Live Audio

Unfortunately… We live amongst dangerous, jealous and evil people with friendly faces
کیا آپ بھی اپنی ضرورتوں کے لیے بندوں کی طرف دیکھتے ہیں؟ یاد رکھیں، دینے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ 'یا غنیُ' (Ya Ghani) کا مطلب ہے وہ ذات جو سب سے بے نیاز ہے اور سب کو غنی کرنے والی ہے۔ جو شخص چلتے پھرتے اس نام کا ورد کرتا ہے، اللہ اسے کبھی لوگوں کا محتاج نہیں ہونے دیتا اور اسے ایسی جگہ سے عطا کرتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ اپنی پیشانی کو صرف ایک در پر جھکائیں اور آج سے ہی اس نام کو اپنا معمول بنا لیں۔
یہ ایک بے لگام معاشرہ ہے جہاں تم اپنے خاموش رہنے پر بھی مجرم ٹھہرائے جاتے ہو
-وقت گزاری کے لیے کسی بھی چیز کا انتخاب کر لینا  مگر کسی کی بیٹی کا مت کرنا کیونکہ عورت کمزور ہو سکتی ہے مگر عورت بنانے والا نہیں
تمہاری دعائیں تمہیں نہیں بچا سکتیں اگر تمہاری زبان دوسروں کو تباہ کرتی ہے
Irfan Alee Saiyad shared fromMera kakar 's post
اگر دیر کا مطلب انکار ہوتا، تو اللہ۔سبحانہٰ و تعالیٰ حضرت یعقوبؑ کو برسوں بعد حضرت یوسفؑ سے نہ ملواتے۔ بعض اوقات تاخیر محرومی نہیں ہوتی، بلکہ بہترین وقت پر عطا ہونے والی رحمت ہوتی ہے۔
Irfan Alee Saiyad shared fromManan Arshad Mughal's post
ذہنی طور پر مضبوط کیسے بنیں
Irfan Alee Saiyad shared fromManan Arshad Mughal's post
معیار کو تعداد پر ترجیح دیں۔۔۔۔
آئی زنجیر کی جھنکار ۔۔۔ 
گزشتہ روز گکھڑ منڈی، ضلع گوجرانوالہ میں چند نوجوانوں نے مبینہ طور پر ایک بدمعاش گروہ تشکیل دیا اور سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام نوجوانوں کو گرفتار کر لیا، ان کے سر منڈوائے اور بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک معمول کا قانون نافذ کرنے والا واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے کئی ایسے پہلو ہیں جو سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس واقعے کا پہلا پہلو انسانی حقوق اور انسانی وقار سے متعلق ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر نوجوانوں نے جرم کیا تھا تو انہیں قانونی سزا دی جانی چاہیے تھی، لیکن کیا ان کے سر منڈوا کر عوامی سطح پر ان کی تذلیل کرنا بھی قانون کا حصہ ہے؟ کیا یہ اقدام ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں؟دوسرا پہلو قانون و نظم سے متعلق ہے۔ اگر واقعی یہ نوجوان غنڈہ گردی اور بدامنی میں ملوث تھے تو ریاست کا فرض تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کرتی۔ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کی عملداری ناگزیر ہے۔ اگر ایسے رویوں کی بروقت روک تھام نہ کی جائے تو یہی نوجوان آگے چل کر چوری، ڈکیتی یا دیگر جرائم کی طرف بھی مائل ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اپنی جگہ درست اور ضروری ہے۔
لیکن اس واقعے کا تیسرا اور شاید سب سے المناک پہلو ہمارے معاشرے کی مجموعی اخلاقی اور سماجی صورتحال ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم کس سمت جا رہے ہیں؟ حکمرانوں سے لے کر عام شہریوں تک، ہر سطح پر اخلاقی زوال، بداعتمادی اور ناانصافی کے احساس نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔ ایک طرف بجٹ میں اشرافیہ کے لیے مراعات اور آسائشوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف عام آدمی کے حصے میں مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، جرائم، عدم تحفظ اور معاشی بے یقینی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی جشن کا موقع نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ اب انہی نوجوانوں کو دیکھ لیجیے۔ کیا ان کے سر منڈوا دینے سے وہ اصلاح پا جائیں گے؟ شاید نہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ ان کے دلوں میں ریاست اور معاشرے کے خلاف مزید نفرت اور بغاوت پیدا ہو۔ یہ بغاوت صرف سزا کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ اس احساس کی وجہ سے ہوگی کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں ہے۔ جب ایک بااثر شخص کا بیٹا سنگین جرم میں ملوث ہو اور اسے قانونی رعایتیں مل جائیں، جب طاقتور خاندانوں کے افراد احتساب سے بچ نکلیں، جب بڑے پیمانے کی کرپشن کرنے والوں کے لیے قانون نرم ہو جائے، لیکن غریب گھرانے کا نوجوان معمولی جرم پر نہ صرف سزا پائے بلکہ عوامی تذلیل کا بھی نشانہ بنے، تو پھر انصاف کے نظام پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔
مسئلہ صرف سزا کا نہیں، بلکہ انصاف کے یکساں اطلاق کا ہے۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہو، اگر طاقتور اور کمزور دونوں کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے، اگر بااثر افراد کے بچوں کو بھی وہی سزا ملے جو عام آدمی کے بچوں کو ملتی ہے، تو پھر ایسی کارروائیوں پر کم ہی اعتراض ہوگا۔ لیکن جب معاشرے میں دوہرے معیار کا تاثر پیدا ہو جائے تو ہر سزا انتقام محسوس ہونے لگتی ہے اور ہر کارروائی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جاتی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت سخت سزاؤں میں نہیں بلکہ غیر جانبدار انصاف میں ہوتی ہے۔ قانون کا احترام وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عوام یہ یقین رکھتے ہوں کہ قانون امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور، سب کے لیے یکساں ہے۔ بصورت دیگر ایسے واقعات عوام اور خواص کے درمیان موجود فاصلے کو مزید بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں محرومی، نفرت اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ان نوجوانوں کو سزا ملنی چاہیے تھی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظامِ انصاف ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کے لیے تیار ہے؟تحریر Beenish Iftikhar

ہر پودے کی اونچائی سے زیادہ گہرائی ہوتی ہے ۔

اس لیے یہ ایسے حالات میں بھی زندہ رہتا ہے جہاں وہ اپنا سہارا کھو بیٹھتا ہے۔

اپنا گہری جڑوں والا سپورٹ سسٹم بنائیں تاکہ کوئی آپ کو اکھاڑ نہ سکے۔

Pull down to refresh