userPic

Tahir

Abbasi

Educationist.

8
Posts
6
Followers
0
Following


انسانی دماغ اور ڈوپامین کا راز
انسانی دماغ ایک نہایت پیچیدہ اور حیرت انگیز نظام ہے، جس کے اندر بے شمار کیمیائی عمل جاری رہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم نظام ڈوپامین سسٹم ہے، جو ہماری خوشی، تحریک، سیکھنے اور انعام کے احساس سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا کیمیائی مادہ معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی مادہ انسانی رویوں، عادات اور فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
ڈوپامین دراصل ایک نیوروٹرانسمیٹر ہے، یعنی ایسا کیمیائی پیغام رساں جو دماغ کے خلیوں کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے۔ جب بھی ہم کوئی ایسا عمل کرتے ہیں جو ہمیں خوشی دیتا ہے، جیسے کامیابی حاصل کرنا، پسندیدہ کھانا کھانا یا کسی کی تعریف سننا، تو دماغ میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ یہ اخراج دراصل دماغ کا ایک پیغام ہوتا ہے کہ "یہ عمل مفید اور خوشگوار ہے، اسے دوبارہ دہرایا جائے۔"
ڈوپامین سسٹم دماغ کے مختلف راستوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، میسولمبک راستہ وہ نظام ہے جو انعام اور خوشی کے احساس سے وابستہ ہے۔ اسی طرح میسوکورٹیکل راستہ ہماری سوچ، توجہ اور فیصلہ سازی کو متاثر کرتا ہے، جبکہ نائگروسٹرائیٹل راستہ جسم کی حرکات کو منظم کرتا ہے۔ یوں ڈوپامین نہ صرف ذہنی کیفیت بلکہ جسمانی حرکت پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔
جب ڈوپامین خارج ہوتا ہے تو یہ ایک نیوران سے نکل کر دوسرے نیوران کے درمیان موجود خلا، جسے سائنپس کہا جاتا ہے، میں داخل ہوتا ہے۔ وہاں یہ مخصوص ریسپٹرز سے جڑ کر پیغام منتقل کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمیں خوشی، تحریک یا اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ مادہ یا تو دوبارہ جذب ہو جاتا ہے یا مخصوص انزائمز کے ذریعے ختم ہو جاتا ہے، تاکہ دماغ میں توازن برقرار رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈوپامین کا اخراج صرف بڑی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے تجربات، جیسے سوشل میڈیا نوٹیفکیشن یا کسی کھیل میں کامیابی، بھی اس نظام کو متحرک کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان بار بار انہی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتا ہے جو اسے فوری خوشی فراہم کرتی ہیں۔
تاہم، ہر چیز کی طرح ڈوپامین کا توازن بھی نہایت ضروری ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو انسان ڈپریشن یا پارکنسن جیسی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی زیادتی نشے، بے قابو رویے اور دیگر ذہنی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے ایک متوازن اور صحت مند طرزِ زندگی ہی اس نظام کو درست رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
مختصراً، ڈوپامین سسٹم انسانی زندگی میں خوشی، حوصلہ اور سیکھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے اعمال کو متاثر کرتا ہے بلکہ ہماری شخصیت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
فطرت
کوئی بھی درخت اپنی شاخوں کو آپس میں الجھنے نہیں دیتا۔ اگر شاخیں ایک دوسرے سے الجھ جائیں تو درخت کی نشوونما ہی رک جائے۔ انسان کو صدیوں سے یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ فطرت کے مطابق زندگی گزارو — جس میں کھانا پینا، بات چیت، دوستی اور بے شمار دیگر معاملات شامل ہیں۔
لیکن ابنِ آدم جہاں بھی رہتا ہے، اپنے حلقۂ احباب اور سماجی روابط کے لوگوں سے الجھتا رہتا ہے۔ وہ اپنے اندر منفی خیالات پالتا ہے، اپنی نشوونما کو خود ہی روک لیتا ہے اور پھر ساری زندگی دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتا رہتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ جو لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹ بنیں، ان سے دوری اختیار کی جائے اور اپنے معاملات دوسروں پر ظاہر نہ کیے جائیں — چاہے رشتہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی آپ کے سکون، عزتِ نفس اور زندگی کی راحت میں تنگی کا باعث ہے، تو اس سے دوری اور فاصلے میں ہی عافیت ہے۔

جب لاشعور بولتا ہے

انسانی دماغ کے تین حصے ہیں جن سے فیصلے کیے جاتے ہیں: شعور، تحت الشعور اور لاشعور۔

حالتِ بیداری میں انسان جو اعمال سرانجام دیتا ہے، وہ ایک خاص سوچ کے تابع ہوتے ہیں، جو شعور سے متعلق ہوتی ہے۔ انہی کے زیرِ اثر انسان اپنے سماج اور روایات کے مطابق ایک کنٹرولڈ انداز میں زندگی گزارتا ہے۔

دوسرا حصہ تحت الشعور ہے، جس میں ماضی قریب کے تمام واقعات محفوظ ہوتے ہیں اور انسان کو یاد بھی رہتے ہیں۔ لیکن جب انسان عالمِ بیداری سے عالمِ خواب میں داخل ہوتا ہے تو یہ تمام معلومات شعور اور تحت الشعور سے منتقل ہو کر لاشعور میں چلی جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان ان واقعات کو بھول جاتا ہے۔

تاہم یہی محفوظ شدہ مواد دراصل انسان کی اصل شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب انسان کسی خاص کیفیت میں ہوتا ہے، جیسے محبت یا غصے کے شدید جذبات میں، تو اس کے الفاظ اور اعمال لاشعور سے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ انہی لمحات میں انسان کی حقیقی پہچان واضح ہوتی ہے، کیونکہ اس وقت شعور کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے اور لاشعور اپنے اندر محفوظ پرانے اثرات کو ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے۔

لہٰذا اگر انسان اپنی شخصیت کو نکھارنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ خلوت ہو یا جلوت، اپنے خیالات اور الفاظ کے انتخاب پر خاص توجہ دے، کیونکہ یہی خیالات اور الفاظ مل کر اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔

از قلم: طاہر عباسی

کہی ان کہی باتیں اور ان کے اثرات

جب انسان اس دنیاۓ فانی میں قدم رکھتا ہے تو فطری طور پر تقریباً دو سال تک خاموش رہ کر اپنے اردگرد کی آوازوں کو سنتا اور انہیں اپنے ذہن میں محفوظ کرتا رہتا ہے، پھر آہستہ آہستہ وہی زبان بولنا شروع کر دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی انسان بولنا سیکھتا ہے، وہ اپنے لیے مسائل پیدا کرنا بھی شروع کر دیتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بہت کم گھرانے ایسے ہیں جہاں بچوں کی تربیت کے دوران بات چیت کے آداب اور زبان کے درست استعمال پر خاص توجہ دی جاتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس عارضی دنیا میں انسان کو جن مسائل اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان میں سے اکثر کا ذمہ دار وہ خود ہوتا ہے، لیکن وہ الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔

ہم اکثر ایسی باتیں ظاہر کر دیتے ہیں جنہیں راز میں رکھنا چاہیے تھا، اور اپنی کامیابیوں کا چرچا وقت سے پہلے شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ انہیں ابھی پوشیدہ رہنا چاہیے تھا۔ بعض اوقات ہم بے وقت شکوہ اور شکایت بھی کر بیٹھتے ہیں، جبکہ صبر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم مستقبل کے منصوبے یا خریداری کا ذکر پہلے ہی کر دیتے ہیں، جو بعد میں ہمارے لیے مسائل کا سبب بن جاتا ہے۔

یہ سب وہ عادتیں ہیں جو انسان کے لیے خود پیدا کردہ الجھنیں بن جاتی ہیں۔ پھر جب ان کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دوسروں—چاہے وہ رشتہ دار ہوں یا کولیگز—کو قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ درحقیقت یہ رویہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

اگر ہم اپنی زبان پر قابو رکھیں، الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کریں اور ان کی ادائیگی پر غور کریں تو زندگی کافی حد تک آسان ہو سکتی ہے۔ نہ صرف ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں بلکہ دوست احباب کی تعداد بھی بڑھتی ہے، اور انسان ایک ہر دلعزیز شخصیت بن جاتا ہے۔

از قلم: طاہر عباسی

Tahirshared fromTahir's post

*جھکے ہوئے راستوں کی پوشیدہ رفعت

یہ وہی ہے جو اپنی روشنی بانٹ کر خود مدھم ہو جائے، اور اس کا راز زمانے کی خاموشی میں دیر تک دہکتا رہے۔

ایک راستہ بلند دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے خالی، دوسرا جھکا ہوا مگر معنی سے بھرا ہوا۔

کچھ سفر گنتیوں میں کھو جاتے ہیں، کچھ انسان کے درد میں اپنا جوہر پا لیتے ہیں۔

آخر میں کسوٹی یہی رہتی ہے کہ کس نے اپنی نہیں، دوسروں کی زندگی روشن کی—اور یوں خود بلند ہو گیا۔



#از قلم طاہر عباسی

*وراثت


دنیا ہر روز بدل رہی ہے—لیکن ایک چیز آج بھی اتنی ہی نازک، اتنی ہی قیمتی اور اتنی ہی مشکل ہے: اولاد کی تربیت۔

ہمارے معاشرے کے بیشتر والدین تعلیم یافتہ بھی ہیں اور ڈگری یافتہ بھی، مگر ایک کڑوا مگر روشن سچ یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت دو الگ دریائیں ہیں۔ تعلیم کتابوں سے ملتی ہے، مگر تربیت اُن چراغوں سے جن میں کردار کا تیل جلتا ہے۔


تربیت محض نصیحتوں کی فہرست نہیں، یہ ایک مسلسل جاگتی ہوئی نگہبانی ہے۔

اپنے آپ کو بھی سنوارنے کی…

اپنی اولاد کو بھی سنبھالنے کی…

اور آنے والے کل کے سماج کو سنوارنے کی۔


کیونکہ آنے والی نسل ہی کل کے صاحبانِ علم بھی ہوں گے اور صاحبانِ تربیت بھی۔ انہی کے ہاتھوں معاشرے کی بنیادیں رکھّی جائیں گی، اور انہی کے قدم آنے والے زمانے کی سمت متعین کریں گے۔


مگر سوال یہیں جنم لیتا ہے:

تربیت کی ذمہ داری کس کی ہے؟ والدین کی یا اساتذہ کی؟


سچ یہ ہے کہ تربیت کا پہلا اور سب سے بھاری تاج والد کے سر پر رکھا گیا ہے۔ کہ وہ اپنی اولاد کے لیے رزقِ حلال کا بندوبست کرے—کیونکہ رزق ہی وہ پانی ہے جس سے نسلوں کا خمیر گوندھا جاتا ہے۔


اس کے بعد سب سے عظیم اور نازک ذمہ داری والدہ پر آتی ہے۔

اگر ماں نے حمل کے پہلے لمحے سے لے کر بچّے کے اسکول جانے تک اپنی ذمہ داری محبت، نرمی اور پاکیزگی کے ساتھ نبھائی، تو وہ بچہ معاشرے کا روشن چراغ بنے گا۔


ماں کا پہلا فریضہ یہی ہے کہ جب بچہ اس کے وجود میں ہو، تو وہ دیکھے کہ:

وہ کون سا رزق کھا رہی ہے؟

حلال ہے یا مشکوک؟

وہ کون سی آوازوں میں سانس لے رہی ہے؟ قرآن کی آیات یا بےمعنی شور و غوغا؟

وہ کون سے مناظر اپنی نگاہوں میں سمو رہی ہے؟ پاکیزہ فکر یا سطحی تماشے؟


اگر ماں حمل کے دوران گانوں، واہیات فلموں، لغو زبان اور ملاوٹ زدہ رزق میں اپنی زندگی گزارے، تو پھر چند برس بعد اس بچے کو استاد، قاری یا موٹیویشنل اسپیکر کے حوالے کر کے یہ توقع کرنا کہ وہ اسے باوقار انسان بنا دیں گے…

یہ ایسا ہی ہے جیسے چاند کو تھالی میں رکھ دینے کی فرمائش کرنا۔


بچے کا قصور نہیں ہوتا۔

خمیر تو وہی دکھائے گا جس پانی سے گوندھا گیا۔


اب اصل ذمہ داری اُن والدین کی ہے جو نئی نسل کے جسم، ذہن اور روح کے محافظ ہیں۔

انہیں سب سے پہلے خود کو دیکھنا ہوگا:

کیا وہ خود اس قابل ہیں کہ تربیت جیسے نازک فرض کو اٹھا سکیں؟

اگر جواب نفی میں ہو تو سب سے پہلا قدم یہی ہے کہ وہ پہلے اپنے آپ کی تربیت کریں۔

وہ خوبیاں، وہ صفات، وہ اخلاق اور وہ روشنی جو وہ اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں—

پہلے انہیں اپنے ظاہر اور باطن میں جگہ دینا ہوگی۔

جب والدین خود تربیت یافتہ ہوں گے، تبھی تربیت کا عمل اپنی منزل تک صحیح سلامت پہنچے گا۔


آخرکار…

تربیت وہ خاموش روشنی ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک اترتی ہے۔

اور یہی وہ وراثت ہے جو قوموں کی تقدیر لکھتی ہے۔


#خاموش خیال کی بازگشت- طاہر عباسی

*جھکے ہوئے راستوں کی پوشیدہ رفعت

یہ وہی ہے جو اپنی روشنی بانٹ کر خود مدھم ہو جائے، اور اس کا راز زمانے کی خاموشی میں دیر تک دہکتا رہے۔

ایک راستہ بلند دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے خالی، دوسرا جھکا ہوا مگر معنی سے بھرا ہوا۔

کچھ سفر گنتیوں میں کھو جاتے ہیں، کچھ انسان کے درد میں اپنا جوہر پا لیتے ہیں۔

آخر میں کسوٹی یہی رہتی ہے کہ کس نے اپنی نہیں، دوسروں کی زندگی روشن کی—اور یوں خود بلند ہو گیا۔



#از قلم طاہر عباسی

*جھکے ہوئے راستوں کی پوشیدہ رفعت

یہ وہی ہے جو اپنی روشنی بانٹ کر خود مدھم ہو جائے، اور اس کا راز زمانے کی خاموشی میں دیر تک دہکتا رہے۔

ایک راستہ بلند دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے خالی، دوسرا جھکا ہوا مگر معنی سے بھرا ہوا۔

کچھ سفر گنتیوں میں کھو جاتے ہیں، کچھ انسان کے درد میں اپنا جوہر پا لیتے ہیں۔

آخر میں کسوٹی یہی رہتی ہے کہ کس نے اپنی نہیں، دوسروں کی زندگی روشن کی—اور یوں خود بلند ہو گیا۔



#از قلم طاہر عباسی

You’ve reached the end.