userPic

Hafsa

Hafsa

Writer| Blogger| Digital Creator| Bookworm| Travel holistic

1
Posts
0
Followers
0
Following

کیا عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

از قلم: حفصہ زنیر


عورت ہی عورت کی دشمن یا زخموں کی ایک نسل در نسل چلنے والی کہانی

جب بھی کسی ساس بہو میں اختلاف ہوتا ہے، نند اور بھابھی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں یا ایک ماں اپنی بیٹی اور بیٹے میں فرق کرتی نظر آتی ہے تو فوراً ایک جملہ سننے کو ملتا ہے، کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

کبھی غور کیجیے، ایک عورت جب دنیا میں آتی ہے تو وہ دشمنی سیکھ کر نہیں آتی بلکہ وہ تو محبت، قبولیت، توجہ اور عزت کی اتنی ہی طلب گار ہوتی ہے جتنا کوئی اور انسان ہوتا ہے۔ پھر آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ بعض اوقات وہی عورت دوسری عورت کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتی ہے؟

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان اپنے زخموں سے دو طرح کا سلوک کرتا ہے یا تو وہ ان کا علاج کرتا ہے یا پھر انجانے میں انہیں دوسروں تک منتقل کر دیتا ہے۔

ایک ماں جس نے ساری زندگی یہ سنا ہو کہ بیٹا خاندان کا سہارا ہے اور بیٹی بوجھ، وہ لاشعوری طور پر اپنی بیٹی کی پرورش بھی اسی خوف اور سماجی دباؤ کے ساتھ کرتی ہے۔ وہ بیٹی سے محبت کم نہیں کرتی مگر اسے آزادی دینے سے ڈرتی ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ سختی، برداشت، چپ رہنا شاید تحفظ کا دوسرا نام ہے۔

ایک ساس جس نے اپنی جوانی میں بے شمار نا انصافیاں برداشت کی ہوں، وہ اکثر یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ ہم نے بھی تو یہ سب سہا تھا، برداشت کرنا ہی عورت کی تقدیر ہے۔ جب بہو اپنے حقوق کی بات کرتی ہے تو اسے اپنی جوانی کے دبے ہوئے زخم یاد آنے لگتے ہیں۔ بہو کی آواز اسے نافرمانی نہیں بلکہ اپنے ماضی کی محرومیوں کا آئینہ محسوس ہوتی ہے۔

کبھی کبھی نند، جیٹھانی، دیورانی یا سوتن کے رشتوں میں بھی مسئلہ نفرت سے زیادہ عدم تحفظ کا ہوتا ہے۔ اس کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ معاشرہ عورتوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا حریف بنا دیتا ہے۔ محدود اختیارات، توجہ کی خواہش، عدم تحفظ اور سماجی دباؤ ان رشتوں میں تناؤ پیدا کرتے ہیں انسان کو جب محبت، توجہ یا اہمیت محدود محسوس ہونے لگے تو وہ دوسروں کو اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ ان کی جگہ، عزت اور اہمیت کسی دوسری عورت کی اہمیت پر قائم ہوگی۔

یوں ایک ایسی جنگ شروع ہو جاتی ہے جس میں اصل دشمن کوئی ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ وجوہات ہوتے ہیں جو دلوں میں برسوں سے پل رہے ہوتے ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ایک عورت دوسری عورت کو وہی درد دیتی ہے جس کی تکلیف وہ خود کبھی محسوس کر چکی ہوتی ہے۔ گویا زخم بھرنے کے بجائے وراثت میں منتقل ہوتے جاتے ہیں لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔

ہر وہ ماں جو اپنی بیٹی پر اعتماد کرتی ہے، ہر وہ ساس جو بہو کو بیٹی جیسا احترام دیتی ہے، ہر وہ نند جو بھابھی کا سہارا بنتی ہے اور ہر وہ عورت جو دوسری عورت کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتی ہے، وہ اس پرانی روایت کو توڑ رہی ہے۔


اصل مسئلہ عورت یا مرد کا نہیں ہے بلکہ وہ سوچ اور نظام ہے جو ناانصافی کو روایت بنا رہا ہے۔ جب ایک نسل اپنے زخموں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں اگلی نسل کو منتقل کر دیتی ہے تو نفرت اور تفریق کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

مسئلہ یہ نہیں کہ عورت عورت کی دشمن ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کو صدیوں سے اتنے جذباتی زخم دیے گئے ہیں کہ بعض عورتوں نے انہی زخموں کو اپنا طرزِ زندگی بنا لیا لیکن تبدیلی اس دن شروع ہوگی جب ایک عورت یہ فیصلہ کرے گی کہ جو درد اسے ملا تھا، وہ اسے آگے منتقل نہیں کرے گی۔ وہ اپنے زخموں کو وراثت نہیں بنائے گی بلکہ ان کا علاج کرے گی کیونکہ شفا یافتہ دل دوسروں کو زخمی نہیں کرتے۔

"زخمی لوگ زخم بانٹتے ہیں مگر شفا یافتہ لوگ محبت بانٹتے ہیں۔"

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عورت دوسری عورت کو اپنا حریف نہیں بلکہ اپنا ساتھی سمجھے کیونکہ جب عورت عورت کا سہارا بن جائے گی تو صرف ایک رشتہ نہیں، پوری نسل بدل سکتی ہے۔

You’ve reached the end.