Live Audio

                     *REMINDER 🎗️*
استغفار کی توفیق تمہارے کامیاب ہونے کی پہلی نشانی ہے 
 ۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرما کر رحم والا معاملہ فرما دے 
أَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِيم الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ القَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيهِ
حدیثِ مبارکہعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"فِي الحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ"ترجمہحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:"کلونجی (سیاہ دانے) میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے۔"حدیث کے حوالے (References)صحیح بخاری: حدیث نمبر 5688 (کتاب الطب)صحیح مسلم: حدیث نمبر 2215 (کتاب السلام)(نوٹ: حدیث کے عربی الفاظ میں استعمال ہونے والے لفظ "السَّام" کا مطلب "موت" ہے۔)میرے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے جو بھی فرمان جاری ہوا وہ حدیث ہے وہ بغیر کسی کسوٹی پر پرکھے دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہےنبی پاکؐ کے بتائے اس کالے بیج نے میڈیکل لیبارٹریوں میں تہلکہ کیوں مچا رکھا ہے !بظاہر معمولی لگنے والے اس بیج نے سائنسدانوں کو حیران کرڈالا ہے۔ خوردبین کے نیچے موجود کالا بیج ایک ایسی قدرتی طاقت ہے جس نے بڑی بڑی دوا بنانے والی کمپنیوں کو ہلاڈالا ہے۔ اس بیج سے کشید کئے گئے عناصر نے کینسر جیسی لاعلاج بیماری کے سیلز کو" سیلف ڈیسٹرائے" یا عام الفاظ میں خودکشی کرنے پر مجبور کردیا۔  کینسر کے رائج علاج کیموتھیراپی سے صرف کینسر ہی نہیں بلکہ صحت مند سیلز بھی فنا ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ نے اس کالے بیج کے اندر "تھائیموکینون " نامی حیرت انگیز کیمیکل رکھا ہے۔ یہ اس قدر ذہین کیمیکل ہے کہ صرف کینسر سیلز کے ڈی این اے پر حملہ کرکے ان میں ایپو پٹوسس نامی عمل شروع کروادیتا ہے۔ جسکی وجہ سے بیمار خُلیے خودکو تباہ کرلیتے ہیں۔ یہی نہیں سُپر بگ جنکی وجہ سے لاکھوں لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں کیونکہ ان پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی۔ جب ان سُپر بَگز پر ان کالے بیجوں سے کشید کردہ تیل ٹپکایا گیا تو اس نے ان ناقابل تسخیر بیکٹیریا کو بھی ختم کرڈالا۔ ان کالے بیجوں کے فعال مرکبات اس قدر تِیر بہدف ہوتے ہیں کہ سیدھا دماغ کے اندر پہنچ کر ان مُردہ نیورانز کو ٹھیک کرتے ہیں جو الزائمر اور دوسری بیماریوں کی وجہ ہوتے ہیں۔ انسانی جسم کا مدافعتی نظام اسے مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے لیکن یہی حفاظتی نظام ہائپر ہوجائے تو " آٹو امیون بیماری" جنم لیتی ہے جو ڈاکٹروں کےلئے ایک ڈراؤنا خواب ہوتی ہے۔ یہ کالا بیج نہ صرف آپ کے امیون سسٹم کو مظبوط بناتا ہے بلکہ اگر وہ ہائپر ہے تو اسے بھی شفا بخشتا ہے۔ 
 اربوں ڈالرز کے بجٹ والے دواساز ادارے آج اپنی بڑی بڑی لیبارٹریوں میں اس کالے بیج پر تجربات کروارہے ہیں اور چودہ سو سال پہلے جب کوئی ایسی ٹیکنالوجی یا آلات نہیں تھے اس وقت ہمارے پیارے آقاؐ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا "اس کالے بیج میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے"۔ نبی کریم ؐ کی زبان سے نکلا ہر لفظ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس لئے یہ کالا بیج جسے کلونجی کہتے ہیں اسے فوری اپنی خوراک میں شامل کریں یہ آپکے اندر کا سارا نظام سیدھا کردینے کی قدرت رکھتا ہے۔  
#news #trending #islamic #hindi کیا آپ نے کبھی سیاہ کلونجی دانہ کھایا ہے؟ام سعدی

اس دور میں انسان کی قدر زیادہ ہے یا پیسے کی 

لوگ ایک دوسرے کو اہمیت کس اعتبار سے دیتے ہیں 

آپ کے جواب کا منتظر ہوں!

Some people’s love exists only in words. When difficult times arrive, their promises disappear before they do. 🌙

کیا اے آئی (AI) انسان کی جگہ لے سکتی ہے؟ — سچ جو کوئی نہیں بتاتا

یہ سوال آج دنیا کے ہر کونے میں پوچھا جا رہا ہے۔ اسکول میں پڑھنے والا طالب علم بھی یہی سوچتا ہے اور تیس سال سے نوکری کرنے والا تجربہ کار شخص بھی یہی ڈر محسوس کرتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اتنا پیچیدہ جتنا ماہرین بنا دیتے ہیں۔ آج میں آپ کو وہ حقیقت بتاؤں گا جو اعداد و شمار (Facts) اور تحقیق (Research) پر مبنی ہے — بغیر کسی مبالغے کے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی (Oxford University) کی ایک مشہور تحقیق (Research) میں بتایا گیا کہ اگلے بیس سالوں میں سینتالیس فیصد (47%) موجودہ نوکریاں آٹومیشن (Automation) کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ یہ سن کر گھبرانا فطری ہے لیکن اسی تحقیق (Research) میں یہ بھی لکھا تھا کہ یہ وہ نوکریاں ہیں جن میں دہرایا جانے والا (Repetitive) کام ہوتا ہے۔ یعنی وہ کام جو ہر روز ایک جیسا ہو، جس میں سوچنے کی ضرورت کم ہو — وہ اے آئی (AI) کر سکتی ہے۔ لیکن جہاں تخلیق (Creativity)، جذبات (Emotions)، رشتے (Relationships) اور انسانی فیصلے (Human Judgment) کی ضرورت ہو — وہاں اے آئی (AI) ابھی تک انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور شاید کبھی نہ کر سکے۔

ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) کی 2024 کی رپورٹ (Report) کے مطابق اے آئی (AI) اگلے پانچ سالوں میں پچاسی ملین (85 Million) نوکریاں ختم کرے گی لیکن ساتھ ہی ستانوے ملین (97 Million) نئی نوکریاں بھی پیدا کرے گی۔ یعنی نیٹ فائدہ (Net Gain) بارہ ملین (12 Million) نوکریوں کا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ نئی نوکریاں ان لوگوں کو ملیں گی جو اے آئی (AI) کے ساتھ کام کرنا جانتے ہوں گے — نہ کہ ان کو جو اس سے ڈر کر بھاگتے رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پرنٹنگ پریس (Printing Press) آئی تو لوگوں نے کہا کتابت کا پیشہ ختم ہو جائے گا — لیکن اس کے بجائے لاکھوں نئے پیشے پیدا ہوئے۔ جب انٹرنیٹ (Internet) آیا تو لوگوں نے کہا دکانیں بند ہو جائیں گی — لیکن ای کامرس (E-Commerce) نے کروڑوں نئے کاروبار کھول دیے۔ اے آئی (AI) بھی یہی کرے گی۔

تو جواب کیا ہے؟ اے آئی (AI) آپ کی جگہ نہیں لے گی — لیکن وہ انسان ضرور آپ کی جگہ لے گا جو اے آئی (AI) استعمال کرنا جانتا ہے۔ یہ ڈر کا وقت نہیں بلکہ سیکھنے کا وقت ہے۔ جو آج تیار ہو جائے گا کل اسی کا ہے۔

کیا آپ کو اے آئی (AI) سے ڈر لگتا ہے یا آپ اسے موقع سمجھتے ہیں؟ 💬 کمنٹ (Comment) میں بتائیں — سچ میں جاننا چاہتا ہوں۔ اگر یہ پوسٹ آپ کو سوچنے پر مجبور کر گئی تو ❤️ لائک (Like) کریں، کسی ایسے دوست کو 🔁 شیئر (Share) کریں جو یہ سوچتا ہے کہ اے آئی (AI) سب کچھ ختم کر دے گی اور 🔔 فالو (Follow) کریں کیونکہ اگلی پوسٹ میں بتاؤں گا کہ اے آئی (AI) کے دور میں اپنی نوکری اور کاروبار (Business) کو کیسے محفوظ رکھیں

#ArtificialIntelligence #AIUrdu #AIJobs #FutureOfWork

#AIvsHumans #TechUrdu #LearnAI #AIForEveryone

#DigitalPakistan #AITools #MachineLearning #ChatGPT

#TechBlog #UrduBlog #AIRevolution #FutureReady

#OnlineEarning #DigitalSkills #AIEducation #TechNews! 🚀

بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں زندگی میں مگر جو غلطیاں لوگوں کو پہچاننے میں ہوتی ہیں ان کا خمیازہ سب سے زیادہ بھگتنا پڑتا ہے۔


تنویر خان ناصر 💕


*معذرت کرنا اس وقت اچھا لگتا ہے جب آپ کسی کے پاوں پہ پاوں رکھ دیں**نا کہ تب جب آپ کسی کا دل اپنے پاوں تلے کچل ڈالیں*

कस्बे की पुरानी दुकानों में से सरदारजी की दुकान थी, जनरल स्टोर, स्पोर्ट्स के सामान और कॉपी-किताब की। एक छोटा लड़का गाँव से प्राइमरी के बाद पढ़ने के लिए कस्बे आया तो पिता ने उसे हॉस्टल में डलवा दिया। सरदारजी से उनकी पुरानी जान-पहचान थी! बच्चे को लेकर दुकान पर पहुँचे....

"मैं तो यहाँ नहीं रहूँगा। पर ये बच्चा अब आपके हवाले है। जिस चीज की जरुरत हो, दे दीजिएगा। हिसाब मैं आने पर करुंगा!"

"आप निश्चिंत होकर जाइये। सामान ही नहीं, पैसे-रुपये से लेकर कोई भी काम हो, मैं हूँ ना!"--सरदारजी ने आश्वस्त किया।

अब लड़के के हफ्ते में दो-चार चक्कर दुकान पर लगने शुरु हो गए। कभी कॉपी-कलम तो कभी टॉफी-बिस्किट तो कभी तेल-साबुन वगैरह!

हाँ, सब सामान ले चुकने के बाद चलते समय बच्चे के हाथ पर दो चॉकलेट धर देते...

"ये मेरी तरफ से!"

लगभग दो दशक बीत गये। पढ़ाई खत्म करने के बाद लड़का, जो युवा हो चुका था, बाहर नौकरी करने लगा!

पर छुट्टियों में जब भी गाँव आता, किसी न किसी काम से कस्बे जाना होता तो सरदारजी की दुकान का एक फेरा जरुर लगाता। वो चीजें, जो गाँव में भी आसानी से मिलती थीं, उन्हें सरदारजी की दुकान से लेता! प्रत्यक्ष तो नहीं कहता पर असल में वो अपने बचपन की यादों को ताजा करने पहुँचता था वहाँ!

उधर सरदारजी!

वो अब भी चलते समय उसके हाथ पर पहले की तरह चॉकलेट धर देते! एक बार तो उसने कहा भी....

"अब मैं बड़ा हो गया हूँ सरदारजी, अब भी चॉकलेट दे रहे हैं?"

सरदारजी ने एक लंबी साँस छोड़ी...

"अच्छे से जानता हूँ बाबू कि तुम यहाँ सामान लेने के बहाने स्मृतियों को ताजा करने आते हो! तुम क्या समझते हो, ये भावना बस तुम्हारे ही अंदर है! क्या उन स्मृतियों को जीने का हक मुझे नहीं! तुम्हारा मेरे यहाँ से सामान लेना और मेरा तुम्हें चॉकलेट देना तो बस एक बहाना मात्र है मिलने का, और ऐसे बहाने बनते रहने चाहिए जिंदगी में! समय के साथ बहुत कुछ छिन गया, पर इसी से कुछ बचा रह जाय तो ये सौदा सबसे मुनाफे का है जीने के लिए!"*

https://qph.cf2.quoracdn.net/main-qimg-5616677aec1534dc7a129e9d500e619a" style="border-style: none; cursor: default; display: block; box-sizing: border-box; max-width: 100%; margin-left: auto; margin-right: auto; user-select: text !important;">

Pull down to refresh