Live Audio

📜رزق کی تلاش اور بندگی کا سفر: ایک مخلصانہ دعوتِ فکر

مدارسِ دینیہ سے وابستہ عزیز طلبہ و طالبات، لائقِ صد احترام علماء و عالمات اور مفتیانِ کرام!آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہم سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں، تو وہاں اپنے ہی ان قیمتی ہیروں (دینی وعلمی حلقوں سے وابستہ افراد) کو متحرک دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے اور دل میں ایک مخلصانہ فکر بھی جاگتی ہے۔ موجودہ دور میں آن لائن دنیا، فری لانسنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے حلال رزق کمانا یقیناً ایک بہترین صلاحیت ہے، لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ اکاؤنٹ ریچ، ویوز اور تشہیر کی اس تیز رفتار دوڑ میں ہم اس اعلیٰ مقصد کو بھول بیٹھے ہوں جو مدارس کی نورانی فضاؤں میں ہمارے دلوں میں راسخ کیا گیا تھا؟قرآنِ کریم ہمیں زندگی کی ترجیحات کا ایک خوبصورت توازن سکھاتا ہے۔ سورہ الملک (آیت:15) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا"ترجمہ: تو تم اس کے راستوں میں چلو۔غور فرمائیے کہ جب معاملہ دنیا اور حصولِ رزق کا ہو، تو ربِ کریم نے "فَامْشُوا"(پس چلو) فرمایا،لیکن اس کے برعکس، جب بندگی، آخرت اور اپنی یاد کی طرف بلایا، تو سورہ الجمعہ (آیت:9) میں ارشاد فرمایا:"فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ"ترجمہ: تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو۔آج کا ڈیجیٹل ماحول لاشعوری طور پر ہماری ترجیحات کو الٹ پلٹ کر رہا ہے۔ ہم رزق اور دنیاوی پہچان کے لیے تو پوری جان لگا کر دوڑ رہے ہیں، لیکن ذکرِ الٰہی، اخلاص اور باطنی ترقی کے معاملے میں ہماری رفتار دھیمی ہوتی جا رہی ہے۔آپ اس امت کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ فری لانسنگ کیجیے، جدید مہارتیں سیکھیے، لیکن اپنی تحاریر اور ویڈیوز میں "خود نمائی" کے بجائے "رضائے الٰہی" کو مقصد بنائیے۔ رزق کو ضرورت سمجھیے، مگر دوڑ ہمیشہ آخرت ہی کی طرف رکھیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا کی کامیابی کے ساتھ آخرت کی فلاح نصیب فرمائے۔ آمین۔
از: مفتی محمد فرید سعیدیؔ

ہفتہ، 6 جون 2026ء، اسلام آباد

Society is a mirror that reflects both the beauty and the flaws of humanity. It is built by people, shaped by traditions, and driven by the values we choose to uphold. We celebrate progress and development, yet often overlook the growing distance between individuals. In a world more connected through technology than ever before, genuine compassion, empathy, and understanding seem to be fading.
Modern society measures success by wealth, status, and appearance, while integrity, kindness, and character are frequently pushed into the background. People strive to be seen rather than understood, heard rather than listened to, and admired rather than respected. The race for material achievement has created competition where cooperation once thrived, leaving many feeling isolated despite being surrounded by millions.
At the same time, society remains a source of hope. It is within communities that people unite during times of hardship, raise their voices against injustice, and extend a helping hand to those in need. Every act of honesty, generosity, and courage contributes to building a healthier social fabric. The responsibility for change does not rest solely with leaders or institutions; it begins with ordinary individuals and the choices they make each day.
A strong society is not defined by towering buildings or economic statistics alone. Its true strength lies in how it treats its most vulnerable members, how fairly it distributes opportunities, and how firmly it stands for justice and human dignity. If we wish to leave behind a better world for future generations, we must learn to value humanity over hostility, dialogue over division, and collective well-being over selfish gain.
In the end, society becomes what its people choose to make it. By cultivating empathy, accountability, and mutual respect, we can transform it from a place of indifference into a community where every individual has the chance to live with dignity, purpose, and hope.
رزق کی تلاش اور بندگی کا سفر: ایک مخلصانہ دعوت فکر
تنازعات سے بچیں اور انہیں ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔تنازعات اور لڑائی جھگڑے میں کسی کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس میں صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ انتقام کی چکروں میں نسلیں سجھڑ جاتی ہیں لیکن نتیجہ صرف نقصان پہ نقصان
خداراہ اپنی موجودہ نسلوں اور آنے والی نسلوں پر ترس کھائیں۔ انہیں تحفے میں تباہی نہ دیں۔ اپنی انا کی آڑ میں آ کر اپنے بچوں اور نئی نسلوں کو تنازعات اور بدیوں کی چکی میں نہ پیسیں بلکہ اس کے برعکس ان کو تعلیم ، تربیت اور اخلاق دیں تاکہ وہ ایک مفید اور خوشحال نسل بن سکیں
بقلم: سید تسنیم شاہ سٹوڈنٹ آف دی سنچری 

واقعۂ کربلا تاریخِ انسانی کا وہ عظیم الشان اور لافانی باب ہے جو محض چند ہستیوں کی قربانی کا قصہ نہیں بلکہ بقائے اسلام حریتِ فکر اور نظامِ حق کی بحالی کا ایک آفاقی اور ابدی فلسفہ ہے۔ پورے ماہِ محرم الحرام کو محیط کرتی ہوئی "فلسفۂ شہادتِ کربلا" پر یہ روزانہ کی بنیاد پر ایک طویل دلسوز اور عالمانہ و فصیح سلسلے کی پہلی قسط صورت میں پیشِ خدمت ہے۔

فلسفۂ شہادتِ کربلا ایک آفاقی تناظر

قسط اول

تمہیدِ شوق استقامتِ حق کا ازلی و ابدی منشور


ہلالِ محرم کا افقِ عالم پر نمودار ہونا ایک نئے اسلامی سال کے آغاز کا اعلامیہ نہیں ہے بلکہ یہ کائناتِ قلب و نظر پر ایک ایسے حزنِ ملکوتی اور اندوہِ سرمدی کا نزول ہے جو جمود کا شکار روحوں کو جنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ فلسفۂ شہادتِ کربلا کو سمجھنے کے لیے عام مادی موازین دنیاوی سیاسی پیمانے اور عقلِ عیار کے خود ساختہ فلسفے قطعی طور پر ہیچ اور ناپائیدار ہیں۔ یہ عظیم معرکہ کوئی دو شہزادوں کی باہمی آویزش یا دو قبیلوں کے مابین حصولِ اقتدار کی روایتی جنگ نہ تھا بلکہ یہ اس "تضادِ ازلی و ابدی" کا وہ نقطۂ عروج تھا جہاں ایک طرف سطوتِ مادی جبرِ ملوکیت بوالہوسیِ یزیدیت اور تحریفِ دین کا سیلابِ بلا تھا اور دوسری طرف فقرِ محمدی طہارتِ علوی صبغتِ الٰہیہ اور تسلیم و رضا کی وہ حسینی معراج تھی جس پر انسانیت ہمیشہ ناز کرے گی۔

اس معرکے کے فکری پس منظر پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ رسالتِ مآب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جس عادلانہ اخلاقی اور الٰہی نظامِ حکومت کی بنیاد مدینۃ المنورہ میں رکھی تھی اس کا جوہرِ خاص 'تقویٰ'، 'عدلِ مطلق' اور 'شورائیت' تھا۔ لیکن خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کے بعد اسلام کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں ایک مہیب اور مصلحت پسندانہ انحراف پیدا ہو رہا تھا جہاں دینِ مبین کو ملوکیت (Monarchy) کی مصلحتوں اور مٹیالے مفادات کے تابع کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی تھی۔ یزید کا تختِ اقتدار پر متمکن ہونا ایک فرد کی تبدیلی یا کسی حاکم کا عزل و نصب نہ تھا بلکہ یہ اسلامی اقدار کے مسخ ہونے شریعتِ مطہرہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کی ایک جابرانہ استبدادی اور فکری ارتداد کی ابتدا تھی۔ یہ ایک ایسا نازک موڑ تھا جہاں ملوکیت وحیِ الٰہی پر غالب آنے کی ناکام تگ و دو کر رہی تھی۔

ایسے فکری و عملی انحطاط کے تاریک دور میں اگر امامِ عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام مصلحتوں کا شکار ہو کر خاموشی اختیار فرما لیتے یا جابر سلطان کی بیعت کر لیتے، تو ملوکیت کا یہ غاصبانہ فاسقانہ اور غیر اسلامی اندازِ حکمرانی ہمیشہ کے لیے "عینِ دین" اور سنتِ اسلاف سمجھ کر قبول کر لیا جاتا اور اصل اسلام مسخ ہو جاتا۔ چنانچہ، نواسۂ رسول ﷺ کا مدینۂ منورہ کو خیرباد کہنا مکہ معظمہ میں عارضی قیام اور پھر وہاں سے عراق کی طرف رختِ سفر باندھنا، کسی مادی اقتدار کی ہوس دنیاوی جاہ و جلال کی طلب یا خروجِ باغیانہ کے تحت نہ تھا بلکہ اس سنگین اور پرآشوب سفر کا واحد اور حقیقی مقصد "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" اور امتِ جدِ امجد کی فکری و اخلاقی اصلاح تھا۔ آپ کا یہ اقدامِ جلیل کائنات کے ضمیر کے نام ایک ابدی پیغام تھا کہ جب دینِ الٰہی کی بنیادیں ہلائی جا رہی ہوں اور ضمیرِ انسانی کا سودا ہو رہا ہو، تو زندگی بچانے کی جدوجہد سے زیادہ اہم اصولِ زندگی کو بچانا ہوتا ہے۔

اس آفاقی فلسفے کا سب سے دلسوز رقت آمیز اور جگر گداز پہلو یہ ہے کہ امامِ وقت جو دوشِ رسول ﷺ کے سوار اور جوانانِ جنت کے سردار تھے اپنے مٹھی بھر جانثاروں، وفادار رفقاء اور مخدراتِ عصمت (خواتینِ اہلِ بیت) کے ہمراہ اس دشتِ بلا اور مقتل کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں مادی اسباب کے نام پر صرف تپتی ہوئی ریت العطش کی صدائیں، بے دردی سے کٹنے والے سر اور نیزوں کی انیاں تھیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سفر کا ظاہری انجام شہادت، پامالیِ اجساد اور آلِ رسول ﷺ کی اسیری ہے. سیدنا امام حسین علیہ السلام کے عزمِ صمیم اور استقلالِ کامل میں ایک لمحے کے لیے بھی لغزش یا تذبذب کا پیدا نہ ہونا ہی وہ حسینی فلسفہ ہے جسے دنیا کی عقلِ مادی سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ وہ مقامِ عشقِ الٰہی ہے جہاں عبد اپنے معبود کی رضا کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا کر فنا فی اللہ کے مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔

یہ اس طویل اور فکری سلسلے کا پہلا فکری و فلسفیانہ دیباچہ ہے۔ کل دوسری قسط میں ہم مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت امام عالی مقام علیہ السلام کے خطبات کے باطنی سوز اہل مدینہ کے اضطراب، اور "عزمِ حسینی" کے پوشیدہ الٰہی اسرار و رموز پر تفصیلی، عالمانہ اور دلسوز گفتگو کریں گے۔


پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔جو بندہ 1200 دیہاڑی کماتا ہے وہ گھر کی سبزی آٹا بچوں کو سکول کی فیس کیسے ادا کرے ۔خدانخواستہ اگر اسکی فیملی میں کوئی ایک بندہ بیمار ہو جائے تو 1200 میں سے 500 پٹرول میں چلا جاتا ہے ۔اس 700 میں سے ایک عام ڈاکٹر کی فیس 500 ہے پھر 2000 ٹیسٹ کے وہ بے چارا تو قرض کے نیچے ڈوبتا جائے گا ۔ہمارے حکمرانوں کی غریب طبقے کی کوئی پروا نہیں ۔بلکہ وہ تو عیش و عشرت کے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں 

Mein sochny sy bhi ziyada ye sochta hu

K mein aakhir ku sochta hu

کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

از قلم: حفصہ زنیر


عورت ہی عورت کی دشمن یا زخموں کی ایک نسل در نسل چلنے والی کہانی

جب بھی کسی ساس بہو میں اختلاف ہوتا ہے، نند اور بھابھی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں یا ایک ماں اپنی بیٹی اور بیٹے میں فرق کرتی نظر آتی ہے تو فوراً ایک جملہ سننے کو ملتا ہے، کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

کبھی غور کیجیے، ایک عورت جب دنیا میں آتی ہے تو وہ دشمنی سیکھ کر نہیں آتی بلکہ وہ تو محبت، قبولیت، توجہ اور عزت کی اتنی ہی طلب گار ہوتی ہے جتنا کوئی اور انسان ہوتا ہے۔ پھر آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہی عورت دوسری عورت کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتی ہے؟

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان اپنے زخموں سے دو طرح کا سلوک کرتا ہے یا تو وہ ان کا علاج کرتا ہے یا پھر انجانے میں انہیں دوسروں تک منتقل کر دیتا ہے۔

ایک ماں جس نے ساری زندگی یہ سنا ہو کہ بیٹا خاندان کا سہارا ہے اور بیٹی بوجھ، وہ لاشعوری طور پر اپنی بیٹی کی پرورش بھی اسی خوف اور سماجی دباؤ کے ساتھ کرتی ہے۔ وہ بیٹی سے محبت کم نہیں کرتی مگر اسے آزادی دینے سے ڈرتی ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ سختی، برداشت، چپ رہنا شاید تحفظ کا دوسرا نام ہے۔

ایک ساس جس نے اپنی جوانی میں بے شمار نا انصافیاں برداشت کی ہوں، وہ اکثر یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ ہم نے بھی تو یہ سب سہا تھا، برداشت کرنا ہی عورت کی تقدیر ہے۔ جب بہو اپنے حقوق کی بات کرتی ہے تو اسے اپنی جوانی کے دبے ہوئے زخم یاد آنے لگتے ہیں۔ بہو کی آواز اسے نافرمانی نہیں بلکہ اپنے ماضی کی محرومیوں کا آئینہ محسوس ہوتی ہے۔

کبھی کبھی نند، جیٹھانی، دیورانی یا سوتن کے رشتوں میں بھی مسئلہ نفرت سے زیادہ عدم تحفظ کا ہوتا ہے۔ اس کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ معاشرہ عورتوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا حریف بنا دیتا ہے۔ محدود اختیارات، توجہ کی خواہش، عدم تحفظ اور سماجی دباؤ ان رشتوں میں تناؤ پیدا کرتے ہیں انسان کو جب محبت، توجہ یا اہمیت محدود محسوس ہونے لگے تو وہ دوسروں کو اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ ان کی جگہ، عزت اور اہمیت کسی دوسری عورت کی اہمیت پر قائم ہوگی۔

یوں ایک ایسی جنگ شروع ہو جاتی ہے جس میں اصل دشمن کوئی ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ وجوہات ہوتے ہیں جو دلوں میں برسوں سے پل رہے ہوتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک عورت دوسری عورت کو وہی درد دیتی ہے جس کی تکلیف وہ خود کبھی محسوس کر چکی ہوتی ہے۔ گویا زخم بھرنے کے بجائے وراثت میں منتقل ہوتے جاتے ہیں لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔

ہر وہ ماں جو اپنی بیٹی پر اعتماد کرتی ہے، ہر وہ ساس جو بہو کو بیٹی جیسا احترام دیتی ہے، ہر وہ نند جو بھابھی کا سہارا بنتی ہے اور ہر وہ عورت جو دوسری عورت کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتی ہے، وہ اس پرانی روایت کو توڑ رہی ہے۔


اصل مسئلہ عورت یا مرد کا نہیں ہے بلکہ وہ سوچ اور نظام ہے جو ناانصافی کو روایت بنا رہا ہے۔ جب ایک نسل اپنے زخموں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں اگلی نسل کو منتقل کر دیتی ہے تو نفرت اور تفریق کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

مسئلہ یہ نہیں کہ عورت عورت کی دشمن ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کو صدیوں سے اتنے جذباتی زخم دیے گئے ہیں کہ بعض عورتوں نے انہی زخموں کو اپنا طرزِ زندگی بنا لیا لیکن تبدیلی اس دن شروع ہوگی جب ایک عورت یہ فیصلہ کرے گی کہ جو درد اسے ملا تھا، وہ اسے آگے منتقل نہیں کرے گی۔ وہ اپنے زخموں کو وراثت نہیں بنائے گی بلکہ ان کا علاج کرے گی کیونکہ شفا یافتہ دل دوسروں کو زخمی نہیں کرتے۔

"زخمی لوگ زخم بانٹتے ہیں مگر شفا یافتہ لوگ محبت بانٹتے ہیں۔"

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عورت دوسری عورت کو اپنا حریف نہیں بلکہ اپنا ساتھی سمجھے کیونکہ جب عورت عورت کا سہارا بن جائے گی تو صرف ایک رشتہ نہیں، پوری نسل بدل سکتی ہے۔

کامیابی کوئی ایسی منزل نہیں جہاں پہنچ کر انسان ہمیشہ کے لیے رک جائے اور جشن منانا شروع کر دے۔ اور ناکامی کوئی ایسا انجام نہیں جہاں زندگی کا سفر ختم ہو جائے۔ یہ دونوں صرف عارضی لمحات ہیں ایک بڑی کہانی کے اندر۔اکثر لوگ کامیابی کے بعد مطمئن ہو کر رک جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب سب کچھ حاصل ہو گیا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ناکامی کے بعد یہ سوچ کر ہار مان لیتے ہیں کہ وہ قابل نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل ترقی تب ہوتی ہے جب انسان ہر حال میں آگے بڑھتا رہے۔

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔


*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔


*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔


*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،


*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔


*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔


*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔


*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔


*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔


*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔


*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔


*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔

 برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔


*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔


*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔


*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔


*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔


*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،

*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔


: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔

Pull down to refresh