Live Audio

ہمارے آج کل کے ہیرو


چند دن پہلے ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔
گاؤں کی ایک بیٹھک میں چند نوجوان جمع تھے۔ باتوں باتوں میں کسی نے پوچھ لیا:
"یار، تمہارا ہیرو کون ہے؟"
ایک نے فوراً ایک مشہور ڈرامہ ایکٹر کا نام لیا۔ دوسرے نے ایک سوشل میڈیا اسٹار کا۔ تیسرے نے ایک ماڈل کا نام لیا جس کے لاکھوں فالوورز تھے۔ پھر بحث شروع ہو گئی کہ کس کی گاڑی زیادہ مہنگی ہے، کس کا گھر زیادہ شاندار ہے اور کس کی ویڈیوز زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔
میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔
اتنے میں وہاں بیٹھے ایک بزرگ مسکرائے اور بولے:
"بیٹا، ایک بات پوچھوں؟"
سب نوجوان ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔
بزرگ نے کہا:
"اگر کل یہ سارے لوگ سوشل میڈیا سے غائب ہو جائیں تو کیا ان کی زندگی تمہارے کسی کام آئے گی؟"
کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
بزرگ نے پھر کہا:
"ہیرو وہ نہیں ہوتا جسے دنیا دیکھتی ہے، ہیرو وہ ہوتا ہے جس کے راستے پر چل کر انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکے۔"
یہ جملہ سن کر مجھے احساس ہوا کہ واقعی ہمارے زمانے میں ہیرو کا مطلب بدل گیا ہے۔
آج موبائل فون نے دنیا کو ہماری ہتھیلی میں لا کر رکھ دیا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی سکرین سامنے آ جاتی ہے اور رات سونے سے پہلے بھی آخری نظر اسی پر پڑتی ہے۔ ہم روزانہ درجنوں چہرے دیکھتے ہیں، ان کی زندگیوں کے قصے سنتے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں اپنا آئیڈیل بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
کوئی ان کے کپڑوں جیسا لباس پہننا چاہتا ہے، کوئی ان کے بالوں جیسا اسٹائل بنانا چاہتا ہے اور کوئی ان جیسی شہرت حاصل کرنے کا خواب دیکھتا ہے۔
لیکن کبھی ہم نے سوچا کہ جن لوگوں کو ہم اپنا ہیرو بنا رہے ہیں، وہ ہمیں دے کیا رہے ہیں؟
کیا وہ ہمیں سچ بولنا سکھا رہے ہیں؟
کیا وہ ہمیں والدین کی خدمت کا درس دے رہے ہیں؟
کیا وہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ مشکل وقت میں صبر کیسے کیا جاتا ہے؟
اکثر جواب نفی میں ہوتا ہے۔
مجھے اپنے سکول کے دن یاد آتے ہیں۔ ہمارے ایک استاد اکثر کہا کرتے تھے:
"انسان اپنے ہیروز جیسا بن جاتا ہے۔"
اس وقت یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن آج لگتا ہے کہ وہ بالکل درست کہتے تھے۔
اگر کسی قوم کے ہیرو علم والے ہوں تو قوم علم کی طرف بڑھتی ہے۔
اگر ہیرو کردار والے ہوں تو قوم باکردار بنتی ہے۔
اور اگر ہیرو صرف شہرت والے ہوں تو قوم بھی صرف شہرت کے پیچھے بھاگنے لگتی ہے۔
ایک لمحے کے لیے تصور کریں۔
گرمی کا دن ہے۔ مکہ کی گلیاں ہیں۔ لوگ مخالفت کر رہے ہیں، طعنے دے رہے ہیں، پتھر مار رہے ہیں، لیکن ایک ہستی ہے جو بددعا کے بجائے دعا کر رہی ہے۔
طائف میں لہولہان ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کے لیے ہدایت مانگ رہی ہے۔
اپنے گھر میں سادگی ہے، لیکن دل میں پوری انسانیت کے لیے محبت ہے۔
یہ کوئی فلم کا کردار نہیں۔
یہ حضرت محمد ﷺ کی مبارک زندگی کا ایک منظر ہے۔
یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے انسان کو انسان بننا سکھایا۔ جنہوں نے بتایا کہ طاقت بدلہ لینے میں نہیں بلکہ معاف کرنے میں ہے۔ عظمت دولت میں نہیں بلکہ کردار میں ہے۔ کامیابی دوسروں پر غالب آنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔
افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان اپنے پسندیدہ اداکار کی نئی فلم کا انتظار کرتے ہیں، لیکن سیرتِ رسول ﷺ پڑھنے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔
ہم دوسروں کی زندگیوں کے قصے جانتے ہیں، مگر اس شخصیت کی زندگی سے ناواقف ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے انسانوں کے لیے نمونہ بنایا۔
شاید اسی لیے آج ہمارے پاس معلومات تو بہت ہیں، لیکن رہنمائی کم ہے۔ دوست بہت ہیں، لیکن سکون کم ہے۔ مصروفیات بہت ہیں، لیکن مقصد کم ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں:
میرے بچوں کے ہیرو کون ہیں؟
اور اس سے بھی اہم سوال:
میرا اپنا ہیرو کون ہے؟
کیونکہ انسان جسے اپنا ہیرو بناتا ہے، آخرکار ویسا ہی بننے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
اگر ہمارا ہیرو کوئی عارضی شہرت رکھنے والا شخص ہوگا تو ہماری منزل بھی عارضی ہوگی۔
لیکن اگر ہمارا ہیرو حضرت محمد ﷺ ہوں گے تو ہماری زندگی کو ایک ایسا راستہ ملے گا جو صرف دنیا ہی نہیں، آخرت میں بھی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
اور شاید یہی وہ بات ہے جسے ہم نے اس شور شرابے والے دور میں کہیں کھو دیا ہے۔

ایک بار مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل سے کسی نے پوچھا، “کیا محنت ہی کامیابی کی واحد کنجی ہے؟” رسل مسکرایا اور بولا: 'اگر محنت  ہی  کامیابی کی ضمانت ہوتی تو دنیا کا سب سے امیر شخص گدھا ہوتا، جو صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا ہے۔'

سچ تو یہ ہے کہ کامیابی 'محنتمیں نہیں، 'نظام' (System) میں چھپی ہے۔ ہم سب اپنی پوری زندگی اس گدھے کی طرح محنت کرتےگزر جاتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا ہمارا بنایا ہوا نظام ہماری غیر موجودگی میں بھی چل سکتا ہے؟"

یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک عام انسان اور ایک 'سسٹم بنانے والے' کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ہم سب اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ پیسے کمانے کے لیے صرف جسم کا پسینہ بہانا کافی ہے۔ نہیں، پیسہ پسینے سے نہیں، بلکہ اس 'خودکار مشین' سے آتا ہے جسے آپ اپنی مہارتوں اور اثاثوں سے تعمیر کرتے ہیں۔

"خودکار آمدنی" (Passive Income) کا مطلب کام سے بھاگنا نہیں، بلکہ کام کو اپنے تابع کرنا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی نیند میں بھی آپ کا اکاؤنٹ بڑھ رہا ہو؟ کیا آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ آپ چھٹیوں پر ہوں، مگر آپ کا یوٹیوب چینل، آپ کا ڈیجیٹل کورس، یا آپ کی سرمایہ کاری آپ کے اخراجات پورے کر رہی ہو؟ یہ کوئی خواب نہیں، یہ آج کے دور کی ضرورت ہے۔

ہم نے اپنی تازہ ترین ویڈیو میں اسی 'آزادی' کے 15 عملی طریقے بیان کیے ہیں۔ یہ 15 طریقے وہ 'سسٹمز' ہیں جنہیں ایک بار کھڑا کرنے کے بعد آپ کو صرف ان کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔ ہم نے دکھایا ہے کہ کیسے آپ اپنی ذہانت کو ایک 'پروڈکٹ' بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

اگر آپ اپنی زندگی کو ان گھنٹوں کی غلامی سے نکالنا چاہتے ہیں جن کے بدلے آپ اپنی عمر کا ایک حصہ بیچ رہے ہیں، تو یہ ویڈیو آپ کا پہلا قدم ہے۔ خودکار کمائی صرف عیاشی نہیں، یہ آپ کا وہ 'سکیورٹی نیٹ' ہے جو آپ کے نہ ہونے پر بھی آپ کے خاندان کو سنبھالے رکھتا ہے۔

آئیں، محنت کی چکی سے نکل کر 'نظام' بنانے کی طرف قدم بڑھائیں۔ ویڈیو دیکھیں، اور ان 15 طریقوں کو سمجھیں جو آپ کو ایک  ملازم سے ایک 'سسٹم اونر' بنا سکتے ہیں۔ اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں، اس سے پہلے کہ وقت آپ کے فیصلے آپ کے لیے کر دے۔

لنک کمنٹس میں ہے۔


آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امیر مزید امیر کیوں ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک غریب اپنی پوری زندگی جدوجہد میں کیوں گزار دیتا ہے؟ اس کے پیچھے کوئی خفیہ سازش یا جادو نہیں، بلکہ ایک ایسا بے رحم سائنسی قانون ہے جسے ماہرین معاشیات "میتھیو ایفیکٹ" (Matthew Effect) کہتے ہیں۔ یہ قانون کہتا ہے کہ جس کے پاس پہلے سے کچھ موجود ہو، اسے مزید ملتا جاتا ہے، اور جس کے پاس کم ہو، اس کے لیے ایک ایک قدم آگے بڑھنا پہاڑ سر کرنے جیسا ہوگا۔

پہلی نظر میں یہ ناانصافی محسوس ہوتی ہے لیکن ذرا ٹھنڈے دماغ سے اپنی زندگی کے اردگرد دیکھیے۔ ایک طالب علم جسے شروع میں اچھا تعلیمی ماحول ملا، وہ بہتر یونیورسٹی گیا، بہتر نوکری پائی اور اب وہ مواقع کے سمندر میں تیر رہا ہے۔ دوسری طرف، ایک ایسا بچہ جس نے بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر آغاز کیا، اسے اپنی ہر کامیابی ثابت کرنے کے لیے دس گنا زیادہ خون پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ یہی فرق شہرت میں بھی ہے۔ ایک مشہور مصنف کی کتاب کا سرورق دیکھتے ہی ہزاروں ہاتھ اسے خریدنے کے لیے اٹھ جاتے ہیں، جبکہ ایک نیا لکھنے والا برسوں اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ مشہور مصنف کی تحریر زیادہ بہتر ہو، لیکن اس کا "نام" اسے وہ اعتماد دے دیتا ہے جو ایک نیا شخص نہیں پا سکتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قانون کا مطلب یہ ہے کہ کامیابی صرف خوش قسمت لوگوں کی میراث ہے؟

قطعاً نہیں۔ میتھیو ایفیکٹ کا اصل سبق یہ ہے کہ زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ "آغاز" ہے۔ پہلی کامیابی، پہلا ایک لاکھ، یا پہلے سو قاری، یہ سب حاصل کرنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جس لمحے آپ وہ پہلی اینٹ رکھ دیتے ہیں، آپ ایک ایسے پہیے کو گھما دیتے ہیں جس کی رفتار وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ پہلی کامیابی کے بعد دوسری کامیابی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے، کیونکہ اب آپ کے پاس "ساکھ" کا سرمایہ موجود ہوتا ہے۔

کامیاب لوگ یہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی پوری توانائیاں کسی بڑی چیز کے انتظار میں ضائع نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک چھوٹا سا فائدہ حاصل کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج وہ ایک چھوٹا سا فائدہ بھی پیدا کر لیں، تو آنے والے وقت میں وہی فائدہ ان کی "بڑی طاقت" بن جائے گا۔

اس لیے، دوسروں کے پاس موجود دولت یا شہرت دیکھ کر شکایت کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ آج ایسا کون سا چھوٹا سا قدم اٹھا سکتے ہیں جو آپ کو اس "میتھیو ایفیکٹ" کے دائرے میں لے آئے؟ کیونکہ یاد رکھیں، دنیا صفر سے شروع کرنے والوں کے خلاف نہیں ہے، لیکن یہ قانونِ قدرت ہے کہ دنیا ہمیشہ رفتار پکڑنے والوں کے حق میں ہوتی ہے۔ اپنی پہلی کامیابی کا آغاز کریں، باقی راستے خود بنتے چلے جائیں گے۔

#جاوید_تیموری 

 
لوگ اکثر آپ کی نیت نہیں دیکھتے وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اُنہیں آپ سے کیا فائدہ مل سکتا ہے اس لیئے ہر کسی کو خُوش کرنے کی بجائے اپنے کردار کو خُوبصُورت بنائیں جو آپ کی قدر جانتے ہیں وہی آپ کے اصل لوگ ہیں 🧠𓆪*
" بچے ہمارے عہد کے" (3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آقائے یاری خان ہمدم کے سامنے اپنی گوناگوں مشکلات کا ذکر چھیڑا تو وہ فوراً بولے ؛ "بچوں کی بھی ایک ہی کہی ؛ آپ نے کبھی راہ چلتے کسی بچے کا تقاضا یا فرمائشیں نہیں سنیں ۔۔۔۔۔ ؛ ہم سے پوچھو تو پتہ چلے ـ ہم جس محلے میں رہتے ہیں وہاں خیر سے بچوں کی تعداد اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے جتنی تیزی سے ہمارے ہاں مہنگائی بھی نہیں بڑھتی ـ آئے دن نت نئے خرانٹ قسم کے بچوں سے سامنا ہوتا رہتا ہے ـ ایک دفعہ بچوں کے ایک مختصر گروہ کے سامنے سے گزرتے وقت ایک بچے نے اچانک پیچھے سے پکارا ـ ہم نے مڑ کے دیکھا تو پکارنے والے بچے نے تحکمانہ انداز سے کہا : " بابا جی! اس بچے کو چھانٹے ماریں یہ مدرسے نہیں جا رہا "ـ    اول تو انداز تکلم پہ غصہ آیا کہ اب ہم محض پچاس سال کی عمر میں کہاں کے بابے بن گئے ـ دوم اس عمر میں بچے کو تھپڑ مارنے کی بھلا کیا تک ہو سکتی تھی ( بچے کو مارتے ہوئے ہم بھلا خاک اچھے لگیں گے ) ـ ساتھ ہی دوسرے بچے نے ملزم بچے کو دھمکاتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ ؛ دیکھو ! مدرسے نہیں جاؤگے تو یہ بابا جی اغوا کر کے لے جائیں گے تجھے ۔۔۔۔- لو اب ہم ان کی نظر میں اغوا کار بھی ٹھہرے ؛ بس یہی کسر رہ گئی تھی "ـ      ہم حیرت سے یاری خان کی طرف دیکھ رہے تھے اور تھوڑا بہتر بھی محسوس کر رہے کہ چلیں ؛ بچوں کے جبر کا شکار فقط ہم ہی نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے افراد یہ ستم سہتے چلے آ رہے ہیں ـ انہوں نے بات جاری رکھی ؛ "اور سنو ؛ گھر کو لوٹتے وقت ایک دن ہم نے گلی کی ایک دیوار کے سائے میں چند بچے کھڑے دیکھے جو شاید آپس میں کسی راز و نیاز میں مصروف تھے ـ ایک کے ہاتھ میں لمبی سی چھڑی بھی تھی ـ جیسے ہی ہم ان کے قریب پہنچے ؛ ایک بچے نے "السلام علیکم" انکل کا نعرہ لگا کر ہاتھ مصافحے کو آگے بڑھایا ـ ہم نے خوش ہو کر اپنا ہاتھ ملانے کے لئے آگے کیا تو وہ شریر ہمیں نظر انداز کرکے بجائے مصافحہ کرنے کے اپنا ہاتھ کان کی طرف اٹھا کر اسے کھجانے لگا ـ باقی بچے زور زور سے قہقہے لگانے لگے ـ غصّہ تو بہت آیا مگر پی گئے ـ ہم خفیف سے ہو کر آگے چلے تو چھڑی والے بچے نے فوراً ہی ہاتھ میں پکڑی چھڑی دیوار میں موجود سوراخ میں ڈال کر تیزی سی گھما لی ـ دیوار کی درز میں بھڑوں کا چھتا تھا جس کا ہمیں انداذہ نہیں تھا ـ بچے تو اس حرکت کے بعد " ارے بھاگو " کا فلک شگاف نعرہ لگا کر فوراً بھاگ اٹھے مگر معاملہ جب تک ہماری سمجھ میں آتا , بیسیوں بپھری ہوئی سرخ بھڑیں سوراخ سے نکل کر چشم زدن میں ہمارے سر پہ پہنچ چکی تھیں ـ چہرے ، کان اور گردن سے چمٹ گئیں اور اتنی بے دردی سے کاٹا کہ ہماری چیخیں نکل گئیں ـ شدید درد اور سوجن سے ہمارا برا ہی حال تھا ـ شام تک ہمارا پورا منہ غبارے کی مانند اس طرح پھول کر کپا بن چکا تھا کہ ہماری آنکھیں کم از کم اس چہرے پر بہت چھوٹی لگنے لگی تھیں ـ دو دن تک ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہے ـ سو میرے بھائی ! میرا مشورہ مانیں اور اس پھڈے میں نہ ہی پڑیں تو بہتر ہے ؛ اس مخلوق سے بچ کے رہنا ہی ہمارے بہترین مفاد میں ہے ...........!!!  ہم حیرت اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں یاری خان کی جانب دیکھ رہے تھے ـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ؛ زندگی تضادات کا مجموعہ ہے جس کے پل پل بدلتے رنگ اس کی بے ثباتی ظاہر کرتے ہیں ـ غم خوشی ، تکلیفیں اور راحت ؛ مشکلات اور آسانیاں ، ہنسنا اور رونا ، سکون اور بے اطمینانی انسانی زندگی کی وہ کیفیات ہیں جن سے ہم گذرتے ہیں ۔۔۔۔۔زندگی کے کٹھن مراحل میں امید اور خوشی کے وہ دو بول ہمارے لئے کافی حوصلہ افزا ہوتے ہیں جو ہمیں چند لمحوں کے لیے اس کیفیت سے نکال لاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں پر آپ کو ایسی فرح بخش تحریریں پڑھنے کو ملیں گی جو وقتی طور پر آپ کے ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔۔۔۔بلاگز دیکھ کر خود ہی آزما کے دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔

ﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا دکھ درد اور اپنے مسائل بیان مت کرو وہی کارساز وہی رحم کرنے والا مہربان ﷲ ہمارے لیئے کافی ہے، ﷲ آپ سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔


تنویر خان ناصر💕

خود مختار فیصلہ سازی اور نتائج کی ذمہ داری: قرآنی ہدایات، نبوی تعلیمات اور عقلی استدلال کا تحقیقی جائزہ

✍🏻: ہارون سیف 

فاضل جامعہ اشرفیہ، ایم فل اسکالر، سپیریئر یونیورسٹی، لاہور۔


خود مختار ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، شعور اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ فیصلے کرے، ان فیصلوں کے نتائج کو قبول کرے اور کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کرے۔ مشاورت اسلام میں ایک اہم اصول ہے، تاہم مشاورت کا مقصد فیصلہ سازی میں رہنمائی حاصل کرنا ہے، نہ کہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کرنا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ﴾ (آل عمران: 159) یعنی "پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کریں۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مشورہ لینے کے بعد آخری فیصلہ خود کرنا اور اس کی ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" (صحیح بخاری) یعنی "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہر انسان اپنے دائرۂ اختیار میں کیے گئے فیصلوں کا خود جواب دہ ہے۔

عقلی اعتبار سے بھی خود مختاری ذمہ دارانہ زندگی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان اپنے فیصلوں کے نتائج دوسروں پر ڈالنے لگے تو اس کی شخصیت میں پختگی پیدا نہیں ہوتی اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے الزام تراشی کا عادی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے وہ تجربات سے سیکھتا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بناتا اور اعتمادِ نفس حاصل کرتا ہے۔ یہی رویہ انفرادی اور اجتماعی ترقی کا سبب بنتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک طالب علم اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی جامعہ کا انتخاب کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ، والدین اور دوستوں سے مشورہ کرتا ہے، لیکن آخرکار فیصلہ خود کرتا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جائے تو اسے اپنی محنت اور درست انتخاب کا اعتراف کرنا چاہیے، اور اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں تو دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی حکمتِ عملی کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس مثال سے خود مختاری کی دونوں جہتیں واضح ہوتی ہیں: ایک طرف مشاورت سے استفادہ اور دوسری طرف فیصلے اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا۔ یہی طرزِ عمل ایک بالغ، باکردار اور ذمہ دار انسان کی علامت ہے۔


دعا کرنی چاہیئے کہ وہ چیزپاس ہی رہے جس سے تمہیں محبت ہے🖤

Pull down to refresh