Live Audio

Irfan Alee Saiyad shared fromMera kakar 's post
اگر دیر کا مطلب انکار ہوتا، تو اللہ۔سبحانہٰ و تعالیٰ حضرت یعقوبؑ کو برسوں بعد حضرت یوسفؑ سے نہ ملواتے۔ بعض اوقات تاخیر محرومی نہیں ہوتی، بلکہ بہترین وقت پر عطا ہونے والی رحمت ہوتی ہے۔
Irfan Alee Saiyad shared fromManan Arshad Mughal's post
ذہنی طور پر مضبوط کیسے بنیں
Irfan Alee Saiyad shared fromManan Arshad Mughal's post
معیار کو تعداد پر ترجیح دیں۔۔۔۔
آئی زنجیر کی جھنکار ۔۔۔ 
گزشتہ روز گکھڑ منڈی، ضلع گوجرانوالہ میں چند نوجوانوں نے مبینہ طور پر ایک بدمعاش گروہ تشکیل دیا اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام نوجوانوں کو گرفتار کر لیا، ان کے سر منڈوائے اور بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک معمول کا قانون نافذ کرنے والا واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے کئی ایسے پہلو ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس واقعے کا پہلا پہلو انسانی حقوق اور انسانی وقار سے متعلق ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر نوجوانوں نے جرم کیا تھا تو انہیں قانونی سزا دی جانی چاہیے تھی، لیکن کیا ان کے سر منڈوا کر عوامی سطح پر ان کی تذلیل کرنا بھی قانون کا حصہ ہے؟ کیا یہ اقدام ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں؟دوسرا پہلو قانون و نظم سے متعلق ہے۔ اگر واقعی یہ نوجوان غنڈہ گردی اور بدامنی میں ملوث تھے تو ریاست کا فرض تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کرتی۔ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کی عملداری ناگزیر ہے۔ اگر ایسے رویوں کی بروقت روک تھام نہ کی جائے تو یہی نوجوان آگے چل کر چوری، ڈکیتی یا دیگر جرائم کی طرف بھی مائل ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اپنی جگہ درست اور ضروری ہے۔
لیکن اس واقعے کا تیسرا اور شاید سب سے المناک پہلو ہمارے معاشرے کی مجموعی اخلاقی اور سماجی صورتحال ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کس سمت جا رہے ہیں؟ حکمرانوں سے لے کر عام شہریوں تک، ہر سطح پر اخلاقی زوال، بداعتمادی اور ناانصافی کے احساس نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔ ایک طرف بجٹ میں اشرافیہ کے لیے مراعات اور آسائشوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف عام آدمی کے حصے میں مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، جرائم، عدم تحفظ اور معاشی بے یقینی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی جشن کا موقع نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ اب انہی نوجوانوں کو دیکھ لیجیے۔ کیا ان کے سر منڈوا دینے سے وہ اصلاح پا جائیں گے؟ شاید نہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ریاست اور معاشرے کے خلاف مزید نفرت اور بغاوت پیدا ہو۔ یہ بغاوت صرف سزا کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس احساس کی وجہ سے ہوگی کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں ہے۔ جب ایک بااثر شخص کا بیٹا سنگین جرم میں ملوث ہو اور اسے قانونی رعایتیں مل جائیں، جب طاقتور خاندانوں کے افراد احتساب سے بچ نکلیں، جب بڑے پیمانے کی کرپشن کرنے والوں کے لیے قانون نرم ہو جائے، لیکن غریب گھرانے کا نوجوان معمولی جرم پر نہ صرف سزا پائے بلکہ عوامی تذلیل کا بھی نشانہ بنے، تو پھر انصاف کے نظام پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
مسئلہ صرف سزا کا نہیں، بلکہ انصاف کے یکساں اطلاق کا ہے۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہو، اگر طاقتور اور کمزور دونوں کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے، اگر بااثر افراد کے بچوں کو بھی وہی سزا ملے جو عام آدمی کے بچوں کو ملتی ہے، تو پھر ایسی کارروائیوں پر کم ہی اعتراض ہوگا۔ لیکن جب معاشرے میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہو جائے تو ہر سزا انتقام محسوس ہونے لگتی ہے اور ہر کارروائی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جاتی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت سخت سزاؤں میں نہیں بلکہ غیر جانبدار انصاف میں ہوتی ہے۔ قانون کا احترام وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عوام یہ یقین رکھتے ہوں کہ قانون امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، سب کے لیے یکساں ہے۔ بصورت دیگر ایسے واقعات عوام اور خواص کے درمیان موجود فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں محرومی، نفرت اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ان نوجوانوں کو سزا ملنی چاہیے تھی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظامِ انصاف ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے لیے تیار ہے؟تحریر Beenish Iftikhar

ہر پودے کی اونچائی سے زیادہ گہرائی ہوتی ہے ۔

اس لیے یہ ایسے حالات میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں وہ اپنا سہارا کھو بیٹھتا ہے۔

اپنا گہری جڑوں والا سپورٹ سسٹم بنائیں تاکہ کوئی آپ کو اکھاڑ نہ سکے۔

محمد الرسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری نیکی تمہیں خوش کرنے لگے اور جب تمہارا گناہ تمہیں غمگین کرنے لگے تو مطلب یہ ہے کہ تم مومن ہو۔ سبحان ﷲ،


تنویر خان ناصر 💕

حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت یکم 1 محرم

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، اسلام کے دوسرے خلیفہ اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ عدل، تقویٰ اور حق گوئی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

23 ہجری میں فجر کی نماز کے دوران مسجد نبوی میں آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس سے آپؓ شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی حالت میں بھی آپؓ نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام فرمایا اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کی فکر کی۔

چند دن بعد آپؓ نے یکم 1 محرم کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی آپؓ نے قرض کی ادائیگی، امت کے معاملات اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کی فکر کو مقدم رکھا۔

آپؓ کی خواہش تھی کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اجازت ملنے کے بعد آپؓ کو روضۂ رسول ﷺ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا:

"اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔"

(سنن ترمذی)


اللہ تعالیٰ حضرت عمر فاروقؓ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے عدل، تقویٰ، دیانت اور حق گوئی سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


حوالہ جات: صحیح البخاری، سنن الترمذی، الطبقات الکبری تاریخ الطبری۔

مختصر تشریح 👇

اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے انبیاء کرام علیہم السلام کے بلند مقام اور اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت کو بیان فرمایا ہے۔ انبیاء پر اللہ کی طرف سے ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ دنیا سے جانے سے پہلے انہیں اپنی آخرت کی کامیابی اور جنت میں اپنے مقام کی بشارت دے دی جاتی ہے۔

مومن کے لیے بھی اس میں سبق ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل کامیابی ایمان و نیک اعمال کے ساتھ آخرت کی تیاری میں ہے۔


90% of your adult problems will be eliminated if you just:
•Workout regularly.•Eat real food (home-made).•Find 1-2 real friends.•Live below your means.•Do what you love for work.•Fix your sleep cycle.•Prioritize discipline over motivation.

Pull down to refresh