Default Profile

kashif jawaid

@username

No bio available.

13
Posts
6
Followers
22
Following

جب تک زندہ ہو 

کوشش جاری رکھو 

ہر ناکامی کے بعد 

پہلے سے شدید کوشش 

یہی ثبوت ہے 

کہ تم زندہ ہو 

جو کوشش چھوڑ دیتے ہیں 

وہ چلتے پھرتے ہیں

مگر زندوں میں شمار نہیں ہوتے 

کوئی تمہارے درد کا مرہم نہیں بنے گا

اپنے ہر زخم کو خود سینا ہوگا 

ہر چوٹ کے بعد 

پھر سے جینا سیکھو 

دنیا کے لئے مثال ہی بننا ہے 

تو کمزوری کی نہیں

ہمت اور کامیابی کی مثال بنو 

یہ ضرور ہوگا 

ایک بار دل ❤️ 

پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لو 

کہ جب تک سانس باقی ہے میں 

جیتنے کے لئے ہر مقابلہ کروں گا 

wish you luck 🤞 dear

حیرت ہے 

یہ ہو کیا رہا ہے 

مسلسل ایک کے بعد ایک 

کل ایزی پیسہ ایپ نے عوام کو شدید ٹینشن میں رکھا ابھی بھی کچھ لوگ پرابلم میں ہیں۔

آج فیس بک میں بہت بڑا تکنیکی مسئلہ آ گیا ۔۔

کیا ڈیجیٹل دور کا عروج ہے 

یا زوال ہے 

بس ایک حل ہے 

into blog 

جیسے پلیٹ فارم پر بہ تدریج موو ہوتے جائیں۔

فیس بک اور میٹا بھی وقت پر دھوکہ دے سکتی ہیں۔

دنیا جہنم بنی ہوئی ہے نفرت کی آگ سے 

آئیں ہم کوشش کرتے ہیں اس آگ کو محبت سے

مٹا تے جائیں اس جہنم کو 

جتنا ہوسکے جنت بناتے جائیں 

لوگ نفرت کی بات کر کے وائرل ہو جاتے ہیں 

ہم ہیں کہ محبت کی باتیں ہی لکھیں گے 

چاہے ہمیں کوئی چاہے یا نہ چاہے 

مجرم پیدا ہوتے ہیں 

یا بنائے جاتے ہیں ؟؟

سوال ہے جواب جس کا مشکل ہے 

خاندانی نظام (Family Structure) کسی بھی مسلم اور روایتی معاشرے کی سب سے بنیادی اور مضبوط اکائی ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل این جی اوز (INGOs)، مخصوص لبرل تھنک ٹینکس، اور عالمی کارپوریٹ اداروں کی جانب سے اس نظام کو ہدف بنانے کے پیچھے محض اتفاق نہیں، بلکہ انتہائی گہرے سیاسی، معاشی اور نظریاتی مفادات کارفرما ہیں۔اس پوشیدہ ایجنڈے (Hidden Agenda) کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں: 1۔ معاشی ایجنڈا: سرمایہ داری اور صارفی معاشرہ (Consumerism)
* انفرادی خریدار (Individual Consumers): ایک مشترکہ یا مضبوط خاندانی نظام میں وسائل شیئر ہوتے ہیں (مثلاً ایک گھر، ایک گاڑی، کچن کا اکٹھا سامان)۔ جب خاندان ٹوٹتا ہے اور ہر انسان اکیلا رہنے لگتا ہے، تو مارکیٹ کو ہر فرد کے لیے الگ گھر، الگ فرنیچر، الگ الیکٹرانکس اور الگ سبسکرپشنز بیچنے کا موقع ملتا ہے۔* خواتین کا معاشی استحصال: روایتی نظام میں عورت کی معاشی ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے۔ خاندانی نظام کو توڑ کر خواتین کو "آزادی" کے نام پر کارپوریٹ سیکٹر کے لیے سستی لیبر فورس (Labor Force) بنانا مقصود ہے، تاکہ سرمایہ دار طبقہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکے۔
 2۔ سیاسی و سماجی کنٹرول: ریاست پر انحصار
* سپورٹ سسٹم کا خاتمہ: خاندانی نظام ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو انسان کو بیماری، بے روزگاری، بڑھاپے اور نفسیاتی بحران میں سہارا دیتا ہے۔ جب یہ نظام ختم ہو جاتا ہے، تو فرد بالکل اکیلا اور کمزور پڑ جاتا ہے۔* کنٹرول کرنے میں آسانی: اکیلا اور نفسیاتی طور پر کمزور انسان بیرونی پروپیگنڈے، ریاستی قوانین اور کارپوریٹ پالیسیوں کے سامنے آسانی سے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ ایسے افراد پر مشتمل معاشرے پر حکومت کرنا اور انہیں اپنے اشاروں پر چلانا عالمی قوتوں کے لیے بہت آسان ہوتا ہے۔
 3۔ نظریاتی اور مذہبی شناخت پر حملہ
* نسل نو کی تربیت کا نظام روکنا: خاندان وہ پہلی نرسری (ماں کی گود اور باپ کا سایہ) ہے جہاں بچے کو اپنے دین، اخلاق، حیا اور تہذیب کی بنیادی تعلیمات ملتی ہیں۔ اگر میاں بیوی کا رشتہ توڑ دیا جائے یا ماں باپ کو بچوں کی تربیت سے دور کر دیا جائے، تو نئی نسل کی اخلاقی جڑیں کٹ جاتی ہیں۔* مذہبی اقدار کا متبادل: فیملی سٹرکچر ٹوٹنے کے بعد جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے مغربی این جی اوز اپنے "جدید نظریات" (جیسے ایل جی بی ٹی کیو پلس، جینڈر فلوئیڈٹی، اور الحاد) سے بھرتی ہیں، تاکہ مسلم معاشروں کی مخصوص مذہبی اور غیرت مندانہ شناخت کو ختم کیا جا سکے۔
 4۔ آبادی پر کنٹرول (Population Control)
* شادی اور بچوں کی حوصلہ شکنی: بہت سی عالمی تنظیموں کا کھلا ایجنڈا دنیا کی آبادی، بالخصوص مسلم ممالک کی آبادی کو کم کرنا ہے۔ جب خاندانی نظام پر شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں اور شوہر و بیوی کے رشتوں کو "مظلوم اور ظالم" کا رشتہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو نوجوان نسل شادی اور اولاد کی ذمہ داری اٹھانے سے خوفزدہ ہو جاتی ہے۔
 5۔ این جی اوز کا اپنا مالیاتی فائدہ (Funding Model)
* ڈالر فنڈنگ کا حصول: بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیاں (جیسے یو ایس ایڈ، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز وغیرہ) صرف انہی این جی اوز کو کروڑوں ڈالرز کے فنڈز دیتی ہیں جو ان کے ایجنڈے (جیسے پٹریارکی کا خاتمہ، جینڈر ایکولٹی کے نام پر تصادم) پر کام کرتی ہیں۔ مقامی این جی اوز اپنے مالی مفادات اور بقا کے لیے ان نظریات کو معاشرے میں زبردستی نافذ کرتی ہیں۔
------------------------------

جن کے ذہن میں جینے کی کوئی وجہ ہو 

وہ نہ تو فضولیات میں الجھتے ہیں 

نہ ہی تھکتے ہیں نہ مایوس ہوتے ہیں

خود پر ایک احسان کریں 

جینے کے لئے کم سے کم ایک مضبوط وجہ 

اپنے ذہن کو دے دیں پھر دیکھیں کہ کیسے زندگی میں بدلاؤ آتا ہے 

Love heals anything