userPic

Fizawarraich6

@username

No bio available.

26
Posts
17
Followers
5
Following
Fizawarraich6shared fromIhsan Ullah's post

 تین چیزیں کمزوری نہیں، بلکہ آپ کی طاقت ہیں۔


اس تحریر کے آخر تک میں تمہیں قائل (Convince) کر دوں گا کہ جن تین چیزوں کو تم اپنی کمزوری سمجھتے ہو، حقیقت میں وہی تمہاری طاقت ہیں۔

1۔ پرسکون دماغ (Controlled Chaos)


تمہاری پہلی خوبی یہ ہے کہ تم زندگی کی ہر مشکل سچویشن (Situation) میں پرسکون رہتے ہو۔تمہارا پارٹنر، تمہارا بھائی یا تمہارا دوست... اکثر تم سے کہتے ہوں گے: "تم لڑتے کیوں نہیں ہو؟ کچھ بولتے کیوں نہیں ہو؟"لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم اس لیے خاموش رہتے ہو کیونکہ تم نے اپنے دماغ کو پرسکون رکھنا سیکھ لیا ہے۔جہاں پینک (Panic) والی سچویشن میں سب کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں، تم وہاں خاموشی سے حالات کو آبزرو (Observe) کر رہے ہوتے ہو۔ اور جب باقی سب لوگ ہاتھ کھڑے کر دیتے ہیں، تب تم اپنا وہ پلان اور فیصلہ سامنے رکھتے ہو جو سب کے کام آتا ہے۔اگر تم اس بات کو سمجھنا چاہتے ہو، تو John Wick کو دیکھ لو۔ مشکل سے مشکل وقت میں بھی وہ گھبراتا نہیں، پہلے حالات کو سمجھتا ہے اور پھر صحیح فیصلہ کرتا ہے۔

2۔ ضرورت سے زیادہ معلومات (Infinite Void)


دوسری چیز یہ ہے کہ کئی بار تم لوگوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتے ہو، اور بعد میں اکیلے بیٹھ کر سوچتے ہو: "ارے یار، میں نے سامنے والے کو اپنے سارے راز کیوں بتا دیے؟"لیکن میرے پیارے دوست، تم نے اسے سب کچھ نہیں بتایا، بلکہ تم نے سامنے والے کو اوور انفارمیشن (Over-information) دے دی ہے۔سائیکالوجی کہتی ہے کہ جب تم کسی کو ضرورت سے زیادہ معلومات سے بھر دیتے ہو، تو اس کا دماغ یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ تمہارا اصل کریکٹر (Actual Character) کیا ہے۔اور جب وہ یہ جان ہی نہیں پائے گا کہ تم اصل میں کون ہو، تو نہ وہ تمہیں مینیپولیٹ (Manipulate) کر سکے گا اور نہ ہی تمہاری کمزوری کو سمجھ پائے گا۔اس لیے دنیا کو سب کچھ بتانے کے بعد اوور تھنکنگ مت کرنا، کیونکہ اوور انفارمیشن کی وجہ سے اب اوور تھنکنگ کرنے کی باری دنیا کی ہے۔اس کی آسان مثال ایک شانت انسان ہے، جسے لوگ آسانی سے سمجھ نہیں پاتے۔

3۔ درد میں مسکرانا (Smiling in Darkness)


تیسری خوبی، جو میری فیورٹ ہے، درد میں مسکرانا ہے۔جب زندگی کی سب سے مشکل سچویشن (Situation) آتی ہے، یا ایسا وقت آتا ہے جب بہت زیادہ تکلیف ہو اور رونا چاہیے، تب تم اچانک مسکرانے لگتے ہو۔اگر تم آج تک اس چیز کو اپنی کمزوری سمجھتے تھے، تو یہ تمہاری بھول ہے۔ یہ ایک بہت طاقتور خوبی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے سامنے والا تمہارے ایموشنز (Emotions) کبھی نہیں سمجھ پاتا۔وہ یہ اندازہ ہی نہیں لگا سکتا کہ کون سی چیز تمہیں تکلیف دیتی ہے اور کون سی چیز تمہیں خوش کرتی ہے، کیونکہ تم تو درد میں بھی مسکرا دیتے ہو۔اگر تم ان تینوں چیزوں کو اپنی کمزوری سمجھ رہے تھے، تو میں تمہیں بتا دوں کہ یہ ساری خوبیاں ایک Samurai کے اندر ہوتی ہیں۔اپنے دماغ کو اتنا پرسکون کرنے اور ہر سچویشن (Situation) میں مسکرانے کے لیے لوگوں کو مہینوں کی محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن مبارک ہو، یہ خوبی تمہارے اندر پہلے سے موجود ہے۔
اگر یہ بات تمہیں Relatable لگی ہو تو کمنٹ ضرور کرنا، اور ایسی ہی مزید تحریروں کے لیے فالو کر لینا۔#Mrihsan 
Fizawarraich6shared fromJavaid Temuri's post
Kitchen Free Theory 
Fizawarraich6shared fromAbdul rehman 's post
ضروری نہیں کہ حاسد آپ کی ناکامی کی دعائیں مانگے۔ وہ بس یہ چاہتا ہے کوئی اس سے زیادہ کامیاب نہ ہو یا جو اس کے پاس نہیں وہ کسی اور کے پاس بھی نہ ہو۔ اپنوں بیگانوں سے وصول ہونے والی مبارکبادوں کو بھی وقت کے ساتھ پرکھنا سیکھیں ۔ جو یہ ہنر سیکھ لیتا ہے وہ بے نیاز زندگی بسر کر لیتا ہے۔
my favorite dish or Apki
Fizawarraich6shared fromMuhammad Bilal Khan's post
دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیکسے ہوتی ہیںآپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھےامریکہ کی بڑی بڑی كمپنياں دنیا میں دل کے مریضوں کو اربوں کی دوا (heart patients) فروخت کر رہی ہیں
لیکن اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر کہے گا (angioplasty) (اےنجيوپلاسٹي) كرواؤ
اس آپریشن میں ڈاکٹر دل کی نالی میں ایک spring ڈالتے ہیں جسے stent کہتے ہیںیہ stent امریکہ میں بنتا ہےاور اس کا (cost of production) صرف 3 ڈالر (روپیہ750 یا 850) ہےاسی stent کو پاک و ہند میں لاکر 3 یا 5 لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہےاور آپ کو لوٹا جاتا ہےڈاکٹروں کو ان روپوں کا commission ملتا ہے اسی لیے وہ آپ سے بار بار کہتا ہے کہ angioplasty كرواؤCholestrol، BP ya heart attackآنے کی اہم وجہ ہے، Angioplasty آپریشنیہ کبھی کسی کا کامیاب نہیں ہوتاكيونکہ ڈاکٹر جو spring دل کی نالی میں رکھتا ہے وہ بالکل pen کی spring کی طرح ہوتی ہےکچھ ہی مہينوں میں اس spring دونوں سائیڈوں پر آگے اور پیچھےblockage (cholestrol And fat) جمع ہونا شروع ہو جاتا ہےاس کے بعد پھر آتا ہے دوسرا heart attack (ہارٹ اٹیک)ڈاکٹر کہتا هے دوبارہ angioplasty كرواؤآپ لاكھوں روپے لٹاتے ھیں اور آپ کی زندگی اسی میں نکل جاتی ھے
اب پڑھیں اس آئرود کا علاجادرک (ginger juice)اس خون کو پتلا کرتا ھےیہ درد کو قدرتی طریقے سے نوے فیصد تک کم کرتا هے
لہسن (garlic juice)اس میں موجود allicin عنصر cholesterol اور BP کو کم کرتا ھےوہ دل کے بلوکج کو کھولتا ھے
لیموں (lemon juice)اس میں موجود antioxidants، vitamin C اور potassium خون کو صاف کرتے ہیںیہ بیماری کے خلاف مزاحمت (immunity) بڑھاتے ہیں
ایپل سائڈر سرکہ (apple cider vinegar)اس میں نوے قسم کے عناصر ہیں جو جسم کے سارے اعصاب کو کھولتے ھیں، پیٹ صاف کرتے ہیں اور تھکاوٹ کو مٹاتے ہیں
ان مقامی اشیاء (یعنی چیزوں) کو اس طرح استعمال میں لایئں
1-ایک کپ لیموں کا رس لیں.2-ایک کپ ادرک کا رس لیں.3-ایک کپ لہسن کا رس لیں.4 ایک کپ ایپل سیب کا سرکہ 
ان چاروں کو ملا کر دھيمي آنچ پر گرم کریں جب 3 کپ رہ جائے تو اسے ٹھنڈا کر لیں
اب آپاس میں تین کپ شہد ملا لیںروز اس دوا کے تین چمچ صبح خالی پیٹ لیں جس سے سارےساری بلوکج ختم ہو جائیں گییعنی شریانیں کھل جائینگی  إنشاء اللہ 
آپ سب سے درخواست ہے کہ اس میسج کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں تاکہ سب اس دوا سے اپنا علاج کر سکیںجزاک اللہ خیرا  ذرا سوچیں کہ شام کےسات بجے ھیں اور آپ گھر جا رہے ھیں وہ بھی بالکل اکیلےایسے میں اچانک آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ھوتا ہوا آپجبڑوں تک پہنچ جاتا ہے آپ اپنے گھر سے سب سے قریب ہسپتال سے پانچ میل دور ہیں اور اتفاق سے آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ وہاں تک پہنچ پائیں گے یا نہیںآپ نے سی پی آر میں تربیت لی ہے مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کس طرح کرنا ہےایسے میں دل کے دورے سے بچنےکے لئے یہ اقدامات کریں 
چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس صرف دس سیکنڈ ہوتے ہیں .ایسی حالت میں مبتلا شخص زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہےایک زور کی سانسلینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلےاور کھانسی اتنی تیز ہو کہ سینے سے تھوک نکلے
جب تک مدد نہ آئے یہعمل دو سیکنڈ کے وقفے سے دہرایا جائے تاکہ دھڑکن عامہو جائےزور کی سانسیں پھیپھڑوں میںآکسیجن پیدا کرتی ہےاور زور کی کھانسی کی وجہدل سكڑتا ہے جس سےخون سنچالن باقاعدگی سےچلتا ہے
Fizawarraich6shared fromCh usman sarwar's post
اپنی نیندیں قربان کرکے تہجد اور نماز فجر کیلئے اٹھنے والو اللہ تعالیٰ آپکی تمام نیک حاجتیں پوری فرمائے 🤲 آمین
Fizawarraich6shared frommaham usama's post

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

           (علامہ اقبال)

Fizawarraich6shared fromAbdul Majid Awan's post

ہمارا تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا مستقبل۔۔۔۔ (دردِ دل کیساتھ لکھی اس تحریر کو لازمی پڑھیں)

✒️عبدالماجد اعوان

جب میں اپنے اردگرد پھیلے نام نہاد تعلیمی اداروں اور ان سے نکلنے والی نسلوں کے کھوکھلے پن پر نظر دوڑاتا ہوں تو دل ایک عجیب کرب اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک باشعور ذہن اور لیڈرشپ کا وژن رکھنے والا انسان اس بوسیدہ نظام سے کبھی مطمئن نہیں ہو سکتا۔

آج ہم جس سراب کو تعلیم سمجھ کر اپنی نسلوں کے رگ و پے میں اتار رہے ہیں، وہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو ان کی روح کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور انہیں مادیت کے اندھے غاروں میں دھکیل رہا ہے۔۔۔

ہمارے یہ تعلیمی ادارے اب علم کی وہ نرسریاں نہیں رہے جہاں کردار کی آبیاری ہوتی تھی، بلکہ یہ ایک ایسی اندھی دوڑ کی فیکٹریاں بن چکے ہیں جہاں بچوں کو علم کی پیاس نہیں بلکہ محض نمبروں کی ہوس سکھائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں طالب علم ، علم کی تقدیس اور اس کی برکت سے مکمل محروم ہو چکا ہے۔

​یہ المیہ کتنا گہرا ہے کہ ڈگریوں کے انبار تو لگ رہے ہیں لیکن وہی تعلیم یافتہ نوجوان اپنے سے بڑے کے مرتبے سے ناواقف اور بزرگوں کے مقام سے لا علم ہو چکا ہے، کیونکہ اس کی تربیت میں ادب کا عنصر مفقود اور انا کا بت بلند کر دیا گیا ہے۔

آج کے طالب علم کے سینے میں اللہ کا خوف اور اس کی خشیت پیدا ہونے کے بجائے صرف دنیا کی ہوس اور مادی کامیابیوں کا جنون بسا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ دین کی آفاقیت اور فطرت کی سادگی و خوبصورتی سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔

اس کھوکھلے تعلیمی نظام کا سب سے کرب ناک اور زہریلا پہلو وہ مجرمانہ ذہنیت ہے جو نمبروں کی اس اندھی دوڑ نے ہماری نئی نسل میں راسخ کر دی ہے۔ جب کامیابی کا واحد معیار صرف مارکس شیٹ پر چھپے ہوئے چند ہندسے قرار پائے، تو علم کی پیاس دم توڑ دیتی ہے اور نقل جیسا قبیح فعل جرم کے بجائے ایک ہنر، ایک ضرورت، اور آخر کار ایک حق سمجھ لیا جاتا ہے۔

المیہ یہ نہیں کہ بچے نقل کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وہ اس سنگین اخلاقی جرم کو اپنے لیے جائز تسلیم کر چکے ہیں۔ ان کا یہ جھوٹا اور فریب کارانہ جواز کہ نظام خراب ہے، مقابلہ سخت ہے، یا سبھی ایسا کرتے ہیں، دراصل ان کے ضمیر کی موت اور مکمل اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔

یہیں سے وہ بدعنوانی (Corruption) کا پہلا سبق سیکھتے ہیں، جہاں وہ خود کو دھوکا دینا جائز سمجھتے ہیں۔ آپ اس حقیقت کو مان جائیں کہ ہم ڈگریاں تو بانٹ رہے ہیں، لیکن ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کی بنیاد ہی جھوٹ، فریب اور شارٹ کٹس پر رکھی گئی ہے، جو آگے چل کر پورے معاشرے کی رگوں میں زہر گھولنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔

میرے مشاہدے اور علم کے مطابق جب تعلیم کا مرکز و محور صرف مادہ رہ جائے تو روح پیاسی مر جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان اپنے بیک گراؤنڈ کا رعب جھاڑنے اور اساتذہ کو، جو کبھی روحانی باپ کا درجہ رکھتے تھے، محض ایک 'دو ٹکے کی شے' اور سروس پرووائیڈر سمجھنے کی روش پر فخر محسوس کرتا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ جہاں ادب اور خالقِ کائنات کی پہچان کا جنازہ اٹھ جائے، وہاں علم کا نور کبھی داخل نہیں ہو سکتا۔

دوستو! ​حقیقی تعلیم تو ایک ایسا طوفان ہے جو انسان کے اندر چھپے ہوئے اس شعور کو بیدار کرتی ہے جو اسے ہجوم سے نکال کر ایک باکردار لیڈر بناتا ہے، جس کا مقصد صرف اپنا پیٹ بھرنا نہیں بلکہ پوری امت کا احساس اور ملک و ملت کا درد اپنے وجود میں سمونا ہوتا ہے۔

تعلیم کا اصل کام تو انسان کے اندر وہ تڑپ اور جنون پیدا کرنا ہے جو اسے فطرت سے جوڑ دے اور اسے اللہ کے سامنے جوابدہی کے احساس سے لرزا دے، مگر افسوس کہ ہمارے ادارے صرف ایسے پرزے تیار کر رہے ہیں جن کے اندر دنیا ہی دنیا ہے اور آخرت کا کوئی تصور نہیں۔ اس سنگین صورتحال کا حل محض چند اصلاحات یا لفظی تبدیلیوں میں نہیں چھپا، بلکہ یہ ایک بہت بڑی نظریاتی محنت اور بے پناہ قربانیوں کا متقاضی ہے، جس کے لیے ہمیں اپنی آسائشیں اور پرانے ڈھب قربان کرنے ہوں گے۔

​ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر ہم نے آج اس گلے سڑے نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک ایسا ٹھوس فریم ورک نہ دیا جو علم کو دوبارہ شعور، ایمان اور کردار سے جوڑ سکے، تو یہ معاشرہ درندوں کی بستی بن جائے گا جہاں ہر طرف بھیڑیے تو ہوں گے مگر مظلوموں کو بچانے والا کوئی مسیحا نہیں ہوگا۔

اگر ہم نے اب بھی شعوری بغاوت نہ کی اور تعلیم کی اصل روح یعنی خوفِ خدا اور خدمتِ خلق کو زندہ نہ کیا، تو کل ہماری آنے والی نسلیں صرف ڈگری یافتہ جاہل کہلائیں گی جن کے پاس صرف دماغ ہو گا اور دل کی روشنی سے وہ بالکل محروم ہوں گی۔

یہ تمام صورتحال اور منظر اور وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس نظامِ باطل کو بدلو، ورنہ تاریخ کے کٹہرے میں ہماری خاموشی اور بے عملی کا انجام نہایت بھیانک ہوگا۔


Fizawarraich6shared fromYousuf Siddiqui's post
میں نے سیکھا ہے کہجتنے کم لوگ آپ کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں،اتنا ہی سکون رہتا ہے۔ہر خوشی پوسٹ نہیں کی جاتی،ہر کامیابی سنائی نہیں جاتی،اور ہر دعا بتائی نہیں جاتی۔کیونکہ سچ یہی ہے…جو چیز چھپی رہتی ہے،لوگ اُس پر کم نظر لگاتے ہیں۔
Fizawarraich6shared fromHassan Raza's post
پاکستان میں بیماریاں تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہیں؟نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابقنظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق بیماری اچانک پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ جسم کے اعضاء میں آہستہ آہستہ بگڑنے والے مزاج، غلط غذاؤں اور خراب طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج پاکستان میں بیماریاں تیزی سے بڑھنے کی بڑی وجوہات یہ ہیں:بے وقت کھانافاسٹ فوڈ اور بازاری غذاؤں کا زیادہ استعمالٹھنڈے مشروبات اور مصنوعی چیزیںجسمانی حرکت اور ورزش کی کمیرات دیر تک جاگناذہنی دباؤ، غصہ اور بے سکونیاور قدرتی غذاؤں سے دورییہ تمام چیزیں جسم کے مختلف اعضاء کے مزاج کو خراب کرتی ہیں۔مثال کے طور پر:غلط اور گرم غذائیں جگر اور صفرا کی گرمی بڑھاتی ہیں۔مسلسل ذہنی دباؤ دماغ اور اعصاب میں خشکی پیدا کرتا ہے۔سستی اور بے حرکتی معدہ اور عضلات کو کمزور کرتی ہے۔مصنوعی اور بے جان غذائیں خون اور رطوبات کو خراب کرتی ہیں۔پھر یہی خرابیاں آہستہ آہستہ:شوگر،بلڈ پریشر،موٹاپا،معدے کے مسائل،جلدی بیماریاں،اعصابی کمزوری،اور ذہنی دباؤ جیسی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔یعنی نظریۂ مفرد اعضاء کے مطابق:“جب غذا، نیند، عادات اور طرزِ زندگی فطرت کے خلاف ہو جائیں، تو جسم کے اعضاء اپنا توازن کھو دیتے ہیں، اور یہی بیماریوں کے پھیلنے کی اصل وجہ بنتا ہے۔”صحت صرف دوا سے نہیں،بلکہ درست غذا، متوازن مزاج اور فطری زندگی سے واپس آتی ہے۔۔ Pak Health System فطری طریقہ علاج ہے، جو آپکو کسی بھی طرح کی گھمبیر بیماری سے نکلنے میں مدد کرے گا