“ایک بار مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل سے کسی نے پوچھا، “کیا محنت ہی کامیابی کی واحد کنجی ہے؟” رسل مسکرایا اور بولا: 'اگر محنت ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی تو دنیا کا سب سے امیر شخص گدھا ہوتا، جو صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا ہے۔'
سچ تو یہ ہے کہ کامیابی 'محنت' میں نہیں، 'نظام' (System) میں چھپی ہے۔ ہم سب اپنی پوری زندگی اس گدھے کی طرح محنت کرتےگزر جاتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا ہمارا بنایا ہوا نظام ہماری غیر موجودگی میں بھی چل سکتا ہے؟"
یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک عام انسان اور ایک 'سسٹم بنانے والے' کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ہم سب اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ پیسے کمانے کے لیے صرف جسم کا پسینہ بہانا کافی ہے۔ نہیں، پیسہ پسینے سے نہیں، بلکہ اس 'خودکار مشین' سے آتا ہے جسے آپ اپنی مہارتوں اور اثاثوں سے تعمیر کرتے ہیں۔
"خودکار آمدنی" (Passive Income) کا مطلب کام سے بھاگنا نہیں، بلکہ کام کو اپنے تابع کرنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی نیند میں بھی آپ کا اکاؤنٹ بڑھ رہا ہو؟ کیا آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ آپ چھٹیوں پر ہوں، مگر آپ کا یوٹیوب چینل، آپ کا ڈیجیٹل کورس، یا آپ کی سرمایہ کاری آپ کے اخراجات پورے کر رہی ہو؟ یہ کوئی خواب نہیں، یہ آج کے دور کی ضرورت ہے۔
ہم نے اپنی تازہ ترین ویڈیو میں اسی 'آزادی' کے 15 عملی طریقے بیان کیے ہیں۔ یہ 15 طریقے وہ 'سسٹمز' ہیں جنہیں ایک بار کھڑا کرنے کے بعد آپ کو صرف ان کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ ہم نے دکھایا ہے کہ کیسے آپ اپنی ذہانت کو ایک 'پروڈکٹ' بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
اگر آپ اپنی زندگی کو ان گھنٹوں کی غلامی سے نکالنا چاہتے ہیں جن کے بدلے آپ اپنی عمر کا ایک حصہ بیچ رہے ہیں، تو یہ ویڈیو آپ کا پہلا قدم ہے۔ خودکار کمائی صرف عیاشی نہیں، یہ آپ کا وہ 'سکیورٹی نیٹ' ہے جو آپ کے نہ ہونے پر بھی آپ کے خاندان کو سنبھالے رکھتا ہے۔
آئیں، محنت کی چکی سے نکل کر 'نظام' بنانے کی طرف قدم بڑھائیں۔ ویڈیو دیکھیں، اور ان 15 طریقوں کو سمجھیں جو آپ کو ایک ملازم سے ایک 'سسٹم اونر' بنا سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں، اس سے پہلے کہ وقت آپ کے فیصلے آپ کے لیے کر دے۔
لنک کمنٹس میں ہے۔
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امیر مزید امیر کیوں ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک غریب اپنی پوری زندگی جدوجہد میں کیوں گزار دیتا ہے؟ اس کے پیچھے کوئی خفیہ سازش یا جادو نہیں، بلکہ ایک ایسا بے رحم سائنسی قانون ہے جسے ماہرین معاشیات "میتھیو ایفیکٹ" (Matthew Effect) کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ جس کے پاس پہلے سے کچھ موجود ہو، اسے مزید ملتا جاتا ہے، اور جس کے پاس کم ہو، اس کے لیے ایک ایک قدم آگے بڑھنا پہاڑ سر کرنے جیسا ہوگا۔
پہلی نظر میں یہ ناانصافی محسوس ہوتی ہے لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے اپنی زندگی کے اردگرد دیکھیے۔ ایک طالب علم جسے شروع میں اچھا تعلیمی ماحول ملا، وہ بہتر یونیورسٹی گیا، بہتر نوکری پائی اور اب وہ مواقع کے سمندر میں تیر رہا ہے۔ دوسری طرف، ایک ایسا بچہ جس نے بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر آغاز کیا، اسے اپنی ہر کامیابی ثابت کرنے کے لیے دس گنا زیادہ خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ یہی فرق شہرت میں بھی ہے۔ ایک مشہور مصنف کی کتاب کا سرورق دیکھتے ہی ہزاروں ہاتھ اسے خریدنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں، جبکہ ایک نیا لکھنے والا برسوں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مشہور مصنف کی تحریر زیادہ بہتر ہو، لیکن اس کا "نام" اسے وہ اعتماد دے دیتا ہے جو ایک نیا شخص نہیں پا سکتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قانون کا مطلب یہ ہے کہ کامیابی صرف خوش قسمت لوگوں کی میراث ہے؟
قطعاً نہیں۔ میتھیو ایفیکٹ کا اصل سبق یہ ہے کہ زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ "آغاز" ہے۔ پہلی کامیابی، پہلا ایک لاکھ، یا پہلے سو قاری، یہ سب حاصل کرنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جس لمحے آپ وہ پہلی اینٹ رکھ دیتے ہیں، آپ ایک ایسے پہیے کو گھما دیتے ہیں جس کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ پہلی کامیابی کے بعد دوسری کامیابی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، کیونکہ اب آپ کے پاس "ساکھ" کا سرمایہ موجود ہوتا ہے۔
کامیاب لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی پوری توانائیاں کسی بڑی چیز کے انتظار میں ضائع نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک چھوٹا سا فائدہ حاصل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج وہ ایک چھوٹا سا فائدہ بھی پیدا کر لیں، تو آنے والے وقت میں وہی فائدہ ان کی "بڑی طاقت" بن جائے گا۔
اس لیے، دوسروں کے پاس موجود دولت یا شہرت دیکھ کر شکایت کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ آج ایسا کون سا چھوٹا سا قدم اٹھا سکتے ہیں جو آپ کو اس "میتھیو ایفیکٹ" کے دائرے میں لے آئے؟ کیونکہ یاد رکھیں، دنیا صفر سے شروع کرنے والوں کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ قانونِ قدرت ہے کہ دنیا ہمیشہ رفتار پکڑنے والوں کے حق میں ہوتی ہے۔ اپنی پہلی کامیابی کا آغاز کریں، باقی راستے خود بنتے چلے جائیں گے۔
ﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا دکھ درد اور اپنے مسائل بیان مت کرو وہی کارساز وہی رحم کرنے والا مہربان ﷲ ہمارے لیئے کافی ہے، ﷲ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔
تنویر خان ناصر💕
خود مختار فیصلہ سازی اور نتائج کی ذمہ داری: قرآنی ہدایات، نبوی تعلیمات اور عقلی استدلال کا تحقیقی جائزہ
✍🏻: ہارون سیف
فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور۔
خود مختار ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، شعور اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ فیصلے کرے، ان فیصلوں کے نتائج کو قبول کرے اور کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کرے۔ مشاورت اسلام میں ایک اہم اصول ہے، تاہم مشاورت کا مقصد فیصلہ سازی میں رہنمائی حاصل کرنا ہے، نہ کہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ﴾ (آل عمران: 159) یعنی "پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مشورہ لینے کے بعد آخری فیصلہ خود کرنا اور اس کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" (صحیح بخاری) یعنی "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہر انسان اپنے دائرۂ اختیار میں کیے گئے فیصلوں کا خود جواب دہ ہے۔
عقلی اعتبار سے بھی خود مختاری ذمہ دارانہ زندگی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان اپنے فیصلوں کے نتائج دوسروں پر ڈالنے لگے تو اس کی شخصیت میں پختگی پیدا نہیں ہوتی اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے الزام تراشی کا عادی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے وہ تجربات سے سیکھتا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا اور اعتمادِ نفس حاصل کرتا ہے۔ یہی رویہ انفرادی اور اجتماعی ترقی کا سبب بنتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی جامعہ کا انتخاب کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ، والدین اور دوستوں سے مشورہ کرتا ہے، لیکن آخرکار فیصلہ خود کرتا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جائے تو اسے اپنی محنت اور درست انتخاب کا اعتراف کرنا چاہیے، اور اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی حکمتِ عملی کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس مثال سے خود مختاری کی دونوں جہتیں واضح ہوتی ہیں: ایک طرف مشاورت سے استفادہ اور دوسری طرف فیصلے اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا۔ یہی طرزِ عمل ایک بالغ، باکردار اور ذمہ دار انسان کی علامت ہے۔
Pull down to refresh