Live Audio

السلام علیکم دوستو !

صبح بخیر ؛ ایک نیا دن اور زندگی کے پڑاؤ کی ایک نئی منزل مبارک ہو ـ

ایک نئے عزم اور نئے حوصلے کے ساتھ دن کا آغاز کیجئے گا ؛ کامیابی آپ کی منتظر ہے ۔۔۔۔۔

اپنے سفر کو ہر حال میں جاری رکھئے گا ـ آپ نے کسی بھی حال میں رکنا نہیں ہے ـ راستہ کٹھن اور منزل دشوار ہے مگر قدم قدم چل کر ہی آپ اپنی منزل تک پہنچ پائیں گےاور مجھے امید ہے کہ ایسا ضرور ہو گا ۔۔۔۔۔

بے شک دنیا سے ہار جائیں مگر خود سے کبھی نہ ہاریں ـ اگر آپ خدا نخواستہ خود سے ہار بیٹھے تو زندگی کا مقصد ہی ختم ہو جائےگا ۔۔۔

خود پر بھروسا اور اللہ تعالیٰ پر توکل آپ کی شاندار کامیابی کے یقینی سہارے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔

میری دعائیں آپ کے ساتھ رہیں گی ۔۔۔

خوش اور سلامت رہئیے گا

ټولنه د مختلفو رنګونو، فکرونو، نظریاتو او حیثیتونو نه جوړه ده.راځۍ چي یو بل ته درناوې او احترام ورکړو، ترڅو د فکر او نظر اختلاف د ویش او نفاق سبب نه، بلکې د اصلاح او پرمختګ سبب وګرځي. 🤝
#احترام #یووالی #ټولنه #پرمختګ
آج انسان ھی انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ھے۔انسانیت کو بچانا ھے تو انسان کی قدر کرنا سیکھو۔

خون کی کمی (Anemia) — خاموش بیماری جو جسم کی طاقت چھین سکتی ہے

خون کی کمی یا انیمیا ایک عام طبی مسئلہ ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم میں سرخ خون کے خلیات (Red Blood Cells) یا ہیموگلوبن کی مقدار معمول سے کم ہو جائے۔ ہیموگلوبن جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے، اس لیے اس کی کمی پورے جسم پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

خون کی کمی کیوں ہوتی ہے؟

خون کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • آئرن (Iron) کی کمی
  • غیر متوازن غذا
  • وٹامن B12 یا فولک ایسڈ کی کمی
  • زیادہ خون ضائع ہونا
  • حمل
  • بعض دائمی بیماریاں
  • آنتوں میں غذائی اجزاء کے جذب ہونے میں خرابی

خون کی کمی کی علامات

ابتدائی مراحل میں علامات واضح نہیں ہوتیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ شکایات سامنے آ سکتی ہیں:

  • مسلسل تھکاوٹ
  • کمزوری
  • چکر آنا
  • سانس پھولنا
  • دل کی دھڑکن تیز ہونا
  • چہرے کی زردی
  • ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہنا
  • توجہ اور یادداشت میں کمی

خواتین میں خون کی کمی

خواتین میں خون کی کمی نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے، خاص طور پر:

  • ماہواری کے دوران زیادہ خون آنے کی صورت میں
  • حمل کے دوران
  • غذائی کمی کی وجہ سے

اسی لیے خواتین کو اپنی خوراک اور صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

خون بڑھانے والی غذائیں

صحت مند خون کیلئے متوازن غذا بہت ضروری ہے۔

مفید غذائیں:

  • پالک اور سبز پتوں والی سبزیاں
  • چقندر
  • دالیں
  • انڈے
  • گوشت
  • کھجور
  • کشمش
  • انار

وٹامن C والی غذائیں آئرن کے جذب میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ہومیوپیتھی کا نقطۂ نظر

ہومیوپیتھی میں مریض کی مجموعی علامات، کمزوری کی نوعیت، بھوک، نیند اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بعض افراد خون کی کمی سے متعلق کمزوری اور تھکن میں ہومیوپیتھی سے معاونت حاصل کرتے ہیں۔

تاہم خون کی کمی کی اصل وجہ جاننے کیلئے خون کے ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • متوازن غذا استعمال کریں
  • آئرن سے بھرپور غذائیں کھائیں
  • طبی معائنے کرواتے رہیں
  • پانی مناسب مقدار میں پئیں
  • ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس استعمال کریں

کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟

اگر:

  • شدید کمزوری محسوس ہو
  • سانس پھولنے لگے
  • بار بار چکر آئیں
  • دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو
  • چہرہ بہت زرد نظر آئے

تو فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔

اختتامیہ

خون کی کمی ایک عام مگر اہم مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص، مناسب غذا اور درست علاج کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ صحت مند خون، فعال جسم اور بہتر زندگی کی بنیاد ہے۔

اگلے بلاگ کا موضوع:

"ہائی کولیسٹرول — دل کی صحت کا خاموش دشمن"۔

نصیر الدین

رجسٹرڈ ھومیو پیتھک ڈاکٹر

آج 1 جون 2026 کو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت 87 ڈالر ھے ۔ ایک ڈالر پاکستان کے 279 روپے کے برابر ھے ۔ اگر ہم ایک بیرل تیل کی قیمت پاکستانی روپوں میں معلوم کرنا چاہیں  تو ہم 87 کو 279 سے ضرب دینگے ۔۔۔۔279 × 87 = 24273ایک بیرل میں 159 لیٹر تیل ہوتا ھے ۔ اگر ہم ایک لیٹر تیل کی قیمت معلوم کرنا چاہیں ۔ تو 24273 کو 159 پر تقسیم کرینگے ۔۔۔24273/159 =  152.66اس کا مطلب بین الاقوامی منڈی سے پاکستان کو ایک لیٹر تیل 152.66 روپے کا مل رہا ھے ۔۔۔۔آپ اس پر دوسرے اخراجات ڈال کر فرض کرلیتے ہیں کہ پٹرول  پمپ میں یہ تیل 200 روپے فی لیٹر پڑ رہا ھے ۔اور عوام کو  381 روپے میں فروخت کیا جارہا ھے ۔ یعنی ہر لیٹر پر حکومت کے خزانے میں 181 روپے جمع ہو رہے ہیں ۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ کم و بیش سات کروڑ لیٹر تیل استعمال ہوتا ہے ۔۔۔۔اب اگر ہم سات کروڑ کو 181 سے ضرب دینگے ۔ تو ہمارے پاس وہ رقم آجائے گی ۔  جو صرف تیل کی مد میں روزانہ عوام کی جیب سے ٹیکس کی شکل میں سرکاری خزانے میں جارہی ہے ۔70000000 × 181 = 12670000000یعنی صرف تیل کی مد میں موجود وفاقی حکومت بلاتفریق  امیر غریب  عوام کی جیب پر روزانہ بارہ ارب 67 کروڑ کا ڈاکہ ڈال رہی ھے۔۔  یعنی ھر ماہ تین کھرب 80 ارب سے بھی زیادہ عوام کی جیبوں سے نکالے جا رھے ھیں#petrol #qasbamaral #post #PostViral #trendingreels
postImage
میں آج سے ایک سچی کہانی شروع کرنے لگا ھوں آگر آپ کے پاس وقت ہے تو بتائیں اللّٰہ آپ کو خوش رکھے آمین 
یادِ رفتگان: مولانا گل بر خان محسوددنیا میں اساتذہ تو تمام ہی قابلِ احترام اور لائقِ صد تکریم ہوتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ لیکن زندگی کے سفر میں کچھ ایسی ہستیاں ملتی ہیں ۔جن کا نقشِ قدم دل و دماغ پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتا ہے۔ آج میں جس عظیم استادِ محترم کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ علم و عمل کا ایک انمول ہیرا تھے۔ جنہیں دنیا محترم مولانا گل بر خان محسود کے نام سے جانتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر وہ انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ" ماسیدے ایستوذ" یعنی محسود استاد کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ مجھے ان کی سرپرستی میں پانچ سال سے زائد کا طویل عرصہ طالب علمی اور خدمت گزاری کا بے حد مبارک موقع ملا۔ یہ ایک ایسا یادگار علمی سفر تھا ۔جو پنج گنج، گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی کے ادبی چمنستانوں سے شروع ہوا اور خلاصۃ کیدانی کی ابتدائی فقہی حدود سے گزرتا ہوا کنز الدقائق کے باب النکاح کی عمیق ابحاث تک جاری رہا۔ ان کا درس دینے کا انداز اتنا دلنشیں تھا کہ کتاب کا ہر لفظ ذہن میں اتر جاتا تھا۔مولانا مرحوم شیخ سعدی شیرازی کے کلام اور ان کی شخصیت کے ساتھ عشق کی حد تک محبت کرتے تھے۔ انہیں فارسی ادب سے اس قدر گہرا شغف تھا۔ کہ وہ گلستانِ سعدی کے قطعات کو اپنے مخصوص اور مسحور کن ترنم میں گنگنایا کرتے تھے، جس سے پورا ماحول علمی اور روحانی وجد میں آ جاتا تھا۔ بوستانِ سعدی کا وہ مشہور اشعار ان کا خاص پسندیدہ تھا ۔جس میں مٹی اور پھول کی ہمنشینی کا دلکش مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ اس کلام کو سناتے ہوئے وجدانی کیفیت میں اڑ جاتے تھے۔ وہ اشعار اور ان کا خوبصورت اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:اگر غلط ہے تو صحیح کرنے کی درخواست ۔۔۔گلی خوش بوئے در حمام روزےرسید از دستِ محبوبے بہ دستمبدُو گفتم کہ مشکی یا عبیرےکہ از بوئے دل آویز تو مستمبگفتا من گِلے ناچیز بودمولیکن مدّتے با گُل نشستمجمالِ ہمنشیں در من اثر کردوگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستمترجمہ: ایک دن حمام میں کسی محبوب کے ہاتھ سے ایک خوشبودار مٹی کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں آیا۔ میں نے اس مٹی سے کہا کہ تو مشک ہے یا عنبر؟ کیونکہ میں تیری دلآویز خوشبو سے مست ہو رہا ہوں۔ اس نے جواب دیا۔ کہ میں تو ایک ناچیز مٹی ہی تھی، لیکن کچھ عرصہ مجھے پھول کی ہمنشینی کا شرف حاصل رہا۔ اس ہمنشیں کے حسن اور صحبت نے مجھ پر اثر کر دیا، ورنہ میں تو وہی عام مٹی ہوں، جو پہلے تھی۔مولانا اکثر صحبتِ صالح کے اثرات کو واضح کرنے کے لیے فارسی شعر بھی اپنے مخصوص انداز میں گنگنایا کرتے تھے کہ" صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند،" یعنی اچھے کی صحبت تمہیں اچھا بنا دیتی ہے اور برے کی صحبت تمہیں برائی کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن ہائے افسوس کہ اس وقت میری عمر چھوٹی تھی اور میری اپنی نالائقی و کم فہمی آڑے آئی، جس کی بنا پر میں ان کے بحرِ علم سے وہ فیض حاصل نہ کر سکا، جس طرح علم حاصل کرنے اور اسے یاد رکھنے کا اصل حق تھا۔ مولانا علم کے ساتھ عمل پر بے پناہ زور دیتے تھے۔ اور اکثر فرمایا کرتے تھے(مولانا محمد ربان شاہ کے حوالے سے)۔کہ انسان کے پاس اگر ایک چھٹانک علم ہو، تو اس کے مقابلے میں ایک من عمل ہونا چاہیے، کیونکہ عمل کے بغیر علم محض ایک بے ثمر درخت کی مانند ہے۔علاقہ ککی کے" غیور عوام" خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مالدار ہوں یا غریب، صحیح العقل ہوں یا فاتر العقل، مولانا ان تمام لوگوں سے یکساں اور بے پناہ محبت کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی ،کہ عوام بھی ان سے دل و جان سے محبت کرتے تھے ۔اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ مولانا انتہائی زہد و تقویٰ والی درویشانہ زندگی گزارتے تھے۔ اور ان کا یہی تقویٰ ان کے کلام میں وہ تاثیر پیدا کرتا تھا کہ وہ معاشرے میں جس کو بھی نصیحت فرماتے، لوگ فوراً دل و جان سے اس پر عمل پیرا ہو جاتے۔ مولانا کے قدردان سماج کے ہر طبقے میں موجود تھے، یہاں تک کہ محترم عطاء اللہ جان مرحوم جیسے معززین بھی ان کی بے پناہ قدر اور تعظیم کرتے تھے۔ مولانا صاحب انتہائی صاحبِ کرامات بزرگ اور جید عالمِ دین تھے، اور آج بھی ککی کے بزرگوں میں ایسے درجنوں اکابرین موجود ہیں۔ جو آپ کو مولانا کی برحق کرامات کے بارے میں چشم دید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کی مستجاب الدعوات شخصیت کا یہ عالم تھا، کہ ان سے دعائیں کروانے کے لیے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آتے تھے، جن میں سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے امیر و غریب افراد شامل ہوتے تھے۔مولانا کی زندگی میں زہد و ورع کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا ،کہ وہ عورتوں سے انتہائی درجے کی کنارہ کشی اور اجتناب فرماتے تھے۔ تاکہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر قائم رہ سکیں۔ عوام ان کی خدمت میں بہت بڑی مقدار میں مالی امداد اور نذرانے پیش کرتے تھے، لیکن دنیا سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا ،کہ مولانا ان پیسوں کو کبھی گنتے تک نہیں تھے۔ بلکہ فوراً ہی غریب اور ضرورت مند لوگوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔ ان کے اس مالِ امداد سے سب سے زیادہ مستفید وہ فاتر العقل اور مجذوب لوگ ہوتے تھے۔ جن کا معاشرے میں کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تھا۔ ان کی شفقت اور ظرافت کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک فاتر العقل نوجوان کو کچھ روپے دے رہے تھے اور ساتھ ہی نصیحت فرما رہے تھے کہ محترم آپ آج سے باقاعدگی کے ساتھ نماز شروع کریں۔ اس مجنون نے آگے سے معصومیت سے جواب دیا کہ مولوی صاحب میں تو پرائیویٹ امتحان دیتا ہوں۔۔ اس معصومانہ اور عجیب بات کو سن کر مولانا صاحب بہت زیادہ ہنسے اور اس کی نادانی پر مسکرا دیے۔مولانا کے اساتذہ کی فہرست بھی انتہائی جلیل القدر علمائے کرام پر مشتمل ہے۔ ان کے اساتذہ میں فقیر عبد الواسع مرحوم جہانگیر ککی، اور مولانا تقی الدین مرحوم کے دادا مولانا گل اکبر شامل تھے، جن سے برصغیر کی مشہور انقلابی شخصیت حاجی فقیر ایپی نے بھی علمِ دین حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا محمد ربان شاہ مرحوم الدیوبندی، اور مولانا محمد عثمان شاہ صاحب مدظلہ العالی جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ مولانا زرطلا خان مدظلہ خود بھی بہت بڑے صاحبِ تقویٰ عالمِ دین ہیں، لیکن وہ خود مولانا کو درسِ قرآن بھی دے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے اس شاگرد کو عقیدت و محبت سے دبا بھی رہے ہیں۔ یہ ان کا اپنے شاگرد کی علمی و روحانی عظمت کا اعتراف تھا۔ میری ربِ کریم سے عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام محسن اساتذہ کرام سمیت محترم مولانا گل بر خان محسود صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین۔ڈاکٹر قاری حفیظ اللہ خان@highlight
postImage
Review: House of Chains (2022)Genre: Drama, Thriller, True-Crime InspiredDirector: Stephen TolkinStarring: Mena Suvari, Greyston HoltHouse of Chains tells the disturbing story of six children who are imprisoned and abused by their parents because of the parents' extreme religious beliefs. The film is inspired by real-life cases of family captivity and focuses on the children's struggle to survive and escape. Rating: 7/10 ⭐⭐⭐⭐☆☆☆Best for: Viewers who enjoy psychological thrillers, true-crime stories, and survival dramas.Not recommended for: Anyone sensitive to themes of child abuse, captivity, or psychological trauma.
postImage
How 🥺 cute 🥰
postImage
Yum. Momos ready hory
postImage

Pull down to refresh