Live Audio

جوڑوں کا درد اور یورک ایسڈ: ہومیوپیتھک نقطۂ نظر اور احتیاط


جسم کے چھوٹے اور بڑے جوڑوں میں درد، سوزش اور جکڑن کی ایک بڑی وجہ خون میں یورک ایسڈ (Uric Acid) کا بڑھ جانا ہے۔ جب جسم پروٹین کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے اس فضلہ کو پیشاب کے راستے باہر نکالنے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ سوئیوں کی شکل کے کرسٹلز بن کر جوڑوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، جسے طبی زبان میں 'گاGaussian' یا 'گٹھیا' (Gout) بھی کہا جاتا ہے۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اس مسئلے کو صرف وقتی طور پر دبانے کے بجائے، جسم کے اندرونی نظام کو درست کرتا ہے تاکہ وہ یورک ایسڈ کو قدرتی طریقے سے خارج کر سکے۔

یورک ایسڈ بڑھنے اور جوڑوں کے درد کی وجوہات

  • غیر متوازن غذا: بڑے کا گوشت (Red Meat)، جگر، گردے، اور سی فوڈ کا زیادہ استعمال۔
  • گردوں کی سستی: جب گردے خون کو صحیح طریقے سے فلٹر کرنے اور فضلے کو باہر نکالنے کی صلاحیت کم کر دیتے ہیں۔
  • پانی کی شدید کمی: دن بھر میں کم پانی پینا، جس سے یورک ایسڈ جسم میں جمنے لگتا ہے۔
  • موٹاپا اور سست طرزِ زندگی: وزن کا زیادہ ہونا اور جسمانی سرگرمیوں سے دوری۔

ہومیوپیتھک طرزِ علاج کی افادیت

ہومیوپیتھی میں یورک ایسڈ اور جوڑوں کے درد کا علاج مریض کے موروثی اثرات، طرزِ زندگی اور انفرادی علامات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

  • میٹابولزم کی اصلاح: یہ علاج جسم کے اندر پروٹین کے ہضم ہونے اور یورک ایسڈ کے بننے کے عمل (Metabolism) کو متوازن بناتا ہے۔
  • گردوں کے افعال میں بہتری: ہومیوپیتھک طریقہ کار گردوں کو متحرک کرتا ہے تاکہ وہ خون میں موجود اضافی یورک ایسڈ کو قدرتی طور پر فلٹر کر کے باہر نکال سکیں۔
  • درد اور سوزش کا خاتمہ: یہ علاج جوڑوں کی سوجن، سرخی اور شدید درد کو بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ یا معدے کو نقصان پہنچائے آہستہ آہستہ مکمل ختم کر دیتا ہے۔

یورک ایسڈ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے چند مفید مشورے

  1. پانی کا کثرت سے استعمال: دن میں کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پینے کی عادت ڈالیں تاکہ یورک ایسڈ فلش آؤٹ ہو سکے۔
  2. غذا میں تبدیلی: ہائی پیورین (High-Purine) غذاؤں جیسے بڑا گوشت، پالک، اور دالوں کا استعمال عارضی طور پر کم کریں اور تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں۔
  3. لیموں پانی اور چیری کا استعمال: لیموں کا رس اور چیری (Cherries) جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
  4. باقاعدہ واک: روزانہ ہلکی چہل قدمی جوڑوں کی لچک کو برقرار رکھتی ہے اور فضلے کو جمع ہونے سے روکتی ہے۔

اگر آپ بھی جوڑوں کے شدید درد، پیر کے انگوٹھے کی سوجن یا یورک ایسڈ کے بار بار بڑھنے سے پریشان ہیں، تو عارضی پین کلرز پر انحصار کرنے کے بجائے کسی مستند ہومیوپیتھک معالج سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے مزاج کے مطابق اس کا مستقل اور جڑ سے علاج ممکن ہو سکے۔


نصیرالدین

رجسٹرڈ ہومیوپیتھک ڈاکٹر


آٹھویں کلاس میں داخل ہوتے ہی میں نے ساری کلاس کو ایک نظر دیکھا کونے میں ایک بچہ خاموش بیٹھا تھا۔ نظریں جھکی ہوئیں۔ چہرہ سپاٹ تھا۔ مجھ پتہ چل گیا کہ یہی میرا ٹارگٹ ہے۔
👈میں نے پہلے دن اس کا نام یاد کیا۔اگلے دن بھری کلاس میں اسے نام سے پکارا۔وہ چونکا، گھبرایا اور پھر مسکرایا۔چند دن بعد وہی بچہ ہر سبق میں ہاتھ اٹھانے لگا۔جس بچے کی نظریں جھکی رہتی تھیں، اب وہ سب سے زیادہ سوال کرتا تھا۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوا؟یہ راز ریپو بلڈنگ میں تھا۔
👈ریپو بلڈنگ یعنی اپنے طلبہ کے ساتھ اعتماد اور ربط قائم کرنا۔ یہ احساس دینا کہ تم محفوظ ہو۔ تمہاری بات اہم ہے۔بغیر اس تعلق کے، بہترین تدریسی حکمتِ عملی بھی اپنا مکمل اثر نہیں دکھا پاتی۔
مشتاق احمد یوسفی والے انداز میں کہوں تو آپ وہاں خارش کر رہے ہیں جہاں خارش ہو ہی نہیں رہی۔
👈تو ریپو بنتی کیسے ہے؟✅شرمیلے بچے کا نام سب سے پہلے یاد کریں اور بھری کلاس میں پکاریں۔✅مسکرانے پہ ابھی تک کوئی ٹیکس نہیں ہے، استعمال کریں۔✅ان کی رائے مانگیں، سنیں اور محسوس کروائیں کہ آپ نے واقعی سنا۔
بس۔ اتنا کافی ہے شروع کرنے کے لیے۔
جب ریپو مضبوط ہو تو تلخ بات بھی ہضم ہو جاتی ہے۔ استاد کلاس روم کے ہر مسئلے پہ آسانی سے قابو پا سکتا ہے۔
ریپو بلڈنگ ایسی کرنسی ہے جس سے آپ کلاس روم کا ہر بحران خرید سکتے ہیں... اور وہ بھی سستے داموں۔
آپ کو اپنے کسی شرمیلے سٹوڈنٹ کا نام یاد ہے؟
ثناءاللہ مدنیGuidea 
#leadership #communication #publicspeaking #ContentCreation #teaching #ثنا_اللہ_مدنی #مؤثر_کمیونیکیشن #publicspeakingtips

آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑھ گیا خرچہ، موبائل فون کا اور فیکس کا

حکم جاری ہو گیا ہے اب وفاقی ٹیکس کا

حسرتِ دیدار پر اشکوں کی طغیانی پہ ٹیکس

وہ جو نلکوں میں نہیں آتا، اُسی پانی پہ ٹیکس

کوچۂ جاناں کی لمبائی پہ چوڑائی پہ ٹیکس

عاشقِ ناشاد کی کمزور بینائی پہ ٹیکس

شوہر مظلوم کی دل پھینک آزادی پہ ٹیکس

ایک شادی کی رعایت، دوسری شادی پہ ٹیکس

طفلِ دوئم پر جب این او سی طلب فرمائیں گے

پہلے بچے کے بقایا جات مانگے جائیں گے

ٹیکس زردہ پر اگر دے دو تو بریانی فری

صرف پاکستانیوں پر ٹیکس، افغانی فری

اور سب کو ہے معافی صرف بدحالوں پر ٹیکس

شاعروں پر، منشیوں پر اور قوالوں پر ٹیکس

اتنے پیسوں میں کہاں سے گھر میں آٹا جائے گا

آٹھ شعروں کی غزل پر ٹیکس کاٹاجائے گا

ناظمؔ بزم سخن دے دے، اضافہ ٹیکس کا

اک لفافہ شاعری کا، اک لفافہ ٹیکس کا

اے مرے محنت کشو! دن رات مزدوری کرو

پیٹ کے دوزخ سے پہلے تم یہ جرمانہ بھرو

اپنی قسمت میں نہیں ہے کوئی دن آرام کا

تین ہفتے ٹیکس کے ہیں، ایک ہفتہ کام کا

اے کنوارو! وصل کی چاہت سے پہلے مال دو

ورنہ اپنی شادیوں کو التوا میں ڈال دو

خالد عرفان

اگر آپ اپنے والدین سے چھپا کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں کھلا رھے ھیں تو آپ بہت بڑے بیوقوف ھیں کیونکہ آپ اپنے بچوں کو سکھا رھے ھیں کہ بڑھاپے میں آپ کے ساتھ کیا کرنا ھے

اپ کی کامیابی کا فیصلہ 
اخری سانسں پر ہو گا۔

“آپ کی پیدائش کا ستارہ کوئی بھی ہو، اپنی قسمت کا ستارہ آپ خود ہیں ۔”

“اگر خوشی تنخواہ سے آتی ہے، تو وہ ادھاری ہے 

اگر منافع سے آتی ہے، تو وہ آپ کی ہے۔”

محرک چینل ،دل سے بنایا، دلوں تک پہنچا

جب ہم نے یوٹیوب پر محرک چینل شروع کیا،تو ہم نے صرف ویڈیوز نہیں بنائیں،ہم نے اپنا دل، وقت اور محنت اس میں ڈال دی۔شروع میں چند لوگ دیکھتے تھے،پھر یہ لوگ سو، ہزار، اور پھر ہزاروں بن گئے۔آج، روزانہ ہزاروں لوگ محرک کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔

ہم نے ویڈیو صرف کیمرے کے لیے نہیں بنائی،ہم نے ہر بات آپ کے دل تک پہنچانے کے لیے کہی۔جب آپ کمنٹ کرتے ہیں، شکریہ کہتے ہیں،تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم درست راستے پر ہیں۔


محرک اب صرف ہمارا چینل نہیں، یہ آپ سب کا بھی چینل ہے۔جو آپ کو آگے بڑھنے، کچھ نیا سیکھنے، کچھ اچھا کرنے کی حوصلہ افزائی دیتا ہے۔

اگر آپ نے اب تک محرک چینل کو نہیں دیکھا،تو بس ایک بار دیکھ لیں۔ہمیں پورا یقین ہے آپ کو ضرور پسند آئے گا۔

چینل کا لنک کمنٹس میں ہے۔

آئیے، ہم سب ایک دوسرے کے لیے “محرک” بنیں۔

ایک دن میں نے اپنے  مینٹور سے پوچھا

“سر، لوگ ترقی کیسے کرتے ہیں؟”

وہ مسکرائے، قلم میز پر رکھا، اور آنکھوں میں سنجیدگی لیے کہا کہ

“بیٹا، دنیا میں ترقی کے صرف دو ہی طریقے ہیں ،یا تو تم اپنی مہارت بڑھاؤ، یا اپنے تعلقات۔”

میں چونکا۔

“بس؟ اتنا ہی؟”

انہوں نے ہاں میں سر ہلایا۔

“ہاں، اور دونوں میں سے اگر ایک بھی تم نے سچے دل سے اپنایا، تو دوسرا خود بخود پیچھے آ جائے گا۔”

پہلا راستہ: ہنر بڑھاؤ

میرے مینٹور نے کہا

“فرض کرو تم تنہا ہو، کسی کو نہیں جانتے…

مگر تمہارے ہاتھ میں ایسا ہنر ہے جو دنیا کے کام آ سکتا ہے

تو لوگ خود تمہیں ڈھونڈیں گے۔”

“ایک سنار اگر سونا پہچان سکتا ہے،

تو دنیا بھی اصل ہنر کو پہچاننا سیکھ جاتی ہے۔”

میں نے پوچھا کہ

“اگر مجھے ہنر نہیں آتا؟”

کہنے لگے کہ

“تو سیکھو! کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔

جو سیکھنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہی ایک دن سکھانے کے قابل بنتا ہے۔”

دوسرا راستہ: واقفیت بڑھاؤ

پھر انہوں نے کہا 

“اور اگر تم ابھی ہنر میں بہت آگے نہیں،

تو لوگوں سے ملو، تعلق بناؤ، سیکھنے والوں کے ساتھ بیٹھو،

کامیاب لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔”

“کبھی تم کسی کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے،

تو کبھی کوئی تمہارے دروازے پر آ کر کہے گا

بھائی، سنا ہے تم کچھ اچھا کرتے ہو؟”

میں نے آخر میں پوچھا کہ

“سر، دونوں میں سے اہم کون سا ہے؟”

وہ مسکرائے اور بولے

“ایک ہاتھ میں مہارت ہو، اور دوسرے میں تعلقات

تو کامیابی ہاتھوں سے پھسل نہیں سکتی۔”

دنیا بدلتی رہتی ہے، مگر اصول سادہ ہیں

ہنر بڑھاؤ ،تاکہ تمہاری جگہ دنیا میں خود بن جائے

تعلقات بناؤ ،تاکہ تمہیں مواقع ملتے رہیں

اور اگر تم دونوں پر کام کر لو…

تو پھر تمہیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔

#جاوید_تیموری 

افف یہ عورتیں کتنی ظالم ہیں۔مرد۔ساری عمر کمائے اور بیوی کا ہر طرح ناز ونخرہ اٹھائے لیکن ناشکر عورت آخر میں کیا کرتی ہے

Pull down to refresh