
@username
No bio available.
آخری رقص
تحریر: شاہد امین (فیصل آباد)
سبز پتوں کی بیل پر ایک شور بپا تھا۔ بیل اپنی اونچائی کی حد پر تھی اور ایک پتہ خودکشی پر مائل تھا۔
ساتھ والی شاخ کا ایک پتہ، جو کہ سارا دن ببول کے سائے میں رہنے کی وجہ سے خوب موٹا تازہ دکھائی دے رہا تھا، بولا:
"پیاس و بھوک خودکشی پر مائل تو نہیں کرتی۔ تم سب دوسری سمت ہونے کی وجہ سے تکلیف میں ہو۔ اگر ببول کے زیرِ سایہ آ جاؤ تو شاید تمہارا زندگی بھر کا رزق مہیا ہو جائے۔"
پہلا پتہ بولا:
"جو رزق ظلم و جبر سے بند ہو، اس کے لیے جان دینا عین حق ہے۔"
موٹے پتے نے بے چینی سے پہلو بدلا اور بڑبڑایا:
"تم سے پہلے والے کیا کر گئے؟ جب تک ہم تنے کے ساتھ پیوست ہیں، تب تک ہی ہم فطرت کے قانون پر ہیں۔"
کمزور پتے نے اپنی خوبصورت آنکھیں کھولیں، جن میں ایک صحرا جیسی پیاس تھی، اور بولا:
"کون میرے ساتھ جائے گا؟ ہم اس مخلوق پر، جس میں اب انسانیت کی رمق باقی نہیں رہی، حملہ کریں گے جس نے ہمیں اس حال تک پہنچایا۔ اپنے پتے کی نوک خشک کر کے دھار تیز کر لو۔ پتے کے کونے نیچے کو گول کر لو کہ تیر کی طرح گھومتے ہوئے منزل تک پہنچو۔"
ہری شاخ کے قہقہے یہ بات سن کر اتنی زور سے گونجے کہ گلہری ڈر کر سات درخت دور بھاگ گئی اور اس نے مصمم ارادہ کیا کہ دوبارہ اس بیل پر نہ کبھی آئے گی۔ ببول کا درخت، جو سارے فساد کی وجہ تھا، اس نے اپنے تندرست تنے کی طرف دیکھتے ہوئے یہ ساری بات بے اعتنائی سے سنی اور جس جڑ نے بیل کے پانی کا راستہ روک رکھا تھا، اسے تھوڑا اور بڑھا دیا۔
شام جب سرخ ہو رہی تھی، پہلے پتے نے اپنے بازو مروڑ کر ایک جھٹکے سے تنے کو الوداع کہا۔ ہوا نے پتے کو اپنے سینے سے لگایا۔ پتہ پھرکی کی طرح گھوم کر عین جڑ اور پانی کے درمیان پیوست ہو گیا۔
دوسری شاخ کا موٹا پتہ ہکا بکا رہ گیا۔
ایک ہوا کا جھونکا آیا اور سینکڑوں پتے گھومتے ہوئے پہلے پتے کے پاس پہنچے۔ ایک معصوم بچہ یہ منظر دیکھ کر تالیاں بجانے لگا۔ موٹا سبز پتہ ششدر دیکھ رہا تھا کہ ببول کی جڑ کو جانے والا پانی اب دوسری طرف بہہ رہا تھا!
intoBlog - Write, Speak, Inspire