userPic

Mushtaq Ahmed

@Mushtaq Ahmed

Islamic bloger

19
Posts
6
Followers
0
Following

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔


*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔


*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔


*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،


*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔


*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔


*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔


*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔


*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔


*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔


*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔


*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔

 برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔


*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔


*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔


*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔


*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔


*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،

*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔


: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔

اللَّهُمَّ لاَ تَقْطَعْ رَجَاءَنا، وَبَلِّغْنا آمَالَنا، وَاكْفِنا أَعْدَاءَنا، وَأَصْلِحْ لَنا شَأْنَنا، وَاكْفِنا أَمْرَ دُنْيانا وَآخِرَتِنا، وَارْزُقْنا قَلْباً تَوَّاباً، لاَ كَافِراً وَلاَ مُرْتاباً، وَاغْفِرْ لَنا وَاهْدِنا وَارْزُقْنا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ.


اللَّهُمَّ اجْعَلْنا مِنَ الشَّاكِرِينَ لآلاَئِكَ، الصَّابِرِينَ عَلَى بَلاَئِكَ، النَّاصِرِينَ لأَوْلِيائِكَ.


اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنا خَيْرَ مَا عِندَكَ بِسُوءِ مَا عِنْدَنا.


اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ عَيشاً قَارّاً، وَرِزْقاً دَارّاً، وَعَمَلاً بَارّاً.


اللَّهُمَّ اغْنِنَا بِالإِفْتِقَارِ إِلَيْكَ، وَلاَ تُفْقِرْنا بِالإِسْتِغْناءِ عَنْكَ.


اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّم وبارِك على سيدنا محمد وآله ﷺ.


اردو ترجمہ


اے اللہ! ہماری امید کو منقطع نہ فرما، ہماری آرزوئیں پوری فرما، ہمیں ہمارے دشمنوں سے کافی ہو جا، ہمارے معاملات کی اصلاح فرما، اور ہمارے دنیا و آخرت کے تمام امور میں ہمیں کافی ہو جا۔


ہمیں ایسا دل عطا فرما جو توبہ کرنے والا ہو، نہ کفر کرنے والا ہو اور نہ شک کرنے والا۔ ہمیں بخش دے، ہمیں ہدایت عطا فرما، ہمیں رزق عطا فرما، اور تو بہترین رزق دینے والا ہے۔


اے اللہ! ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا، آزمائشوں پر صبر کرنے والا بنا، اور اپنے اولیاء کی مدد کرنے والا بنا۔


اے اللہ! ہمیں اپنے پاس موجود خیر سے محروم نہ فرما ہماری اپنی برائیوں کے سبب۔


اے اللہ! ہمیں پرسکون زندگی، مسلسل رزق، اور نیک عمل عطا فرما۔


اے اللہ! ہمیں اپنے محتاج ہونے کے ذریعے غنی بنا دے، اور ہمیں تیرے محتاج نہ ہونے کے گمان کے ذریعے فقیر نہ بنا دے۔


اے اللہ! ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ اور ان کی آل پر رحمت، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔


English Translation


O Allah, do not cut off our hope, fulfill our aspirations, suffice us against our enemies, and set right our affairs. Suffice us in the matters of our worldly life and our Hereafter.


Grant us a repentant heart, neither disbelieving nor doubtful. Forgive us, guide us, and provide for us, for You are the best of providers.


O Allah, make us among those who are grateful for Your blessings, patient in times of trial, and supporters of Your allies.


O Allah, do not deprive us of the خير (good) that is with You because of the evil within us.


O Allah, we ask You for a peaceful life, continuous provision, and righteous deeds.


O Allah, enrich us through our need of You, and do not impoverish us by making us feel independent of You.


O Allah, send Your peace, blessings, and grace upon our master Muhammad ﷺ and his family.

کسی کا دل نہ دکھائیں 


ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولید، عبدالرحمن بن عوف، ابوذر غفاری اور حضرت بلال رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ کسی بات کے جواب میں حضرت ابوذر نے کہا کہ یہ کام ایسے کرنا چاھئے۔

جواب میں حضرت بلال نے کہا۔۔نہیں ایسے کرنا غلط ہے۔۔۔!

حضرت ابوذر نے کہا۔۔۔اوہ کالے انسان کے بیٹے تم میری بات کو غلط کہتے ہو۔۔۔۔!


حضرت بلال غصے کی حالت میں اٹھے اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کو ابوذر کی شکایت کی۔۔آپ یہ سن کر سخت غصے ہوگئے۔۔ادھر حضرت ابوذر بھی آپ کے دربار میں حاضر ہوگئے۔

آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا؛

ابوذر تم نے بلال کو ان کی ماں کی وجہ سے عار دلائی، تمہارے اندر جاہلیت کی سی خصلت ہے۔

حضرت ابوذر یہ سن کر رونے لگ گئے۔۔۔کہنے لگے یارسول اللہ اللہ سے میری اس خطا پر مغفرت طلب کردیجئے۔


پھر مسجد سے روتے ہوئے نکل گئے۔

راستے میں انہوں نے حضرت بلال کو جاتے ہوئے دیکھا تو ان کے راستے میں اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیا۔۔۔کہنے لگے بلال!

اللہ کی قسم میں اپنا چہرہ مٹی سے اس وقت تک نہیں اٹھاؤں گا جب تک آپ اپنا پاؤں رکھ کر اس پر سے نہ گزر جائیں۔۔ تم معزز ہو اور میں گھٹیا!!


حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر رونے لگ گئے، کہنے لگے ؛

اللہ کی قسم میں اس چہرے پر کیسے پاؤں رکھنے کا سوچ سکتا ہوں جو صرف اللہ کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ پھر دونوں کھڑے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملے اور راضی ہوگئے۔


آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو دوسروں کے ساتھ بیسیوں دفعہ برا سلوک کرتے ہیں۔۔۔لیکن مجال ہے کہ کبھی ان سے معذرت کی ہو۔۔۔کتنے لوگ ہیں جو جان بوجھ کر دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں،ان کے دل زخمی کرتے ہیں لیکن پھر بھی نادم یا شرمندہ ہو کر اس سے معافی نہیں مانگتے۔


غلطی انسان ہی کرتے ہیں۔۔۔۔مگر غلطی پر انسان کبھی اتراتے نہیں۔۔۔غلطی پر معافی مانگنے سے آپ کی عزت کم نہیں، بلکہ ہزار گنا مزید آپ کی عزت بڑھ جاتی۔

آئیے آج سے عہد کریں کہ

کسی کا دل نہیں دکھائیں گے۔۔۔اگر کبھی کسی کو ہماری وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی تو بلاجھجک اس سے معافی مانگ کر صحابہ کرام کے بہترین اسوہ کو زندہ کریں گے۔


۔[صحیح بخاری 50، صحیح مسلم 1661]



جگر گوشۂ رسول ﷺ کے قاتلہ 'ہندہ' کا رحمت للعالمین سے معافی مانگنے کا تاریخی واقعہ

‎یہ تاریخِ اسلام کا وہ سب سے بڑا اور بے مثال منظر ہے جہاں کائنات کے سب سے عظیم نبی، حضرت محمد ﷺ نے انتقام کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے سب سے بڑے جانی دشمن کو نہ صرف معاف فرمایا، بلکہ اسے "رحمت للعالمین" ہونے کی سب سے بڑی سند عطا کی۔

‎غزوہ احد کا وہ ہولناک منظر تاریخ کبھی نہیں بھول سکتی، جب ابوسفیان کی بیوی 'ہندہ' نے وحشی نامی غلام کو لالچ دے کر حضور ﷺ کے چہیتے چچا، شیرِ خدا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کروایا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اس نے فرطِ جذبات اور دشمنی میں اندھی ہو کر حضرت امیر حمزہؓ کا پیٹ چاک کیا اور ان کا جگر نکال کر چبایا۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے پیارے چچا کی لاش مبارک کا یہ حال دیکھا، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ ﷺ کو شدید تکلیف پہنچی۔

‎لیکن وقت بدلا، اور فتح مکہ کا تاریخی دن آ گیا۔ اللہ کے رسول ﷺ دس ہزار قدسیوں کے لشکر کے ساتھ مکہ میں فاتح بن کر داخل ہوئے۔ مکہ کے تمام بڑے بڑے ظالم اور گستاخ خوف سے کانپ رہے تھے، اور ہندہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ آج اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے، کیونکہ اس کا جرم ناقابلِ معافی تھا۔

‎جب مکہ کی خواتین اللہ کے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت (اسلام قبول) کرنے کے لیے جمع ہوئیں، تو ہندہ بھی ان خواتین کے درمیان اپنے چہرے پر نقاب ڈال کر اور خود کو چھپا کر دربارِ رسالت میں حاضر ہوئی، تاکہ وہ پہچانی نہ جائے۔

‎جب بیعت کا وقت آیا، تو حضور ﷺ نے خواتین سے فرمایا: "اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی اور چوری نہیں کرو گی۔"

‎یہ سن کر نقاب کے پیچھے سے ہندہ بول اٹھی: "یا رسول اللہ! (ماضی میں) میں اپنے شوہر ابوسفیان کے مال سے کچھ چیزیں چھپا کر لیا کرتی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ وہ چوری میں آتا تھا یا نہیں؟"

‎ابوسفیان بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے فوراً کہا: "جو کچھ تم نے ماضی میں لیا، وہ میری طرف سے حلال ہے۔"

‎جیسے ہی ابوسفیان نے یہ کہا، کائنات کے شفیق نبی ﷺ نے اس خاتون کی آواز اور گفتگو سے اسے پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے دھیمی اور پروقار آواز میں پوچھا: "کیا تو ہندہ بنتِ عتبہ ہے؟"

‎ہندہ کا دل خوف سے دھڑکنے لگا، لیکن اس نے ہمت کی، اپنے چہرے سے نقاب ہٹایا اور آپ ﷺ کے قدموں کے پاس آ کر گر گئی۔ اس نے انتہائی عاجزی اور ندامت سے کہا: "ہاں یا رسول اللہ! میں ہی ہندہ ہوں۔ جو کچھ ماضی میں ہوا اسے معاف فرما دیجیے، اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ خدا کی قسم! اس زمین پر آپ کے خیمے (گھر) سے زیادہ مجھے کسی کے خیمے کی بربادی پسند نہیں تھی، لیکن آج میری یہ حالت ہے کہ اس زمین پر آپ کے خیمے سے زیادہ مجھے کسی کے خیمے کی آبادی اور رونق پسند نہیں ہے!"

‎صحابہ کرام حیرت اور جلال سے یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ احد میں سید الشہداء کا جگر چبانے والی عورت آج سامنے کھڑی ہے۔ سب کی نظریں رحمت للعالمین ﷺ کے فیصلے پر تھیں کہ آپ ﷺ انتقام کا حکم دیتے ہیں یا کچھ اور۔

‎لیکن قربان جائیں کائنات کے سچے رہبر ﷺ کے اخلاقِ عالیہ پر! آپ ﷺ نے اپنے چچا کے قاتلہ کے چہرے پر ندامت دیکھی، تو آپ ﷺ کا دل پگھل گیا۔ آپ ﷺ نے کوئی انتقام نہیں لیا، کوئی سزا نہیں سنائی، بلکہ انتہائی شفقت اور نرمی سے فرمایا: "جاؤ، میں نے تمہیں معاف کیا۔" آپ ﷺ نے بس اتنی خواہش ظاہر کی کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے زیادہ نہ آیا کرے کیونکہ اسے دیکھ کر چچا حمزہؓ کی یاد تڑپاتی تھی، مگر اس کے اسلام اور معافی کو دل سے قبول فرما لیا۔ ہندہ دربارِ رسالت سے ایمان کی دولت لے کر نکلی اور مکہ جا کر اپنے ہاتھوں سے ان بتوں کو توڑنے لگی جن کی وہ برسوں سے عبادت کرتی تھی۔

‎حوالہ: صحیح بخاری (حدیث نمبر 3825 / 7180) / السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام) / البدایہ والنہایہ (ابن کثیر)

اللَّهُمَّ احْرُسْنَا بِعَيْنِكَ الَّتِي لَا تَنَامُ، وَاكْنُفْنَا بِرُكْنِكَ الَّذِي لَا يُرَامُ، وَاغْفِرْ لَنَا بِقُدْرَتِكَ عَلَيْنَا، وَلَا نَهْلِكُ وَأَنْتَ رَجَاؤُنَا.

رَبَّنَا كَمْ مِنْ نِعْمَةٍ أَنْعَمْتَ بِهَا عَلَيْنَا قَلَّ لَكَ عِنْدَهَا شُكْرُنَا، وَكَمْ مِنْ بَلِيَّةٍ ابْتَلَيْتَنَا بِهَا قَلَّ لَكَ عِنْدَهَا صَبْرُنَا.

فَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ نِعَمِهِ شُكْرُنَا فَلَمْ يَحْرِمْنَا، وَيَا مَنْ قَلَّ عِنْدَ بَلِيَّتِهِ صَبْرُنَا فَلَمْ يَخْذُلْنَا، وَيَا مَنْ رَآنَا عَلَى الْخَطَايَا فَلَمْ يَفْضَحْنَا، يَا ذَا الْمَعْرُوفِ الَّذِي لَا يَنْقَضِي أَبَدًا، وَيَا ذَا النِّعَمِ الَّتِي لَا تُحْصَى أَبَدًا.

نَسْأَلُكَ اللهم أَنْ تُصَلِّيَ وَتُسَلِّمَ وَتُبَارِكَ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ، وَبِكَ نَدْرَأُ فِي نُحُورِ الْأَعْدَاءِ وَالْجَبَّارِينَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ.


اردو ترجمہ:


اے اللہ! ہمیں اپنی اُس آنکھ سے محفوظ رکھ جو کبھی نہیں سوتی، اور ہمیں اپنی اُس پناہ میں رکھ جس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا، اور اپنی قدرت کے ذریعے ہمیں بخش دے، ہم ہلاک نہیں ہوں گے جب تک تو ہمارا امید گاہ ہے۔

اے ہمارے رب! کتنی ہی نعمتیں تو نے ہمیں عطا کیں، لیکن ان کے مقابلے میں ہمارا شکر کم رہا، اور کتنی ہی آزمائشوں میں تو نے ہمیں ڈالا، لیکن ان کے مقابلے میں ہمارا صبر کم رہا۔

اے وہ ذات! جس کی نعمتوں کے مقابلے میں ہمارا شکر کم رہا مگر پھر بھی تو نے ہمیں محروم نہ کیا، اور جس کی آزمائشوں میں ہمارا صبر کم رہا مگر تو نے ہمیں رسوا نہ کیا، اور تو نے ہمیں گناہوں پر دیکھا مگر ہمیں بے عزت نہ کیا۔

اے ہمیشہ رہنے والے احسان کرنے والے، اور اے بے شمار نعمتوں والے!

ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ درود، سلام اور برکت نازل فرما ہمارے سردار محمد ﷺ اور ان کی آل پر، اور ہم تیری مدد سے دشمنوں اور جابر لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں، اور ہم ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔


English Translation:


O Allah! Guard us with Your Eye that never sleeps, and shelter us in Your strong protection that cannot be reached. Forgive us by Your power over us, and we shall not perish as long as You are our hope.

Our Lord! How many blessings You have bestowed upon us, yet our gratitude was little; and how many trials You tested us with, yet our patience was little.

O You who, despite our little gratitude for blessings, did not deprive us; and despite our little patience in trials, did not abandon us; and saw us in sins but did not expose us. O Owner of everlasting goodness and endless blessings.

We ask You to send peace, blessings, and grace upon our master Muhammad ﷺ and his family. Through You we confront enemies and tyrants, and in You we seek refuge from their evil.

مجھے عرفات کا میدان دیکھ کر بس ایک ہی منظر ذہن میں آتا ہے…

حشر کا دن… قیامت…


بالکل ایسا ہی سماں ہوگا۔

سفید کفن میں لپٹے، پھر برہنہ حالت میں ہم قبروں سے اٹھیں گے۔

یوں ہی گرم، تیز تپش والی زمین ہوگی۔

رب کا جلال ہوگا، ہر چہرہ پُرملال ہوگا، ہر طرف نفسا نفسی اور آہ و بکا ہوگی۔۔۔


غور سے دیکھیے، یہاں تو امید ہے، دعائیں ہیں، التجائیں ہیں، مناجات ہیں…

مگر اُس دن تو حساب ہوگا۔


اور پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آتی ہے۔

عائشہؓ… “جس سے حساب میں سختی سے پوچھ گچھ ہوئی، وہ ہلاک ہوگیا۔”


پھر دل دہل جاتا ہے…

پھر دل کرتا ہے اُنہی پتھروں پر سجدہ ریز ہو کر اُس رحمان سے اُس کا رحم مانگتا رہوں۔۔۔


یا اللہ… یا میرے سوہنے رب…

بخش دے، بخش دے…

اسی دنیا سے پاک کر کے لے جا۔۔۔


مجھے عرفات کے میدان تک پہنچا، تاکہ میں بھی گڑگڑاؤں، مجھے بھی آس لگے تیری رحمت کی، تیری محبت کی پیاس مجھے وہاں تک لے جائے۔۔۔


یا پھر مجھے ایک اور منظر یاد آتا ہے…

دس ہجری، نو ذوالحجہ… لاکھوں کا مجمع… اور اللہ کے رسول ﷺ کا خطاب۔۔۔


اور پھر یاد آتا ہے:

“یا رب! اُمتی، اُمتی۔۔۔”


قیامت کے ہولناک دن، جب ہر طرف “نفسی نفسی” — میری جان، میری جان — کا عالم ہوگا، اُس وقت بھی نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے لیے لازوال محبت، شفقت اور فکر مندی ہوگی۔۔۔


پھر دل درد سے دہرا ہو جاتا ہے کہ ہم تو ویسی محبت کر ہی نہیں رہے…

نہ اللہ سے، نہ اُس کے پیارے محبوب ﷺ سے۔۔۔


ابھی بھی وقت ہے…

بھاگیں، دوڑیں، اُس صف میں شامل ہونے کے لیے جو انعام والوں کی ہے۔


ہم تک تو پورا دین پہنچا ہے، ہمیں بھی پورے کے پورے دین میں داخل ہونا چاہیے۔۔۔

قیامت کا دن قریب ہے…

اور ہم اب بھی دنیا میں کھوئے ہوئے ہیں۔

یا اللہ!

اس سے پہلے کہ لوگ ہمیں کندھوں پر اٹھائیں،

ہمیں سجدوں میں گرا لے۔۔۔

یا اللہ

ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما

جن پر اُس دن نہ خوف ہوگا نہ غم۔۔۔

یا اللہ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی شفاعت نصیب فرما

اور ایسا دل عطا فرما

جو دنیا میں بھی تیرا ہو جائے

تاکہ قیامت کے دن رسوا نہ ہو۔۔۔

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا ، اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ میرے اور ابوسفیان بن حارث کے علاوہ کوئی نہ تھا ، ہم دونوں نبی ﷺ کے ساتھ چمٹے رہے اور کسی صورت جدا نہ ہوئے ، اس وقت نبی ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے جو انہیں فروہ بن نعامہ الجذامی نے ہدیہ کے طور پر پیش کیا تھا ۔ جب مسلمان اور کفار آمنے سامنے ہوئے تو ابتدائی طور پر مسلمان پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور نبی ﷺ بار بار ایڑ لگا کر اپنے خچر پر کفار کی طرف بڑھنے لگے ، میں نے نبی ﷺ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور میں اسے آگے جانے سے روک رہا تھا لیکن نبی ﷺ مشرکین کی طرف تیزی سے بڑھنے میں کوئی کوتاہی نہ کر رہے تھے ، ابوسفیان بن حارث نے نبی ﷺ کی سواری کی رکاب تھام رکھی تھی ۔ نبی ﷺ نے جنگ کا رخ دیکھ کر فرمایا عباس ! یا اصحاب السمرۃ کہہ کر مسلمانوں کو پکارو ، میری آواز طبعی طور پر اونچی تھی اس لئے میں نے اونچی آواز سے پکار کر کہا این اصحاب السمرۃ ! ؟ بخدا ! یہ آواز سنتے ہی مسلمان ایسے پلٹے جیسے گائے اپنی اولاد کی طرف واپس پلٹتی ہے اور لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھے اور کفار پر جا پڑے ۔ ادھر انصار نے اپنے ساتھیوں کو پکارتے ہوئے کہا اے گروہ انصار ! پھر منادی کرنے والوں نے صرف بنو حارث بن خزرج کا نام لے کر انہیں پکارا ، جب نبی ﷺ نے اس کیفیت کو اپنے خچر پر سوار ملاحظہ فرمایا اور ایسا محسوس ہوا کہ خود نبی ﷺ بھی آگے بڑھ کر قتال میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو فرمایا اب گھمسان کا رن پڑا ہے ، پھر نبی ﷺ نے چند کنکریاں اٹھائیں اور کفار کے چہروں پر انہیں پھینکتے ہوئے فرمایا رب کعبہ کی قسم ! انہیں شکست ہو گئی ، رب کعبہ کی قسم ! انہیں شکست ہو گئی ۔ میں جائزہ لینے کے لئے آگے بڑھا تو میرا خیال یہ تھا کہ لڑائی تو ابھی اسی طرح جاری ہے ، لیکن بخدا ! جیسے ہی نبی ﷺ نے ان پر کنکریاں پھینکیں تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کی تیزی سستی میں تبدیل ہو رہی ہے اور ان کا معاملہ پشت پھیر کر بھاگنے کے قریب ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں اب بھی نبی ﷺ کو اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ایڑ لگا کر جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔

مسند احمد : 1775

اللهمَّ إنّا نسألك صحةً وإيماناً ونجاحاً ورحمةً وعافيةً ومغفرةً ورضواناً، اللهمَّ إنّا نسألك إيماناً لا يرتدّ ونعيماً لا ينفد وقرّة عينٍ لا تنقطع ومرافقة نبيّك سيدنا محمدٍ صلّى الله عليه وسلّم في أعلى جنان الخلد، اللهم صلِّ وسلم وبارك على سيدنا محمد وآله حبيبك المحبوب ومحبيه، كما يرضيك ويرضيه، وحببه فينا، وزدنا محبة فيه۔


اردو ترجمہ:


اے اللہ! ہم تجھ سے صحت، ایمان، کامیابی، رحمت، عافیت، مغفرت اور رضا مندی کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسا ایمان مانگتے ہیں جو کبھی واپس نہ لیا جائے، ایسی نعمتیں جو کبھی ختم نہ ہوں، ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک جو کبھی منقطع نہ ہو، اور اپنے نبی سیدنا محمد ﷺ کی اعلیٰ جنتوں میں رفاقت کا سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ! درود، سلام اور برکت نازل فرما ہمارے سردار محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر، جو تیرے محبوب ہیں اور تیرے محبوبوں کے محبوب ہیں، جیسا کہ تجھے پسند ہے اور انہیں پسند ہے، اور ہمیں ان کی محبت عطا فرما اور ہماری محبت ان کے لیے مزید بڑھا دے۔


English Translation:


O Allah! We ask You for health, faith, success, mercy, well-being, forgiveness, and Your pleasure. O Allah! We ask You for faith that never diminishes, blessings that never end, everlasting comfort of the eyes, and companionship with Your Prophet Muhammad ﷺ in the highest gardens of Paradise. O Allah! Send peace, blessings, and grace upon our master Muhammad ﷺ and his family, Your beloved and those beloved to You, in a way that pleases You and pleases him. Make us love him and increase our love for him.

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ الأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْمَيِّتِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


اردو ترجمہ:

اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اور ہمیں، ہمارے والدین کو اور تمام مسلمانوں کو بخش دے، چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہو چکے ہوں، اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔


English Translation:

Our Lord! Accept from us; indeed You are the All-Hearing, All-Knowing. And accept our repentance; indeed You are the Accepting of repentance, the Most Merciful. Forgive us, our parents, and all Muslims, whether living or deceased, by Your mercy, O Most Merciful of those who show mercy.

امریکی ریاست میری لینڈ میں مقیم ڈاکٹر فرحانہ کوثر صاحبہ نے رابطہ کیا اور قربانی کے متعلق کچھ معلومات حاصل کیں جب ان کو تفصیلات فراہم کر دیں تو انہوں نے پوچھا کہ آپ چھوٹا جانور یعنی بکرا یا دنبہ وغیرہ کر رہے ہیں یا کسی بڑے جانور میں حصہ ڈال رہے ہیں ان کا سوال سن کر میں خاموش رہا جب انہوں نے دوبارہ سوال دہرایا تو میں نے ذرا دھیمی آواز میں جواب دیا کہ ہم قربانی نہیں کر رہے انہیں حیرت کا جھٹکا لگا اور پوچھنے لگیں ابھی آپ نے اتنی اچھی اور تفصیلی گفتگو کی ہے قربانی کے فضائل اور اہمیت بتائی مگر پھر بھی آپ قربانی نہیں کر رہے ؟

میں شرمندگی کی وجہ سے خاموش رہا انہوں نے میری خاموشی کو بھانپ لیا تھا لیکن کچھ دیر سوچنے کے بعد دوبارہ وجہ پوچھی تو میں نے ان کو بتایا کہ میں اتنی مالی حیثیت نہیں رکھتا اس وقت مناسب جانور بھی اڑھائی سے تین لاکھ کے قریب جا رہا ہے یہ ہماری پہنچ سے بہت اوپر ہے اس لیے میں قربانی نہیں دے سکتا میری بات سن کر وہ ہنسنے لگی ہیں اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ کیا پھر تم گوشت اکٹھا کرو گے میں مسکرا دیا اور کہا کہ نہیں میں ایسا بھی نہیں کروں گا کیونکہ ہمارا شمار بھی سفید پوش گھرانوں میں ہوتا ہے ہم جیسوں کو کئی مجبوریاں ہوتی ہیں ہم ایسا نہیں کر سکتے بہرحال انہوں نے میرا موڈ بہتر کرنے کے لیے تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کی جب انہیں لگا کہ میں بہتر محسوس کر رہا ہوں تو پھر انہوں نے بتایا کہ میں قربانی میں حصہ ڈالنا چاہتی ہوں لیکن میں خود پاکستان نہیں ا سکتی لہذا میں اپ کو رقم بھجوا دیتی ہوں اپ کسی مناسب سے جانور میں میری طرف سے شامل ہو جائیے گا اللہ تعالی اپ کو اور مجھے دونوں کو جزائے خیر دے گا اور ساتھ ہی مجھے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ گوشت خود ڈھونڈ کر ایسے گھروں تک پہنچائیے گا جو نہ تو مانگ سکتے ہوں اور نہ ہی قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں میں نے ان سے اس بات پر عمل کرنے کا وعدہ کر لیا اور حیران ہو کر پوچھا کہ اپ اتنے عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں اپ کو پاکستانی لوگوں کے حالات کے بارے میں اتنی خبر کیسے ہے اب کی بار خاموش ہونے کی باری ان کی تھی لیکن میں انسان کی سائیکی کو اچھی طرح سمجھتا ہوں مجھے پتہ چل گیا کہ میری بات سے ان کو تکلیف پہنچی ہے میں نے معذرت کی اور کہا کہ میں اپ کو رنجیدہ کرنا نہیں چاہتا تھا بہرحال انہوں نے میری معذرت قبول کی اور پھر بتایا کہ 


میں ذات کی کمبہار ہوں میں پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تعلق رکھتی ہوں ہمارا گھرانا ہمارے گاؤں میں سب سے غریب تھا میرے بچپن میں ہمارے گھر میں گوشت یا اوجڑی وغیرہ صرف عید پر بنا کرتی تھی جیسا کہ میں بتا رہی ہوں کہ ہم انتہائی غریب تھے لہذا میری ماں کوشش کے باوجود بھی اتنا گوشت جمع نہیں کر پاتی تھی کیا پیٹ بھر کر کھا سکیں اس لیے میری ماں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اوجھڑیوں کو اٹھا کر صاف کر لیں میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جو میری ماں کے ساتھ جایا کرتا تھا میری ماں اسے سائیڈ پر بٹھا دیا کرتی تھی اور خود اوجھڑی صاف کرنے لگتی تھی پھر اسے کپڑوں میں باندھ کے رکھ دی پھر بڑی مشکل سے میرے بھائی کو بھی اٹھا کر اور اس اوجھڑی کو بھی اٹھا کر گھر پہنچتی تھی اپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ قربانی والے دن جہاں قربانی کے جانور ہو رہے ہوتے ہیں وہاں کچھ اوارہ کتے بھی جمع ہو جاتے ہیں ایسے ہی ایک جگہ کتے جمع ہوئے تھے اور وہ اوجڑی کو پھاڑنے کی کوشش کر رہے تھے میری ماں نے ان کو بھگایا اور چھری کی مدد سے اوجڑی کو خود صاف کرنے لگی میرا چھوٹا بھائی بھی میری ماں کے ساتھ ساتھ تھا جسے میری ماں نے کچھ فاصلے پر ایک سایہ دار جگہ میں بٹھا دیا کتے دو تین بار اوجھڑی کی طرف لپکے لیکن میری ماں نے انہیں بھگا دیا اور خود اوجڑی صاف کرنے لگے اچانک سے انہیں میرے چھوٹے بھائی کی چیخ سنائی دی جو ان کے ساتھ ہوتا تھا میری ماں جب چیخ کی طرف متوجہ ہوئی تو دیکھا کہ وہی اوارہ کتے جو اوجھڑی کی طرف لپک رہے تھے انہوں نے میرے چھوٹے بھائی کو نوچنا شروع کر دیا تھا میری ماں مدد کے لیے چیخنے لگی اور ان کتو کی طرف دوڑی تا کہ میرے بھائی کو بچا سکے وہاں قریب ہی ایک جگہ لوگ گوشت بنا رہے تھے حیرت کی بات تھی کہ لوگ مدد کے لیے ائے مگر ہر شخص مدد کے لیے تب اٹھا جب اس کے ہاتھ میں موجود بوٹی کو اس نے چھری سے کاٹ کر نیچے رکھ دیا کسی بھی شخص نے اتنی زحمت نہیں کی تھی کہ وہ ہاتھ میں موجود چھری اور بوٹی وہی پھینک دے اور مدد کے لیے بھاگ کھڑا ہو شاید لوگ پہلے اٹھتے تو میرے بھائی کی جان بچ جاتی مگر جب تک لوگ وہاں پہنچے تب تک کتوں نے میرے بھائی کو ایک ایک ٹانگ سے پکڑ کر کافی حد تک چیر دیا تھا جسم تقریبا دو ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا میری ماں کو اوجھڑی کی فکر بھول گئی تھی اور بھائی کے موت کے غم نے ا لیا تھا مگر حیرت کی بات تھی کہ جس زمیندار کے ڈیرے پر وہ قربانی ہو رہی تھی اس نے میری ماں سے کہا تھا کہ تم جیسوں نے لوگوں کی عید ہی خراب کرنی ہوتی ہے اسے میرے بھائی کی موت کی کوئی فکر نہیں تھی پھر کچھ لوگوں نے سمجھایا بجھایا تو میری والدہ نے عید والے دن میرے بھائی کی موت کا اعلان وغیرہ نہ کروایا لیکن بھائی کی موت کے بعد وہ اوجھڑی اور گوشت جمع نہیں کر پائی تھی ہم دونوں ماں بیٹیاں اس لاش کے پاس بیٹھ کر روتی رہی تھیں عید سے دوسرے دن کچھ پیسوں کا انتظام کر کے ہم نے بھائی کی تدفین کر دی اس کے بعد اپنے والدین کے پاس میں اکیلی ہوتی تھی مجھے تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا اور میری ماں نے بھی میری خاطر بہت محنت کی بچپن میں کوئی پینسل وغیرہ یا کاپی وغیرہ میری والدہ کو خریدنی پڑی ہو تو خریدی ہو گی نہیں تو میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میں سکالرشپ پر پڑھوں گی اور الحمدللہ اسی سکالرشپ کی بنیاد پر میں امریکہ میں پڑھنے ائی تھی یہاں ا کر اکثر پاکستانی اور خاص طور پر مجھ جیسے نچلے طبقے کی لڑکیاں خراب ہو جاتی ہیں مگر میری ماں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہاں جا کر بھی اللہ تعالی کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرنا میں نے اس وعدے کو نبھایا میں نے ہر ممکن خود کو گناہوں سے اور برائیوں سے بچائے رکھا مجھے یہاں کئی لوگوں نے پروپوز کیا مگر میں نے ہر کسی کو انکار کر دیا میں نے ہر کسی کو اپنے بارے میں سچ بتایا میری حقیقت جان لینے کے باوجود مجھے یہاں کی تین پاکستانی فیملیوں نے نکاح کے لیے اپروچ کیا میں نے ان کو اپنے والدہ سے بات کرنے کا کہا اور دو فیملیاں میری بات کو مد نظر رکھتے ہوئے باقاعدہ پاکستان گئیں میری والدہ سے ملیں تب تک الحمدللہ ہمارے حالات کافی حد تک بہتر ہو چکے تھے 

میں نے والدہ کو ساری حقیقت سے اگاہ کر دیا تھا میری والدہ نے مجھ سے میری رضامندی پوچھی تو میں نے اپنی ماں کو کہا کہ میری خاطر اپ نے جتنی قربانیاں دی ہیں مجھے نہیں لگتا کہ میری رضامندی کوئی معنی رکھتی ہے مجھے یہی لگتا ہے کہ اپ کی رضا میں ہی اللہ تعالی راضی ہے اور اللہ تعالی کی رضا میں میں راضی ہوں خیر میری ماں نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ اگر وہاں کے لوگوں میں انسانیت باقی ہے تو پھر بہتر ہے تم اپنا وہیں مستقبل بنا لو کیونکہ میری ماں کو میرے بھائی کی موت ابھی تک بھی نہیں بھولی تھی اور پھر لوگوں کا اتنا سخت دل کے انہیں اپنی عید خراب ہو جانے کا ڈر تھا لہذا میری ماں اس حق نہیں تھی کہ میں پاکستان میں رہوں یا شادی کروں اپنی والدہ کی بات پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہیں شادی کرنے کا فیصلہ کیا جن دو فیملیوں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا وہ دونوں پاکستان گئے میری والدہ سے میرے بارے میں مکمل معلومات لیں میں نے ان کو اپنی ذات پات کے بارے میں ہر قسم کی چھوٹی بڑی بات بتا رکھی تھی اپنا ماضی بھی بتا رکھا تھا ان میں سے ایک فیملی کو میری والدہ میرے لیے پسند کیا اور یوں میری شادی ہو گئی میں پڑھائی کی بعد صرف ایک بار شادی کے لیے پاکستان گئی تھی پھر اپنی والدہ کو بھی یہی بلوا لیا میری والدہ کے انتقال یہیں ہوا اور اپنی والدہ کی تدفین بھی یہی کروائی میں پلٹ کر کبھی پاکستان نہیں گئی کیونکہ میرے دل میں اج بھی اس بات کا ملال ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اب کی بار میں میرے جگر کا ٹکڑا مر جائے تو میرے پاکستانی بہن بھائیوں کی عید خراب ہو جائے اس لیے میں کبھی پلٹ کر واپس نہیں گئی 


اپ کو اپنی روداد سنانے کا مقصد یہ ہے کہ اپ پوچھ رہے تھے کہ میں پاکستان کے حالات سے اگاہ کس طرح ہوں تو میں اپ کو بتا رہی تھی کہ میں پچھلے 30 35 سالوں سے پاکستان کے حالات سے اچھی طرح اگاہ ہوں میں نے وہاں بہت کچھ کھویا ہے اسی لیے میں نے اب کی بار اپ سے رابطہ کیا ہے کیونکہ ایک عرصے سے میں اپ کی تحاریر پڑھ رہی ہوں مجھے ہر شخص کا درد اپنا درد محسوس ہوتا ہے تو میں نے چاہا کہ اپ کے پاس ایسے گھرانے ہیں جو مجھ جیسے حالات سے گزر رہے ہیں اس دفعہ عید قربان اپ کے ساتھ مل کر گزاروں اور یہ سنت ابراہیمی بھی اپ کے ساتھ مل کر ادا کرو میں نے ان کے اس بھروسے کا شکریہ ادا کیا ان کے کہنے پر ایک بہترین سا جانور دیکھا اور اس کی قیمت پوچھی اور اس میں ان کا حصہ شامل کروا دیا 

میری دعا ہے کہ جس طرح کے حالات سے ڈاکٹر صاحبہ گزری ہیں اللہ تعالی کسی اور کو اتنی ازمائشوں میں نہ ڈالے امین ثم امین