Default Profile

Abdul Rauf

@username

No bio available.

9
Posts
1
Followers
0
Following

واقعۂ کربلا تاریخِ انسانی کا وہ عظیم الشان اور لافانی باب ہے جو محض چند ہستیوں کی قربانی کا قصہ نہیں بلکہ بقائے اسلام حریتِ فکر اور نظامِ حق کی بحالی کا ایک آفاقی اور ابدی فلسفہ ہے۔ پورے ماہِ محرم الحرام کو محیط کرتی ہوئی "فلسفۂ شہادتِ کربلا" پر یہ روزانہ کی بنیاد پر ایک طویل دلسوز اور عالمانہ و فصیح سلسلے کی پہلی قسط صورت میں پیشِ خدمت ہے۔

فلسفۂ شہادتِ کربلا ایک آفاقی تناظر

قسط اول

تمہیدِ شوق استقامتِ حق کا ازلی و ابدی منشور


ہلالِ محرم کا افقِ عالم پر نمودار ہونا ایک نئے اسلامی سال کے آغاز کا اعلامیہ نہیں ہے بلکہ یہ کائناتِ قلب و نظر پر ایک ایسے حزنِ ملکوتی اور اندوہِ سرمدی کا نزول ہے جو جمود کا شکار روحوں کو جنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ فلسفۂ شہادتِ کربلا کو سمجھنے کے لیے عام مادی موازین دنیاوی سیاسی پیمانے اور عقلِ عیار کے خود ساختہ فلسفے قطعی طور پر ہیچ اور ناپائیدار ہیں۔ یہ عظیم معرکہ کوئی دو شہزادوں کی باہمی آویزش یا دو قبیلوں کے مابین حصولِ اقتدار کی روایتی جنگ نہ تھا بلکہ یہ اس "تضادِ ازلی و ابدی" کا وہ نقطۂ عروج تھا جہاں ایک طرف سطوتِ مادی جبرِ ملوکیت بوالہوسیِ یزیدیت اور تحریفِ دین کا سیلابِ بلا تھا اور دوسری طرف فقرِ محمدی طہارتِ علوی صبغتِ الٰہیہ اور تسلیم و رضا کی وہ حسینی معراج تھی جس پر انسانیت ہمیشہ ناز کرے گی۔

اس معرکے کے فکری پس منظر پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ رسالتِ مآب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جس عادلانہ اخلاقی اور الٰہی نظامِ حکومت کی بنیاد مدینۃ المنورہ میں رکھی تھی اس کا جوہرِ خاص 'تقویٰ'، 'عدلِ مطلق' اور 'شورائیت' تھا۔ لیکن خلافتِ راشدہ کے سنہری دور کے بعد اسلام کے سیاسی و سماجی ڈھانچے میں ایک مہیب اور مصلحت پسندانہ انحراف پیدا ہو رہا تھا جہاں دینِ مبین کو ملوکیت (Monarchy) کی مصلحتوں اور مٹیالے مفادات کے تابع کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی تھی۔ یزید کا تختِ اقتدار پر متمکن ہونا ایک فرد کی تبدیلی یا کسی حاکم کا عزل و نصب نہ تھا بلکہ یہ اسلامی اقدار کے مسخ ہونے شریعتِ مطہرہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کی ایک جابرانہ استبدادی اور فکری ارتداد کی ابتدا تھی۔ یہ ایک ایسا نازک موڑ تھا جہاں ملوکیت وحیِ الٰہی پر غالب آنے کی ناکام تگ و دو کر رہی تھی۔

ایسے فکری و عملی انحطاط کے تاریک دور میں اگر امامِ عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام مصلحتوں کا شکار ہو کر خاموشی اختیار فرما لیتے یا جابر سلطان کی بیعت کر لیتے، تو ملوکیت کا یہ غاصبانہ فاسقانہ اور غیر اسلامی اندازِ حکمرانی ہمیشہ کے لیے "عینِ دین" اور سنتِ اسلاف سمجھ کر قبول کر لیا جاتا اور اصل اسلام مسخ ہو جاتا۔ چنانچہ، نواسۂ رسول ﷺ کا مدینۂ منورہ کو خیرباد کہنا مکہ معظمہ میں عارضی قیام اور پھر وہاں سے عراق کی طرف رختِ سفر باندھنا، کسی مادی اقتدار کی ہوس دنیاوی جاہ و جلال کی طلب یا خروجِ باغیانہ کے تحت نہ تھا بلکہ اس سنگین اور پرآشوب سفر کا واحد اور حقیقی مقصد "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" اور امتِ جدِ امجد کی فکری و اخلاقی اصلاح تھا۔ آپ کا یہ اقدامِ جلیل کائنات کے ضمیر کے نام ایک ابدی پیغام تھا کہ جب دینِ الٰہی کی بنیادیں ہلائی جا رہی ہوں اور ضمیرِ انسانی کا سودا ہو رہا ہو، تو زندگی بچانے کی جدوجہد سے زیادہ اہم اصولِ زندگی کو بچانا ہوتا ہے۔

اس آفاقی فلسفے کا سب سے دلسوز رقت آمیز اور جگر گداز پہلو یہ ہے کہ امامِ وقت جو دوشِ رسول ﷺ کے سوار اور جوانانِ جنت کے سردار تھے اپنے مٹھی بھر جانثاروں، وفادار رفقاء اور مخدراتِ عصمت (خواتینِ اہلِ بیت) کے ہمراہ اس دشتِ بلا اور مقتل کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں مادی اسباب کے نام پر صرف تپتی ہوئی ریت العطش کی صدائیں، بے دردی سے کٹنے والے سر اور نیزوں کی انیاں تھیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سفر کا ظاہری انجام شہادت، پامالیِ اجساد اور آلِ رسول ﷺ کی اسیری ہے. سیدنا امام حسین علیہ السلام کے عزمِ صمیم اور استقلالِ کامل میں ایک لمحے کے لیے بھی لغزش یا تذبذب کا پیدا نہ ہونا ہی وہ حسینی فلسفہ ہے جسے دنیا کی عقلِ مادی سمجھنے سے قاصر ہے۔ یہ وہ مقامِ عشقِ الٰہی ہے جہاں عبد اپنے معبود کی رضا کے سامنے اپنی ہستی کو مٹا کر فنا فی اللہ کے مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔

یہ اس طویل اور فکری سلسلے کا پہلا فکری و فلسفیانہ دیباچہ ہے۔ کل دوسری قسط میں ہم مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت امام عالی مقام علیہ السلام کے خطبات کے باطنی سوز اہل مدینہ کے اضطراب، اور "عزمِ حسینی" کے پوشیدہ الٰہی اسرار و رموز پر تفصیلی، عالمانہ اور دلسوز گفتگو کریں گے۔


ساداتِ صوفیہ کے علوم کا انکار کیوں کیا جاتا ہے؟


کیونکہ ہمارے سادات (صوفیائے کرام) نے فکر اور سوچ کے دائرے کو عبور کر کے "دائرہِ کشف" (کشف کی منزل) میں قدم رکھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس چھپے ہوئے اور محفوظ علم کو ظاہر فرما دیا جو ان کے باطن میں ودیعت کیا گیا تھا (وَعَلَّمَ آدَمَ - اور اللہ نے آدم کو سکھائے)

۔ چنانچہ انہیں "مقامِ اِنباء" (باخبر کرنے کا مقام) حاصل ہوا، اور وہ اس قابل ہوئے کہ (أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَٰؤُلَاءِ - مجھے ان سب کے نام بتاؤ)

صوفی شریعت کو اس کے اصل چشمے سے لیتا ہے اور حقیقت کو اس کے حقیقی عنصر (اصل) سے پاتا ہے۔

امام ابو حامد الغزالیؒ فرماتے ہیں

"ہم (ابتدا میں) ان اہل اللہ کی بعض باتوں کا انکار کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے حق کو انہی کے ساتھ پایا۔"

(بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ)

"بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انہوں نے احاطہ نہیں کیا تھا اور ابھی اس کی حقیقت ان کے سامنے نہیں آئی تھی۔"


جب امام ابو حامد الغزالیؒ اس قوم (صوفیاء) کے راستے کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے اس لذت کو چکھا جو صوفیاء چکھتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا

 "پھر جب میں ان (ظاہری و عقلی) علوم سے فارغ ہوا، تو میں نے اپنی پوری ہمت صوفیاء کے راستے کی طرف مبذول کر دی۔ اور مجھے معلوم ہوا کہ ان کا راستہ علم اور عمل دونوں سے ہی مکمل ہوتا ہے۔"

وہ دوبارہ فرماتے ہیں

"مجھے یقین ہو گیا کہ صوفیاء ہی خاص طور پر اللہ کے راستے پر چلنے والے ہیں، ان کی سیرت اور چلن بہترین چلن ہے، ان کا راستہ سب سے درست راستہ ہے، اور ان کے اخلاق سب سے پاکیزہ اخلاق ہیں۔"


وہ مزید فرماتے ہیں:

"اگر تمام عقلمندوں کی عقل، تمام حکماء کی حکمت، اور شریعت کے اسرار و رموز سے واقف علماء کا علم بھی اکٹھا کر دیا جائے تاکہ وہ صوفیاء کی سیرت و طریقہ کار میں کوئی معمولی سی تبدیلی کر سکیں یا اس سے بہتر کوئی چیز لا سکیں، تو وہ اس کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔"


صوفیاء کی تمام ظاہری و باطنی حرکات و سکنات نورِ نبوت کے چراغدان سے فیض یافتہ ہیں۔

اور انہوں نے اپنی کتاب "إحياء علوم الدين" میں فرمایا:

"جس نے چکھا، اس نے پہچان لیا (من ذاق عرف)۔ اور جس نے نہیں چکھا، تو اس پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ تسلیم کرے اور اعتراف کرے۔"

ترجمانِ قرآن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم کے دو تھیلے (جرابیں) حاصل کیے۔ ایک تھیلا وہ تھا جو میں نے تمہارے سامنے پھیلا دیا (سب کو سکھا دیا)، اور دوسرا تھیلا ایسا ہے کہ اگر میں اسے تمہارے سامنے ظاہر کر دوں تو تم مجھے سنگسار کر دو۔"

پس عقل مند انسان کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں تدبر کرنا چاہیے

(وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ)

"اور اس چیز کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ہے۔"


لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو سرِ تسلیم خم کرے اور محفوظ رہے، اور اللہ کو سب سے پیارا وہ ہے جو خود کو (حق کے سامنے) سپرد کر دے۔

میرے آقا شمس تبریزیؒ واضح فرماتے ہیں

اولیاء کے علوم عقل کی حدوں سے ورا (آگے) ہیں۔ ادیبوں، مفکروں، عقلی نظریات کے ماہرین اور فلسفیانہ سوچ رکھنے والوں کا اس میدان میں کوئی قدم نہیں ہے۔ اولیاء کے علوم 'وہبی' (اللہ کی طرف سے عطا کردہ) ہوتے ہیں، یہ کسب (محنت) یا مروجہ پڑھائی سے حاصل نہیں ہوتے... وہ ایسے محمدی اُمّی علماء ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا:

 {الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ} (وہ جو اس رسول، نبی اُمّی کی پیروی کرتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں)۔

{وَمَا آتَيْنَاهُم مِّن كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا} (اور نہ ہم نے انہیں کوئی کتابیں دیں جنہیں وہ پڑھتے ہوں)۔

{وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا} (اور ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک خاص علم سکھایا)۔"


میرے آقا ابنِ عربیؒ نے اولیاء کے علوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے

 پہلا حصہ (لدنی علوم) جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر کسی کوشش، حصول یا درس و تدریس کے حاصل ہوتے ہیں۔

 دوسرا حصہ (مکتب علوم) جو پہلے حصے کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یعنی جب ولی پر اللہ کی طرف سے کوئی علمِ لدنی نازل ہوتا ہے، تو وہ اپنی اجتہادی قوت سے اس سے ایک نیا علم استنباط (اخذ) کرتا ہے۔

اور یہ دونوں علوم (اولیاء کے ہاں) سچے اور خطا سے پاک ہوتے ہیں، برخلاف نظریاتی و فکری علوم کے۔

سیدی ابن عربیؒ "الفتوحات المکیہ" میں فرماتے ہیں

 "جان لو کہ اللہ کی معرفت رکھنے والے علماء (علماء باللہ) علوم میں سے صرف وہی علم لیتے ہیں جو 'موہوب' (عطا کیا گیا) ہو، اور وہ علمِ لدنی ہے جیسے حضرت خضر علیہ السلام اور ان جیسے دیگر حضرات کا علم... یہ وہ علم ہے جس میں ان کی اپنی سوچ یا خاطر کا بالکل کوئی دخل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس میں کسب (محنت) کی کدورتوں کا کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا۔ کیونکہ مادی و امکانی حجابات (جیسے روح، جسم اور عقل) سے پاک الٰہی تجلی، ان امکانی مادی اشیاء میں ہونے والی تجلی سے زیادہ کامل ہوتی ہے۔ اور امکانی مادی اشیاء میں بھی بعض تجلیات بعض سے زیادہ کامل ہوتی ہیں۔

 پس جب اللہ کی معرفت رکھنے والے عالم کو کسی الٰہی تجلی کے ذریعے ایک دوسری تجلی کا مشاہدہ ہوتا ہے جو اسے پہلے حاصل نہیں تھی اور بعد میں حاصل ہوئی، اور اس تجلی نے اسے ایسا علم دیا جو اس کے پاس پہلے نہیں تھا، تو وہ اسے 'علمِ موہوب' (عطا کردہ علم) میں قبول نہیں کرتا بلکہ اسے 'علمِ مکتسب' (حاصل کردہ علم) کے ساتھ ملحق کرتا ہے۔

 اور ہر وہ علم جو کسی خاص دعا یا مطلق دعا کے نتیجے میں حاصل ہو، وہ مکتسب (کسبی) ہے، اور یہ شان صرف رسولوں (صلوات اللہ علیہم) کے لیے مناسب ہے کیونکہ وہ تشریعی کسب کے باب میں ہوتے ہیں۔ پس جب وہ اپنی نبوت کے ساتھ ٹھہرتے ہیں نہ کہ اپنی رسالت کے ساتھ، تو اللہ کے ساتھ ان کا حال وہی ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا یعنی اللہ کے سوا ہر چیز کی طلب کو چھوڑ دینا اور صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔ وہ اللہ ہی کے ساتھ قائم ہیں، اسی کی طرف نظر رکھتے ہیں اور اپنے ہر قول، مشاہدے اور مقام میں اسی کے ساتھ ناطق (کلام کرنے والے) ہوتے ہیں۔

 اور جس طرح وہ اس کے ساتھ ناطق ہیں، اسی طرح وہ اس کے ساتھ سامع (سننے والے) بھی ہیں۔ وہ اللہ کے بندوں کو محض بندگی و عبادت کے طور پر یاد کرتے ہیں، اور بندگی کے طور پر ہی بندوں کی اطاعت کرتے ہیں، اوراجتہاد کرتے ہیں اور عبادت میں کبھی سستی نہیں کرتے یہ کسی غرض یا طلب کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس ذات کے مقام کا حق ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے جس نے انہیں مکلف (ذمہ دار) بنایا ہے، کسی دوسرے رخ سے نہیں؛ اور جس نے انہیں مکلف بنایا ہے، وہ انہیں اپنے پاس سے ایسا علم عطا کرتا ہے جو ان کا مطلوب نہیں ہوتا، پس وہ مکتسب بن جاتا ہے۔" (اقتباس ختم ہوا)


 پس جب آپ نے یہ سب جان لیا اور سمجھ لیا، تو آپ میرے آقا ابو یزید البصطامیؒ کے اس قول کی حقیقت کو سمجھ جائیں گے

"تم نے اپنا علم مردوں سے لیا جو مردوں سے نقل کر رہے تھے (میت عن میت)، اور ہم نے اپنا علم اس 'حی' (زندہ) ذات سے لیا ہے جو کبھی نہیں مرے گی!"


یہ ہے اولیاء کے علوم اور ظاہر پرست علماء (علماءِ رسوم) کے علوم کے درمیان فرق، جو صرف فکری اور حصولی محنت (کسب) پر تکیہ کرتے ہیں۔

اسی لیے اولیاء کا ہمیشہ یہ شیوہ اور ان ظاہری علماء کو یہ نصیحت رہی ہے کہ وہ فکر کی تاریکیوں سے نکل کر شہود (مشاہدہِ حق) کے انوار کی طرف آئیں۔

کیونکہ اولیاء کا 'علمِ مکتسب' (کسبی علم) اور ظاہری علماء کا علم بظاہر اجتہادی ہونے میں تو شریک ہیں، اور نام میں بھی دونوں ایک جیسے ہیں (یعنی دونوں کو کسبی علم کہا جاتا ہے)، لیکن ان کی صحت اور درستی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اولیاء کا کسبی علم ایک وہبی، لدنی کشف اور مشاہدے پر مستند ہوتا ہے، اس لیے وہ بالکل صحیح اور خطا سے پاک ہوتا ہے۔ جبکہ ظاہری علماء کا کسبی علم ایک ایسے کسب پر مستند ہوتا ہے جس کی صحت مشکوک ہوتی ہے، اس میں صحت کا امکان بھی ہوتا ہے اور غلطی کا بھی۔

پس اہل الرسوم (ظاہری علماء) کا علم اولیاء کے خاص کسبی علم کے دروازے پر محض ایک حلقے (کونے) کی مانند ہے، اور ان دونوں علوم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ فرق تو ان کے 'علمِ کسبی' میں ہے، تو پھر ان کے 'علمِ وہبی' (عطا کردہ علم) کا کیا عالم ہوگا؟!!!

واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل (اور اللہ ہی حق فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے)۔


اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَى سَيِّدِنَا وَحَبِيبِنَا وَنَبِيِّنَا وَقُدْوَتِنَا وَشَفِيعِنَا سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ


#حافظ_عبدالرؤف 

#trend

اے عبدیِ مغموم، اصغِ الیّ

میں وہ ذاتِ احدیہ ہوں کہ جس کے امرِ "کُن" سے عدم وجود کی زینت سے متزین ہوتا ہے۔  

کیا تو گمان کرتا ہے کہ تیرے اشکِ مکتوم میری سمعِ مطلقہ سے مخفی ہیں؟  

میں نے تجھے خاکِ مذموم سے خلق کیا پھر روحِ نفخہ سے مشرّف کیا پھر المِ محنت سے نہ آزمایا کہ تجھے ہلاک کروں بلکہ اس لیے کہ تو فناءِ خودی میں مستغرق ہو کر بقاءِ قربی میں مستقر ہو۔  

جب تو روتا ہے تو میری رحمتِ واسعہ کا بحرِ سرمدی متلاطم ہوتا ہے۔  

جب تیرا قلبِ مضطرب انینِ کرب سے متلظی ہوتا ہے تو میں اپنے قولِ قہریہ کُن سے تیرے باطنِ متشتت پر طمانینتِ مطلقہ نازل کرتا ہوں۔  

دیکھ اے حبیِ مبتلی

وہی قطرۂ دمعہ جو تیری عینِ مغمومہ سے متحلب ہوا میری مشیتِ رحیمیہ کے لمسِ لطیف سے لؤلؤۃِ تسکین میں مستحیل ہو جاتا ہے۔  

وہی سوزِ مکتوم جو سینۂ محترق میں مستکنّ تھا میرے قربِ اقرب کے سایۂ انسی میں قرارِ لا ینقطع پا لیتا ہے۔  

میں تجھے ضائع نہیں کرتا اے وہ جسے میں نے ازل میں محبوب رکھا۔  

بس ایک امرِ کُن اور تیری ظلمتِ حزن ۔۔ نورِ انس میں مستحیل ہو جاتی ہے۔  

تو رو مت میں یہاں ہوں۔  

تو ڈر مت میں کافی ہوں۔  

تو پکار میں سمیعٌ قریب ہوں۔  

اور جب میں کہوں کُن تو جان لے کہ تیرے غم کی شام صبحِ تسکین میں مبدّل ہو چکی ہے ✨🤲

مخلص انسان کی کھرکھراہٹ بھری ناقابلِ مصالحت گویا تلوار کی دھار جیسی کلامی صرصر کو اگر تمہارا ریشم سا نازک مزاج حوصلہ برداشت نہ کر سکا تو یاد رکھو تمہیں وہ شیریں گفتار ریاکار تلبیسِ ایمان سے مزین منافق کی عاجزی بھری مداہنت بالآخر متعفن گندگی میں غرق کر دے گی۔ مخلص کا سخت لہجہ دراصل صداقت کا نشتر ہے جو تمہارے متعفن زخموں کو چیر کر پیپ نکالتا ہے تکلیف دیتا ہے مگر شفا بخشتا ہے۔ جبکہ منافق کی تملق آمیز عاجزی زہر میں بجھا ہوا شہد ہے جو تمہارے شعور کی رگوں میں حلاوت بن کر سرایت کرے گا اور تمہیں اندر ہی اندر مسموم کر کے کھوکھلا کر دے گا۔ فیصلہ تمہارا ہے۔۔۔۔ یا تو تلخ مگر مصلح دوست کی تندی کو سینے سے لگاؤ یا پھر خوشامدی دشمن کی عاجزی کو بوسہ دو اور اپنی ہی ہلاکت کے منشور پر دستخط کر دو

لسانیاتی، لغوی اور کلامی ابحاث میں لفظ مولیٰ ایک ایسا کثیر المعانی اسمِ مشتق ہے جو بیک وقت متعدد متبائن اور بعض اوقات متضاد مفاہیم کا متحمل ہوتا ہے۔ علمِ لغت اور علمِ اصولِ فقہ کے مسلمہ ضوابط کے مطابق ایسے کثیرا لجہت الفاظ کے محامل کا تعین سیاق و سباق قرائنِ حالیہ و مقالیہ اور متکلم کی مراد کے تابع ہوتا ہے۔

جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حق میں وارد فرمانِ نبوی کی روشنی میں لفظِ مولیٰ کے وہ تمام معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں جو دیگر مقامات پر مستعمل ہیں تو اس کا علمی و تحقیقی جواب تفصیلی درجِ ذیل ہے

علمِ معانی اور لغتِ عرب کے ائمہ (جیسے ابنِ منظور، راغب اصفہانی اور زبیدی) اس امر پر متفق ہیں کہ لفظِ مولیٰ کے چوبیس سے زائد معانی ہیں جن میں آزاد کرنے والا (آقا) آزاد ہونے والا (غلام) چچا زاد مددگار دوست اور تصرف و اولویت کا مالک (سرپرست) شامل ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ زَيْدٌ مَوْلَانَا (زید ہمارا مولیٰ ہے)، تو یہاں لفظ مولیٰ کا استعمال عرب کے مروجہ سماجی اور قانونی تناظر میں تھا۔ چونکہ حضرت زید بن حارثہ کو رسول اللہ ﷺ نے غلامی سے آزاد فرمایا تھا اس لیے لغتِ عرب اور شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں وہ مولیٰ العتاقہ (آزاد کردہ مولیٰ) کے درجے پر فائز تھے۔ چنانچہ یہاں مولیٰ کا اصطلاحی اور لغوی مقتضا حلیف آزاد کردہ غلام اور محبوبِ خانگی کا ہے

کسی بھی کلمہ مشترک کو تمام اشخاص پر ایک ہی معنی میں منطبق کرنا علمِ منطق اور اصولِ بلاغت کے رو سے "مغالطہ اشتراکِ لفظی کہلاتا ہے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حق میں مولیٰ کا اطلاق ان کے مخصوص احوالِ زندگی یعنی غلامی سے آزادی اور پھر متبنیٰ (لے پالک بیٹا) بنائے جانے کے تاریخی و قانونی پس منظر کے گرد گھومتا ہے۔ اس کے برعکس جب یہی لفظ دیگر مقامات پر یا دیگر برگزیدہ ہستیوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے تو وہاں قرائنِ عقلیہ اور نقلیہ اس کے معنی کو اولویتِ تصرف یا امامت و ولایتِ کبریٰ کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ لہٰذا حضرت زیدؓ پر لفظِ مولیٰ کا استعمال بلا شبہ درست اور منصوص ہے مگر اس سے وہ تمام معانی اخذ نہیں کیے جا سکتے جو تصرفِ مطلق یا مابعد الطبیعیاتی سرپرستی سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ یہاں سیاقِ کلام اس تعمیم کی نفی کرتا ہے۔

علمِ کلام کے اساتذہ اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ صفات اور القاب کا اشتراک ذات اور مراتب کے اشتراک کو مستلزم نہیں ہوتا۔ قرآنِ حکیم میں باری تعالیٰ نے خود کو بھی مَوْلٰى فرمایا اور جبریلِ امین و صالح المؤمنین کو بھی مَوْلَاهُ کے لقب سے ملقب کیا۔ اب اگر محض لفظ کے اشتراک کی بنیاد پر تمام معانی کو ہر جگہ یکساں جاری کر دیا جائے تو یہ خلطِ مبحث اور التباسِ مفاہیم کا باعث بنے گا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لیے مولیٰ کا مستعمل ہونا ان کی جلالتِ قدر غایتِ قربت اور بارگاہِ رسالت سے ملنے والے شرفِ آزادی کا مظہر ہے جسے مولیٰ المودۃ والشرف کہا جاتا ہے۔

حاصلِ کلام یہ کہ

 لفظ مولیٰ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ پر مروجہ قرائن کے ساتھ بالکل مستعمل ہو سکتا ہے اور ہوا ہے لیکن اس سے مراد ان کا آزاد کردہ ہونا رسول اللہ ﷺ کا ان سے غایت درجہ محبت فرمانا اور اسلامی برادری کا معزز رکن ہونا ہے۔ ان کے حق میں اس لفظ کے استعمال کو بنیاد بنا کر وہ تمام معانی اخذ کرنا جو کائناتی سرپرستی یا سیاسی و دینی امامتِ کبریٰ کے لیے مخصوص ہیں اصولِ لغت اور قواعدِ استنباط کے خلاف ہوگا۔


Rafique Shahzad

وہ خدا جو ربُّ العالمین ہے جس کا کلام ازل سے ابد تک حقائق و معارف کا بحرِ بیکراں ہے جس کی آیات میں کائنات کے اسرار انسان کی حقیقت اور ہدایت کے لامتناہی چراغ پوشیدہ ہیں ہم نے اسی عظیم کتاب کو اپنی تنگ نظریوں مسلکی عصبیتوں فرقہ وارانہ کشمکشوں اور مناظرانہ ضد کا ایندھن بنا ڈالا۔ ہر گروہ قرآن سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے مگر قرآن کی بات سننے پر آمادہ نہیں۔ افکار کی وسعت مفقود ہو چکی تحقیق تعصب کے ہاتھوں مغلوب ہو چکی اور حق کی تلاش شناختوں کی قید میں دم توڑ رہی ہے۔

اب المیہ یہ نہیں کہ اختلافات موجود ہیں المیہ یہ ہے کہ اختلافات ہی دین سمجھ لیے گئے ہیں۔ اور افسوس... یہ سوچ کر دل مزید بوجھل ہو جاتا ہے کہ نہ جانے امت کے زوال پر رویا جائے قرآن کے ساتھ ہمارے رویّے پر ماتم کیا جائے یا پھر اپنی اس فکری محرومی پر نوحہ کناں ہوا جائے جس نے ہمیں کتابِ ہدایت سے دور اور گروہی عصبیتوں سے قریب کر دیا ہے۔


#حافظ_عبدالرؤف

اللہ ربّ العزّت نے قرآنِ مجید کو وہی نازل فرمایا تھا جو دلوں کو منقلب کرے ضمائر کو جگائے اور اقوامِ انسانی کو رہِ راست پر ڈالے۔ یہ کلامِ تحکّم تھا اور نہ صرف مباحثِ فکری یہ ہدایتِ باطن شفاءِ نفوس اور اسرارِ الہام کا بحر تھا۔ مگر اے انسان! افسوس کہ ہم نے اس بحرِ بیکراں کو اپنے مجرّبانِ تنگ نظری میں ٹھونس دیا اور اس کی موجوں کو اپنے منافعِ جماعت کی دہلیز تک محدود کر ڈالا۔

قرآن وہ چراغ تھا جو اندھیروں کے گہواروں میں روشنی پھیلاتا ہے مگر ہم نے اسی چراغ کو اپنے اپنے خانقاہوں کے بغل میں بند کر کے نقش و نگار سجا لیے۔ وہ آیات جو مہربانی عدل اور مودّت کی دعوت دیتی ہیں ہمارے ہاں دلیل و تحریک بن گئیں تا کہ ہم دوسرے فرقوں کے خلاف اپنی صداقت کا ثبوت پیش کریں۔ وائے! کتنا عظیم زیاں ہے کہ کتابِ ہدایت کو ہم نے اپنے فرقہ ورانہ غرور کا فصیلہ بنایا اور اس کی سنّت کو اپنے مکاسبہ کی دکان پر تول کر بیچا۔

ہم نے قرآنِ حکیم کی نصوص کو محض ابزاری آیتوں میں تبدیل کر دیا۔ ہر قولِ کریم کو ہم نے اپنے مفروضوں کے شکنجے میں چابکاں کیا تا کہ وہ ہمیں ہمیشہ کے لیے بلا شبہ سچا ثابت کر دے۔ اور جب کتاب کا مفہوم اس قدر مسخ ہو گیا کہ اصل مقصد یعنی نفس کی تزکیہ اصلاحِ باطن اور انسانی ہمدردی پسِ پردہ رہ گئے تو پھر قرآن کے نزول کا ثمر کہاں رہا؟ الفاظ وہی رہ گئے مگر روح معدوم ہو گئی آیتیں وہی رہ گئیں مگر اثر زائل ہو گیا۔

ایسی سفاکی سے ہم نے اختلاف کو نہ بس دوام دیا بلکہ اسے تشدد و کینہ میں بدل ڈالا۔ جو حکمِ الٰہی امن و انصاف سکھاتا ہے ہم نے اسے اپنے جاہ و جلال کی توجیح بنالیا اور جب دین کی تلواریں انفرادی نفسانیات کی تسکین کے آلہ کار بن گئیں تو شریعت کا وہ سچ مفلوج ہوگیا جو رحم و شفقت کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ قرآن کو اگر ہم اپنے عقیدتی لشکروں کی جھنڈا خانہ گردانی کا سبب بنائیں تو ہم نے اس کا عُرفِ الہیٰ نہیں بلکہ اپنے نفس کے عُرف کو بلند کیا ہے۔

قابلِ عبرت یہ ہے کہ قرآن کو بطورِ دلیل استعمال کرنا جب مقصد نفس کی تسکین ہو تو وہی آیت جو ہدایت کا ذریعہ بننی چاہیے تھی آمرانہ اور متعصب لفاظی میں بدل جاتی ہے۔ حقّ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے باطن کی محاسبت کریں۔ خود پسندی کے پیچ و خم کھول کر دیکھیں اپنی تاویلات کی حدوں کو مانیں اور مقامِ تواضع پر سر جھکا کر قبول کریں کہ شاید ہم نے بہت سی باتیں اپنی سہولت کے لیے موڑ لیں۔ جب ہم خود کو محاسبت میں لا کر سکوت اختیار کریں گے تو قرآن کی آواز دوبارہ بلند ہو گی  

خاموش، مگر قاطع؛ نرم، مگر بُلغہ ۔ 

یہ تلاش آسان نہیں اور نہ ہی یہ محض شعاری اپیل ہے۔ یہ راہِ اَسفار ہے جہدِ نفس انکساریِ قلب اور عملِ متواتر۔ ہمیں اپنے فرقہ وارانہ غرور کو خاکِ راہ بنانا ہوگا اور امتِ مسلمہ کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ملانے کی مخلصانہ نیت اختیار کرنی ہوگی۔ قرآن کا اصل مقصود یہی تھا کہ وہ انسانوں کو اپنی مشترکہ ذمہ داریوں اخلاقی حدود اور باہمی رحم کی بابت متنبہ کرے۔ اگر ہم نے اسے سمجھے بغیر اپنے عقائد کی توثیق کے لیے استعمال کر لیا تو ہم نے خالص ہدایت کو مباحِ دنیا بنانے کی کوشش کی ہے۔

اے اہلِ ایمان! بیدار ہو جاؤ۔ وہی کتاب جسے ہم نے اپنے سیاسی اور فکری ایجنڈوں کی آہٹ سے بھاری کر دیا ہے اگر ہم نے خلوصِ نیت سے پڑھنی ہے تو پہلے اپنے دلوں کو خالی کرو۔ قرآن کو اپنے فرقے کی پشت پناہی کا ذریعہ نہ بناؤ؛ اسے اپنا آئینہ بنایا کرو۔ آئینے میں اگر داغ دکھائی دے تو جھوٹی عناد اور خودپسندی کے آئینے کو نہیں بچانا بلکہ نفس کی صفائی میں محنت کرو اپنے بھائیوں کے غم میں شریک ہو اور عدل و شفا کی دعوت دے۔ تبھی اس کی آیات کا رمق واپس آئے گا اور امت پھر سے اکُٹھی ہو کر وہی نور پائے گی جس کے لیے کتاب نازل ہوئی تھی۔

یہ تقاضا صرف زبانی کلمہ نہیں بلکہ عملی جہد ہے۔ اگر ہم واقعی قرآن کو زندہ کرنا چاہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں وہی اثر لانا ہوگا جو آیات نے بتلایا سخاوت عاجزی عدل، اور ہمدردی۔ تبھی ہم فرقہ بندی کی زنجیروں کو توڑ کر قرآن کو اس کے حقیقی مقام پر فائز کرسکیں گے نہ محض دلیلِ فرقہ بلکہ ضامنِ اتحاد ہدایت اور باطنی تجدید۔

آج سوال یہ ہے کیا ہم اپنی آنکھوں کو حقیقت کی روشنی کے سامنے کھولیں گے؟ یا پھر ہم اپنی من گھڑت تشریعات کے چنبیروں میں پھنس کر رہیں گے؟ قرآن ہمیں چیلنج دیتا ہے مگر پہلے وہ ہمارے درخشندہ اور صاف دل کا متقاضی ہے۔ اگر ہم اس متقاضی کو پورا کریں تو قرآن ہمیں اپنی رہنمائی سے مفلوک الحال قوم سے شفا بخشے گا ورنہ ہم اسی متفرق و متشدد بحران میں گم رہیں گے جس نے کتابِ ہدایت کو سبق دینے والے مقام سے ہٹا دیا تھا۔


#حافظ_عبدالرؤف

اپنے وجود کی تہہ میں اترنا سراغِ اسرارِ لامکاں پانا ہے اور اپنی فطرت کی قرأت آیاتِ تکوین کی تفسیر۔

جو اپنے باطن کے آئینۂ ادراک کو صیقل کرتا ہے وہ مظاہرِ خلق میں انوارِ حق کا انعکاس دیکھتا ہے۔

مگر یاد رہے تکریمِ ذات تعظیمِ نفس نہیں بلکہ امانتِ الٰہی کی پاسبانی ہے۔

تو خاک نہیں ودیعتِ کن فیکون ہے اور تیری ہر سانس عہدِ الست کی بازگشت۔

پس اپنے وجود کو تزکیۂ ارادہ تہذیبِ شعور اور استقامتِ خیر سے آراستہ رکھ۔ کہ یہی احسنِ تقویم کی معراج اور عبدیت کی معراجِ کبریٰ ہے۔


#حافظ_عبدالرؤف

بدگمانی کی دیوار اور دعاؤں کا پل


محبّت کرنے والے کم ہوتے ہیں، اور ان میں سے بھی جو آپ کے حق میں ہاتھ اٹھائیںوہ نایاب ہوتے ہیں۔ پھر جب یہی لوگ آپ کے رویّوں کی اوٹ میں کھڑے ہو کر بدگمان ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ رشتہ صرف بگڑا نہیں ایک خزانہ ہاتھ سے نکلنے لگا۔

ہم رشتے خون مفاد اور مصلحت کے ترازو میں تولتے ہیں۔ مگر وہ رشتہ جس کا نام "دعا" ہے کسی دفتری رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو آپ کماتے نہیں کما لیتے ہیں۔  

فیض نے کہا تھا  

نِثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں  

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

آج بھی ہم یہی کرتے ہیں اپنے رویّوں سے لوگوں کے سر جھکا دیتے ہیں اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ کوئی ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتا۔  

سماجی نفسیات کہتی ہے کہ ایک غلط رویّہ دس نیکیوں پر بھاری پڑتا ہے۔ کیونکہ نیکی خاموش ہوتی ہے بدگمانی چیختی ہے۔  

منٹو کے کردار ہمیشہ اسی جگہ ٹوٹتے ہیں جہاں الفاظ نہ کہے جانے سے رشتے مر جاتے ہیں۔ آپ نے شاید وہ جملہ مزاق میں کہا ہو وہ لہجہ بے رخی میں اختیار کیا ہو مگر سامنے والا اسے دل پر لکھ لے۔  

اور پھر وہی ہوتا ہے جو غالب نے کہا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

آپ کی محبّت کی ہر خواہش اس کے بدگمان دل میں دم توڑ دیتی ہے۔

میر نے ساری عمر یہی درد لکھا

پتّہ پتّہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

باغ تو سارا جانتا ہے کہ آپ محبّت کرتے ہیںمگر وہ "گل" جس کے لیے سب کچھ تھا اگر بدگمان ہو گیا تو سارا باغ ویران لگتا ہے۔  

اشفاق احمد کے "بابا صاحبا" میں ایک جگہ آتا ہے "بیٹا، رشتے جوڑنے میں دیر لگتی ہے ٹوٹنے میں ایک لمحہ"۔ ہم لمحے میں توڑ دیتے ہیں اور عمر بھر جوڑنے کی کوش کرتے رہتے ہیں۔

دنیا میں دو قسم کے لوگ نعمت ہیں جو آپ سے محبّت کریں اور جو آپ کے لیے دعا کریں۔ پہلا آپ کو جینے کا سہارا دیتا ہے دوسرا مرنے کے بعد بھی آپ کا سہارا بنتا ہے۔  

جب یہ لوگ چلے جائیں تو سماج میں آپ کا "سوشل کیپٹل" ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ آپ کے جنازے پر آئیں گے مگر دل سے دعا کوئی نہیں کرے گا۔ اور یہی سب سے بڑی بدنصیبی ہے، کیونکہ قبر میں آدمی کو سونا، چاندی، شہرت نہیں بچاتے دعا بچاتی ہے 

جب تک سانس ہے دل صاف ہو سکتا ہے۔ ایک فون ایک پیغام۔۔۔۔ایک معذرت ۔۔۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو بدگمانی کی دیوار گرا دیتے ہیں۔  

اقبال نے کہا تھا

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے 

خودی کی بلندی یہی ہے کہ غلطی مان کر دل جیت لیا جائے۔

محبّتیں کھوئیں تو دوست کم ہوتے ہیں

دعا کرنے والے کھوئیں تو آخرت کمزور ہوتی ہے۔  

لہٰذا اگر آج کوئی آپ سے بدگمان ہے تو دیوار نہ کھڑی کریں، پل بنائیں۔ کیونکہ پل گر بھی جائیں تو دوبارہ بن سکتے ہیں مگر دل اگر ٹوٹ جائے تو اس کی آواز صرف قیامت کو آتی ہے۔  


اور وہ آواز بہت خاموش۔۔۔مگر بہت قیمتی ہوتی ہے ۔۔۔۔دعا کی آواز۔ 🤍☁️حافظ عبدالروف

You’ve reached the end.