userPic

Mera kakar

Mera

No bio available.

12
Posts
11
Followers
42
Following
اگر دیر کا مطلب انکار ہوتا، تو اللہ۔سبحانہٰ و تعالیٰ حضرت یعقوبؑ کو برسوں بعد حضرت یوسفؑ سے نہ ملواتے۔ بعض اوقات تاخیر محرومی نہیں ہوتی، بلکہ بہترین وقت پر عطا ہونے والی رحمت ہوتی ہے۔

                             گزشتہ سے پیوستہ 

                            ( قسط نمبر 7)

والدین کی بار بار یقین دہانیوں کے بعد آخرکار گل بانو اور بادشاہ خان نے واپسی کا فیصلہ کرلیا۔ ایک سال کی جلاوطنی نے انہیں تھکا دیا تھا۔ افغانستان کی سرزمین نے انہیں پناہ تو دی تھی، مگر اپنائیت نہیں دی تھی۔ ہر صبح جب سورج نکلتا تو گل بانو کو اپنے گاؤں کے پہاڑ یاد آتے، اپنے گھر کا صحن یاد آتا، اپنی ماں کی آواز یاد آتی۔ وہ خود کو بار بار سمجھاتی رہی کہ ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا، ایک دن نفرت کی آگ بجھ جائے گی، ایک دن لوگ ان کی محبت کو قبول کرلیں گے۔ جب والدین نے یہ پیغام بھیجا کہ حالات بدل چکے ہیں، خان ناراض نہیں، اور اب ان کی شادی عزت و احترام کے ساتھ کرائی جائے گی، تو گل بانو کے دل میں برسوں بعد امید کا ایک چراغ روشن ہوا۔ بادشاہ خان نے بھی سوچا کہ شاید اب مزید بھاگنے کی ضرورت نہیں۔ شاید اب وہ ایک عام میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔ چنانچہ دونوں نے واپسی کا فیصلہ کیا، اس یقین کے ساتھ کہ آزمائشوں کا سفر اب ختم ہونے والا ہے۔

مگر بعض اوقات قسمت انسان کو وہاں دھوکہ دیتی ہے جہاں اسے سب سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے۔ گاؤں کی فضاؤں میں بظاہر خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے نیچے غصہ، انا اور انتقام کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں کے لیے گل بانو اور بادشاہ خان دو محبت کرنے والے انسان نہیں تھے، بلکہ ایک مثال تھے جسے دوسروں کے لیے سبق بنانا ضروری سمجھا جارہا تھا۔ وہ لوگ جو برسوں سے اپنی مرضی کو قانون اور اپنے فیصلوں کو انصاف سمجھتے آئے تھے، ان کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ دو نوجوان ان کے حکم سے زیادہ اپنے دل کی بات سنیں۔ اس لیے جب گل بانو اپنے گھر واپس پہنچی، جب اس نے اپنی ماں کو گلے لگایا، جب اس نے یہ سوچا کہ اب شاید سب کچھ معمول پر آجائے گا، تو اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے خلاف فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔ وہ مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھی، جبکہ کچھ لوگ اس مستقبل کو چھین لینے کا ارادہ کر چکے تھے۔

اور پھر ایک دن اس کہانی کا وہ موڑ آیا جس نے ہر خواب، ہر امید اور ہر انتظار کو خاموش کردیا۔ وہ گل بانو جو کبھی پہاڑوں کے درمیان کھلنے والا ایک پھول تھی، جو اپنے بچپن میں گڑیوں سے کھیلتی تھی، جو جوان ہو کر محبت کے خواب دیکھنے لگی تھی، اچانک ایک ایسی قسمت کے حوالے کردی گئی جس کا انتخاب اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔بااثر افراد نے گل بانو کو خفیہ منصوبے کے تحت والدین  کے گھر سے اٹھا کر پہاڑوں میں لے جایا گیا اور پھتر مار مارکر کر سنگسار کردیا۔بعد میں بہت سے جواز دیے گئے، بہت سی باتیں کہی گئیں، روایتوں اور غیرت کے نام لیے گئے، مگر ان سب دلیلوں کے درمیان ایک سوال ہمیشہ زندہ رہا: کیا ایک انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں؟ گل بانو کی آواز خاموش ہوگئی، مگر اس کی کہانی خاموش نہ ہوسکی۔ آج بھی اگر لورالائی کے ان پہاڑوں پر شام اترے، اگر ہوا پرانے راستوں سے گزرے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ان سنا سوال اب بھی فضا میں معلق ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب شاید کسی خان، کسی جرگے یا کسی قانون کے پاس نہیں۔ کیونکہ بعض کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف لوگوں کے دلوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

جاری ہے...

آپ مکھیوں کو قائل نہیں کرسکتے کہ پھول کچرے سے زیادہ خوبصورت ہے
انسان کو جنازوں سے پہلے بھی کندھوں کی ضرورت ہوتی ہے

                                  گزشتہ سے پیوستہ 

                                    (قسط نمبر6)

افغانستان پہنچ کر گل بانو اور بادشاہ خان نے پہلی بار سکھ کا سانس لیا۔ انہیں لگتا تھا کہ انہوں نے محبت کی خاطر سب سے بڑی جنگ جیت لی ہے۔ مگر بعض جنگیں سرحد پار کرنے سے ختم نہیں ہوتیں، بلکہ انسان کے دل کے اندر جاری رہتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ صرف اپنے خواب لے کر گئے تھے، مگر اپنے والدین کو گاؤں کے قانون، قبائلی فیصلوں اور خان کے غصے کے رحم و کرم پر چھوڑ آئے تھے۔ دن گزرتے گئے، مہینے بیتتے گئے، مگر ہر رات گل بانو کے دل میں ایک نیا خوف جنم لیتا۔ اسے بار بار اپنے بوڑھے والد کا جھکا ہوا چہرہ اور اپنی ماں کی بےبس آنکھیں یاد آتیں۔ وہ سوچتی کہ نہ جانے گاؤں والوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا، نہ جانے وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

ایک سال تک اس نے خود کو تسلیاں دیں۔ کبھی بادشاہ خان اسے حوصلہ دیتا، کبھی وہ خود اپنے دل کو سمجھاتی کہ وقت سب کچھ ٹھیک کردے گا۔ مگر اولاد چاہے کتنی ہی دور چلی جائے، ماں باپ کی یاد اس کے دل سے نہیں نکلتی۔ آخرکار گل بانو کی ہمت جواب دے گئی۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال بار بار گونجنے لگا: "میرے والدین کس حال میں ہوں گے؟" یہی سوچ اسے اندر ہی اندر کھانے لگی۔ وہ راتوں کو جاگنے لگی، دعائیں مانگنے لگی، اور ہر آنے جانے والے سے اپنے گاؤں کی کوئی خبر سننے کی امید رکھنے لگی۔

آخر ایک دن اس نے بادشاہ خان سے کہا کہ اب مزید خاموش رہنا ممکن نہیں۔ چنانچہ دونوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے والدین سے رابطہ کیا۔ برسوں کی جدائی کے بعد آوازیں تو مل گئیں، مگر قسمت نے ایک اور موڑ تیار کر رکھا تھا۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ گل بانو اور بادشاہ خان زندہ ہیں اور ان سے رابطہ ہوچکا ہے۔ خان، جو اب تک خاموشی سے موقع کا انتظار کر رہا تھا، فوراً حرکت میں آگیا۔ اس نے گل بانو کے والدین کو بلا بھیجا اور انہیں یقین دلایا کہ اگر کسی طرح دونوں کو واپس گاؤں بلا لیا جائے تو نہ کوئی سزا ہوگی، نہ کوئی انتقام لیا جائے گا۔ بلکہ ان کی شادی دھوم دھام سے کرائی جائے گی اور گزشتہ تمام معاملات بھلا دیے جائیں گے۔ مگر بعض وعدے زبان سے نہیں، نیت سے پہچانے جاتے ہیں... اور خان کی نیت کے بارے میں گاؤں کے پرانے درخت بھی خاموش تھے۔

جاری ہے...

                          ( گزشتہ سے پیوستہ)

                              (قسط نمبر 5)

گل بانو جس نوجوان کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ محسوس کرنے لگی تھی، ہم اس کا فرضی نام "بادشاہ خان" رکھتے ہیں۔ وہ کوئی جاگیردار زادہ نہیں تھا، نہ اس کے پاس طاقت تھی، نہ دولت۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو ایک سچا دل، محنت کرنے والے ہاتھ اور گل بانو کے لیے بےلوث محبت۔ دونوں جانتے تھے کہ ان کا راستہ پھولوں سے نہیں، کانٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ گاؤں کا ماحول پہلے ہی خوف کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ خان کی مرضی کے خلاف سوچنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود دونوں خاموشی سے اپنے جذبوں کی حفاظت کرتے رہے۔ مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرے کے بادل ان کے سروں پر مزید گہرے ہوتے جارہے تھے، اور گل بانو محسوس کرنے لگی تھی کہ وہ ایک ایسی بھول بھلیاں میں داخل ہوچکی ہے جہاں ہر راستہ کسی نئی آزمائش کی طرف جاتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور محبت اب محض ایک احساس نہیں رہی، بلکہ دونوں کی زندگی بن گئی۔ گل بانو کے لیے بادشاہ خان امید تھا، اور بادشاہ خان کے لیے گل بانو جینے کی وجہ۔ بہت سی راتیں انہوں نے مستقبل کے خواب دیکھتے ہوئے گزاری تھیں۔ آخرکار ایک دن دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ اب ان کے سامنے صرف ایک راستہ بچا ہے۔ وہ شادی کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی ہم عمری کی محبت کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔ وہ ان رسموں کو چیلنج کرنا چاہتے تھے جو انسانوں کے دلوں سے زیادہ طاقتور سمجھی جاتی تھیں۔ وہ اس سوچ کے خلاف کھڑے ہونا چاہتے تھے جو محبت سے پہلے قبیلے، طاقت اور حیثیت کو اہمیت دیتی تھی۔

چنانچہ دونوں نے ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوجائیں، وہ ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ مگر انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ان کے خوابوں کا پورا ہونا تقریباً ناممکن تھا۔ ہر طرف خوف تھا، ہر طرف نگرانی تھی، اور ہر طرف ایسے لوگ تھے جو ان کے فیصلے کو بغاوت سمجھتے۔ آخر ایک رات انہوں نے وہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دینا تھا۔ خاموشی کے سائے میں، اپنے پیچھے ایک پوری دنیا چھوڑ کر، دونوں گاؤں سے نکل گئے۔ پہاڑوں، وادیوں اور اندھیری راہوں کو عبور کرتے ہوئے وہ سرحد پار افغانستان کی طرف روانہ ہوگئے۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہوگا، مگر اتنا ضرور جانتے تھے کہ پیچھے رہ جانے والی دنیا ان کے لیے پہلے ہی تنگ ہوچکی تھی۔

جاری ہے...

                           گزشتہ سے پیوستہ 

                           قسط نمبر 4

وقت خاموشی سے گزرتا رہا، اور گل بانو اب بچپن کی دہلیز عبور کرکے جوانی میں داخل ہوچکی تھی۔ اس کی خوبصورتی اب صرف گاؤں کی بات نہیں رہی تھی، بلکہ آس پاس کے علاقوں تک اس کے چرچے ہونے لگے تھے۔ خاموش پہاڑوں، گرد آلود راستوں اور سنسان وادیوں کے درمیان وہ واقعی چودھویں کے چاند کی طرح لگتی تھی۔ جب وہ چشمے سے پانی بھر کر واپس آتی تو کئی نظریں بےاختیار اس کا پیچھا کرتیں۔ اس کے چہرے پر عجیب سی کشش تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک اداس خاموشی تیرتی رہتی تھی۔ شاید اس لیے کہ حسن جتنا باہر نکھر رہا تھا، اس کا دل اتنا ہی اندر سے زخمی ہوتا جارہا تھا۔ وہ ہنس تو لیتی تھی، مگر اس کی ہنسی میں اب بچپن والی بےفکری نہیں رہی تھی۔

گل بانو کے دل میں برسوں سے دبے سوال، خوف اور ادھورے ارمان خاموشی سے پل رہے تھے۔ مگر زندگی کبھی کبھی سب سے سخت راستوں میں بھی ایک نرم جذبہ اتار دیتی ہے۔ انہی دنوں گاؤں کے ایک غریب مگر جوان اور خوبصورت لڑکے کی نظریں گل بانو سے ملنے لگیں۔ وہ بھی اسی مٹی کا بیٹا تھا… سادہ، خاموش اور محنتی۔ نہ اس کے پاس زمین تھی، نہ طاقت، نہ خانوں جیسا رعب۔ مگر اس کی آنکھوں میں وہ سچائی تھی جو گل بانو نے پہلی بار کسی مرد میں دیکھی تھی۔ رفتہ رفتہ چند خاموش نظریں، چند مختصر ملاقاتیں اور چند بےنام احساسات گل بانو کے دل میں جگہ بنانے لگے۔ وہ شاید پہلی بار خود کو کسی کے سامنے محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔ اور پھر ایک دن اسے احساس ہوا کہ وہ اپنا دل ہار چکی ہے۔

مگر محبت غریب لوگوں کے نصیب میں ہمیشہ آسانی بن کر نہیں آتی۔

اب گل بانو کے سامنے صرف ایک مسئلہ نہیں تھا۔ ایک طرف خانوں کی پرانی رسمیں اور طاقت کھڑی تھی، دوسری طرف غربت اور بےبسی، اور تیسری طرف وہ محبت… جو اس کے دل میں خاموشی سے جڑ پکڑ چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس معاشرے میں غریب لڑکیوں کو محبت کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ یہاں دل سے زیادہ فیصلے قبیلے کرتے ہیں۔ مگر دل بھی عجیب چیز ہے… جتنا دباؤ اسے توڑنے کے لیے ڈالا جائے، وہ اتنی ہی شدت سے کسی امید کو پکڑ لیتا ہے۔ گل بانو اب ہر رات دو خوفوں کے درمیان سوتی تھی… ایک اس شخص کا خوف جس کے نام سے وہ برسوں پہلے منسوب کردی گئی تھی، اور دوسرا اس محبت کو کھونے کا خوف، جس نے پہلی بار اس کے زخمی دل کو جینے کی وجہ دی تھی۔

جاری ہے…

تصویر کو عنوان دے
                          گزشتہ سے پیوستہ                           (قسط نمبر تین)گل بانو کے بچپن کے ابتدائی چند سال شاید اس کی زندگی کے آخری پُرسکون سال تھے۔ وہ ہر صبح خوشی خوشی اٹھتی، کبھی اپنی ماں کے ساتھ پانی بھرنے چلی جاتی، کبھی باپ کے ساتھ بکریوں کے پیچھے پہاڑی راستوں پر دوڑتی پھرتی۔ شام ہوتے ہی وہ اپنی مٹی کی گڑیاؤں کے ساتھ کھیلنے بیٹھ جاتی اور چھوٹی چھوٹی خواہشوں میں کھو جاتی۔ اسے دنیا کی سختیوں، رسموں اور فیصلوں کا کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ تو بس اتنا جانتی تھی کہ اس کی ماں اسے پیار کرتی ہے، باپ اسے دیکھ کر تھکن بھول جاتا ہے، اور یہ دنیا شاید ہر بچے کے لیے اتنی ہی نرم اور محفوظ ہوتی ہے جتنی اس کے ننھے دل کو محسوس ہوتی تھی۔ مگر بعض بچیوں کا بچپن زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا… وقت خاموشی سے ان کے ہاتھوں سے گڑیاں چھین لیتا ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔پھر آہستہ آہستہ گل بانو گیارہ بارہ برس کی عمر کو پہنچی، اور اسی عمر کے ساتھ کچھ تلخ سچائیاں بھی اس کے قریب آنے لگیں۔ اب اسے لوگوں کی باتیں سمجھ آنے لگی تھیں۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جس شخص کے نام سے اس کی منگنی ہوئی ہے، وہ کوئی کم عمر لڑکا نہیں بلکہ اس سے کئی گنا بڑا آدمی ہے۔ وہ حیران ہوتی، ڈرتی اور پھر خاموش ہوجاتی۔ اب اسے سمجھ آنے لگا تھا کہ بچپن میں ملنے والی چوڑیاں، کپڑے، ٹافیاں اور لاڈ پیار شاید ہمیشہ کے لیے نہیں تھے۔ وہ سب صرف ایک رسم کا حصہ تھا… ایک ایسا دکھاوا جس کے پیچھے ایک معصوم بچی کی پوری زندگی خاموشی سے کسی اور کے حوالے کی جارہی تھی۔ کبھی کبھی وہ اپنی ماں کو خاموش نظروں سے دیکھتی، جیسے پوچھنا چاہتی ہو کہ “امی… کیا واقعی میری قسمت یہی ہے؟” مگر کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب غریب گھروں میں نہیں ملتے،،،،،،،،،،،،،،،۔           ،،،،،  اور پھر وقت گزرتا گیا…گل بانو جوانی کی دہلیز کی طرف بڑھنے لگی۔ اس کی خوبصورتی اب محض تعریف نہیں، حقیقت بنتی جارہی تھی۔ وہ یوں لگتی جیسے چودھویں کا چاند آہستہ آہستہ بادلوں کے پیچھے سے نکل رہا ہو۔ اس کے چہرے کی معصومیت، آنکھوں کی خاموشی اور لہجے کی نرمی اب پورے علاقے میں چرچا بننے لگی تھی۔ مگر یہی خوبصورتی اب اس کے لیے خوف بن رہی تھی۔ گاؤں کی عورتیں، ہم عمر لڑکیاں اور آس پاس کی بوڑھیاں اکثر اس کے کانوں میں دھیرے سے کہتیں، “گل بانو… تم بہت خوبصورت ہو… تمہارا نصیب تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہوا… تمہارا خاوند تم سے بہت بڑا ہے…” یہ جملے سن کر گل بانو کے اندر عجیب سی خاموشی اتر جاتی۔ وہ آئینے میں خود کو دیکھتی تو پہلی بار اپنی خوبصورتی سے خوش ہونے کے بجائے خوف محسوس کرتی۔ شاید اسے آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا تھا کہ بعض معاشروں میں خوبصورت لڑکی ہونا نعمت نہیں… ایک آزمائش ہوتی ہے۔ اور انہی خاموش خوفوں، الجھنوں اور اندر ہی اندر ٹوٹتے سوالوں کے درمیان گل بانو بچپن سے نکل کر جوانی کی دہلیز پر پہنچ گئی یہاں پر انکی زندگی کی گاڑی خوفناک موڑوں کی نذر ہوگئی ،،،،،،،،،،،،،۔                        (  جاری ہے)
  •             ۔
ہر بہانہ آپکی ناکامی میں وزن بڑھاتا ہے