بڑا کیوں سوچنا چاہیے؟ اس کی تین وجوہات ہیں!
پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ سے بڑا نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ اپنی سوچ کے برابر ہوتا ہے۔ اگر آپ چھوٹا سوچتے ہیں تو زندگی آپ کو چھوٹے مواقع، چھوٹے خواب، چھوٹے مقاصد اور چھوٹی کامیابیاں دیتی ہے۔ لیکن جس دن آپ بڑا سوچنا شروع کرتے ہیں، اسی دن دنیا آپ کے لیے اپنا نقشہ بدلنا شروع کر دیتی ہے۔ راستے وہی رہتے ہیں، مگر آپ کی نظر بدل جاتی ہے۔ وقت وہی رہتا ہے، مگر آپ اس کا استعمال بدل دیتے ہیں، اور یہی تبدیلی آپ کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
بڑا سوچنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑے خواب انسان کے اندر بڑی ہمت پیدا کرتے ہیں۔ بڑا سوچنے والا ناکامی سے نہیں گھبراتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بڑے مقصد کی طرف بڑھتے ہوئے اگر وہ گر بھی گیا تو وہاں پہنچے گا جہاں چھوٹی سوچ والے پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بڑے خواب صرف بڑی منزلیں نہیں دیتے، وہ انسان کے اندر ایک نیا انسان بھی پیدا کرتے ہیں۔
اور تیسری وجہ سب سے حیران کن ہے۔ بڑا سوچنے سے پہلے دنیا نہیں بدلتی، آپ بدلتے ہیں۔ آپ کی سوچ بدلتی ہے، سوچ سے عادتیں بدلتی ہیں، عادتوں سے فیصلے بدلتے ہیں، فیصلوں سے ماحول بدلتا ہے، اور پھر ماحول آپ کی قسمت بدل دیتا ہے۔ لوگ قسمت کو اتفاق سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑی قسمت اکثر ایک بڑے خیال سے جنم لیتی ہے۔
محرک چینل کی آج کی ویڈیو اسی فلسفے پر مبنی ہے۔ یہ ویڈیو آپ کو دعوت دیتی ہے کہ پانچ کروڑ کا سوچیں، پانچ کروڑ کا ہدف بنائیں، اور پھر پانچ کروڑ کما کر دکھائیں۔ کیونکہ جب ہدف بڑا ہوتا ہے تو انسان بھی بڑا ہو جاتا ہے اور پھر وہ سب کچھ کر جاتا ہے۔
ویڈیو کا لنک کمنٹس میں موجود ہے۔
اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ
خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ
کہہ تو سکتا ہوں مگر مجبور کر سکتا نہیں
اختیار اپنی جگہ ہے بے بسی اپنی جگہ
کچھ نہ کچھ سچائی ہوتی ہے نہاں ہر بات میں
کہنے والے ٹھیک کہتے ہیں سبھی اپنی جگہ
صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں
خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ
دوست کہتا ہوں تمہیں شاعر نہیں کہتا شعورؔ
دوستی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگ
(انور شعور)
پاکستانی اور ڈر
پاکستانیوں میں ڈر نام کی چیز نہیں ہے
اور ڈر ہونا چاہئے
1 گھر کا راشن خریدنا ہے ادھاری پہ مل جائیگا
2 اسکولوں کی فیس دینی ہے 2= 3 مھینی بعد میں دینگے یا قسطوں میں ادا کردی گئی
3 مدارس کی تعلیم فری ہے اور فری چیز کی قدر کوئی نہیں کرتا
4 قانون کا ڈر نہیں
5 ہمارا پورا ملک اور عوام تقریباً قرضوں پر کھڑی ہے کوئی محنت نہیں کرنا چاہتا بس جگاڑ لگانے میں لگے ہیں
جب تک پاکستانیوں میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا ڈر نہیں ہوگا تب تک طرقی نا ممکن ہے
مسائل کو مواقع کے طور پر دیکھیں
زندگی میں ہر انسان کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ مسائل کو رکاوٹ سمجھ کر ہمت ہار جاتے ہیں، جبکہ کامیاب لوگ انہی مسائل کو مواقع میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ درحقیقت، ہر مسئلہ اپنے ساتھ ایک نیا سبق، نئی مہارت اور ترقی کا ایک نیا راستہ لے کر آتا ہے۔
جب ہم کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارا پہلا ردعمل اکثر پریشانی اور مایوسی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنا نقطۂ نظر بدل لیں اور یہ سوچیں کہ اس مسئلے سے ہمیں کیا سیکھنے کو مل سکتا ہے، تو یہی مسئلہ ہماری کامیابی کا سبب بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بہت سے کامیاب افراد نے اپنی زندگی کی بڑی کامیابیاں مشکلات کے بعد حاصل کیں۔
مثال کے طور پر، اگر کسی طالب علم کو امتحان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اسے اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور مزید محنت کرنے کا موقع بنا سکتا ہے۔ اسی طرح کاروبار میں ہونے والا نقصان ایک تاجر کو بہتر منصوبہ بندی اور نئے طریقوں سے کام کرنے کا سبق دے سکتا ہے۔
مسائل ہمیں صبر، استقامت، تخلیقی سوچ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سکھاتے ہیں۔ اگر زندگی میں کبھی مشکلات نہ آئیں تو شاید ہم اپنی حقیقی صلاحیتوں کو کبھی نہ پہچان سکیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر چیلنج کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کامیابی کا راستہ مسائل سے خالی نہیں ہوتا۔ فرق صرف سوچ کا ہوتا ہے۔ جو لوگ مسائل میں مواقع تلاش کرنا سیکھ لیتے ہیں، وہی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں اور اپنی منزل حاصل کرتے ہیں۔ لہٰذا آئندہ جب بھی کوئی مسئلہ سامنے آئے، اسے ایک رکاوٹ نہیں بلکہ ترقی کے ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں۔
Pull down to refresh