پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔جو بندہ 1200 دیہاڑی کماتا ہے وہ گھر کی سبزی آٹا بچوں کو سکول کی فیس کیسے ادا کرے ۔خدانخواستہ اگر اسکی فیملی میں کوئی ایک بندہ بیمار ہو جائے تو 1200 میں سے 500 پٹرول میں چلا جاتا ہے ۔اس 700 میں سے ایک عام ڈاکٹر کی فیس 500 ہے پھر 2000 ٹیسٹ کے وہ بے چارا تو قرض کے نیچے ڈوبتا جائے گا ۔ہمارے حکمرانوں کی غریب طبقے کی کوئی پروا نہیں ۔بلکہ وہ تو عیش و عشرت کے نشے میں ڈوبے ہوئے ہیں