لال ٹین جلائی جاتی تھی اور دور دراز علاقوں میں پیدل چل کر سکول جاتے تھے بہت پرسکون اور خالص دن تھے جو اج کل کے چھٹیوں سے بے انتہا مختلف ہے تو اپ نے یہ محاورہ تو سنا ہوگا کہ
نانکے جائیں گے موٹے ہو کے ائیں گے
بالکل سچ ہوتا تھا ہم خوب کھاتے تھے اور ضد لگا کر کھایا کرتے تھے اور خوب موٹے تازے ہو کر اتے تھے
یعنی فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا والا ماحول ہوتا تھا
اب صورتحال بالکل مختلف ہے اب نفسا نفسی کا دور ہے اب اگر جیب میں پیسے ہیں تو چلے جائیں نہیں ہیں تو اپ کا گھر بہتر ہے جتنے پیسے اتنا انجوائے اب تو ایک ہی ہفتہ بہ مشکل ٹھہرا جاتا ہے اور پھر گھر کی واپسی کی راہ لی جاتی ہے اور اج کل تو یہ جملہ بہت وائرل ہے کہ
بچے ایک ہفتے میں ہی ہڈیوں کی مٹھ بن گئے ہیں
یہ جملہ بھی تقریبا 100 نہیں تو % 80 پرسنٹ ٹھیک ہے کچھ باجیاں کہتی ہیں کہ ساس کی جلی کٹی سننے سے بہتر ہے کہ اپ جانے سے پہلے بچوں کی تصویر بنا لیا کریں تاکہ ا کر دکھا سکیں کہ کتنے کو کمزور ہو گئے ہیں یہ تو تھی ہمارے بچپن کی گرمیوں کی چھٹیوں کی داستان اپ کی چھٹیاں کیسے گزرتی تھی ضرور بتائیں

خواب نہیں حقیقت
ناولوں کی دنیا خیالی دنیا ہوتی ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا اس کو ذرا تفصیلی سمجھتے ہیں ایک رائٹر کمرے میں بیٹھی ہے A.C اےسی یا ایئر کولر On ہے کمرے میں فل ٹھنڈک ماحول ہے اور رائٹر صاحبہ کے ذہن میں ایک نئی کہانی کا اسکیچ بن چکا ہے چلیں شام کی چائے پر منگیتر صاحب ارہے ہیں چنانچہ اچھا سا فائیو سٹار ہوٹل جیسا انتظام ہونا چاہیے اب ہیروین کے پاس صرف 30 سے 40 منٹ ہیں جس میں اس نے خود بھی تیار ہونا ہے اور چائے کے ساتھ لوازمات بھی تیار کرنے ہیں اب رائٹر نے ٹھیک 30 منٹ میں نگٹس بریانی چٹنی کباب مکرونی پاستہ سب جلدی جلدی تیار کروا کے خود بھی تیار ہونا ہے اب سین کیسے بن نا ہے فرض کرتے ہیں سمیرا نے جلدی سے چاول کو دھویا واش کر کے ساتھ ہی تڑکا لگایا رائتہ اور سلاد تیار کی اس کو اور دم پہ رکھ کے خود واش روم چلی گئی ایک پیارا سا شاور لینے کے بعد جب واپس ائی تو چاول پک کے تیار ہو چکے تھے اس میں ساتھ ہی جلدی سے مکرونی اور پاستہ بھی تیار کر لیا اور ساتھ چائے کا پانی رکھ کے میک اپ کرنے چلے گی جب وہ ائی تو چائے بن کر تیار ہو چکی تھی اور اس کا میک اپ بھی بالکل ریڈی تھا اب اس میں پانچ منٹ میں جلدی سے چائے کے لوازمات ایک ٹرے میں تیار کی اور منگیتر صاحب کو پیش کر دیا اب یہ جو ڈشیں تیار ہوئے ہیں اس میں کتنا ٹائم لگ سکتا ہے یہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیسے ہی منگیتر صاحب ائے ہیں سارا گھر ڈیکوریٹ ہے بلکہ چائے کے ساتھ بے شمار لوازمات اور وہ بھی اعلی کوالٹی کے اور ھیر ون بھی ایسے تیار ہے جیسے کبھی خانہ داری کی ہی نہ ہو تو میری ان تمام بہنوں سے ریکویسٹ ہے جو ناول پڑھنا پسند کرتے ہیں اور اس کے ایک نشے کی طرح بنا ئے ہوئے ہیں اس خیالی دنیا سے نکلیں اور حقیقت کو اپنائیں دنیا کی سختیاں ناقابل برداشت ہیں اور ایک لمحات بھی انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقی نہیں حقیقت بہت ڈراونی ہے لہذا اسے صرف اپنی خیالات ہی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے استعمال کریں عملی زندگی میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے
گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی ہر طرف تربوز نظر انے لگتا ہے اس کے بیشمار طبعی فوائد ہیں مہرین کے مطابق اس میں 92 فیصد پانی پایا جاتا ہے جو کہ ڈی ہائیڈریشن کو روکتا ہے اس کا مسلسل استعمال جسم میں پانی کی کمی کا پورا کرتا ہے انکھوں اور بالوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے حاملہ عورتوں کے لیے بھی بہت زیادہ فائدہ مندہوتا ہے زیادہ سے زیادہ تربوز کھائیں اور اس کے قدرتی بے شمار فوائد سے فائدہ اٹھائیں

گرمیوں کی چھٹیاں ایک نئے انداز میں جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں سٹارٹ ہوئی ہیں بچوں نے گھروں میں ڈیرے ڈال دیے ہیں تو ہر طرف بد امنی اب بے چینی کا دور دورہ ہے تمام مائیں سر پکڑ کے بیٹھی ہوئی ہیں کہ اس فوج کو کیسے کنٹرول کیا جائے تو میں نے ایک چھوٹا سا حل ڈھونڈا ہے امید کرتی ہوں کہ اپ کو پسند ائے گا میں اپ کو اپنی روٹین بتاتی ہوں میں کل صبح سویرے اٹھی نماز فجر ادا کرنے کے بعد بچوں کے لیے ناشتہ بنایا اب چونکہ گرمیوں کی چھٹیاں ہو چکی ہیں تو یہ تین مہینے عام روٹین سے ہٹ کر شیڈیول بنانے والی ہے تاکہ بچوں کو ہوم ورک کے ساتھ کچھ ایکٹیوٹیز بھی کرنے کو ملیں میں نے کچھ پیسے لیے اور مارکیٹ کا رخ کیا وہاں میں نے مختلف سبزیوں کے سٹال دیکھے لیکن ابھی مجھے بہت کچھ خریدنا تھا اور پھر سبزی کو اینڈ لسٹ کیا میں نے ایک لڈو گیم کیرم بورڈ اور شٹل کوک خریدا بچوں کے ہوم ورک رجسٹر لیے کچھ کراکری اور کچھ کھانے پینے کی اشیاء جیسے پاستہ میکرونی نگٹس اور سموسے پکوڑوں کے لیے معدہ اور بیسن بھی لیے اور لاسٹ میں کچھ سبزیاں لیں مجھے دو گھنٹے ہو چکے تھے واپسی پر میں نے تربوز دیکھے جو کہ اپنے سیزن کے عروج پر تھے اور بہت ہی پیارے لگ رہے تھے میں نے ایک پانچ کلو کا تربوز خریدا کیونکہ میں صرف اتنا ہی وزن اٹھا سکتی تھی گھر اتے ہی تھکن سے چور ہو چکی تھی ایک کپ چائے پی اور قیلولہ کے لیے لیٹ گئی شام پانچ بجے چائے سموسے بنائیں اور بچوں کے ساتھ خوب انجوائے کیا بچوں کو بتایا کہ کل سے ہوم ورک کے ساتھ کچھ انجوائے بل گیمز بھی ہوں گے جسے سن کر بچے بہت خوش ہوئے رات کو عشاء کی نماز پڑھی اور سونے کی تیاری کے ساتھ اپنے پوسٹ کی بھی تیار کی امید کرتی ہوں کہ اپ کو میری اج کی ڈائری پسند ائے گی دعاؤں میں یاد رکھیے پھر میں نے ایک ٹائم ٹیبل سیٹ کیا جس کے مطابق کتنے وقت کتنے کام کو دینا ہے اور تمام ترتیب لکھی اور اسے ایک دیوار کے ساتھ لٹکا دیا اب مجھے پورا دن اس ٹائم ٹیبل کو فالو کرنا

intoBlog - Audio, Express, Blog